
کہیں خیالات بھی دَبا ہاں؟
مصنف: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو**
کئی بار آدمی یو سمجھے ہے کہ دباؤ صرف اُو ہووے ہے جو کندھاں پہ بوجھ بن کے پڑے،
یا جیب خالی ہووے، یا پیٹ کی فکر ستاوے۔
پر اصل بات تو یو ہے کہ کئی دفعہ سب سو بھاری بوجھ اُن خیالات کا رہوے ہے، جو دل کے اندر دبّا رہ جاواںہاں۔
نہ زبان پہ آواں، نہ آنکھن سو بہ نکلاں، بس اندر ہی اندر آدمی اے کھاتا جاواں۔
ہم میو لوگ ایک بات کہواں ہاں کہ
مرد اُو نہ ہے جو صرف بوجھ اٹھاوے، مرد اُو ہے جو دل کا حال اے بھی سہہ جاوے۔
پر سوال یو پیدا ہووے ہے کہ آخر ہر بات سہہ جانو ہی بہادری ہے؟
کہیں خیالات بھی دَبارہ سکا ہاں؟ کہیں خواب، و۔ ارمان، او درد، اور سوال…
جو دل کا کائی کونہ میں سالن سو بند پڑا ہاں،وے بھی تو دباؤ ہی کا روپ ہاں؟
ایک نوجوان جب پڑھنو چاہے، آگے بڑھنو چاہے،
پر حالات واکا پاؤں پکڑ لیواں… تو اُو خاموش ہو جاوے ہے۔

ایک بیٹی جب اپناخواب آنکھن میں سجائے،ہر رسم و رواج وا کی راہ روک لیواں… تو اُو مسکرا کے اپنا ارمان دفن کر دیوے ہے۔
ایک بوڑھو جب اپنا تجربہ کی بات کہوے، پر کوئی سنن والو نہ ملے… تو اُو بھی اپنا لفظن نے دل میں ہی دبا لیوے ہے۔
تو پھر سوال یو ہے کہ دباؤ صرف جسم پہ رہوے ہے یا سوچ پہ بھی؟
کہیں خیالات بھی دَبا ہاں؟
سچ تو یو ہے کہ جب معاشرہ سوال کرن والان نے چپ کرا دئے، جب نئی سوچ بغاوت سمجھ لی جاوے،
جب سچ بولن لا نوں تنہا چھوڑ دیا جاواں… تو خیالات دَب جاو ہاں۔
پر یاد رکھو، خیالات بیج کی طرح ہاں۔ جتنا دبا دیو، اگر مٹی زرخیز ہوئی تو ایک دن پھوٹ کے ضرور باہر آوا ہاں۔
قوم اُوای ۔ترقی کرے ہے جو اپنا نوجوانن کا سوال سنّے، اپنا بزرگن کی دانائی سمجھے،
اپنی عورتن کا خوابن کو عزت دے، اور اپنا بچان کی سوچ اے پنپن دئے۔
جہاں خیالات دب جاواں،وائی جگہ ترقی رک جاوے ہے۔جہاں خیالات بولاں،ہوں انقلاب جنم لیوے ہے۔
یامارے اپنادل کی آواز سنو، اپنا بچان کی سوچ سنو، اپنا معاشرہ کا سوال سنو۔
کیونکہ کئی دفعہ خاموشی بھی چیخ رہی ہووے ہے… بس سنن والا کان چاہیے۔
آخر میں پھر ایک سوال
*”کہیں خیالات بھی دَبا ہاں؟
— مصنف: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو


