پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

انجمن اتحاد ترقی میوات اور پاکستان میو اتحاد ۔

انجمن اتحاد ترقی میوات اور پاکستان میو اتحاد ۔
انجمن اتحاد ترقی میوات اور پاکستان میو اتحاد ۔

انجمن اتحاد ترقی میوات اور پاکستان میو اتحاد ۔
تعارفی و مشاورتی اجلاس۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
میو قوم نے جب سے ہجرت کری اور پاکستان میں آبسا ۔ہا تو انن نے ،اپنی شناخت اور اپنی شخصیت اجاگر کرَن کے مارے بہت کچھ کرو۔شروع کا دِ نن میں کام کرن والا ن کے سامنے کوئی لائحہ عمل نہ ہو۔صرف ایک دوسرا سو تعارف ہی میو قوم کی سب سو بڑی خدمت ہی۔
پاکستان کی اناسی،اسی سالہ تاریخ میں میو قوم کا نام پے بنن والی بے شمار تنظیم۔بنی اور مٹی۔کچھن کو نام پتو ہے۔ کچھن کو وجود اور نام دونوں تاریخ کا قبرستان مین دفن ہوچکوہے ۔
کچھ تنظیم علاقائی سطح یا شہری بنیاد پے تشکیل دی گئی۔ لیکن جب ایک دوسرا کی ٹانگ کھنچائی ہوئی تو یہ تنظیم بھی کئی ٹکراں میں تبدیل تبدیل ہوکے اپنو وجود ختم کرتی گئی۔
یاسو بڑو المیہ کہا ہوئے کہ میو قوم کا نام پے موٹی رقم بٹوارہ کے وقت پاکستانی میون کی طرف منتقل ہوئی۔وا وقت کوئی نمائیندہ تنظیم نہ ہی تو ۔
انجمن اتحاد ترقی میوات نامی تنظیم وجود میں آئی،میری ناقص معلومات یہ ہاں کہ یا تنظیم کی ابتداء وا مٹی رقم اے ہڑپ کرن کے مارے ہوئی ہی۔
وا وقت کا ایک حکومتی نمائیندہ نے آفر کری ہی کہ میو اَکھٹا ہوجاواں تو ان کو رقم جاری کردی جائے،
لیکن مفادات کی پٹی آنکھ پے بندھی ہوئی ہی،نوں ایک دوسرا کی ٹانگ کھنچائی کا نتیجہ میں آج کا حساب سو کروڑوں کی رقم۔
جہاں ہی ہونی پڑی رہ گئی کائی کو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہ ملی۔
یابارہ میں بہت سی تلخ حقیقت ایسی ہاں اگر قوم کے سامنے لادھری جاواں تو آنکھن کے سامنے اندھیرو چھاجائے۔
جب انجمن کو تعلیمی مقاصد کے ارے زمین دی گئی تو یا میں مولانا عبد الغفور الوری صاحب کی بہت بڑی کاوش ہی،
لیکن آج ان کو نام کہیں دکھائی نہ دیوے ہے۔
حالات نے یا بات کی تصدیق کردی کہ انجمن کو وجود ہی کھینچا تانی میں ہوئیو،آج تک اُو جاری ہے۔
ہر کوئی دوسرا ای بے ایمان۔نکمو۔اور کام چور ثابت کرن میں لگو پرو ہے۔وانے کہا کرو ،کوئی بتانا کے مارے تیار نہ ہے۔
جن مسیحا لوگن نے زمین دی ہی ،ان کا وارث ہی یا صدقہ خیرات پے قبضہ کرن کی فل کوشش میں ہاں۔پچھلائی کئی سالن کو ریکارڈ ،یاکو گواہ ہے۔
رہی پات پاکستان میو اتحاد کی تو یا کی عمر بیس پچیس سال کے لگ بھگ ہے۔
ایک شخص نے اپنو سرمایہ پانی کی طرح بہائیو۔لوگ بھیلا کرا۔پوری میو قوم کا جسم میں پھُرپُھری پیدا کردی۔ایک لہر ہی۔جو دوچار سال رہی۔
اجمل شہیددنیا سو گئیو تو میو قوم کو جذبہ بھی واکی قبر کو سرہانہ لگاکے آرام کرن لگو۔بیس سال بعد دوبارہ سو انگڑائی لی ہے۔
اور میڈیا کی زینت کے مارے پوسٹ۔اشتہارات۔مینگز،اجلاس۔اور گیدرنگ نظر سو گزرن لگی۔
اللہ کو کرنو ایسو ہوئیو کہ دونوں جماعتن کی لگام ایک بہترین کارکن ممتاز شفیق کا ہاتھ میں آئی۔
گویا کہ مارشلاء۔اور جمہوریت دونون گھوڑان پے سواری

کرن کو مل گئی۔
یاسو پہلو صدر چوہدری شہزاد جواہر کو ایک کارنامہ ضرور تاریخ میں لکھو جائے کہ قبضہ اور زمین ہڑپن کی کوشش والے ناکام بنائی۔۔۔
آج سوشل میڈیا کا توسط سو ایک اشتہار گزرو جاکو عنوان ہو۔
انجمن اتحاد ترقی میوات اور پاکستان میو اتحاد ۔تعارفی و مشاورتی اجلاس۔
عنوان پڑھ کے بہت مایوسی ہوئی۔کہ تعارف کس کو کروائیو جائے گو۔ان لوگن کو جنن نے پچاس سال ضائع کرا۔
یا ان کو جو نیا جذبہ کے ساتھ میدان عمل میں اُتررا ہاں؟
عبوری دور میں اختیارات کو کم رہوا ہاں لیکن دبائو بھی کم رہوے ہے۔
ممتاز شفیق میو اے چاہے کہ اجلاس کو عنوان بدلے۔بہتر ہے کہ عنوان ،ماضی کی غلطین سو سبق۔آئیندہ کے مارے لائحہ عمل۔۔
یا پھرآن والا وقت میں۔ماضی میں لیپی گئی منہ کی کالک اے کیسے صاف کرسکاہاں ۔
ضروری نہ ہے کہ پچاس کنال جگہ پے فورا تعمیر شروع کردی جائے۔عبوری دور میں صرف پانچ مرلہ پے کام شروع کردئیو جائے۔


ماضی کی غلطی میو قوم کے سامنے لادھری جاواہاں ۔
گپوڑن کے بجائے،جدید تقاجان کے مطابق بہتر فیصلہ کراجاواں۔
مشاورت عہدہ۔یا دولت کے بجائے مہارت فن اور کارکردگی کی بنیاد پے دیا جاواں ۔
ایسا اقدامات کرا جاواں،کہ نئی نسل متوجہ ہوسکے۔
اگر یہ کام نہ کرا گیا تو نوجوان نسل اے کوئی پروا نہ ہے کہ ریٹائرڈ لوگ اور ازل العمر میں پہنچا چوہدری کہا سوچا ہاں ؟
ریٹائرڈ ہونو یا نبات کی علامت ہے کہ ای آدمی اب کام کے قابل نہ ہے۔
یائی طرح بڑھاپا میں بڑا بڑا طرم خان بھی اپنی اولاد کے سامنے بے بس دکھائی دیواہان ۔
کہا ایسا لوگ میو قوم کی جوان نسل کی ترجماقنہ کرن گا؟
اگر کائی اے میری باتن پے اعتراض ہوئے تو قران کریم میں مذکورہ ان آیات کو مطالعہ کرلئیو جائے
جن میں بتائیو گئیو ہے کہ کام کی عمر کونسی رہوے ہے۔اور نکمی عمر کونسی؟

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]