پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

انسانی صحت اور زندگی کی بنیادیں

انسانی صحت اور زندگی کی بنیادیں
انسانی صحت اور زندگی کی بنیادیں

حکما ومتقد مین رطوبت عریزی کو رطوبت اصلیہ بھی کہتے ہیں جو بوقت نطفہ قائم ہوتی ہے رطوبت عریز ی یا رطوبت اصلیہ اس رطوبت کا نام ہے جو چوتھے ہضم کے بعد جسم میں بنتی اور جذب ہوتی ہے اور اعضاء بنتے یا اعضاء کی غذاء بننے کے لئے تیار ہو جاتی ہے یہ رطوبت اعضائے جسم کی غذا بنتی ہے۔ مسلمہ بات ہے کہ جسم کی خوب صورتی اور جوانی کا دارو مدار اسی رطوبت کے اعتدال پر ہے یعنی اس کی کی پیشی سے بڑھاپے کے اثرات پیدا ہو جاتے ہیں۔
بلغم سے مراد خون کی وہ رطوبت جو خون کے قوام کو اعتدال پر رکھتی ہے بلغم کہلاتی ہے اسے علم وفن طب میں رطوبت غریزی کہتے ہیں یعنی رطوبت غریزی حقیقت میں بلغم ہے جو بدن کی نشو ونما کرتی ہے اور بدن کی اس میں خرچ ہوتی ہے جب وافر مقدار میں ہو تو قد کے بڑھانے میں خرچ ہوتی رہتی ہے۔
ایک سوال رطوبت عزیزی کی عمر تک وافر مقدار میں بنتی رہتی ہے؟
جواب
رطوبت غریزی انسانی پیدائش سے ۲۵ سال کی عمر تک وافر مقدار میں بنتی رہتی ہے اسی وجہ سے بچے کا قد پیدائش سے ۲۵ سال تک بڑھتا رہتا ہے۔ ۲۵ سال کے بعد رطوبت غریزی کی پیدائش بدن کی ضرورت کے مطابق تو ہوتی رہتی ہے مگر وافر مقدار میں بننا رک جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیدائش سے لیکر25 سال تک قد بڑھتا رہتا ہے اس کے بعدقدبڑھنارک جاتا ہے۔
رطوبت غریزی اور اس کا اعصاب دو ماغ سے تعلق
رطوبت غریزی اعصاب اور دماغ کی غذا ہے یادماغ و اعصاب کی تیزی سے پیدا ہوتی ہے۔
رطوبت غریزی کی خصوصیات
رطوبت غریزی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خون کے قوام کو پتلا اور اعتدال پر رکھتی ہے۔ اگر اس کی پیدائش ضرورت سے زیادہ ہونے لگے تو خون کا قوام بھی ضرورت سے زیادہ پتلا ہو جاتا ہے جس سے قلب و عضلات میں سستی و تسکین پیدا ہو جاتی ہے۔
بدن کے کسی حرکتی عضو کو حرکت کرنے سے معذور کر دیتی ہے جس سے دوران خون سست پڑ جاتا ہے بدن کو آکسیجن ضرورت سے بھی کم ملتی ہے نتیجتا دم کشی ہونے لگتی ہے اسی حالت کو اعصابی دمہ کہتے ہیں۔
رطوبت غریزی کی کمی کی علامات
اگر یہ رطوبت کم ہو جائے تو اسے سادہ لفظوں میں خون میں پانی کا کم ہونا کہتے ہیں ڈاکٹر حضرات ایسے موقع پر فورا گلوگوز کی ڈراپ لگاتے ہیں جس سے عارضی طور پر خون میں پانی وافر ہو کر اس کا قوام سے پتلا ہو جاتا ہے جس کے ساتھ ہی دوران خون میں روانی ہو کر مریض کو سکون محسوس ہوتا ہے لیکن یہ خون میں پانی کی مقدار میں اضافہ عارضی ہوتا ہے ایک دودن میں ہی ختم ہو تا ہے یا پیشاب کے راستے نکل جاتا ہے اس کے مستقل حل کے لئے اعصابی غدی غذا ئیں دوائیں استعمال کرائی جاتی ہیں جو کیمیائی طور پر خون میں رطوبات بڑھاتی ہیں۔
جس کے نتیجے میں رطوبت تری کی بھی ہو جاتی ہے ہم نے ایسے مریض بھی دیکھ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارامنہ بہت خشک ہوتا ہے یا ایسے مریض جو کہتے ہیں کہ ہمارے ہاتھوں کی تلیاں رات سوتے وقت خشک ہونے لگتی ہیں پانی سے تر کرتے ہیں اگر پانی نہ ملے تو تھوک سے تر کرتے ہیں ایسے مریضوں کے خون میں پانی یا دوسرے لفظوں میں رطوبت غریزی کی کمی بھی ہوا کرتی ہے ایسے مریضوں کو بوقت ضرورت اعصابی غذائی مثلا ہڈی کی یخنی پلاتے ہیں تو چند دن میں ہی ہاتھوں کی تکلیف یعنی تلیاں خشک ہونا بند ہو جاتی ہیں ۔ خون میں رطوبت غریزی کم ہوتی ہے تو ساتھ ہی جوڑوں میں روغنی اجزاء کم ہو کر خشکی کی علامات یار یاحی دردوں کی علامات شروع ہو جاتی ہیں ۔جب رطوبات کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے خشکی کا خاتمہ ہوجاتا ہےاور تمام غیرطبعی علامات دور ہو جاتی ہیں۔
رطوبت عزیزی کے ساتھ حرارت غریزی کا معتدل ہونا بھی ضروری ہے جب تک رطوبت عزیز ی اور حرارت غریزی وافر پیدا ہوتی رہتی ہے۔تب تک جوش جوانی اور صحت بحال رہتی ہے ابتدا جوانی اور صحت کی بقاء کے لئے انہیں قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔
قانون مفرد اعضاء کے فارما کو پیا کے غدی عضلاتی نسخہ جات نسخہ جات حرارت عزیزی کو پیدا اور بر قرار رکھتے ہیں اور اعصابی غدی غذا ئیں دوائیں رطوبت عزیزی کو بحال رکھتی ہیں۔
قانون مفرد اعضاء اور حرارت غریزی
استادمحترم صابر ملتانی حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کے متعلق فرماتے ہیں۔ انسانی زندگی کا چراغ بھی بتی اور تیل کی حرارت سے روشن ہے
یہ عام بتی نہیں ہے بلکہ بجلی کی ایک روا اور لہر ہے جس کو حکما متقدمین نے حرارت عزیزی کا نام دیا ہے اور تیل ایک خاص قسم کی کیمیاوی رطوبت ہے جس کو رطوبت عزیزی کہتے ہیں۔ حرارت عزیزی کی مثال اس بیٹری سے دی جاسکتی ہے جو ریل اور موٹر میں رکھی جاتی ہے جس میں بجلی محفوظ رہتی ہے اور ضرورت کے وقت بتیاں روشن کی جاتی ہیں یا اس سے انجن کو چلایا جاتا ہے جس کی ترکیب یوں بیان کی جاتی ہے۔
ایک خاص قسم کی دھات میں تیزاب ملے پانی کو بھر دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ بجلی کی مثبت اور منفی تاریں جوڑ دی جاتی ہیں پھر اس کو( ڈئینمو) سے جوڑ دیا جاتا ہے جب ڈائینموچلتا ہے تو بجلی پیدا ہوتی ہے اوریہ بجلی اس تیزاب ملے پانی میں محفوظ رہتی ہے اور ضرورت کے وقت وہی بجلی مختلف آلات چلانے کا کام دیتی ہے یہی محفوظ بجلی حرارت غریزی ( انسانی زندگی کی بتی) کی صحیح مثال ہے اور رطوبت غریزی کی مثال وہ تیز اب ملا پانی ہے جس میں بجلی محفوظ رہتی ہے جس طرح چراغ بتی تیل کے بغیر نہیں چل سکتی اسی طرح بجلی کی رویالہر تیزاب کے پانی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی اور نہ چل سکتی ہے
انسانی زندگی میں بھی حرارت غریزی جو ایک بجلی کی رویا لہر کی حیثیت رکھتی ہے اور رطوبت عزیزی میں محفوظ ہے۔ رطوبت غریزی کے بغیر نہیں چل سکتی سادہ لفظوں میں حرارت غریزی کی ماہیت یوں بیان کی جاتی ہے کہ قلب و عضلات کی حرکات اور دوران خون کی گردش سے جو حرارت پیدا ہوتی ہے وہی حرارت غریزی کہلاتی ہے ۔اگر اس کا توازن دیکھنا مقصود ہوتا ہے کہ اس میں کوئی غیر طبعی حرارت تو شامل نہیں ہوگئی یا کسی سرد کیفیت نے حرارت کو دبا کر کم تو نہیں کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ اگر5۔98 فارن ہائیٹ سے جسم کا درجہ حرارت زیادہ ہو جائے تو اسے اعتدال پلانے کے لئے فاضل حرارت جو حرارت غریبہ کے طور پر اس میں شامل ہوگئی تھی کوختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے ختم ہوتے ہی درجہ حرارت اعتدال پر آجاتا ہے اوربخارو غیرہ ختم ہو جاتا ہے اس طرح اگر ٹمپریچر گرگیا ہوتو اسے پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور سرد کیفیات کوختم کیا جاتا ہے جو نہی سرد کیفیت ختم ہوتی ہے تو جسم کا درجہ حرارت برابر ہو کرصحت بحال ہو جاتی ہے اس حرارت کے اعتدال کا نام جوانی اورتندرستی ہے اور اس میں کمی بیشی سے بڑھاپے کے اسباب رونما ہوتے ہیں۔
اس حرارت کو کیسے ااعتدال پر رکھا جائے اور اور ساتھ رطویت غریزی کو پیدا کرنے اور ااعتدال پر رکھنے کے لئے کونسے اقدامات کئے جائیں؟ یہی سوال اہمیت کا حامل ہے۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

کہیں خیالات بھی دَبا ہاں؟

کہیں خیالات بھی دَبا ہاں؟

کہیں خیالات بھی دَبا ہاں؟مصنف: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو**کئی بار آدمی یو سمجھے ہے کہ دباؤ صرف

[saadherbal_newsletter_form]