
میو قوم اور میوات انگریز مصنفین کے آئینے میں
ایک جامع تاریخی و علمی جائزہ
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
حصہ اول: نوآبادیاتی دور کے انگریز مصنفین اور ان کی تصانیف
تعارف: میوات اور میو قوم کا تاریخی پس منظر
میوات دہلی، آگرہ اور جے پور کے درمیان پھیلا ہوا ایک تاریخی خطہ ہے جس کی اپنی الگ جغرافیائی اور ثقافتی پہچان ہے۔ یہاں کی کم زرخیز زمین اور اراولی کے ناہموار پہاڑی سلسلے نے اس میں بسنے والی میو قوم کے مزاج، معیشت اور تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ آزادی پسندی اور مزاحمت اس قوم کی پہچان رہی ہے۔
انگریز مصنفین جب میوؤں پر لکھنے بیٹھے تو ان کے سامنے کوئی سادہ ورق نہیں تھا۔ دہلی سلطنت اور مغل دور کے فارسی مؤرخین پہلے ہی میوؤں کو دارالحکومت کے لیے مستقل خطرہ بنا کر پیش کر چکے تھے۔ ضیاء الدین برنی اور فرشتہ جیسے مؤرخین کے ہاں میو شورش پسند اور لٹیرے ہیں جو دہلی کے گرد و نواح میں لوٹ مار کرتے اور شاہی اقتدار کو للکارتے تھے۔ نوآبادیاتی مصنفین نے اسی بیانیے کو بنیاد بنایا اور اپنے انتظامی مقاصد کے لیے اسے زیادہ منظم اور “سائنسی” صورت دے دی۔
باب 1: گزیٹیئرز کی تشکیل: نوآبادیاتی علم کی بنیاد
انیسویں صدی میں برطانوی حکومت نے ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ضلعی اور ریاستی گزیٹیئرز کی تیاری کا بڑا سلسلہ شروع کیا۔ یہ کتابیں صرف جغرافیائی اور معاشی معلومات کا مجموعہ نہیں تھیں۔ ان کے ذریعے نوآبادیاتی ریاست اپنے زیرِ انتظام علاقوں اور لوگوں کو جانتی، درجہ بند کرتی اور ان پر حکومت کرتی تھی۔ میوات اور میو قوم کے بارے میں ابتدائی اور سب سے بااثر تحریریں انہی گزیٹیئرز میں ملتی ہیں۔
میجر پی۔ ڈبلیو۔ پاؤلیٹ اور Gazetteer of Ulwur (1878)
میجر پاؤلیٹ (Major P.W. Powlett) برطانوی فوجی و انتظامی افسر تھے۔ انہوں نے 1878ء میں ریاستِ الور کا گزیٹیئر مرتب کیا۔ اسے میو قوم پر پہلی منظم اور اثر انگیز نسلیاتی تحریر سمجھا جاتا ہے اور بعد کے اکثر مصنفین نے اسی پر انحصار کیا۔ ان کے اہم نکات یہ ہیں:
مذہبی شناخت: پاؤلیٹ کا مشہور ترین دعویٰ یہ تھا کہ میو برائے نام مسلمان ہیں۔ ان کے مطابق میوؤں کے گاؤں کے دیوتا ہندو زمینداروں جیسے تھے۔ وہ ہولی، دسہرہ اور دیوالی کو محرم اور عید کی طرح مناتے تھے۔ شادی کی تاریخیں برہمن پنڈتوں سے نکلواتے تھے اور ناموں کے ساتھ “سنگھ” کا لاحقہ بھی لگاتے تھے۔
سماجی ڈھانچہ: انہوں نے میوؤں کی سماجی تنظیم کا خاکہ پیش کیا، یعنی بارہ بڑے پال اور باون گوتیں۔ یہی تقسیم میو برادری کی بنیاد ہے۔
کردار کی تصویر: پاؤلیٹ نے فارسی تواریخ کی بات دہراتے ہوئے میوؤں کو شورش اور لوٹ مار کے لیے بدنام قرار دیا۔ یہی منفی تصویر آگے چل کر ان کے خلاف سخت کارروائیوں کا جواز بنی۔
خانزادہ اور میو کا فرق
پاؤلیٹ نے میوات کے سابق حکمران طبقے خانزادوں اور عام میو آبادی میں واضح فرق کھینچا۔ ان کے بیان کے مطابق خانزادے سماجی طور پر میوؤں سے بلند تھے۔ وہ بہتر مسلمان سمجھے جاتے تھے، نماز کے پابند تھے اور ان کی خواتین پردہ کرتی تھیں اور کھیتوں میں کام نہیں کرتی تھیں۔ یہ تفریق “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی حکمتِ عملی کا حصہ تھی، کیونکہ مقامی آبادی میں درجہ بندی پیدا کر کے اسے کمزور رکھا جا سکتا تھا۔
دیگر اہم گزیٹیئرز
- ایچ۔ ای۔ ڈریک براک مین (H.E. Drake-Brockman) کی A Gazetteer of Eastern Rajputana, comprising the Native States of Bharatpur, Dholpur and Karauli (اجمیر، 1905) میں بھرت پور، دھول پور اور کرولی کی ریاستیں شامل ہیں، جہاں میوؤں کی قابلِ ذکر آبادی تھی۔ یہ بھی اسی نوآبادیاتی منصوبے کی کڑی تھی جس کا مقصد ہر علاقے کی آبادی کو دستاویزی شکل دینا تھا۔
- گڑگاؤں ڈسٹرکٹ گزیٹیئر (1883-84 اور 1910) پنجاب حکومت کی سلسلہ وار ضلعی گزیٹیئرز کا حصہ ہیں۔ ان میں گڑگاؤں کی میو آبادی، ان کے رسم و رواج اور 1857ء میں ان کے کردار کا ذکر ہے۔ یہاں بھی ان کی بغاوت کو سیاسی مزاحمت کے بجائے ان کی مبینہ لوٹ مار کی عادت سے جوڑنے کا رجحان ملتا ہے۔
نوآبادیاتی ذہنیت کا تضاد
یہاں ایک گہرا تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف میوؤں کو ان کے ہندوانہ رسوم کی وجہ سے ناقص مسلمان اور “غیر مہذب” کہا گیا، جس سے انہیں “مہذب” بنانے کے نام پر حکومت کا جواز نکلا۔ دوسری طرف ان کی آزادی پسندی کو منفی صفت بنا کر پیش کیا گیا، جس سے سخت فوجی اور انتظامی کنٹرول کی ضرورت ثابت کی گئی۔ میوؤں کی ملی جلی شناخت کسی واضح ہندو یا مسلم خانے میں نہیں بیٹھتی تھی، اس لیے حکمرانوں کے لیے ایک انتظامی الجھن تھی۔ جس گروہ کو وہ صاف طور پر سمجھ نہ پاتے تھے، اسے ناقابلِ اعتبار قرار دیتے تھے۔
گزیٹیئرز کی تیاری کا عمل خالص علمی بھی نہیں تھا۔ یہ علم کو اقتدار کے لیے استعمال کرنے کی واضح مثال تھی۔ کسی گروہ کے سماجی ڈھانچے، معیشت اور مزاج کی تفصیل جاننا محصول کی وصولی، قانون کے نفاذ اور بغاوت کو دبانے کے لیے ضروری تھا۔ میوؤں کو پرتشدد اور ناقابلِ اعتبار بنا کر پیش کرنا دراصل مستقبل کی ریاستی کارروائیوں کی پیشگی تیاری بھی تھی۔
باب 2: نسلیاتی سروے: ذاتوں اور قبائل کی درجہ بندی
انیسویں صدی کے آخر میں مردم شماری کے ساتھ ساتھ پورے ہندوستان میں نسلیاتی جائزوں کا سلسلہ چلا۔ مقصد یہ تھا کہ ہندوستانی معاشرے کو ذاتوں اور قبائل کے منظم خانوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس عمل نے میو شناخت کے منفی پہلو کو مزید پختہ کر دیا۔
سر ڈینزل ابیٹسن اور پنجاب کی مردم شماری
ابیٹسن (Denzil Ibbetson) کی تحریر اصلاً Report on the Census of the Punjab, 1881 (کلکتہ، 1883) کے نسلیاتی باب کی شکل میں سامنے آئی۔ بعد میں اسے Panjab Castes (لاہور، 1916) کے نام سے الگ کتاب کے طور پر چھاپا گیا۔ ان کی تحریر میں:
- میوؤں کو راجپوت نسل سے جوڑا گیا، مگر ساتھ ہی مینا قبیلے سے بھی، جسے انگریز مجرمانہ پیشہ سمجھتے تھے۔ یہ میو-مینا تعلق پاؤلیٹ کے ہاں پہلے آ چکا تھا اور ابیٹسن نے اسے آگے بڑھایا۔
- میوؤں کے اسلام کو سطحی بتایا گیا اور ان کی سماجی رسموں، خصوصاً شادی بیاہ، کو ہندو رواج سے قریب قرار دیا گیا۔
ایچ۔ اے۔ روز اور Glossary
ایچ۔ اے۔ روز (H.A. Rose) نے ابیٹسن اور میکلیگن کے کام کی بنیاد پر A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West Frontier Province (تین جلدیں، لاہور، 1911-1919) مرتب کی۔ اس میں میوؤں کی سماجی ساخت، یعنی پالوں اور گوتوں کی تفصیل، ملتی ہے اور واضح ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی منتظمین مقامی معاشرے کی کتنی باریک درجہ بندی کرتے تھے۔
ولیم کروک
ولیم کروک (William Crooke) کی The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh (چار جلدیں، کلکتہ، 1896) اسی سلسلے کی ایک اور بڑی تصنیف ہے۔ اس میں شمال مغربی صوبوں کے میو بھی زیرِ بحث آئے۔
ان سروے کا اثر محض عکاسی تک محدود نہیں رہا۔ ذاتوں اور قبائل کو تحریری درجہ بندی میں ڈال کر اور ان کی خصوصیات (بہادر، چور، وفادار وغیرہ) کو مستقل بنا کر ریاست نے ان شناختوں کو منجمد کر دیا جو اس سے پہلے سیال اور بدلتی رہتی تھیں۔ میوؤں کو مینا قبیلے سے جوڑنا غیر جانبدار علمی مشق نہیں تھی۔ اس سے دونوں گروہوں کو ایک ہی “مجرمانہ” خانے میں رکھ کر قابو میں رکھنا آسان ہو گیا۔ یوں نسلیاتی تحقیق نے سماجی حقیقت کو ریکارڈ کرنے کے بجائے نوآبادیاتی ضرورتوں کے مطابق ڈھال دیا۔
میو قوم کے بارہ پال
نوآبادیاتی اور مقامی روایت کے مطابق میو بارہ بڑے پالوں میں منقسم ہیں (بعض روایات میں ایک تیرھواں کم تر پال بھی شمار ہوتا ہے): ڈیروال، لنڈاوت، رتاوت، بلوت، چڑکلوت، دہنگل، سینگل، ڈیمروت، پنڈلوت، دولوت، نائی، اور ایک پال جسے ماخذ میں “پہلوٹ” لکھا گیا ہے۔ یہ پال سماجی ہونے کے ساتھ علاقائی اکائیاں بھی تھے۔
باون گوتیں
پالوں کے تحت باون گوتیں آتی ہیں۔ میو بہت سی گوتوں کا تعلق راجپوت خاندانوں سے جوڑتے ہیں، جیسے چوہان، جادون، تنوار، راٹھور، بھٹی، سولنکی، کچھواہا، گور اور بڈگوجر۔ ایچ۔ اے۔ روز کی Glossary میں اس فہرست کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔
باب 3: بغاوت 1857ء اور میو قوم کا “مجرمانہ” تشخص
1857ء کی جنگِ آزادی میو تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھی، جس نے ان کے بارے میں برطانوی بیانیے کو دیرپا طور پر منفی بنا دیا۔
میوؤں کی شرکت
بغاوت کے دوران گڑگاؤں، الور اور بھرت پور سمیت میوات کا بڑا حصہ برطانوی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ صدرالدین جیسے مقامی رہنماؤں کی قیادت میں میوؤں نے سرکاری خزانوں اور تھانوں پر حملے کیے اور برطانوی وفاداروں کو نشانہ بنایا، جن میں خانزادہ طبقے کے کچھ لوگ بھی تھے۔ دہلی-الور جیسے اہم راستے منقطع ہو گئے، جس سے برطانوی فوج کو دشواری ہوئی۔
برطانوی ردِعمل اور بیانیے کی تشکیل
ردِعمل نہایت سخت تھا۔ میجر ولیم ایڈن اور ضلعی افسر ولیم فورڈ جیسے افسران نے میوات میں فوجی کارروائیاں کیں، کئی گاؤں جلا دیے گئے اور بڑی تعداد میں میو مارے گئے۔ ساتھ ہی ایک فکری مہم بھی چلی۔ برطانوی تحریروں میں اس بغاوت کو سیاسی مزاحمت کے بجائے میوؤں کی فطری لوٹ مار اور لاقانونیت کا ثبوت بنا کر پیش کیا گیا۔
اسی بیانیے کے نتیجے میں میوؤں کو “مجرم قبیلہ” (Criminal Tribe) ٹھہرانے کا عمل آگے بڑھا۔ کرمنل ٹرائبس ایکٹ (1871ء) کے تحت قبائل کی نگرانی اور پابندی کا قانونی ڈھانچہ بنا، اور میوؤں پر یہ نشان نسلوں تک بدنامی اور ریاستی سختی کا سبب بنا رہا۔
1857ء نے برطانوی ریاست کو موقع دیا کہ میوؤں کے بارے میں پہلے سے موجود منفی تصورات کو ٹھوس قانونی شکل دے۔ ان کی مزاحمت کو سیاسی بغاوت ماننے کے بجائے فطری جرائم پسندی کی علامت کہا گیا۔ اس سے ایک طرف بغاوت کے دوران کی گئی سفاکی کو جواز ملا، اور دوسری طرف آئندہ کڑی نگرانی کا مستقل بندوبست بھی ہاتھ آ گیا۔
حصہ دوم: جدید اور مابعد نوآبادیاتی تجزیہ
باب 4: نوآبادیاتی تاریخ نویسی پر تنقید: شیل مایا رام کا نقطۂ نظر
بیسویں صدی کے آخر میں مؤرخین نے نوآبادیاتی تاریخ نویسی کو تنقیدی نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں شیل مایا رام (Shail Mayaram) کا کام میو تاریخ کو ذیلی طبقات (subaltern) کے زاویے سے سامنے لاتا ہے۔
اہم تصانیف
- Resisting Regimes: Myth, Memory and the Shaping of a Muslim Identity (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، دہلی، 1997)
- Against History, Against State: Counterperspectives from the Margins (کولمبیا یونیورسٹی پریس، 2003)
مرکزی دلیل
مایا رام کے مطابق نوآبادیاتی نسلیاتی تحریروں نے میوؤں کی ایک منفی شبیہ تراشی تاکہ ان کی خودمختاری کی خواہش کو جرم کا رنگ دیا جا سکے۔ ان کی تحقیق کا ایک اہم نکتہ میو-مینا رشتہ ہے۔ ان کے مطابق انیسویں صدی تک میوؤں کے لیے عام لفظ “میواتی” تھا اور “میو” کو “مینا” کا مخفف بتانے کی کوشش بعد کی نوآبادیاتی تعبیر ہے۔ 1857ء کی بغاوت کے بعد میوؤں کو ایک پہلے سے “مجرم” سمجھے جانے والے قبیلے سے جوڑنا انگریزوں کے لیے مفید تھا، حالانکہ بغاوت کے بعد کے دور میں میوؤں کے خلاف چوری یا ڈکیتی کے مقدمات تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس تعلق کے لیے نوآبادیاتی مصنفین نے دریا خان میو اور مینا لڑکی سسبدنی کی مشہور لوک داستان کو بھی استعمال کیا۔ مایا رام ایسے مقامات پر زور دیتی ہیں کہ ثقافتی بیانیوں کو سیاسی مقصد کے لیے توڑا مروڑا گیا۔
زبانی روایت بطور متبادل تاریخ
مایا رام کا سب سے اہم کام میو زبانی روایات کو ریاستی تاریخ کے مقابل ایک متوازی تاریخ کے طور پر پڑھنا ہے۔ نسل در نسل گیتوں، قصوں اور داستانوں کی صورت میں منتقل ہونے والی یہ روایات، جن میں میواتی مہابھارت پنڈوں کا کڑا (Pandun ka Kara) خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، میو اجتماعی یادداشت اور شناخت کا اہم ذریعہ ہیں اور ریاست کے لکھے ہوئے بیانیے کے برعکس زاویہ فراہم کرتی ہیں۔
اس سے ایک بنیادی بات سامنے آتی ہے کہ تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ بیانیوں کی کشمکش ہے۔ نوآبادیاتی ریاست نے تحریر (گزیٹیئر، رپورٹیں، قوانین) کو ہتھیار بنا کر میوؤں پر ایک شناخت مسلط کی۔ جواب میں میو قوم نے، جو بڑی حد تک ناخواندہ تھی، زبانی روایات کے ذریعے اپنی آواز زندہ رکھی۔ جنہیں تحریری تاریخ سے باہر رکھا جاتا ہے، وہ اپنی یادداشت اور تاریخ کو محفوظ رکھنے کے متبادل راستے خود ڈھونڈ لیتے ہیں۔
باب 5: شناخت کی تشکیلِ نو: تبلیغی جماعت اور تقسیمِ ہند
بیسویں صدی کے دو واقعات نے میو شناخت کو بنیادی طور پر بدل دیا: تبلیغی جماعت کی تحریک اور 1947ء کی تقسیم۔
تبلیغی جماعت کا آغاز
بیسویں صدی کے اوائل میں میو ثقافت اسلامی اور ہندو رسوم کا امتزاج تھی۔ اسی پس منظر میں 1920 کی دہائی کے آخر میں مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے میوات سے تبلیغی جماعت کی اصلاحی تحریک شروع کی۔ مقصد میوؤں کو اسلامی تعلیمات کی طرف لانا اور ان کی زندگی سے غیر اسلامی رسوم کم کرنا تھا۔
1947ء کا المیہ
تقسیم کے وقت الور اور بھرت پور کی ریاستوں میں میوؤں کا بڑے پیمانے پر قتلِ عام ہوا اور انہیں بے دخل کیا گیا۔ انہیں ان کی مخلوط ثقافت کے باوجود صرف مسلمان ہونے کی بنا پر نشانہ بنایا گیا۔ صدیوں پرانی ملی جلی شناخت ان کی حفاظت نہ کر سکی، اور اس تباہی کے بعد میوؤں میں زیادہ واضح اسلامی شناخت اپنانے کا رجحان بڑھا۔
اس المیے کے بعد تبلیغی جماعت کے اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ جماعت نے بقا کا راستہ “صحیح” مسلمان بننے میں بتایا، اور یوں یہ تحریک میوؤں کے لیے سماجی و نفسیاتی سہارا بھی بنی۔
میو شناخت کا یہ سفر بتاتا ہے کہ شناخت جامد نہیں ہوتی، بلکہ تاریخی حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ سلطنت اور مغل ادوار میں ملی جلی اور سرکش شناخت ایک قسم کی خودمختاری کا ذریعہ تھی۔ نوآبادیاتی دور میں اسی شناخت کو جرم کا نام دے کر ریاستی کنٹرول لگایا گیا۔ 1947ء کے تشدد کے بعد جب ملی جلی شناخت تحفظ نہ دے سکی تو زیادہ واضح اسلامی شناخت بقا کی نئی حکمتِ عملی بن گئی۔ یہ تاریخی صدمات کے جواب میں اجتماعی شناخت کے بدلنے کی ایک واضح مثال ہے۔
اختتامیہ: بیانیے کا تسلسل اور میو شناخت کا ارتقا
اس جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ میو قوم کے بارے میں انگریز مصنفین کی تحریریں ایک طویل بیانیے کی کڑی تھیں۔ یہ بیانیہ فارسی تواریخ کے “لٹیرے” اور “فسادی” میوؤں سے شروع ہوا، برطانوی نسلیاتی دور میں “مجرم قبیلے” کی سائنسی اور قانونی صورت اختیار کر گیا، اور جدید دور میں شیل مایا رام جیسی محققین کے ہاں “مزاحمت کار” اور ریاستی جبر کا شکار قوم کی صورت میں سامنے آیا۔
میو شناخت کبھی سادہ یا یک رخی نہیں رہی۔ یہ ریاستی طاقت، مقامی ثقافت کی لچک اور وسیع مذہبی و سیاسی تحریکوں کے مسلسل تعامل سے بنی ہے۔ انگریز مصنفین اپنے نوآبادیاتی مفاد کی وجہ سے اس پیچیدگی کو سمجھنے سے قاصر رہے یا انہوں نے اسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا، اور میوؤں کو اپنی انتظامی ضرورت کے مطابق ایک سادہ، منفی اور جامد خانے میں بند کر دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس ہوتے ہیں۔
اس لیے میو قوم پر انگریزوں کی تحریریں محض ایک قبیلے کی تاریخ نہیں بلکہ نوآبادیاتی علم، طاقت اور شناخت سازی کو سمجھنے کا ایک اہم مطالعہ ہیں۔ یہ دکھاتی ہیں کہ تاریخ کیسے لکھی جاتی ہے، شناختیں کیسے بنتی اور بگاڑی جاتی ہیں، اور حاشیے پر دھکیلے گئے لوگ اپنی آواز کیسے زندہ رکھتے ہیں۔
حوالہ جات
- Powlett, P.W. Gazetteer of Ulwur. London, 1878.
- Drake-Brockman, H.E. A Gazetteer of Eastern Rajputana, comprising the Native States of Bharatpur, Dholpur and Karauli. Ajmer: Scottish Mission Industries, 1905.
- Gazetteer of the Gurgaon District, 1883-84. Lahore: Arya Press, 1884 (Punjab District Gazetteers series).
- Gazetteer of the Gurgaon District, 1910. Lahore: Punjab Government.
- Ibbetson, Denzil. Report on the Census of the Punjab, 1881. Calcutta, 1883. (الگ کتابی صورت: Panjab Castes، لاہور، 1916۔)
- Rose, H.A. A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West Frontier Province. 3 vols. Lahore, 1911-1919.
- Crooke, William. The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh. 4 vols. Calcutta, 1896.
- Mayaram, Shail. Resisting Regimes: Myth, Memory and the Shaping of a Muslim Identity. Delhi: Oxford University Press, 1997.
- Mayaram, Shail. Against History, Against State: Counterperspectives from the Margins. New York: Columbia University Press, 2003.


