اس لیے صحابیاتؓ کی طبی خدمات کو موجودہ دور میں خواتین کی:

صحابیاتِ طبیباتؓ
عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین کی طبی خدمات، ان کی طبی خصوصیات کی تاریخی اہمیت اور عصرِ حاضر میں افادیت
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
تمہید
اسلامی تاریخ کا عہدِ نبوی ﷺ محض مذہبی اور سیاسی تشکیل کا زمانہ نہیں تھا بلکہ اس دور میں معاشرت، تعلیم، خدمتِ خلق، جنگی نظم، علاج و معالجہ اور انسانی بہبود کے متعدد شعبے بھی عملی صورت میں سامنے آئے۔ ان شعبوں میں خواتینِ صحابہؓ نے بھی مختلف نوعیت کی خدمات انجام دیں۔
خصوصاً غزوات اور اسفار کے مواقع پر بعض صحابیاتؓ پانی پلانے، زخمیوں کی دیکھ بھال، مرہم پٹی، مریضوں کی خدمت، زخمیوں کو میدانِ جنگ سے محفوظ مقام تک منتقل کرنے اور بعض صورتوں میں باقاعدہ مداوات کا کام کرتی تھیں۔ ان خدمات کے شواہد صحیح احادیث، کتبِ سیر، طبقات اور کتبِ تراجم میں موجود ہیں۔
یہاں ایک بنیادی علمی احتیاط ضروری ہے کہ جدید طبی اصطلاح “Specialization / تخصص” کو عہدِ نبوی ﷺ کی خواتین پر براہِ راست منطبق نہ کیا جائے۔ قدیم مصادر میں عموماً یہ نہیں کہا گیا کہ فلاں صحابیہ “سرجن”، “آنکھوں کی ماہر ڈاکٹر” یا “ماہرِ امراضِ جلد” تھیں۔ البتہ ان کے عملی کردار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض خواتین کو مخصوص طبی نوعیت کے کاموں میں تجربہ حاصل تھا۔
اس لیے زیادہ درست تعبیر “نمایاں طبی خدمات کے میدان“ ہے، نہ کہ جدید معنوں میں “مکمل طبی تخصص”۔
1۔ عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین کی طبی خدمات کی نوعیت
عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین کی طبی خدمات کو چند بڑے شعبوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
زخمیوں کی مداوات
مرہم پٹی اور زخموں کی دیکھ بھال
پانی پلانا اور فوری امداد
زخمیوں کو میدان سے محفوظ مقام تک منتقل کرنا
مریضوں کی نگہداشت
جنگی حالات میں طبی معاونت
بعض بیماریوں کے علاج یا رقیہ کا علم
خواتین اور بچوں سے متعلق صحت و نگہداشت
اجتماعی اور انسانی خدمت
صحیح بخاری میں ربیع بنت معوذؓ کی روایت نہایت اہم ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں:
كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ نَسْقِي وَنُدَاوِي الْجَرْحَى وَنَرُدُّ الْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِ۔
یعنی ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوتے، لوگوں کو پانی پلاتے، زخمیوں کی مداوات کرتے اور مقتولین کو مدینہ واپس لاتے تھے۔ یہ روایت صحیح بخاری میں متعدد مقامات پر آئی ہے، جن میں احادیث 2882، 2883 اور 5679 شامل ہیں۔ (dorar.net)
یہ روایت اس موضوع کی بنیادی تاریخی شہادتوں میں سے ہے، کیونکہ اس میں محض خدمت یا پانی پلانے کا ذکر نہیں بلکہ واضح لفظ “نداوي الجرحى“ یعنی “ہم زخمیوں کا علاج/مداوات کرتے تھے” استعمال ہوا ہے۔
2۔ رفیدہ اسلمیہؓ اور ابتدائی طبی نگہداشت
رفیدہ اسلمیہؓ کا نام اسلامی تاریخ میں خواتین کی طبی خدمت کے حوالے سے سب سے زیادہ معروف ہے۔ تاہم ان کے بارے میں ایک اہم علمی مسئلہ نام اور شناخت کا ہے۔
بعض مصادر میں انہیں رفیدہ کہا گیا ہے، جبکہ ابن سعد سے منقول روایت میں کُعَیْبَة بنت سعد الأسلمیة کا ذکر ملتا ہے۔ ابن حجر نے بھی رفیدہ کے حوالے سے زخمیوں کی مداوات کا ذکر نقل کیا ہے۔ (حديث)
ابن حجر کی نقل کے مطابق سعد بن معاذؓ خندق کے موقع پر زخمی ہوئے تو انہیں ایک ایسی خاتون کے پاس رکھا گیا جو زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔ ابن سعد کے حوالے سے کعیبہ بنت سعد الأسلمیہ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ تھا جہاں وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔ (حديث)
یہ واقعہ جدید اصطلاح میں کسی باقاعدہ “ہسپتال” کا مکمل تصور ثابت نہیں کرتا، لیکن اس سے ایک اہم حقیقت ضرور سامنے آتی ہے:
زخمیوں کے لیے مخصوص جگہ، طبی نگہداشت اور مسلسل مداوات کا ایک منظم طریقہ موجود تھا۔
رفیدہؓ کی تاریخی اہمیت
ان کے کردار میں ہمیں درج ذیل عناصر نظر آتے ہیں:
زخمیوں کی نگہداشت
مسلسل طبی خدمت
زخمی کو محفوظ مقام پر رکھنا
جنگی حالات میں طبی معاونت
اجتماعی طبی خدمت
اس اعتبار سے ان کے کردار کو جدید nursing، field care اور emergency wound care کے بعض بنیادی تصورات سے تقابلی طور پر سمجھا جاسکتا ہے، اگرچہ انہیں جدید معنوں میں “نرس” یا “سرجن” کہنا تاریخی طور پر احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔
3۔ ربیع بنت معوذؓ — جنگی طبی خدمت کی مضبوط شہادت
ربیع بنت معوذؓ کے بارے میں ہمارے پاس سب سے مضبوط روایات میں سے ایک موجود ہے۔
صحیح بخاری میں ان سے مروی ہے:
كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَنَسْقِي الْقَوْمَ، وَنَخْدُمُهُمْ، وَنَرُدُّ الْجَرْحَى وَالْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِ۔
یعنی ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے، لوگوں کو پانی پلاتے، ان کی خدمت کرتے اور زخمیوں اور مقتولین کو مدینہ واپس لاتے تھے۔ (dorar.net)
ایک دوسری روایت میں “ونداوي الجرحى“ کے الفاظ ہیں، یعنی زخمیوں کی مداوات بھی کرتی تھیں۔ (dorar.net)
طبی اہمیت
یہ خدمت محض نرسنگ تک محدود نہیں تھی بلکہ جنگی حالات میں:
پانی کی فراہمی
زخمیوں کی فوری دیکھ بھال
زخمیوں کی منتقلی
طبی مداوات
مریضوں کی عمومی خدمت
جیسے کاموں کا مجموعہ تھی۔
جدید field medicine اور prehospital care کے بنیادی تصورات سے اس کا تقابلی تعلق واضح کیا جاسکتا ہے۔
4۔ حمنہ بنت جحشؓ — زخمیوں کی مداوات
حمنہ بنت جحشؓ کے بارے میں بھی تاریخی روایت ملتی ہے کہ انہوں نے غزوۂ احد کے موقع پر زخمیوں کی خدمت کی۔
طبرانی کی روایت میں معاویہ بن عبید اللہ بن ابی احمد بن جحش کہتے ہیں:
رأيت بعيني حمنة بنت جحش يوم أحد تسقي العطشى وتداوي الجرحى
یعنی میں نے اپنی آنکھوں سے حمنہ بنت جحشؓ کو غزوۂ احد کے دن پیاسوں کو پانی پلاتے اور زخمیوں کی مداوات کرتے دیکھا۔ اس روایت کو ہیثمی نے حسن قرار دیا ہے۔ (dorar.net)
ابن حجر نے بھی حمنہؓ کے ترجمے میں ان کی غزوۂ احد میں زخمیوں کی خدمت اور مداوات کا ذکر کیا ہے۔ (Sunna)
طبی خصوصیت
حمنہؓ کا کردار خاص طور پر جنگی ابتدائی طبی امداد اور زخمیوں کی مداوات کے عنوان سے اہم ہے۔
5۔ ام کبشہ قضاعیہؓ — طبی خدمت کا واضح شعور
ام کبشہ قضاعیہؓ کا واقعہ اس موضوع میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جنگی مہم میں جانے کی اجازت مانگی اور واضح کیا:
إِنِّي لَسْتُ أُرِيدُ أَنْ أُقَاتِلَ، إِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ أُدَاوِيَ الْجَرْحَى وَالْمَرْضَى وَأَسْقِيَ الْمَاءَ۔
یعنی میں لڑائی نہیں کرنا چاہتی، بلکہ زخمیوں اور مریضوں کی مداوات اور پانی پلانے کے لیے جانا چاہتی ہوں۔ (حديث)
یہ روایت اگرچہ ام کبشہؓ کے جنگی مہم میں جانے کی اجازت کے بارے میں ہے، لیکن اس میں طبی خدمت کا تصور نہایت واضح ہے۔
یہاں تین الگ ذمہ داریاں سامنے آتی ہیں:
زخمیوں کی مداوات + مریضوں کی خدمت + پانی کی فراہمی
یہی تینوں چیزیں جدید ہنگامی طبی خدمات میں بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
6۔ معاذہ غفاریہؓ — مریضوں اور زخمیوں کی خدمت
معاذہ غفاریہؓ سے منقول روایت میں وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسفار میں جاتی تھیں، مریضوں کی دیکھ بھال کرتی اور زخمیوں کی مداوات کرتی تھیں:
أَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى، وَأُدَاوِي الْجَرْحَى
یعنی میں مریضوں کی دیکھ بھال کرتی اور زخمیوں کا علاج کرتی تھی۔ (dorar.net)
البتہ یہاں علمی احتیاط ضروری ہے: اس روایت کی سند میں حارثہ کے بارے میں ضعف کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ابن حجر نے اسے نقل کیا ہے، لیکن اسے صحیح بخاری کی روایات کی طرح قطعی مضبوط شہادت کے درجے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ (dorar.net)
لہٰذا معاذہؓ کو “روایت میں طبی خدمت سے منسوب صحابیہ“ کہنا زیادہ محتاط تعبیر ہے۔
7۔ ام زیاد اشجعیہؓ — ادویاتی معاونت اور جنگی طبی خدمت
ام زیاد اشجعیہؓ کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ وہ چھ خواتین کے ساتھ خیبر کے موقع پر موجود تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس دوا تھی جس سے وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھیں:
مَعَنَا دَوَاءٌ نُدَاوِي بِهِ الْجَرْحَى
اور وہ زخمیوں کو دوا دیتی تھیں، تیر پہنچاتی، سَویق فراہم کرتی اور دیگر معاون خدمات انجام دیتی تھیں۔ (Taraajem)
یہ روایت خواتین کے طبی کردار کی ایک اور جہت سامنے لاتی ہے:
ادویات ساتھ رکھنا اور زخمیوں کے لیے استعمال کرنا۔
یہ جدید اصطلاح میں medical supplies / field medical support سے کسی حد تک مشابہ کردار ہے۔
8۔ ام مطاع اسلمیہؓ
ام مطاع اسلمیہؓ کے بارے میں معتبر کتبِ تراجم میں ان کی خیبر میں موجودگی کا ذکر ملتا ہے۔ ابن حجر نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کا خیبر میں شریک ہونا ثابت ہے، اگرچہ انہیں مرد کے برابر حصہ ملنے والی روایت کے بارے میں خود انہوں نے “وفي ذلك نظر“ یعنی اس میں محلِ نظر ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ (Sunnah.com)
لہٰذا ان کے بارے میں “ماہر جراح” یا کوئی مخصوص طبی تخصص بیان کرنا مناسب نہیں۔ ان کا نام طبی خدمات کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے مزید مضبوط مخصوص روایت درکار ہے۔
9۔ شفاء بنت عبداللہؓ — طبی علم اور رقیہ
شفاء بنت عبداللہؓ ایک ممتاز تعلیم یافتہ صحابیہ تھیں اور ان سے متعلق ایک اہم طبی نوعیت کی روایت موجود ہے۔
ایک شخص کو النملة کی تکلیف تھی اور شفاءؓ اس کے لیے رقیہ کرتی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے رقیہ کا طریقہ پیش کرنے کو کہا اور پھر انہیں اسے جاری رکھنے اور حفصہؓ کو سکھانے کا حکم دیا۔ روایت کو حاکم نے صحیح کہا اور اس کے مصادر میں ابو داود، احمد اور نسائی بھی مذکور ہیں۔ (dorar.net)
یہاں ایک اہم علمی اصلاح ضروری ہے:
شفاءؓ کو “ماہرِ امراضِ جلد” کہنا درست نہیں۔
کیونکہ روایت میں النملة کا ذکر ہے اور اس سے کسی جدید dermatological specialty کا اثبات نہیں ہوتا۔
البتہ اس واقعے سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ شفاءؓ کو ایک مخصوص علاجی طریقے کا تجربہ تھا اور اسے نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا۔
10۔ نسیبہ بنت کعبؓ، ام سلیمؓ اور دیگر خواتین
غزوۂ احد اور دوسرے مواقع پر متعدد خواتین نے زخمیوں کو پانی پلانے، ان کی خدمت کرنے اور جنگی حالات میں طبی معاونت فراہم کرنے میں حصہ لیا۔
نسیبہ بنت کعبؓ، یعنی ام عمارہؓ، کا کردار بالخصوص غزوۂ احد کے واقعات میں نمایاں ہے۔ تاہم ان کے بارے میں ہر وہ طبی تفصیل جو بعد کی تحریروں میں بیان کی جاتی ہے، یکساں درجۂ صحت نہیں رکھتی۔
اسی طرح ام سلیمؓ اور دیگر صحابیات کے بارے میں غزوات میں خواتین کی اجتماعی طبی معاونت کے شواہد ملتے ہیں۔ اس لیے ان سب کے بارے میں قطعی جدید طبی تخصص مقرر کرنے کے بجائے “جنگی طبی معاونت“ اور “زخمیوں کی نگہداشت“ جیسی تعبیرات زیادہ علمی ہیں۔
11۔ ایک اہم تصحیح: زینب بنت حارثؓ
آپ کے فراہم کردہ نمونے میں:
زینب بنت حارثؓ — امراضِ چشم
لکھا گیا ہے۔
اس نسبت کو اشاعت سے پہلے ضرور حذف یا دوبارہ مستند کرنا چاہیے۔
مشہور تاریخی زینب بنت حارث وہ خاتون ہیں جن کا تعلق خیبر کے واقعے اور زہر آلود بکری کے واقعے سے بیان کیا جاتا ہے۔ دستیاب معتبر تراجم میں ان کا “ماہرۂ امراضِ چشم” ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
لہٰذا تحقیقی مضمون میں کسی ایسی نسبت کو صرف اس بنیاد پر شامل نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی جدید فہرست یا ثانوی مضمون میں درج ہے۔
12۔ کیا یہ خواتین جدید معنی میں “ڈاکٹر” یا “سرجن” تھیں؟
یہ سوال انتہائی اہم ہے۔
جدید طب میں ڈاکٹر، سرجن، نرس، مڈوائف، پیرامیڈک، ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن وغیرہ باقاعدہ تعلیمی اور قانونی پیشے ہیں۔
عہدِ نبوی ﷺ میں ایسا جدید professional licensing system موجود نہیں تھا۔
اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ:
صحابیاتؓ میں بعض خواتین عملی طبی مہارت، تجربہ اور علاجی خدمت انجام دیتی تھیں، لیکن انہیں جدید پیشہ ورانہ عہدوں کے عین مطابق قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں۔
البتہ ان کے عملی کاموں کو جدید شعبوں سے تقابلی طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔
13۔ ان طبی خدمات کا اُس زمانے کی طب میں مقام
عہدِ نبوی ﷺ کی طب کو جدید بایومیڈیکل سائنس کے معیار پر ناپنا تاریخی طور پر درست نہیں۔ اس دور میں علاج میں تجرباتی علم، مقامی طبی روایت، ادویاتی اجزا، زخموں کی عملی دیکھ بھال، غذائی تدابیر، رقیہ اور مختلف دستیاب علاجی طریقے شامل تھے۔
اس ماحول میں کسی خاتون کا:
زخمی کی حالت دیکھنا،
زخم کی مداوات کرنا،
دوا استعمال کرنا،
مریض کی مسلسل نگرانی کرنا،
زخمی کو منتقل کرنا،
پانی اور غذا فراہم کرنا،
ایک حقیقی عملی طبی خدمت تھی۔
اس اعتبار سے صحابیاتؓ کی خدمات کو محض “جنگی خدمت” کہنا ان کے طبی کردار کو محدود کردینا ہوگا۔
14۔ ان خدمات کا جدید طب سے تقابلی تعلق
اگر عہدِ نبوی ﷺ کی ان خدمات کو جدید نظامِ صحت کے ساتھ تقابلی انداز میں دیکھا جائے تو کئی دلچسپ مماثلتیں سامنے آتی ہیں:
| عہدِ نبوی ﷺ میں عملی خدمت | جدید طبی شعبے سے تقابلی تعلق |
| زخمیوں کی مداوات | Wound care |
| مرہم پٹی | Nursing / wound management |
| زخمیوں کو محفوظ جگہ منتقل کرنا | Patient transport / evacuation |
| میدانِ جنگ میں فوری خدمت | Field medicine |
| پانی پلانا اور ابتدائی امداد | First aid |
| مریض کی مسلسل دیکھ بھال | Nursing care |
| ادویات کا استعمال | Medication support |
| حاملہ خواتین اور ولادت کی معاونت | Midwifery / maternal care |
| جنگی زخمیوں کی خدمت | Emergency & trauma care |
| مریضوں کی اجتماعی خدمت | Community health |
یہ تاریخی مساوات نہیں بلکہ تقابلی تشبیہ ہے۔ دونوں نظاموں کے درمیان صدیوں کا علمی اور تکنیکی فرق موجود ہے۔
15۔ عصرِ حاضر میں ان صحابیاتؓ کی افادیت
ان خواتین کی تاریخی افادیت صرف یہ ثابت کرنا نہیں کہ ماضی میں خواتین نے طبی خدمات انجام دی تھیں، بلکہ ان کے کردار میں آج کے لیے کئی عملی اسباق موجود ہیں۔
15.1 خواتین کی طبی تعلیم
آج دنیا بھر میں خواتین صحت کے شعبے کا ایک بنیادی حصہ ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں تقریباً 29.8 ملین نرسیں تھیں، اور تقریباً 85 فیصد نرسیں خواتین تھیں۔ (World Health Organization)
نرسنگ
مڈوائفری
میڈیکل تعلیم
کمیونٹی ہیلتھ
ایمرجنسی کیئر
میں شرکت کے تاریخی پس منظر کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
16۔ جنگی اور ہنگامی حالات میں خواتین کا کردار
رفیدہؓ، ربیعؓ، حمنہؓ اور دوسری خواتین کے واقعات کا ایک نمایاں پہلو conflict medicine ہے۔
آج بھی جنگ، قدرتی آفات، حادثات اور وباؤں کے دوران فوری طبی امداد انتہائی اہم ہے۔
WHO کے مطابق جان لیوا حالات میں کمیونٹی کی سطح پر خطرے کی بروقت شناخت، ابتدائی طبی امداد اور مریض کو مناسب طبی مرکز تک منتقل کرنا قابلِ قدر کردار رکھتا ہے۔ (World Health Organization)
یہ تصور صحابیاتؓ کے ان عملی کرداروں سے تقابلی طور پر جوڑا جاسکتا ہے جن میں زخمیوں کی فوری دیکھ بھال اور انہیں محفوظ مقام تک منتقل کرنا شامل تھا۔
17۔ نرسنگ اور مریض کی مسلسل نگہداشت
صحابیاتؓ کی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان کا کام صرف دوا دینے تک محدود نہیں تھا۔
وہ:
پانی دیتی تھیں،
مریض کی خدمت کرتی تھیں،
زخمی کی حالت دیکھتی تھیں،
زخم کی مداوات کرتی تھیں،
زخمیوں کو منتقل کرتی تھیں،
مسلسل نگہداشت کرتی تھیں۔
یہی وجہ ہے کہ جدید نرسنگ کے بعض بنیادی اصولوں سے ان خدمات کا تقابلی ربط قائم کیا جاسکتا ہے۔
WHO کے مطابق نرسنگ میں صحت کے فروغ، بیماری سے بچاؤ، علاج، بحالی، مریضوں اور خاندانوں کی نگہداشت اور ہنگامی حالات میں خدمات شامل ہیں۔ (World Health Organization)
18۔ خواتین کے لیے خواتین کی طبی خدمات
اسلامی معاشرے میں خواتین کی صحت سے متعلق بعض مسائل میں خواتین طبی کارکنوں کی موجودگی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
آج:
گائناکالوجی
مڈوائفری
زچگی
نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت
خواتین کی صحت
نرسنگ
جیسے شعبوں میں خواتین کی تربیت معاشرتی ضرورت ہے۔
WHO کے مطابق دنیا میں تقریباً 2.2 ملین مڈوائف موجود ہیں اور عالمی سطح پر مڈوائفری کی افرادی قوت میں نمایاں کمی بھی موجود ہے۔ (World Health Organization)
لہٰذا صحابیاتؓ کی خدمات کا مطالعہ مسلمان معاشروں میں خواتین کے لیے منظم طبی تعلیم کی تاریخی اور اخلاقی اہمیت اجاگر کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
19۔ کمیونٹی ہیلتھ کا تصور
صحابیاتؓ کے کردار کا ایک بڑا سبق یہ بھی ہے کہ طب صرف ہسپتال کی چار دیواری تک محدود نہیں۔
جنگ کے میدان، سفر، گھر، معاشرہ اور متاثرہ افراد کے درمیان جہاں ضرورت پیدا ہوئی، وہاں خدمت فراہم کی گئی۔
آج WHO بھی community-based health workers کو بنیادی صحت اور ہنگامی خدمات کے نظام میں اہم قرار دیتا ہے۔ (World Health Organization)
اس لیے صحابیاتؓ کی سیرت سے یہ اصول اخذ کیا جاسکتا ہے کہ:
صحت کی خدمت صرف معالج کا کام نہیں؛ ایک منظم معاشرے میں طبی امداد، نرسنگ، ابتدائی طبی امداد، مریضوں کی منتقلی اور کمیونٹی سپورٹ بھی صحت کے نظام کا حصہ ہیں۔
20۔ آج کے طبی تعلیمی اداروں کے لیے سبق
صحابیاتؓ کے طبی کردار کو صرف تاریخی واقعات کے طور پر پڑھانے کے بجائے اسے طبی تعلیم میں اخلاقی اور تاریخی مثال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
خصوصاً درج ذیل شعبوں میں:
1۔ First Aid Training
خواتین اور طالبات کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت۔
2۔ Nursing Education
مریض کی خدمت، نگہداشت اور انسانی ہمدردی۔
3۔ Emergency Medicine
حادثات اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل۔
4۔ Community Health
گاؤں، دیہات اور دور دراز علاقوں میں صحت کی بنیادی خدمات۔
5۔ Maternal Health
خواتین کی صحت اور مڈوائفری کی تربیت۔
6۔ Disaster Response
سیلاب، زلزلہ، جنگ اور دیگر ہنگامی حالات میں طبی رضاکارانہ خدمات۔
21۔ صحابیاتؓ کی طبی خدمات کا جامع تجزیاتی چارٹ
| صحابیہؓ | تاریخی طور پر قابلِ ذکر خدمت | ماخذ کی نوعیت | جدید تقابلی شعبہ |
| رفیدہ/کعیبہ اسلمیہؓ | زخمیوں کی مداوات، خیمۂ علاج سے منسوب خدمت | طبقات، تراجم، ابن حجر کی نقل | Wound care / field nursing |
| ربیع بنت معوذؓ | پانی پلانا، زخمیوں کی مداوات، زخمیوں کو منتقل کرنا | صحیح بخاری | Nursing / emergency care |
| حمنہ بنت جحشؓ | پانی پلانا، زخمیوں کو اٹھانا اور مداوات | طبرانی؛ حسن روایت | First aid / field care |
| ام کبشہ قضاعیہؓ | زخمیوں اور مریضوں کی مداوات کا ارادہ، پانی پلانا | کتب تراجم | Medical support |
| ام زیاد اشجعیہؓ | دوا کے ذریعے زخمیوں کا علاج، دیگر جنگی معاونت | اسد الغابہ/تراجم | Medication support / field care |
| معاذہ غفاریہؓ | مریضوں کی دیکھ بھال اور زخمیوں کی مداوات سے منسوب | ابن حجر، روایت میں ضعف | Patient care |
| شفاء بنت عبداللہؓ | مخصوص رقیہ/علاجی طریقے کا علم | ابو داود، احمد، نسائی، حاکم | Traditional therapeutic knowledge |
| ام مطاع اسلمیہؓ | خیبر میں شرکت | کتب تراجم | Medical role کو قطعی طور پر متعین نہیں کیا جاسکتا |
| نسیبہ بنت کعبؓ | غزوات میں عملی معاونت؛ بعض روایات میں زخمیوں کی خدمت | سیر و تراجم | Emergency support |
| ام سلیمؓ | غزوات میں خواتین کی اجتماعی معاونت | حدیث و سیر | Field support |
22۔ کن ناموں کو “ماہر طبیبہ” کہنا چاہیے؟
تحقیقی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ تمام ناموں کو ایک ہی درجے میں نہ رکھا جائے۔
نسبتاً مضبوط شواہد
ربیع بنت معوذؓ
زخمیوں کی مداوات کی صریح روایت صحیح بخاری میں موجود ہے۔ (dorar.net)
حمنہ بنت جحشؓ
زخمیوں کی مداوات کی روایت موجود ہے اور اسے حسن قرار دیا گیا ہے۔ (dorar.net)
رفیدہ/کعیبہؓ
زخمیوں کی مداوات اور خیمۂ علاج سے متعلق قدیم مصادر میں واضح ذکر ملتا ہے، اگرچہ نام و نسبت کی تحقیق ضروری ہے۔ (حديث)
ام کبشہ قضاعیہؓ
خود ان کی طرف سے زخمیوں اور مریضوں کی مداوات کا مقصد بیان کرنے والی روایت موجود ہے۔ (حديث)
احتیاط کے ساتھ ذکر کیے جانے والے نام
معاذہ غفاریہؓ اور بعض دوسری خواتین کے بارے میں طبی خدمات کی روایات ملتی ہیں، مگر ان میں سند یا تفصیلی نسبت کے مسائل ہیں۔ اس لیے انہیں قطعی “ماہر طبیبہ” کہنا مناسب نہیں۔
23۔ اس تحقیق سے حاصل ہونے والے بنیادی نتائج
اس مطالعے سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
اولاً: عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین نے طبی و علاجی خدمات انجام دیں۔
ثانیاً: ان خدمات کا سب سے مضبوط شعبہ زخمیوں کی مداوات، نگہداشت اور جنگی طبی معاونت تھا۔
ثالثاً: صحیح بخاری کی روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خواتین زخمیوں کی مداوات اور زخمیوں کی منتقلی میں عملی طور پر شریک تھیں۔ (dorar.net)
رابعاً: بعض خواتین کو مخصوص علاجی طریقوں یا ادویاتی تجربے کا علم تھا، جیسا کہ شفاء بنت عبداللہؓ کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔ (dorar.net)
خامساً: ان خدمات کو جدید طب کے عین مساوی قرار دینا درست نہیں، لیکن جدید نرسنگ، ابتدائی طبی امداد، فیلڈ میڈیسن، ایمرجنسی کیئر اور کمیونٹی ہیلتھ کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ بامعنی ہے۔
سادساً: تمام صحابیاتؓ کے بارے میں یکساں درجے کا طبی تخصص ثابت نہیں۔ بعض کے بارے میں صریح روایات ہیں، جبکہ بعض کے بارے میں صرف عمومی جنگی یا اجتماعی معاونت ثابت ہوتی ہے۔
سابعاً: جدید دور میں ان تاریخی مثالوں کی اصل افادیت خواتین کی طبی تعلیم، نرسنگ، مڈوائفری، فرسٹ ایڈ، ایمرجنسی رسپانس اور کمیونٹی ہیلتھ کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔
خاتمہ
صحابیاتِ طبیباتؓ کا مطالعہ اسلامی تاریخ کے ایک ایسے پہلو کو سامنے لاتا ہے جو عام طور پر جنگی واقعات اور سیاسی تاریخ کے پردے میں چھپ جاتا ہے۔
ان خواتین نے یہ ثابت کیا کہ انسانی خدمت علم، مہارت، ہمدردی اور ذمہ داری کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے زخمیوں کے درمیان کام کیا، مریضوں کی دیکھ بھال کی، پانی پہنچایا، زخمیوں کو منتقل کیا اور جہاں ضرورت ہوئی وہاں علاجی خدمت انجام دی۔
رفیدہؓ سے منسوب طبی خدمت، ربیع بنت معوذؓ کی صحیح روایت، حمنہ بنت جحشؓ کی زخمیوں سے متعلق خدمت اور ام کبشہؓ کی طبی خدمت کا واضح اظہار اس تاریخی حقیقت کی مختلف سطحیں پیش کرتے ہیں۔ (حديث)
آج جب دنیا بھر میں نرسنگ، مڈوائفری، کمیونٹی ہیلتھ اور ایمرجنسی میڈیسن کی ضرورت بڑھ رہی ہے، عالمی ادارۂ صحت بھی نرسوں اور مڈوائفری کو صحت کے نظام کا مرکزی حصہ قرار دیتا ہے۔ 2023 میں دنیا میں تقریباً 29.8 ملین نرسیں موجود تھیں اور عالمی سطح پر نرسنگ کی افرادی قوت میں خواتین کی اکثریت ہے۔ (World Health Organization)
اس لیے صحابیاتؓ کی طبی خدمات کو محض ماضی کا ایک تاریخی باب سمجھنے کے بجائے خدمتِ انسانیت، خواتین کی طبی تعلیم، ابتدائی طبی امداد، مریضوں کی نگہداشت اور ہنگامی طبی خدمات کے لیے ایک تاریخی اسلامی نمونۂ عمل کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔
البتہ علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ ثابت شدہ روایت اور بعد کی مشہور مگر غیرمحقق نسبت کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔ یہی طرزِ تحقیق صحابیاتؓ کی حقیقی طبی خدمات کو زیادہ مضبوط، معتبر اور قابلِ اعتماد بناتا ہے۔
بنیادی مراجع و مصادر
- القرآن الكريم
- البخاري، محمد بن إسماعيل، الصحيح — خصوصاً کتاب الجهاد، باب مداواة النساء الجرحى في الغزو، احادیث 2882، 2883، 5679۔ (dorar.net)
- النسائي، السنن الكبرى — حدیث 8830، ربیع بنت معوذؓ کی روایت۔ (dorar.net)
- الطبراني، المعجم الكبير — حمنہ بنت جحشؓ، ج 24، ص 216، حدیث 549۔ (Islamweb)
- ابن حجر العسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة — تراجم رفیدہ/کعیبہ، حمنہ بنت جحشؓ، ام کبشہؓ وغیرہ۔ (Sunna)
- ابن حجر العسقلاني، تهذيب التهذيب — رفیدہ کے حوالے سے زخمیوں کی مداوات کا ذکر۔ (حديث)
- ابن الأثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة — ام کبشہؓ، حمنہؓ اور دیگر صحابیات کے تراجم۔ (Wikisource)
- ابن سعد، الطبقات الكبرى — خواتینِ صحابہ اور ابتدائی اسلامی معاشرت کے متعدد تراجم۔
- أبو داود، السنن؛ أحمد، المسند؛ النسائي، السنن الكبرى — شفاء بنت عبداللہؓ کے رقیہ سے متعلق روایت۔ (dorar.net)
- World Health Organization (WHO), State of the World’s Nursing 2025 — عصر حاضر میں نرسنگ کی عالمی اہمیت۔ (World Health Organization)
- WHO, Nursing and Midwifery, 2026 — نرسنگ، مڈوائفری، خواتین کی افرادی قوت اور موجودہ عالمی صحت کی ضروریات۔ (World Health Organization)
- WHO, Community-based Care / Community First Aid Response — کمیونٹی سطح پر ابتدائی طبی امداد اور ہنگامی نگہداشت۔ (World Health Organization)
تحقیقی نوٹ
آپ کے اصل چارٹ میں موجود “زینب بنت حارثؓ = امراضِ چشم“، “شفاء بنت عبداللہؓ = جلدی امراض“ اور بعض دیگر مخصوص تخصصات کو اسی شکل میں کتاب یا پوسٹر میں شائع کرنا مناسب نہیں۔ زیادہ مضبوط علمی طریقہ یہ ہے کہ عنوان “صحابیاتؓ کی ثابت شدہ یا منقول طبی خدمات“ رکھا جائے اور ہر نام کے سامنے ماخذ، درجۂ روایت اور خدمت کی نوعیت الگ درج کی جائے۔
یہ طریقہ آپ کے سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ کے تحقیقی مواد کے لیے بھی زیادہ مضبوط ہوگا، کیونکہ اس میں عقیدت اور تاریخی احترام کے ساتھ حدیثی و تاریخی تحقیق بھی برقرار رہتی ہے۔
عہدِ نبوی ﷺ اور ابتدائی اسلامی دور کی وہ صحابیاتؓ جنہوں نے طبی و علاجی خدمات انجام دیں
صحابیاتؓ کا تعارفی چارٹ
| نمبر | صحابیہؓ | کنیت / تعارف | نمایاں طبی خدمات کا میدان | خدمات کی تفصیل |
| 1 | رفیدہ اسلمیؓ | رفیدہ انصاریہؓ | جراحت اور زخموں کا علاج | غزوات میں زخمیوں کی دیکھ بھال، شدید زخموں کا علاج، مسجد کے قریب طبی خیمے کا قیام، ابتدائی جراحی |
| 2 | زینب بنت حارثؓ | بنی اود سے منسوب | امراضِ چشم | آنکھوں کے امراض کا علاج، موضعی ادویات و مرہم کا استعمال؛ بعض روایات میں جراحی کا بھی ذکر |
| 3 | شفاء بنت عبداللہؓ | ام سلیمانؓ | جلدی امراض اور زخم | چھالوں، جلدی بیماریوں اور زخموں کا علاج، مرہم و موضعی ادویات کا استعمال |
| 4 | نسیبہ بنت کعبؓ | ام عمارہؓ | ابتدائی طبی امداد | غزوات میں زخمیوں کی مرہم پٹی، خون روکنا، فوری طبی امداد |
| 5 | ام عطیہ انصاریہؓ | — | جنگی طبی امداد | زخمیوں کی نگہداشت، پٹیاں باندھنا اور بدلنا، خون روکنا |
| 6 | ربیعہ بنت معوذؓ | — | زخموں کی نگہداشت | زخمیوں کی مرہم پٹی، طبی معاونت اور دیکھ بھال |
| 7 | امیمہ بنت قیسؓ | — | زخمیوں کی طبی امداد | جنگی زخمیوں کی دیکھ بھال اور ابتدائی طبی خدمات |
| 8 | حمنہ بنت جحشؓ | — | مرہم پٹی | زخمیوں کی دیکھ بھال اور طبی امداد |
| 9 | معاذہ غفاریہؓ | — | ابتدائی جراحت | پٹیاں باندھنا، خون روکنا، ابتدائی طبی اقدامات |
| 10 | ام زیاد اشجعیہؓ | — | زخموں کا علاج اور ادویات | زخمیوں کی مرہم پٹی، طبی اجزا و ادویات کا استعمال |
| 11 | ام کبشہ قضاعیہؓ | — | ابتدائی طبی امداد | زخمیوں کی نگہداشت اور مرہم پٹی |
| 12 | ام مطاع اسلمیہؓ | — | جراحت اور زخموں کا علاج | جنگی زخمیوں کی طبی نگہداشت اور علاج |
| 13 | لیلیٰ غفاریہؓ | — | جنگی طبی خدمت | زخمیوں کو پانی و خوراک کی فراہمی اور ابتدائی امداد |
| 14 | اسماء بنت عمیسؓ | — | قابلہ گری، ولادت کی نگہداشت | ولادت کے وقت معاونت اور بعد از ولادت دیکھ بھال |
| 15 | ام سلیمؓ | ام انس بن مالکؓ | ولادت اور جنگی طبی امداد | ولادت میں معاونت، زخمیوں کی خدمت اور جنگی طبی امداد |
طبی شعبوں کے لحاظ سے درجہ بندی
| طبی شعبہ | متعلقہ صحابیاتؓ |
| جراحت اور زخموں کا علاج | رفیدہ اسلمیؓ، زینب بنت حارثؓ، معاذہ غفاریہؓ، ام مطاع اسلمیہؓ |
| امراضِ چشم | زینب بنت حارثؓ |
| جلدی امراض | شفاء بنت عبداللہؓ |
| مرہم پٹی اور زخموں کی نگہداشت | نسیبہ بنت کعبؓ، ام عطیہؓ، ربیعہ بنت معوذؓ، امیمہ بنت قیسؓ، حمنہ بنت جحشؓ، ام کبشہ قضاعیہؓ |
| خون روکنا اور ابتدائی طبی امداد | نسیبہ بنت کعبؓ، ام عطیہؓ، معاذہ غفاریہؓ |
| ادویات اور موضعی علاج | شفاء بنت عبداللہؓ، زینب بنت حارثؓ، ام زیاد اشجعیہؓ |
| قابلہ گری و ولادت کی نگہداشت | اسماء بنت عمیسؓ، ام سلیمؓ |
| جنگی طبی خدمات | رفیدہ اسلمیؓ، نسیبہ بنت کعبؓ، ام عطیہؓ، ربیعہ بنت معوذؓ، امیمہ بنت قیسؓ، حمنہ بنت جحشؓ، معاذہ غفاریہؓ، ام زیاد اشجعیہؓ، ام کبشہ قضاعیہؓ، ام مطاع اسلمیہؓ، لیلیٰ غفاریہؓ، ام سلیمؓ |

