پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

مسلمان اور عیسائی عاملین کے مشترکہ عملیات

مسلمان اور عیسائی عاملین کے مشترکہ عملیات
مسلمان اور عیسائی عاملین کے مشترکہ عملیات

مسلمان اور عیسائی عاملین کے مشترکہ عملیات

حکیم المیوات قات قاری محمد یونس شاہد میو

سعد ورچوئل سکلز پاکستان

عیسائی جھاڑ پھونک کرنے والوں (Exorcists) جیسے فادر گبریل امورتھ کے بیان کردہ طریقوں اور مسلمان معالجین (راقین اور عاملین) کے علاجی سلسلے (رقیہ شرعیہ اور عملیات) میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں مذاہب الہامی روایت سے جڑے ہونے کے سبب غیبی مخلوقات (جنات و شیاطین)، سحر (جادو) کے اثرات اور ان کے توڑ کے لیے تقریباً ایک جیسے مادی اور روحانی وسائل استعمال کرتے ہیں۔

آپ کی فراہم کردہ عبارت کے ہر نقطے کی روشنی میں مسلمان عاملین کے ہاں رائج طریقوں، مشترکات اور اضافی تفصیلات کا تقابلی جائزہ درج ذیل ہے:

۱۔ بنیادی علاجی عناصر کا تقابل

عنصر / ذریعہعیسائی روایت (فادر امورتھ کے مطابق)اسلامی روایت (رقیہ شرعیہ اور عملیات)
دم کیا ہوا پانیمقدس پانی (Holy/Exorcised Water) بپتسمہ کی یاد دلاتا ہے، گناہوں کی معافی، شیطانی اثرات سے دفاع اور گھروں پر چھڑکاؤ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ماءِ مرقی (دم والا پانی): قرآنی آیات (فاتحہ، آیۃ الکرسی، معوذتین) پڑھ کر پانی پر پھونکا جاتا ہے۔ آبِ زمزم یا بارش کے پانی کو اولیت دی جاتی ہے۔ اسے پینے، نہانے اور گھروں کے کونوں میں چھڑکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
دم کیا ہوا روغنزیتون کے تیل پر مخصوص دعائیں پڑھ کر جسم پر ملنا، زخموں کی شفا اور جسم سے جادوئی ناپاکیوں کو الگ کرنے کے لیے۔روغنِ زیتون اور کلونجی کا تیل: زیتون کو قرآن میں “شجرہ مبارکہ” کہا گیا ہے۔ سورۃ النور اور آیاتِ شفا پڑھ کر تیل دم کیا جاتا ہے۔ مریض کی ریڑھ کی ہڈی، ماتھے، سینے اور درد کے مقامات پر مالش کی جاتی ہے، جس سے جنات کی جکڑن ٹوٹتی ہے۔
دم کیا ہوا نمککمروں کی دہلیز اور چاروں کونوں میں رکھنا تاکہ برے اثرات اور شیاطین داخل نہ ہو سکیں۔پہاڑی یا سمندری نمک: مسلمان عاملین جادو اور جنات سے گھر کو محفوظ کرنے کے لیے دم کیے ہوئے نمک کو پانی میں ملا کر گھر کا پونچھا لگواتے ہیں، کونوں میں چھڑکتے ہیں، یا نمک کے پانی سے مریض کو غسل کراتے ہیں تاکہ جسم کی منفی توانائی زائل ہو۔
دھونی / لوبانلوبان (Incense) کو شریر ارواح کے خلاف تریاق اور گھر کی تطہیر کے لیے جلانا۔بخور اور دھونی: اسلامی عملیات میں لوبان، حرمل (کالا دانہ)، کستوری، عود اور ہینگ کی دھونی دی جاتی ہے۔ خاص طور پر عصر اور مغرب کے درمیان گھر میں دھونی دے کر آیاتِ رقیہ تلاوت کی جاتی ہیں، کیونکہ شیاطین بدبو پسند کرتے ہیں اور پاکیزہ خوشبو یا مخصوص دھونی سے بھاگتے ہیں۔

۲۔ کھلایا پلایا گیا جادو (سحرِ ماکول و مشروب) اور جسمانی اخراج

فادر امورتھ نے پیٹ کے مخصوص درد، عجیب و غریب ڈکاروں، اور قے کے ذریعے عجیب اشیاء (شیشے، کیل، بال، دھاگے، خون کے لوتھڑے اور جھاگ) نکلنے کا جو ذکر کیا ہے، اسلامی علاج (رقیہ) میں اسے “سحرِ ماکول و مشروب“ (کھلایا یا پلایا گیا جادو) کہا جاتا ہے۔ اس ضمن میں مسلمان عاملین کے مشاہدات اور طریقے بالکل یکساں ہیں:

علامات کی مماثلت: مسلمان راقین کے مطابق بھی جب کسی کو جادو کھلایا جائے تو معدے میں مستقل درد (جو میڈیکل ٹیسٹ میں نہ آئے)، گیس، تیزابیت، منہ سے بدبو، اور تلاوتِ قرآن سنتے وقت زور دار ڈکاریں، جمائیاں یا ابکائیاں آنا عام علامات ہیں۔

اخراج کا طریقہ (استفراغ السحر): جس طرح پادری دم کیا ہوا تیل اور پانی پلاتے ہیں، مسلمان معالجین “سنا مکی” (نبوی جڑی بوٹی)، دم کیا ہوا زیتون کا تیل، عرقِ گلاب اور بیری کے پتوں والا پانی نہار منہ پلاتے ہیں۔

خارج ہونے والے مادے: رقیہ کے دوران مریضوں کو قے آتی ہے جس میں سفید جھاگ، پیلا، کالا یا سرخ گاڑھا مادہ، الجھے ہوئے بال، گانٹھ لگے دھاگے، یا باریک کنکر اور لوہے کے ذرات نکلتے ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے بھی یہ اشیاء معدے میں مادی طور پر پہلے سے اس شکل میں موجود نہیں ہوتیں، بلکہ جادو کے خادم جنات کی تاثیر سے تلاوت کے دباؤ کے وقت مادی شکل (Materialize) اختیار کر کے خارج ہوتی ہیں اور گلے کو زخمی کیے بغیر نکل جاتی ہیں۔

۳۔ تشخیص کے خفیہ طریقے (پانی اور کپڑوں کا ٹیسٹ)

فادر امورتھ کا یہ طریقہ کہ بے خبر یا منکر مریض کو چائے یا سوپ میں دم والا پانی ملا کر دیا جائے یا اس کے کپڑوں پر دم کیا جائے، مسلمان عاملین کے ہاں صدیوں سے رائج ہے:

پانی کے ذائقے کی تبدیلی: مسلمان معالجین جب کسی ایسے مریض کو (جو علاج پر راضی نہ ہو) دم کیا ہوا پانی عام پانی میں ملا کر پلاتے ہیں، تو آسیب یا جادو کا شکار شخص فوری طور پر شکایت کرتا ہے کہ پانی کڑوا، کھٹا، نمکین ہے، یا اس میں سے مٹی، خون یا سڑے ہوئے گوشت کی بو آ رہی ہے۔

کپڑوں پر دم اور تشخیص: مسلمان عاملین مریض کے استعمال شدہ کپڑے (خاص طور پر بنیان یا قمیص جس میں پسینہ لگا ہو) منگواتے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ کپڑے پر دم کر کے مریض کو پہنایا جاتا ہے جس سے اس کے جسم میں تپش یا بے چینی شروع ہو جاتی ہے اور وہ کپڑے اتار پھینکتا ہے۔ دوسرا طریقہ جو بعض روایتی عاملین استعمال کرتے ہیں وہ “کپڑا ناپنا” ہے، جس میں مخصوص سورتیں پڑھ کر کپڑے کی لمبائی ماپی جاتی ہے جو سحر کی موجودگی میں گھٹتی یا بڑھتی محسوس ہوتی ہے۔

۴۔ شیطانی چالیں، دھوکہ دہی اور نفسیاتی رکاوٹیں

عبارت میں فادر امورتھ نے شیاطین کے چھپنے، علاج سے روکنے اور جھوٹے نظارے دکھانے کا جو نقشہ کھینچا ہے، اسلامی علمِ رقیہ میں اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

علاج سے فرار اور رکاوٹیں: جب مریض کسی راقی (علاج کرنے والے) کے پاس جانے کا ارادہ کرتا ہے تو اچانک اس کے سر یا ٹانگوں میں شدید درد اٹھتا ہے، گاڑی خراب ہو جاتی ہے، یا گھر میں بلاوجہ جھگڑا کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ وہ جا نہ سکے۔

موت یا روانگی کا جھوٹا ناٹک: تلاوتِ قرآن کے دوران حاضر ہونے والا جن اکثر چیخ کر کہتا ہے کہ “میں جا رہا ہوں” یا “میں جل گیا ہوں”، اور مریض بالکل پرسکون ہو جاتا ہے۔ اناڑی عامل سمجھتا ہے کہ جن نکل گیا، حالانکہ وہ صرف تلاوت بند کروانے کے لیے جسم کے کسی کونے میں چھپ کر بیٹھ جاتا ہے۔

جھوٹا تصوف اور استدراج (False Mysticism):

یہ نقطہ دونوں مذاہب میں انتہائی اہم ہے۔ جس طرح عیسائی مریض کو مریم علیہ السلام یا اولیاء کے جھوٹے نظارے دکھائے جاتے ہیں، اسی طرح مسلمانوں میں شیاطین مریض کو خواب یا مراقبے میں بزرگوں کی شکلیں دکھاتے ہیں، اسے کہتے ہیں کہ “تم ولی بن گئے ہو، تمہیں اب کسی عامل یا نماز کی ضرورت نہیں”، یا اس کے کانوں میں آوازیں (ہاتف غیبی) پڑتی ہیں جس سے وہ غیب دانی کا دعویٰ کرنے لگتا ہے۔ اسلام میں اسے “تلبيسِ ابليس“ (شیطان کا دھوکہ) اور “استدراج“ کہا جاتا ہے۔

عام پانی بمقابلہ دم والا پانی:

فادر کینڈیڈو کے خادم والے واقعے کی طرح مسلمان راقین کے ہاں بھی یہ تجربہ عام ہے کہ اگر راقی بے دھیانی میں تلاوت کرے یا بغیر وضو اور توجہ کے پانی پر پھونکے، تو مریض کے اندر موجود سرکش جن ہنس کر کہتا ہے کہ “آج تمہاری پڑھائی میں کوئی طاقت نہیں ہے!” کیونکہ تاثیر صرف الفاظ میں نہیں بلکہ پڑھنے والے کے ایمان، تقویٰ اور یکسوئی میں ہوتی ہے۔

۵۔ گھروں کی بندش، چوکھٹ کا عمل اور تسلسل کی اہمیت

فادر امورتھ نے دروازے کی دہلیز پر دعا پڑھنے اور عمل روکنے پر دوبارہ گڑبڑ شروع ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں اس کے متبادل اعمال یہ ہیں:

دہلیز اور چوکھٹ کی اہمیت: جادوگر اکثر گھر کی دہلیز (چوکھٹ) کے نیچے تعویذ دباتے ہیں یا گندا پانی گراتے ہیں تاکہ گزرنے والے متاثر ہوں۔ اس کے توڑ کے لیے مسلمان عاملین گھر کی دہلیز اور چاروں کونوں پر دم کیا ہوا پانی اور نمک چھڑکنے اور وہاں اذان دینے کی تلقین کرتے ہیں۔

سورۃ البقرہ کا حصار: حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ اگر کوئی خاندان وقتی علاج کے بعد گھر میں نماز، تلاوت اور صبح و شام کے اذکار (حفاظتی دعائیں) ترک کر دے، تو شیاطین دوبارہ لوٹ آتے ہیں—بالکل ویسے ہی جیسے عیسائی خاندان کے دعا روکنے پر ایک ہفتے میں اثرات واپس آ گئے۔

۶۔ جانوروں پر آسیب اور ان کا بطور آلہ کار استعمال

فادر امورتھ کا جانوروں (خصوصاً بلی اور سور) کے متعلق مشاہدہ اسلامی عقائد اور عاملین کے تجربات سے مکمل میل کھاتا

ہے:

جنات کا جانوروں میں حلول اور روپ دھارنا: اسلامی عقیدے کے مطابق جنات کو شکل بدلنے (تشکل) کی طاقت حاصل ہے اور وہ اکثر کالے کتے، بلی اور سانپ کا روپ دھارتے ہیں۔ حدیث میں کالے کتے کو شیطان کہا گیا ہے، اور گھروں میں نظر آنے والے سانپوں کو مارنے سے پہلے تین بار تنبیہ کرنے کا حکم ہے کیونکہ وہ جنات ہو سکتے ہیں۔

بلی اور جادوگر: مسلمان عاملین کے مطابق بھی کالی بلیاں جادوگروں کی خاص خادم ہوتی ہیں یا شیاطین بلی کے جسم میں چھپ کر گھروں کی جاسوسی کرتے ہیں اور جادو کی تجدید کرتے ہیں۔

جانوروں پر سحر اور ان کی ہلاکت: دیہاتوں اور گھروں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ اچانک پالتو جانور (بھینس، گائے، بکری یا پالتو بلی/طوطا) دودھ دینا بند کر دیتے ہیں، خون کا پیشاب کرتے ہیں، یا پاگل ہو کر مالک پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ کئی بار گھر کے کسی فرد پر آنے والی بھاری جادوئی وار گھر کا پالتو جانور یا پرندہ اپنے اوپر لے لیتا ہے اور اچانک تڑپ کر مر جاتا ہے، جس سے گھر کا فرد محفوظ رہ جاتا ہے۔ مسلمان عاملین ایسے جانوروں پر بھی سورۃ الفاتحہ، آیۃ الکرسی اور چاروں قل پڑھ کر دم کرتے ہیں اور

ان کے گلے یا باڑے میں حفاظتی تعویذ یا دم والا پانی استعمال کراتے ہیں۔

۷۔ مسلمان عاملین کے چند مخصوص اضافی طریقے (جو عیسائیت سے مختلف ہیں)

مشترکات کے علاوہ مسلمان معالجین کے ہاں چند ایسے مخصوص نبوی اور روحانی طریقے ہیں جو اس علاجی سلسلے کو مزید مکمل کرتے ہیں:

بیری کے پتے (ورق السدر): جادو کے توڑ کے لیے سب سے طاقتور اسلامی نسخہ ہری بیری کے سات پتوں کو پتھر پر کوٹ کر پانی میں ملانا اور اس پر آیۃ الکرسی، سورۃ الکافرون اور معوذتین پڑھ کر تین گھونٹ پینا اور باقی سے غسل کرنا ہے۔

حجامہ (Cupping Therapy): جسم کے جن حصوں میں سحر یا آسیب کا مادہ منجمد ہو جائے (جیسے کندھے، سر کا پچھلا حصہ یا کمر)، وہاں تلاوت کے ساتھ حجامہ لگا کر فاسد خون اور جادوئی اثرات کو جسم سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔

شہد اور عجوہ کھجور: حدیث کی رو سے صبح نہار منہ سات عجوہ کھجوریں کھانا اس دن جادو اور زہر سے مکمل تحفظ دیتا ہے، جبکہ دم کیا ہوا شہد پیٹ کے جادو کو کاٹنے کے لیے اکسیر مانا جاتا ہے۔

اذان کا ہتھیار: آسیب زدہ مکان یا مریض کے کان میں بلند آواز سے اذان دینا شیاطین کو فوری طور پر کمزور اور منتشر کرنے کا سب سے مؤثر اسلامی طریقہ ہے

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

بیاض سائیں بخش مجرب نسخہ جات کا مجموعہ مرتب و پیش کار: سعد ورچوئل سکلز پاکستان

بیاض سائیں بخش

بیاض سائیں بخشمجرب نسخہ جات کا مجموعہمرتب و پیش کار: سعد ورچوئل سکلز پاکستان پیش لفظ“بیاض سائیں بخش” دیسی و یونانی

[saadherbal_newsletter_form]