
قران کر واحادیث کی روشنی میںجنات کے اوقات اور رہائش گاہیں
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی
(جادو اور جنات کا طبی علاج۔بانی کتا ب ہم نے 15 سال پہلے لکھی تھی۔یہ کتاب مشاہدات،محسوسات اور تجربات کی کسوٹی پر لکھی گئی تھی ۔اس وقت وسائل محدود تھے۔آج اللہ نے وسعت دی ہے اس پر نظر ثانی کی گئی اور مزید پندہ سالہ مشاہدات اس مین شاملکردئے گئے۔یہ کتاب اے آئی تصاویر اور تفہیمی ڈایاگرامز کے ذریعہ اپنی نوعیت کی بہترین کتاب ثابت ہوئی ہے۔اب مارکیٹ میں طبع ہوکر آچکی ہے،ضرورت مند طلب کرسکتے ہین)

انسانی وجود پر جنات کا تسلط کی طبی وجوہات
ممکن ہے اس بارہ میں مختصر سی بحث کردی گئی ہو۔لیکن موضوع کتاب کی وجہ سے کچھ بحث باقی ہے کہ جس وقت انسانی وجود پر جنات کا تسلط ہوتا ہے تو طبی نکتہ نگاہ سے اس کی تشخیص کا انداز کیا ہونا چاہئے۔راقم الحروف کا تجربہ ہے کہ جنات و شیاطین کا تسلط انسانی دماغ اور اعضاء کے روابط میں خلل ڈال دیتا ہے،انسانی احساسات اس انداز میں کام نہیں کرتے جو حالت صحت میں کرتے ہیں۔انسانی دماغ انسانی وجود کو اس انداز میں کنٹرول نہیں کرپاتا جس انداز میں حالت صحت میں قابو میںرکھتا ہے۔جنات کے تسلط کے بعد انسانی اعضاء توڑے مروڑے جاتے ہیں۔عجیب قسم کی آوازیں مریض کے منہ سےسننے کو ملتے ہیں۔عجیب قسم کے مطالبات جن میں وحشت کا عنصر زیادہ دکھائی دیتا ہے۔موضوع بحث یہ ہے کہ طبی لحاظ سے انسانی جسم میں کس قسم کے بدلائو آتے ہیں جو صحت کی حالت میںموجود نہیں ہوتے لیکن جناتی دورے کے وقت دکھائی دیتے ہیں؟
سب سے پہلے انسانی جسم کی حالت صحت کا ادراک کرنا چاہئے کہ حالت صحت میں انسانی جسم اور اس کے احساسات کیا ہوتے ہیں؟۔جیساکہ تمام مروجہ طرق علاج میں کیاجاتا ہے۔ان اعضاء کا تعین کرنا ضروری ہے جو جناتی تسلط سے متاثر ہوئے ہیں۔ہم پہلے بھی بتاچکے ہیں کہ جنات انسانی روح پر تسلط نہیں جما سکتے۔خاکی وجود ان کی کارستانیوں کی آماجگاہ ہوتا ہے۔ان کے اثرات کو بھی اسی جسد خاکی میں تلاش کیا جانا چاہئے۔
اس کا بہتر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اگر ایک جناتی مریض کاعلاج کیا جائے اور طبیب سے کہاجائے کہ اسے کوئی جسمانی بیماری ہے ۔تشخیص کے بعد غذا و دوا تجویز کردیں۔طبیب اپنا تشخیصی عمل مکمل کرے قارورہ دیکھے۔نبض دیکھے۔منہ کا ذائقہ پوچھے۔جسم کی اور آنکھوں کی رنگت دیکھے۔نظام ہضم اور نظام اخراج کے بارہ میں پوچھے اس کے علاوہ جو بھی تشخیص کرنی ہو کرلے۔سوچ سمجھ کر علاج۔غذا۔دوا جو مناسب سمجھے تجویز کرے پرہیز بتائے۔وغیرہ۔اگر طبیب کامل ہوا تو ضرور اس کی تشخیص اور تجویز علاج موثر ہوگا۔ورنہ۔۔۔۔۔فتوی
جنات کا تکلیف دینا
سوال: جنات کا سر پر آنا اور ستانا کہیں شیخ سدوداللہ بخش وغیرہ مشہور ہیں اور تکالیف پہنچاتے ہیں اور خبیث بھوت وغیرہ بھی ان کو کہتے ہیں ان امور کی شرعاً کچھ اصل معتمد بھی ہے یا واہی باتیں ہیں مفصل ارقام فرما ویں۔
جواب: شیخ سدو ا ورا للہ بخش دونوں جن لوگوں کو ستاتے ہیں خبیث بھوت ۔ پری۔ دیو۔ جن۔ آسیب ایک چیز کا نام ہے سر چڑھنا اور تکلیف دینا جنات کا حق ہے فقط واللہ تعالیٰ علم۔: فتاوی رشیدیہ – صفحہ نمبر: 138
جنات کے رہنے کے مقامات۔
بیت الخلاء کی دعا کی حکمت اور پیغام
٭…جنات ہم کو دیکھتے ہیں ،اگر چہ ہم اُن کو نہیں دیکھتے اور جب شرارت کا کوئی موقع آتا ہے تو اس کو شیاطین ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اُن کی شرارت سے بچنے کے لیے یہ دعا تلقین کی گئی ، ایک حدیث (ترمذی، رقم:606) میں ہے کہ جب انسان بسم اللہ پڑھ کر بیت الخلا میں جاتا ہے تو شیاطین کو انسان کی شرم گاہ نظر نہیں آتی،اِس لیے ان کے لیے کھلواڑ کرنا ممکن نہیں ہوتا؛ اِس لیے بہتر ہے کہ قضائے حاجت کے لیے جانے والایوں دعا پڑھے۔
بسم اللہ اللہم إنّي أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الخُبُثِ والخَبَائِثِ (تحفة الالمعی : 1/201-الاذکار :1/25،شاملہ)
٭… جس طرح مکھیاں اور دوسرے غلاظت پسند کیڑے مکوڑے غلاظت پر گرتے ہیں اِسی طرح خبیث شیاطین اور بعض دوسری موذی مخلوقات غلاظت کے مقامات سے خاص دلچسپی اور مناسبت رکھتے ہیں، اِس لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اِن مقامات میں جانے کے وقت کے لیے یہ دعا فرمائی اور خود رسو ل الله صلی الله علیہ وسلم کا معمول بھی تھا کہ بیت الخلا جانے کے وقت دعا کرتے۔(معارف الحدیث :5/132)
٭… روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شیاطین جسمانی طور پر بھی انسان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور روحانی طور پر بھی، جسمانی نقصان یہ پہنچا سکتے ہیں کہ تمھیں ظاہری گندگی میں ملوث کردیں اور اس کے نتیجے میں تمہارے کپڑے اور جسم ناپاک ہوجائیں اور بعض اوقات جسمانی بیماری میں مبتلا کردیتے ہیں چناں چہ تاریخ میں بعض ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ شیاطین نے اُن گندے مقامات پر باقاعدہ کسی انسان پر حملہ کیا اور بالآخر اُس کو موت کے منھ میں پہنچادیا، بعض علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ بیماری کے جراثیم شیاطین ہی کا ایک حصہ ہوتے ہیں؛ لہٰذا اِن مقامات پر انسان کی صحت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔اسی طرح کچھ مقامات ایسے بھی جن میں شیطانی اثرات بہت زیادہ طاقتور ہوتے ہیں جیسے بیت الخلاء اونٹوں کے باڑے وغیرہ۔ مصباح الزجاجة(ج 1 / ص 118)
عجیب بحث تسلط جنات کے بارہ میں۔
اسلامی روایات اورجنات پر کی جانے والی بحثوں میں وضاحت پائی جاتی ہے کہ جنات گندگی اور بدبودار مقامات پر رہائش رکھنا پسند کرتے ہیں۔جن لوگوں پر جنات کا تسلط ہوتا جاتا ہے وہ بھی صفائی اور نظافت سے عمومی طورپر بھاگتے ہیں۔بیت الخلاء میں عمومی طورپر گندگی و بدبو کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں،آج جس قدر سہولیات موجود ہیں پہلے زمانے میں ان کا تصور بھی محال تھا،اب بیت الخلائوں میں پانی اور طہارت کی اعلی سہولیات پائی جاتی ہیں۔لیکن آج بھی بیت الخلاء میں کراہت پائی جاتی ہے۔کیونکہ جنات کے موجودہونے کے قوی امکان موجود ہے ۔
گھروں میں بیت الخلاء
پہلے بیت الخلاء گھر وں میں بناے کا رواج نہ تھا آج ہر گھر میں بلکہ ہر کمرے میں بیت الخلاء کا وجود ضروری قرار دیا جاتا ہے ممکن ہے اس وجہ سے گھر میں جنات کی آؐمد رفت کاسلسلہ بھی بڑھ گیا ہے،ان دیکھی پریشانیاں،وسوسے کی کثرت،بے یقینی کی صورت حال۔گھر میں بے برکتی دیکھنے کو ملتی ہے،بظاہر کوئی سبب نظر نہیں آتا لیکن ان آفات سے ہر کوئی نالاں دکھائی دیتا ہے۔اس لئے صفائی اور نظافت کا خیال رکھیں۔دعائوں کا اہتمام فرمائیں۔جن گھروں میں یہ علامات پائی جاتی ہیں وہ خوشبو کا استعمال کریں۔خوشبودار جڑی بوٹیوں کا بخور کیا کریں ۔لوبان ۔اگر بتیاں وغیرہ سلگایا کریں،تاکہ جنات وہاں سے کوچ کرجائیں۔اسلامی روایات میں خوشبو اور صفائی کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔کسی بھی عبادت کے لئے صفائی اور مستحب کے درجہ میں خوشبو کا استعمال قبولیت کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔اوائل اسلام میں جب لوگ عسرت کی زندگی بسر کررہے تھے اس وقت بھی جمعہ کے دن خوشبو کا حکم دیا دیا تھا۔۔


