
مفردات صابری المعروف بہ انوار الادویہ: ایک قدیم دوا نامہ، ایک زندہ روایت
از قلم: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی / سعد ورچوئل سکلز پاکستان
تمہید
طب کی تاریخ میں کچھ کتابیں فقط اوراق کا مجموعہ نہیں ہوتیں، پوری نسل کی مطبخِ دوا کا روزنامچہ ہوتی ہیں۔ مفردات صابری مسمّیٰ بہ انوار الادویہ” ایسی ہی کتاب ہے۔ اس کے مرتب ڈاکٹر نور حسین صابری (ایم۔ایس) ہیں، اور ملک دین محمد اینڈ سنز، لاہور نے اسے “مخزن المفردات” کے ساتھ شائع کیا۔ سرورق پر درج آیت “لِکُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ” کتاب کا نظریاتی عنوان ہے: ہر بیماری کے لیے دوا کی تلاش ایک علمی امانت ہے۔
کتاب کا مزاج اور ترتیب
کتاب کی ابتدا مزاج اور اقسامِ مزاج کی بحث سے ہوتی ہے، اور یہی حصہ قدیم یونانی و عربی طب کا فکری ڈھانچا ہے۔ مؤلف بتاتے ہیں کہ عناصر چار ہیں (آگ، ہوا، پانی، مٹی) اور ان سے کیفیات پیدا ہوتی ہیں (گرمی، سردی، تری، خشکی)۔ وہ چیز کی کیفیت کے درجات بھی طے کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ یہ اصول بھی بیان کرتے ہیں کہ ہر دوا کے ساتھ اس کا مصلح یعنی اس کی سختی یا ضرر کو کم کرنے والی شے ساتھ رکھی جائے۔ اپنی غرض وہ خود لکھتے ہیں کہ اپنے تجربات کی بنا پر یہ ذخیرہ حکیموں اور طبیبوں کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے۔
اس کے بعد کتاب کا مرکزی حصہ جدولوں کی شکل میں آتا ہے۔ ہر دوا کے لیے الگ خانے ہیں:
مزاج
عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی نام
ماہیت (دوا کی حقیقت اور شناخت)
مصلح اور بدل
مقدارِ خوراک
افعال و خواص
مرکبات
یہ ترتیب اپنے زمانے کی بہترین “ریفرنس ٹیبل” تھی۔ معالج ایک نظر میں دوا پہچان لیتا، اس کا متبادل معلوم کر لیتا اور خوراک کی حد جان لیتا۔ کتاب کے آخر میں دواؤں کی درجہ بندی بھی ہے، مثلاً مسہلاتِ صفرا اور مسہلاتِ بلغم، اور کرم کش (قاتلاتِ دود) ادویہ۔ یہاں جلاب، ایپسم سالٹ، پوڈوفلین اور کروٹن آئل جیسے انگریزی نام بھی ملتے ہیں۔ یوں اس کتاب میں مشرقی اور مغربی ادویہ سازی ایک ہی صفحے پر ملتی نظر آتی ہیں۔
جدید تحقیق کی روشنی میں
یہاں دیانت کا تقاضا ہے کہ دو باتیں الگ الگ رکھی جائیں۔ پہلی بات: مزاج اور اخلاط کا نظریہ ایک تاریخی و تصوراتی ڈھانچا ہے۔ جدید علمِ وظائف الاعضا اسے حیاتیاتی حقیقت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ اسے اسی حیثیت سے پڑھنا چاہیے: ایک ہزار برس سے زیادہ کے مشاہدے کو ترتیب دینے والی زبان کے طور پر۔ دوسری بات: نباتات پر مبنی دواؤں کی دنیا میں روایتی علم نے جدید دوا سازی کو حقیقی رہنمائی دی ہے۔
اسپرین کا آغاز بید (willow) کی چھال کے صدیوں پرانے استعمال سے ہوا۔
سرپگندھا (Rauwolfia serpentina) سے ریزرپین حاصل ہوئی، جو بلڈ پریشر کی ابتدائی ادویہ میں شمار ہوتی ہے۔
آرٹی میسنین چینی طب کی نبات Artemisia annua سے ملی اور ملیریا کے علاج میں انقلاب لائی۔ اس پر 2015 میں نوبیل انعام دیا گیا۔
ذیابیطس کی معروف دوا میٹ فارمن کی جڑیں Galega officinalis کے روایتی استعمال میں ملتی ہیں۔
سنا کے پتوں میں موجود سینوسائیڈز آج بھی جدید فارماکوپیا میں ملین (قبض کشا) کے طور پر تسلیم شدہ ہیں۔
اسی لیے عالمی ادارۂ صحت روایتی طب کے بارے میں اپنی حکمتِ عملیوں میں تحقیق، معیار بندی اور حفاظت پر زور دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روایت رد بھی نہیں ہوتی اور بغیر جانچ قبول بھی نہیں۔ اس کے برعکس بہت سے دعوے، جن میں قدیم کتابوں میں درج “ہر مرض کی شفا” جیسے اطلاقات شامل ہیں، طبی تجربات (clinical trials) کی کسوٹی پر پرکھے جانے باقی ہیں۔ اس مضمون میں جہاں کسی
دوا کی افادیت کا ذکر ہے، وہاں صرف وہی بات لی گئی ہے جس کی تائید مستند سائنسی ذرائع سے ملتی ہو۔
آج کے دور میں اس کتاب کی اہمیت
اول: نام اور شناخت کا خزانہ۔ ایک ہی دوا کے عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی نام یکجا ملنا آج کے ماہرِ نباتیات (ethnobotanist) اور ماہرِ ادویاتِ نباتی (pharmacognosist) کے لیے بہت قیمتی ہے۔ ناموں کا اشتباہ ملاوٹ اور غلط دوا کے استعمال کی بڑی وجہ ہے۔ اس کتاب کی جدولیں اس الجھن کو دور کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
دوم: حفاظت کا تصور۔ “مصلح” کا تصور دراصل قدیم طب کی حفاظتی حکمتِ عملی ہے۔ آج ہم اسے زہریات (toxicology) اور ادویہ کے باہمی اثرات (herb–drug interactions) کی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ یہ کتاب اس فکری سلسلے کی کڑی ہے۔
سوم: مقدارِ خوراک کی پابندی۔ ہر دوا کے ساتھ خوراک کی حد کا اندراج آج کے دور میں بہت ضروری ہے، جب خود علاجی (self-medication) اور جڑی بوٹیوں کے غیر مصدقہ نسخے عام ہو چکے ہیں۔
چہارم: تحقیق کے لیے نقشۂ راہ۔ ہر دوا کا مزاج، افعال اور مرکبات ایک ساتھ درج ہونا نئے محقق کو سوال دیتا ہے: کیا اس نبات میں موجود فعال اجزا (phytochemicals) قدیم دعووں کی توجیہ کر سکتے ہیں؟ یوں یہ کتاب فقط ماضی کی یادگار نہیں رہتی بلکہ مستقبل کی لیبارٹری کے لیے مفروضوں کی فہرست بن جاتی ہے۔
پنجم: اردو طبی ادب کا ورثہ۔ اردو میں طبی اصطلاحات، نام اور ترکیب کی ایک ایسی روایت موجود ہے جو رفتہ رفتہ مٹ رہی ہے۔ ایسی کتابیں اس زبان و بیان کو محفوظ رکھتی ہیں۔
اختتامیہ
“مفردات صابری” کو نہ اندھی تقلید سے پڑھنے کی ضرورت ہے نہ حقارت سے رد کرنے کی۔ اسے اس مسافر کی ڈائری سمجھ کر پڑھیے جس نے اپنے زمانے کے علم سے بہترین نقشہ بنایا۔ آج کی سائنس کا کام اس نقشے کی جانچ ہے: جو راستے درست نکلیں انہیں شاہراہ بنائیے اور جو مٹ چکے ہوں انہیں احترام کے ساتھ تاریخ کے حوالے کر دیجیے۔ یہی طبِ نبوی کی اس روح کے مطابق ہے جو علاج کو علم، احتیاط اور تحقیق کے ساتھ جوڑتی ہے۔
ایک وضاحت: یہ اسکین شدہ کتاب 314 صفحات کی ہے اور اردو او سی آر دستیاب نہ ہونے کے باعث میں نے سرورق، دیباچہ، جدولوں کے نمونے اور آخری ابواب کو دیکھ کر مضمون مرتب کیا ہے، ہر صفحہ حرف بہ حرف نہیں پڑھا۔ اگر آپ چاہیں کہ کسی مخصوص دوا یا باب کو نمونے کے طور پر شامل کیا جائے
تو صفحہ نمبر بتا دیجیے۔ کیا اس مضمون کو معمول کے مطابق نستعلیق فونٹ اور آرائشی عنوانات کے ساتھ Word فائل میں بھی تیار کر دوں؟

