
گھٹنے کی رطوبت کا خشک ہونا یا ختم ہو جانا
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی
جوڑوں کا درد، خصوصاً گھٹنوں کا درد، آج اتنا عام ہو چکا ہے کہ بہت سے لوگ لنگڑا کر چلتے نظر آتے ہیں۔ جو لوگ چلنے میں کچھ آسانی محسوس کرتے ہیں، ان کی بھی اٹھتے بیٹھتے چیخ نکل جاتی ہے۔ شاید اسی لیے ہر گھر میں دردکش دوائیں بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ علاج کے نام پر طرح طرح کے طریقے رائج ہیں، جن میں سب سے خطرناک گھٹنے میں انجکشن لگوانا ہے۔
کچھ مریض بتاتے ہیں کہ ان کے گھٹنوں سے کڑکڑ کی آواز آتی ہے اور ساتھ درد بھی ہوتا ہے، خاص طور پر اٹھتے بیٹھتے وقت۔ میرے خیال میں ایسی صورت میں گھٹنوں کی چکنائی یا روغنی رطوبت (جسے عام زبان میں “مکھ” کہا جاتا ہے) خشک ہو گئی ہوتی ہے یا ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
ذہن نشین رکھنے کی بات
جب جوڑوں کی رطوبت خشک ہوتی ہے تو جتنی جگہ خالی ہوتی ہے، اتنی ہی ہوا اس میں بھر جاتی ہے۔ یہی ہوا کڑکڑ کی آواز پیدا کرتی ہے اور اٹھتے بیٹھتے درد بھی اسی سے ہوتا ہے۔ اسے عرفِ عام میں ریح کا درد کہتے ہیں۔
پہلی صورت: رطوبت کا خشک ہونا یا ختم ہونا (ریحی درد)
علاج:
اس کے لیے عضلاتی غدی سے غدی عضلاتی ادویات اندرونی اور بیرونی، دونوں طور پر استعمال کرائی جاتی ہیں۔ ان میں حبِ صابر، حبِ مقوی خاص اور غدی عضلاتی مَلین بہترین ہیں۔ حبِ نقرس اکیلی ہی بہت مفید ہے۔ اس سے رطوبت اگر خشک ہو تو حرارت سے پگھل کر درست ہو جاتی ہے، اور اگر ختم ہو چکی ہو تو دوبارہ پیدا ہو جاتی ہے۔
دوسری صورت: خلا میں پانی بھر جانا (ورم)
ایک تیسری صورت میں رطوبت کے خشک یا ختم ہونے سے پیدا ہونے والے خلا میں ہوا کے بجائے پانی آ جاتا ہے ۔ اس سے گھٹنے پر ابھار پیدا ہو جاتا ہے اور دبانے سے گڑھا پڑتا ہے۔ یاد رکھیں، جس مریض کے گھٹنے پر گڑھا پڑ جائے اور ورم ہو، اس کے جوڑوں کی لچک ختم ہو جاتی ہے اور اٹھنا بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسا مریض کھڑے ہو کر نماز بھی نہیں پڑھ سکتا اور کرسی پر نماز ادا کرتا ہے۔
علاج:
سب سے پہلے ورم اتارنے کی کوشش کریں، یعنی رطوبت ختم ہونے سے جو پانی جمع ہو گیا ہے اسے نکالا جائے۔
ورم اتارنے کے لیے گھٹنوں پر گلِ کیسو اور اجوائن خراسانی کی ٹکور کرائیں۔
قہوہ بزوری اور عرقِ بزوری پلائیں۔
غدی اعصابی روغن (اوجاعی، فارماکوپیا کے مطابق) کی گھٹنوں پر مالش کرائیں۔
ان شاء اللہ اللہ کے فضل سے ورم اتر جاتا ہے۔
اندرونی طور پر حبِ اکسیرِ ورم، حبِ بندق اور حبِ نقرس دی جا سکتی ہیں۔
ان دواؤں سے ایک طرف ورم اتر جاتا ہے اور دوسری طرف درد بھی ختم ہو جاتا ہے۔ جو مریض کرسی کے بغیر نماز نہیں پڑھ سکتا تھا، وہ آسانی سے کھڑے ہو کر پڑھنے لگتا ہے۔
کرسی پر نماز پڑھنے والے مریض
مسجد میں کرسی پر نماز پڑھنے والوں میں ایک خاص بات ہوتی ہے۔ وہ گھر سے چل کر مسجد تک آ جاتے ہیں، مگر کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے جوڑوں میں اکڑاؤ کی کیفیت نہیں، بلکہ کھنچاؤ ہے۔ اگر اکڑاؤ ہوتا تو مریض کا گھر سے مسجد آنا ہی بند ہو جاتا، بلکہ گھر میں بھی اٹھنا بیٹھنا رک جاتا۔
جب تک مریض چلتا پھرتا ہے، اس وقت تک اکڑاؤ نہیں بلکہ کھنچاؤ ہوتا ہے، جو غدی عضلاتی تحریک میں پایا جاتا ہے۔ یہ دراصل ورم ہی ہوتا ہے جس میں پانی ہوتا ہے، اور یہی پانی کھنچاؤ کا سبب بنتا ہے۔ اس کا علاج غدی اعصابی غذاؤں اور دواؤں سے کامیابی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
غذائیں
غذائیں بھی دواؤں کے ہم مزاج ہونی چاہییں۔ جب تک ورم نہ ہو، عضلاتی غدی سے غدی عضلاتی غذائیں مفید ہیں۔ جب ورم آ جائے تو غدی اعصابی سے اعصابی غدی غذائیں بے حد مفید ہیں۔
نسخہ جات
تمام نسخے فارماکوپیا میں ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں صرف حبِ نقرس کا نسخہ درج کیا جا رہا ہے۔
حبِ نقرس:
لونگ، دار چینی، مغز جائفل، جلوتری، حرمل، مصر (؟)، کشتہ باراں سنگا، حنظل — سب برابر وزن۔
ترکیبِ تیاری و استعمال: سب کو برابر وزن لے کر گوار گندل یا گوندِ کیکر میں نخودی گولیاں بنا لیں۔ دو گولیاں صبح، دوپہر، شام قہوہ اجوائن و پودینہ کے ساتھ دیں۔ اثر فوری ہے اور یہ مطب کا معمول کا نسخہ ہے۔
ملاحظہ۔
کسی بھی مرض کا علاج زیادہ مشکل نہیں ہوتا لیکن اس مرض کا غلط علاج کرکے بگاڑ پیدا کرلینا زیادہ مسلہ ہوتا ہے،بالخصوص جو لوگ بغیر مہارت کے علاج کرنے بیٹھ جاتے ہیں ،ان کا استاد سوشل میڈیا ہے اکثر پریشان دیکھے گئے ہیں۔بہتر ہے کہ علاج کے لئے ماہر تجربہ کار معالج کا انتخاب کریں۔
مناسب مشاورت کے لئے سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی سے رہنمائی لے سکتے ہیں
03238537640

