
عورتوں کی فطرت، عجائبات، کہانیاں اور راز
ایک جامع اور تنقیدی تجزیہ
از: حکیم المیوات، قاری محمد یونس شاہد میو
تعارف اور معنویت
یہ کتاب عربی اور اردو ادب کے میدان میں ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے جو عورت کی نفسیات، خصوصیات اور حیات کے گہرے جہتوں کو روشن کرتی ہے۔ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو نے اس کتاب میں ابو عمر احمد بن محمد بن عبد ربہ الاندلسی (صاحب العقد الفرید) کے کلاسیکی کام کو اردو میں تحقیق اور ترتیب دے کر ایک بیش قیمت علمی اور ادبی سرمایہ فراہم کیا ہے۔ یہ کتاب محض ایک داستانی مجموعہ نہیں ہے، بلکہ ایک گہیری فلسفیانہ اور اخلاقی دستاویز ہے جو اسلامی اور عربی روایات میں عورت کی شخصیت کی تشریح کرتی ہے۔
موضوعاتی دائرہ کار اور تنظیمی خصوصیات
یہ کتاب متعدد اہم موضوعات کو سنبھالتی ہے جو عورت کی زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کو کفایت کے ساتھ احاطہ کرتے ہیں۔ پہلا حصہ عورت کی فطرت، صفات، خوبیوں اور ایسے اوصاف کا تفصیلی بیان فراہم کرتا ہے جو اس کے رفاقت میں پسندیدہ اور ناپسندیدہ ہیں۔ دوسرا حصہ عورتوں کی زندگی سے عبرت انگیز کہانیوں، غرائب اور حقائق پر روشنی ڈالتا ہے۔
کتاب کی تنظیم انتہائی منطقی اور حکمت آمیز ہے۔ ہر فصل میں تاریخی واقعات، دانائی کے اقوال، اور عملی سبق دیے گئے ہیں جو قاری کو نہ صرف علمی آگاہی فراہم کرتے ہیں بلکہ حیات و عمل میں بھی رہنمائی دیتے ہیں۔ مصنف نے ہر موضوع میں متوازن نقطہ نظر برقرار رکھا ہے اور نہ تو نسائیت پسندانہ نہ ہی مردانہ تعصب کا شکار ہے۔
تاریخی اور ثقافتی اہمیت
یہ کتاب اسلامی اور عربی تاریخ سے متعدد اہم شخصیات اور واقعات کو درج کرتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت خدیجہؓ، ہند بنت عتبہ، اور دیگر مشہور خواتین کے قصے کتاب کو علمی اور تاریخی لحاظ سے بیش قیمت بناتے ہیں۔ مصنف نے ہر داستان میں اسلامی نقطہ نظر اور عملی حکمت کو یکجا کیا ہے جو آج کے قاری کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
اس کتاب میں محبت، رشتہ داری، وفاداری، صبر اور غیرت جیسے سنہری اقدار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ہر واقعہ ایک سبق سکھاتا ہے اور ہر کہانی عقل و شعور کو جھنجھوڑتی ہے۔ زرارہ اور لقیط کا واقعہ، عمران بن حطان اور ان کی بیوی کا مکالمہ، یا عوف بن محلم کی بیٹی کو دی گئی دس خصلتوں کی وصیت – یہ تمام بابھاتے واقعات معاشی اور معنوی دونوں پہلوؤں سے گہیری نگاہ رکھتے ہیں۔
ادبی خوبصورتی اور زبان کی رقّت
حکیم المیوات کے اردو ترجمہ میں لفاظت اور رقّت کا کمال ہے۔ انہوں نے عربی فصاحت کو اردو کے نرم و نازک الفاظ میں ڈھال کر ایک بیش قیمت ادبی معیار قائم کیا ہے۔ خوبصورتی کی تفصیل سے لے کر نسائی شخصیت کے گہرے پہلوؤں تک، ہر لفظ وزن سے بھرا ہوا ہے اور ہر جملہ معانی سے لبریز ہے۔
شاعری کے اقتباسات اور عربی حکایات کا استعمال کتاب میں ایک خاص رچاؤ اور رنگینی لاتا ہے۔ مصنف کی تحریر میں علمی سختی اور ادبی نرمی کا بہترین امتزاج ہے۔ جب وہ حسن و جمال کی تفصیل کرتے ہیں تو ہر لفظ ایک منظر نقاشی کا کردار ادا کرتا ہے، اور جب وہ اخلاقی سبق دیتے ہیں تو ہر جملہ شعور کو جھنکارتا ہے۔
تحقیقی اور علمی نقطہ نظر
ایک محقق کے نزدیک، یہ کتاب ماخذ شناسی میں انتہائی قابلِ قدر ہے۔ حکیم المیوات نے ہر واقعہ کو اپنی تحقیق اور ترتیب سے پیش کیا ہے۔ انہوں نے اسلامی روایات، عربی شاعری، اور تاریخی مآخذ سے براہ راست استفادہ کیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف عورت کے مسائل کا حل فراہم کرتی ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے بنیادی اقدار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
حکیم المیوات کا طریقہ کار بالکل منظم ہے۔ وہ ہر موضوع کو متعدد زاویوں سے دیکھتے ہیں – تاریخی، اخلاقی، معاشرتی اور علمی۔ ان کی تنقیح میں کوئی سطحیت نہیں ہے۔ وہ اسلامی نقطہ نظر کو عرب کی روایتی حکمت اور عصری ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔
کتاب کی منفرد خصوصیات
اس کتاب میں عورت کا تصور بالکل جدید اور متوازن ہے۔ یہ کتاب عورت کو نہ تو معبودہ بناتی ہے اور نہ ہی اسے کمتر درجہ دیتی ہے۔ بلکہ اسے انسانی شرافت، ذہانت اور اخلاقی استحکام کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ حضرت عائشہؓ کی علمیت، ہند بنت عتبہ کی عقل، عوف بن محلم کی بیٹی ام ایاس کی حکمت – یہ تمام نمونے عورت کو ایک مکمل انسان کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
معاصر دور میں اہمیت اور فائدہ
موجودہ دور میں جب عورت کے حقوق، کردار اور شخصیت کے بارے میں مختلف نقطہ نظریں سامنے آ رہے ہیں، یہ کتاب ایک معتبر اسلامی اور ثقافتی حوالہ فراہم کرتی ہے۔ یہ نہ تو مغربی فیمنزم کی تقلید ہے اور نہ ہی روایتی تنگ نظری کی بھی نہیں۔ بلکہ اسلام کی اپنی روایت سے نکلی ہوئی ایک متوازن اور حکمت آمیز نگاہ پیش کرتی ہے۔
خلاصہ اور نتیجہ
کتاب ‘عورتوں کی فطرت، عجائبات، کہانیاں اور راز’ کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک معیاری، معتبر اور قابلِ احترام تالیف ہے۔ حکیم المیوات نے اپنی محنت، علمی صلاحیت اور ادبی فن سے ایک ایسا کام تخلیق کیا ہے جو نہ صرف موجودہ نسل کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک درسی اور معیاری دستاویز ثابت ہوگا۔
یہ کتاب اسلام کی روایتی حکمت اور جدید فہم کا امتزاج ہے۔ اس میں عورت کے حق، ذمہ داری، شرافت اور کردار کا بہترین توازن ہے۔ شاعری سے لے کر تاریخ تک، حدیث سے لے کر عملی حکمت تک – تمام میدانوں میں یہ کتاب موثر اور دل گرفتہ انداز میں اپنا پیغام پہنچاتی ہے۔
سفارش کی جاتی ہے کہ یہ کتاب خاص طور پر نوجوان لڑکے لڑکیوں، شادی سے پہلے کے جوڑوں، والدین اور اردو و اسلامی فکر کے طالبین کے لیے ضروری ہے۔ سعد ورچوئل سکلز پاکستان نے یہ کتاب شائع کر کے ایک قابلِ قدر خدمت انجام دی ہے۔
ایک صاحب لکھتے ہیں
کتاب “عورتوں کی فطرت، مکر اور حکایاتِ فراق“
(اصل عنوان: “عورتوں کی فطرت، عجائبات، کہانیاں اور راز“) اندلس کے نامور عالم، ادیب اور عربی ورثے کے عظیم انسائیکلوپیڈیا العقد الفرید کے صاحب ابو عمر شہاب الدین احمد بن محمد بن عبد ربہ الاندلسی (متوفی 328ھ) کی شہرۂ آفاق تصنیف پر مبنی ہے۔ اس علمی و ادبی شاہکار کو حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو نے دورِ حاضر کے قارئین کے لیے نہایت سلیس، جامع اور تبصراتی انداز میں مرتب و پیش کیا ہے۔
ذیل میں اس کتاب کا تفصیلی خلاصہ اور جامع تبصرہ پیش کیا جا رہا ہے:
کتاب کا تفصیلی خلاصہ (ابواب اور مرکزی مضامین)
1. باب اول: خواتین کی خوبیاں، صفات اور انتخابِ نکاح
- رفاقت کا فلسفہ: ابن عبد ربہ بیان کرتے ہیں کہ انسان کی دنیاوی مسرت اور دلی سکون صرف اور صرف صالح، ہم آہنگ اور باوفا بیوی سے وابستہ ہے، جبکہ بدخلق عورت دنیاوی رنج و مصائب کا سبب بنتی ہے۔
- تاریخی نصیحتیں: اس باب میں عرب تاریخ کی سنہری نصیحتیں شامل ہیں، جیسے امامہ بنت الحارث کی اپنی بیٹی ام ایاس کو رخصتی کے وقت دی گئی دس تاریخی نصیحتیں (شوہر کے سامنے قناعت، اس کے راز کی حفاظت، کھانے اور نیند کے اوقات کی پابندی وغیرہ)۔
- عفت اور خاندانی وقار کے واقعات: ہند بنت عتبہ پر تہمت اور یمن کے کاہن کے پاس جا کر ان کی پاک دامن ثابت ہونے اور حضرت امیر معاویہؓ کی ولادت کی پیشین گوئی، نیز ان کا ابو سفیان سے دانشمندانہ نکاح؛ ام کلثوم بنت علیؓ کا حضرت عمر فاروقؓ سے نکاح؛ اور قاضی شریح کی اپنی تمیمی اہلیہ زینب بنت جریر کے ساتھ بیس سالہ پرسکون رفاقت کی سبق آموز داستان کا تذکرہ ہے۔
2. باب دوم: عبرت انگیز کہانیاں، تاریخی عجائبات اور حکمت
- حسنِ نسواں کے معیار: عرب بدوؤں، عبدالملک بن مروان اور خالد بن صفوان کی نظر میں کامل عورت کا جسمانی و طبعی تناسب، پردہ اور عفت بیان کی گئی ہے۔
- مشہور کہاوت کا پسِ منظر: عرب کی معروف ضرب المثل “ما وراءك يا عصام؟“ کا مکمل اور نادر پسِ منظر، جس میں عصام نامی دانا عورت نے ام ایاس کے حسن کا تفصیلی جائزہ لے کر بادشاہ عمرو بن حجر کو رپورٹ دی تھی۔
- وفاداری اور غیرت: مختار ثقفی کی باوفا زوجہ عمرہ بنت النعمان کا مصعب بن زبیر کے ہاتھوں بے گناہ قتل اور عالمِ اسلام میں اس کا شدید ردِعمل؛ زرارہ بن اوفیٰ کی بیٹی کا قریشی نوجوان کو “عکرمہ کی بھیڑ“ والا تاریخی و فصیح جواب؛ اور بنو اسد کی خوددار خاتون کا داستانِ نکاح شامل ہے۔
3. باب سوم: امہات الاولاد، لونڈیوں کے حقوق اور نسب کی حقیقت
- اسلام کا انقلابی قدم: مفکر عباس محمود العقاد کے حوالے سے اسلام میں آزادی، احترام اور “ام ولد“ کے انقلابی تصور کو واضح کیا گیا ہے کہ اسلام نے پستیوں کو بلندیوں میں بدلا۔
- نسبی تعصب کا خاتمہ: امام زید بن علی کا خلیفہ ہشام بن عبدالملک کو دندان شکن جواب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی حضرت ہاجرہ کے بطن سے تھے؛ مدینہ منورہ کے عظماء (امام زین العابدین، قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ) کی ماؤں کا باندی ہونا اور ان کا علمی امامت پر فائز ہونا؛ نیز زیاد بن ابیہ کے استلحاقِ نسب پر بحث اور نبوی فرمان “الولد للفراش وللعاہر الحجر“ کی وضاحت کی گئی ہے۔
4. باب چہارم: حسن کے خصوصیات، زیب و زینت، عشق اور فراق
- عربی جمالیات: قرآنی تمثیل {كأنهن بيض مكنون} کی روشنی میں حسن کی تعبیر، اور ائمہ لغت کے نزدیک “جمیل“ (ظاہری خوبصورتی) اور “ملیح“ (جاذبیت اور نمکین دلکشی) کا فرق بتایا گیا ہے۔
- عشقیہ ادبی ورثہ: عرب کے مایہ ناز عشاق و شعراء (جمیل بثینہ، کثیر عزہ، عمر بن ابی ربیعہ، مجنونِ بنی عامر) کی دلی کیفیات؛ دربارِ رسالت میں کعب بن زہیرؓ کا قصیدہ “بانت سعاد“ پیش کرنا اور آپ ﷺ کا اپنی مبارک چادر عطا فرمانا؛ اور عباسی دور میں کنیزوں کی پیشانیوں اور تلواروں پر کندہ طلسماتی اشعار کا تذکرہ موجود ہے۔
5. باب پنجم: ناپسندیدہ خصلتیں اور مکر و فریب کا بیان
- مکر و حیلہ: سورۂ یوسف کی روشنی میں عورتوں کے مکر کی حقیقت؛ علقمہ بن عبدہ الفحل کا قصیدہ کہ وہ عورتوں کے امراض کا طبیب ہے؛ اور حدیثِ نبوی “إياكم وخضراء الدمن“ (بدکردار خاندان کی خوبصورت عورت سے پرہیز) کی شرح کی گئی ہے۔
- بدترین صفات: عرب دانشمندوں کی نظر میں بدطینت اور بدخلق عورت کا خاکہ؛ حارث بن عمرو الکندی کی بے وفا بیوی کا عبرتناک انجام؛ اور بڑھاپے کی سفیدی پر عورتوں کی بے رخی پر شعری تبصرے درج ہیں۔
6. باب ششم و ہفتم: طلاق، مفارقت، مرثیہ اور تعزیت
- طلاق کا فلسفہ: حدیثِ نبوی “أبغض الحلال إلى الله الطلاق“ کے تحت طلاق کی شرعی حدود اور مجبوری کی حالت میں نجات کا راستہ۔
- ندامت اور واقعات: علامہ اصمعی اور ہارون الرشید کی مجلس میں ایک ہی وقت میں پانچ طلاقوں کا دلچسپ و نادر واقعہ؛ اور مشہور شاعر فرزدق کا اپنی اہلیہ نوار کو طلاق دینے کے بعد شدید پچھتاوا (ندامتِ کسعی)۔
- غم اور تعزیت: مصائب پر صبر کے آداب؛ عمرو بن ذر کے والد کا تاریخی قول کہ “اجرت پر رونے والی اور غمزدہ ماں کا رونا برابر نہیں ہو سکتا“؛ اور جنگِ احد میں سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اہل مدینہ اور حضور ﷺ کے غم کا دلدوز احوال بیان کیا گیا ہے۔
جامع تبصرہ و تجزیہ (Critical Review)
- ہمہ جہت انسانی و معاشرتی آئینہ: یہ کتاب محض عورتوں کی برائی یا تعریف پر مبنی کوئی یکطرفہ تحریر نہیں ہے، بلکہ یہ عربی تہذیب، نفسیات اور اسلامی اخلاقیات کا ایک متوازن امتزاج ہے۔ مؤلف نے نہ صرف عورتوں کے محاسن، وفا، عفت اور عقل و دانائی کے مینار روشن کیے ہیں، بلکہ ان کے مکر، بیوفائی اور بدخلقی کی تلخ حقیقتوں کو بھی تاریخی واقعات کی روشنی میں بے نقاب کیا ہے۔
- تربیتی و تربیتی اہمیت: کتاب میں شامل تاریخی نصیحتیں (خصوصاً ماں کی اپنی بیٹی ام ایاس کو نصیحت، اور قاضی شریح کا طریقہ زندگی) آج کے دور کے شادی شدہ جوڑوں کے لیے بھی خانگی امن اور پائیدار تعلقات کا عملی دستور (SOPs) فراہم کرتی ہیں۔
- ادبی و تاریخی ثروت: کتاب کا اسلوب انتہائی فصیح اور ادبی چاشنی سے لبریز ہے۔ عربی محاورات، ضرب الامثال، تاریخی واقعات، صحابہ و تابعین کے اقوال اور جاہلی و اسلامی دور کے شعراء کا کلام اس کتاب کے علمی وزن میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔
- ترتیب و تدوین کی افادیت: مرتب قاری محمد یونس شاہد میو نے اس ضخیم تاریخ کو شائقینِ مطالعہ کے لیے انتہائی دلکش، عنوانات میں منقسم اور آسان فہم بنا کر پیش کیا ہے، جس سے کتاب کی افادیت اور مطالعے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔

