پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

کرامات طب زبدۃ الحکما حکیم محمد عبد الرحيم جميل

كرامات طب
زبدۃ الحکما حکیم محمد عبد الرحيم جميل
گزارشات
A
یہ بلا اختلاف تسلیم شدہ اصول ہے کہ کوئی فرد یا کوئی قوم اس وقت تک کسی عزت کی مستحق نہیں ہوتی۔ جب تک کہ وہ خود اپنی عزت آپ نہیں کرتی۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ انسان مغرور اور خود پسند بن کر اپنے منہ سے اپنی تعریف و توصیف کرنے لگے۔ اور دوسروں کی تحقیر و تذلیل کرنے پر تل جائے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ اس کے روزمرہ کے افعال و اقوال میں متانت اور سنجیدگی پائی جائے اور اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو کہ جو تشحیک کا موجب ہو سکے کوئی اس کے اطوار و افعال پر طعن و تشنیع نہ کر سکے اور اسے ہر شخص وقعت کی نگاہوں سے دیکھنے پر مجبور ہو۔ اس کو اپنی عزت کرنا یا تحریم نفس کہتے ہیں ۔ جو شخص اپنی حرکات کی نگہداشت نہیں کرتا۔ اور لا ابالی طور پر زندگی بسر کرتا ہے۔ وہ قابل عزت نہیں سمجھنا چاہئے ۔ گذشتہ واقعات پر نظر ڈالنے سے بھی میں متحقق ہوتا ہے کہ جن افراد یا قوم نے خود احترامی کے اصول کی قدر کی ان کی عام طور پر تحریم و توقیر کی جاتی رہی۔ اور جن کو اس
عالمگیر حقیقت سے انحراف رہا وہ ہمیشہ ذلت و ادبار کے گڑھے میں پڑے رہے۔ ایسے لوگ جو اپنا احترام قائم کرنے کے لئے خود کوشش نہیں کرتے۔ وہ دنیا میں ذلیل و خوار حیثیت رکھتے ہیں۔ یا صرف نہیں کہ وہ اپنے ہم چشموں کی نظروں سے گر جاتے ہیں ۔ بلکہ خدا کے نزدیک بھی ان کی نا مبارک ہستی نا قابل التفات ٹھہرتی ہے ۔
بت بلند دار که نزد خدا و خلق
تو اقتدار تو شد بقدر امت
اس میں کچھ شک نہیں کہ انفرادی عظمت و قار کے حاصل کرنے کے لئے انفرادی کوشٹر کارگر ہو سکتی ہے۔ مگر اجتماعی عزت وجاہت کا حصول اس وقت تک ہرگز ممکن نہیں ہوتا۔ جب تک کہ سب مل کر اتحادی طور پر سعی نہ کریں۔ ہم دیکھتے ہیں۔
کہ جب ہمارے احساس نے اس طرف سے کوتاہی کی ہے۔ اور ہمیں احترام کی طرف التفات نہیں رہا۔ اس وقت سے ہم برابر کرتے چلے گئے ہیں ۔ اور ہماری وہ تمام فنی وجاہت جسے ہمارے اسلاف نے جانگاہ محنتوں سے مہیا کیا تھا بالکل ملیا میٹ ہو گئی ہے۔ دنیا میں جس قدر افراد یا اقوام نے ترقی کی ہے ۔ ان کی ترقی کا سنگ بنیاد میں سنہری اصول تھا۔ کہ انہوں نے اپنے آپ کو اپنی ذاتی کوششوں سے معزز بنایا۔ اور دوسرے ان کی عزت کرنے پر ہے کہ مستحق کو اس کا کھول کر برسے گا کہ اس کی تمام گرد آئین میں یہ ایک اٹل قائدہ تک ایک لعل گرانقدر عارضی گود میں پوشیدہ بھی رہے۔ تو اس امر کو یقینی سمجھنا چاہئے کہ ایک دن ابر رحمت ایسا دل گا۔ اور اس کا روشن و درخشاں چرو اپنی ذاتی کشش سے رف کھینچ لے گا اور ایک عالم اس کا مشتری نظر آئے رہے۔ اس کے ظہور کا زمانہ ابدالا باد تک غیر موجود یا دوسرے لفظوں میں ناہید اور نیست رہے۔
میرے بزرگو! تم اگر آبدار موتی بن کر چیکو گے تو یہ امر کسی کے قبضہ قدرت میں نہیں ہو۔ رو قیمت کو تسلیم نہ کرے۔ جس چیز کی ہستی ہو وہ کسی حال میں فی آن واحد ( ایک ہی وقت کے اندر) بنتی نہیں ہو سکتی ۔ یہ تقاتل اہل علم کی اصلاح میں عدم و ملکہ کہلاتا ہے ۔ جب ایک ہستی نا پیدا نہ ہو جائے ، پیدانہ نتی کی شکل نظر نہیں آتی یہ بعینہ وہی مثال ہے۔ کہ ایک ہی مکان میں ایک ہی وقت کے اندر ایسا رہنا سخت نا ممکن او روشنی بھی موجود ہو اور تاریکی بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریکی روشنی کے محروم ہو جانے کا نام ہے۔ خدا کے لئے تم اس اصول کو اپنا نصب العین بنا لو کہ ہمیں اپنی عزت آپ کرنی چاہئے۔ اور دوسرے لفظوں میں یہ مفہوم اپنے ذہنوں میں رکھو کہ خود اپنا ادب کرنا چاہیئے کہ اپنے اطوار و افعال یا اپنے کارناموں کو اس قابل بنایا جائے کہ دوسروں کو پروان کی عزت واجب ہو جائے ۔ زمانہ بہترین منصف ، بہترین جوہر شناس بہترین منصف مردم ہے۔ کسی کی ۔
قابلیت یا مقبول نہیں رہتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کچھ اہلبیت ہو۔۔ تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا
اگر تم نے اپنی زندگی کو ایک عبث چیز فرض کر لیا۔ اگر تم نے اپنے ان فنی فرائض کو جو تمہاری گردنوں پر طلب و ویدک کے نام لیوا ہونے کی حیثیت سے واجب الادا ہیں۔ فراموش کر بیٹھے۔ اگر تحقیر کے تم موجب ہوئے، اگر فن کی تدلیل کے تم باعث ٹھرے۔ اگر تم نے اسلاف کی مبارک یاد گار کو طاق نسیان پر رکھ دیا تو ایک واجی امر ہے کہ تم کو انتہائی حقارت کی نظر سے دیکھا جائے۔ پھر اس میں تمہیں شکایت ہوگی تو زمانہ صاف طور پر کہہ دے گا۔
یہ یہ دوسری خطا ہے وہ پہلا قصور تھا
اس عالی شان اصول کی حقانیت آفتاب نصف النہار سے بھی زیادہ روشن ہے کہ خدا کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے ۔ اس کو بد نظر رکھتے ہوئے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی حالت میں کوئی معتد بہ تبدیلی پیدا کرنے کے بغیر اس امر کا خواہشمند اور متمنی ہو کہ اس کی حالت نہ بدل جائے۔ اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ انسان کی طرف سے سنتی ہو۔ اور قدرت اس کا اہتمام انجام دینا) کرے۔ جب کوشش ہی نہ کرے تو انجام دہی کیسی؟ انسانی فعل کے بعد قدرتی فعل کے نتیجہ کے طور پر واقع ہوتا ہے۔ اس مبحث میں اکثر لوگوں نے مسئلہ تقدیر کے سمجھنے میں افسوس ناک لغزش کھائی ہے اور وہ ہاتھوں اور پاؤں کو بیحس و حرکت بنا کر بیٹھ گئے ہیں۔ لیکن امیدوار اور آرزو مند ہیں۔ کہ خود بخود ان کے لئے آسمان سے بائیدہ (خوانچہ ) نازل ہو۔ ان کی قدر خطرناک فریب خوردگی ہے۔ کسی قدرت حسرت ناک تخیل ہے کہ وہ ہونے کے بغیر کاٹنے کے لئے آمادہ اور مائل نظر آتے ہیں۔ ان کو کان کھول کر سننا چاہئے کہ اوپر سے آنے والی قدرت الہی کے سوائے کوئی چیز نہیں۔ قدرت کی فیاضی کے اس کے لئے اپنے ہی وجود میں ہر قسم کی استعداد فرمادی ہے۔ انہیں موجودہ قوتوں سے کام لینا چاہئے سبھی کچھ ہو سکتا ہے۔۔
تو زنخچه کم نه میده در دل کشابه چمن در آ
اب وقت ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو جائے ۔ فن کی طرف کامل توجہ کی جائے۔ کیونکہ کوئی اہل فن اس وقت تک معزز نہیں کہلا سکتا جب تک کہ اس کا فن قابل عزت نہ سمجھا جائے۔ لیکن ہم افسوس کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ ہماری فنی حالت


 ·کرامت طب :-ڈاؤنلوڈ لنک :

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

باغ لذت

باغ لذت

باغ لذتمترجم کا نوٹ“الروض العاطر في نزهة الخاطر جنسی افعال اور معاملات کے بارے میں ایک کلاسیکی عربی کتاب ہے

[saadherbal_newsletter_form]