(Fennel)
خواص و طبی استعمال

سونف
(Fennel)
خواص و طبی استعمال
تعارف
سونف زردی مائل سبز رنگ کا پودا ہے جو صدیوں سے برصغیر پاک و ہند میں کاشت اور استعمال ہوتا آیا ہے۔ پورا پودا اپنی مخصوص خوشبو کے باعث پہچانا جاتا ہے، اور اسی خوشبو نے اسے کھانوں، شربتوں اور ادویہ میں مرکزی حیثیت دے رکھی ہے۔ نباتاتی حلقوں میں اسے “پانچ بادیان” (Fennel Fruit) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
سونف کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ طب کی رو سے یہ اعصابی و غدی تاثیر رکھتی ہے، ہاضم اور مخرجِ صفراء ہے، مدرِ بول ہے، عسرِ طمث (تکلیف دہ ماہواری) کو دور کرتی ہے، ریاح خارج کرتی ہے، دودھ بڑھاتی ہے اور پیچش میں مفید ہے۔ چبانے سے منہ کی خشونت دور ہوتی ہے، درد شکم اور سوزشِ معدہ و امعاء میں یہ نہایت کارآمد ثابت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر ہاضم نسخوں میں یہ جزوِ اعظم کے طور پر شامل کی جاتی ہے۔ اس کا عرق اور شربت روایتی طور پر بنائے جاتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے استعمال سے نگاہ تیز ہوتی ہے اور اس کا عرق آنکھوں کی سوزش رفع کرتا ہے۔ سونف، دھنیا اور الائچی ملا کر کھانے سے سر درد اور کمزوریِ نگاہ میں افاقہ ہوتا ہے اور سر کا بوجھل پن کم ہوتا ہے۔ طب قدیم و جدید دونوں میں برسوں سے اسے ضعفِ نظر کے علاج میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
— تاج العقاقیر، ہندوستانی جڑی بوٹیاں، جلد ۱، صفحہ ۱۹۷
غذائی و کیمیائی تجزیہ
سونف کا کیمیائی تجزیہ بتاتا ہے کہ اس کے ایک سو گرام میں تقریباً ۶۳ فیصد رطوبت، ساڑھے نو فیصد پروٹین، دس فیصد چکنائی، ساڑھے تیرہ فیصد معدنی اجزاء، پونے انیس فیصد ریشہ اور بتیس فیصد سے زائد کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ اس کے معدنی و حیاتینی اجزاء میں کیلشیم، فاسفورس، آئرن، سوڈیم، پوٹاشیم، تھایامین، ریبوفلاوین، نایاسین اور وٹامن سی شامل ہیں۔ ہر سو گرام سونف کی غذائی صلاحیت لگ بھگ ۳۶۰ کیلوریز کے برابر ہے۔
شفابخش خواص اور طبی استعمالات
◆ نظامِ ہضم اور معدے کی تکالیف
سونف کے پتے ہاضم، اشتہا انگیز اور محرک ہیں۔ چونکہ سونف کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں، اس لیے ان میں موجود روغنیات کے خواص میں بھی فرق ملتا ہے؛ برصغیر میں پائی جانے والی سونف میں اینی تھول اور فینکون وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو اس کے خوشگوار ذائقے کی وجہ بھی ہیں۔ سونف کے پتے رطوبتیں بڑھاتے ہیں، چنانچہ ان کے استعمال سے پیشاب کی مقدار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
نظامِ ہضم کے لیے سونف کا استعمال نہایت مفید ہے۔ چھوٹے بچوں کو کاربوہائیڈریٹس ہضم کرنے میں مدد کے لیے تھوڑی مقدار میں سونف دینا بہتر رہتا ہے۔ ایک چمچہ سونف کو ایک لیٹر پانی میں نصف گھنٹے تک جوش دے کر، ٹھنڈا کر کے پینا بدہضمی میں نافع ہے۔ یہ جوشاندہ صفراوی خلل، ریاح، قبض اور پرانی بدہضمی میں سود مند ثابت ہوتا ہے۔ کھانے کے بعد تھوڑی سی سونف چبانا سانس کی بو، قبض، بدہضمی اور رقتِ معدہ سے نجات دلاتا ہے؛ سونف کو شکر کے ساتھ چبانا زیادہ مفید قرار دیا جاتا ہے۔ خشک بیجوں سے کشید کیا گیا تیل خوشبودار، ہاضم، مفرح اور قبض و اینٹھن دور کرنے والا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اصلاحِ معدہ کے لیے تیار کی جانے والی متعدد ادویات میں یہ لازمی طور پر شامل کیا جاتا ہے۔
◆ بچوں کا پیٹ درد اور قولنج
نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں میں گیس، مروڑ اور پیٹ درد کی شکایت عام ہے، اور ماہرینِ طب سونف کو ہلکے قہوے یا عرقِ سونف کی صورت میں اس کا مؤثر اور محفوظ علاج مانتے ہیں۔ سونف قولنج اور شیرخوار بچوں کے پیٹ کی گیس خارج کرنے کے لیے محفوظ ترین ادویہ میں شمار ہوتی ہے۔ اسے اکثر دیگر مفید اجزاء، مثلاً پودینہ یا زیرہ، کے ساتھ ملا کر استعمال کرایا جاتا ہے۔ ایک چائے کا چمچہ سونف ایک کپ پانی میں ابال کر چند منٹ رہنے دیں، پھر چھان کر فیڈر کے ذریعے تھوڑی مقدار میں پلانا قولنج سے نجات دلاتا ہے؛ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ دو چمچے ہی دیے جائیں۔ سونف میٹھی، مسل، مقوی باہ اور خون کے اخراج کو روکنے میں مؤثر مانی جاتی ہے۔ اس کا استعمال معدے کی گیس خارج کرتا ہے، بلغمی مواد کے اخراج کو بڑھاتا ہے اور سانس کی نالیوں کو صاف کرتا ہے۔
◆ سانس کی بیماریاں
سونف کے پتے دمہ اور برونکائٹس جیسی سانس کی بیماریوں میں شفا بخش اثر رکھتے ہیں؛ ان امراض میں سونف کے پتوں کا رس پلانا مفید رہتا ہے۔ سونف کو انجیر کے ساتھ کھانا کھانسی، برونکائٹس اور پھیپھڑوں کی رسوٹی دور کرنے کے لیے اکسیر تصور کیا جاتا ہے۔
◆ امراضِ نسواں اور ہارمونل توازن
سونف کھانے سے خواتین کے ایامِ حیض کی بے قاعدگی دور ہوتی ہے اور ماہواری قاعدے سے آنے لگتی ہے۔ تکلیف دہ حیض کے لیے سونف کا جوشاندہ پینا افاقہ دیتا ہے، اور حیض سے متعلق دیگر تکالیف میں بھی سونف مفید پائی گئی ہے۔ گرم پانی میں سونف ملا کر روزانہ پینے سے، خصوصاً موٹاپے کے باعث ہونے والی بے قاعدگیِ حیض میں، افاقہ ہوتا ہے۔
سونف میں فائٹو ایسٹروجن (phytoestrogens) پائے جاتے ہیں، جو ایامِ حیض کے دوران درد اور تشنج کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور جسم میں ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی معاون سمجھے جاتے ہیں۔
◆ آنکھوں کی بیماریاں
اطباء متفق ہیں کہ سونف آنکھوں کے لیے بہت مفید ہے۔ آیوروید میں کمزور یا سوجی ہوئی آنکھوں کو سونف کے جوشاندے سے دھونا ایک مؤثر علاج تصور کیا جاتا ہے۔ سونف کے پتوں کا رس شہد میں ملا کر استعمال کرنا موتیا بند سے بچاؤ میں مددگار مانا جاتا ہے۔
◆ جلد کی صحت
سونف کا عرق آزاد ریڈیکلز کے نقصان سے جلد کو محفوظ رکھتا ہے اور جلدی خلیوں کی عمر بہتر بناتا ہے۔ اس میں موجود روغن سوزش کش خصوصیات رکھتا ہے اور کیل مہاسوں جیسے مسائل میں مفید ہے، کیونکہ یہ جلد میں جمع اضافی رطوبت خارج کرنے میں مدد دیتا ہے جو کیل مہاسوں کا سبب بنتی ہے۔
◆ مسوڑھوں اور منہ کی صحت
سونف اپنی جراثیم کش خصوصیات کے باعث مسوڑھوں کو مضبوط بناتی ہے اور ورم و سوجن کی روک تھام کرتی ہے، اسی لیے سانس کو خوشگوار بنانے کے لیے بھی چبائی جاتی ہے۔
◆ دماغی سکون اور یادداشت
قدیم طب میں سونف کو دماغی تقویت دینے والی اشیاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ دماغ کو سکون پہنچا کر ذہنی تھکاوٹ دور کرتی ہے اور اعصابی کمزوری میں فائدہ دیتی ہے۔
◆ جوڑوں کا ورم (Arthritis)
ایک تحقیق میں دریافت ہوا کہ جوڑوں کے ورم میں سونف کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، کیونکہ یہ جسم میں اینٹی آکسیڈنٹ سرگرمیوں کو بڑھاتی ہے۔ اس فائدے کی چند ممکنہ وجوہات درج ذیل ہیں۔
سوزش کم کرنے والی خصوصیات: سونف میں فینولک مرکبات اور فلیوونائڈز جیسے نباتاتی اجزاء پائے جاتے ہیں، جو جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس اور بعض سوزشی عوامل کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چونکہ جوڑوں کے ورم میں سوزش ہی درد، حرارت اور سوجن کا بنیادی سبب بنتی ہے، اس لیے یہ خصوصیت ممکنہ طور پر فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
اینٹی آکسیڈنٹ اثر: جوڑوں کی دائمی سوزش میں ری ایکٹو آکسیجن اجزاء (Reactive Oxygen Species) اور آکسیڈیٹو اسٹریس بڑھ سکتے ہیں۔ سونف کے اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء ان آزاد ذرات کے مضر اثرات کم کرنے اور خلیوں کو آکسیڈیٹو نقصان سے بچانے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
درد میں ممکنہ کمی: تجرباتی مطالعات میں سونف کے بعض اجزاء میں مسکّن (analgesic) یعنی درد کم کرنے والی سرگرمی بھی دیکھی گئی ہے، جس کی بنا پر روایتی طب میں اسے جسمانی درد اور بعض اقسام کے جوڑوں کے درد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم انسانوں میں گنٹھیا کے درد پر اس کے اثر کو ثابت کرنے کے لیے مزید مضبوط طبی مطالعات (clinical studies) درکار ہیں۔
سوزش کے کیمیائی راستوں پر ممکنہ اثر: گنٹھیا میں جسم بعض سوزشی مادّے (inflammatory mediators) پیدا کرتا ہے جو درد اور سوجن کو برقرار رکھتے ہیں۔ سونف کے فائٹو کیمیکلز ان میں سے بعض راستوں کو متاثر کر سکتے ہیں — یہ ایک ممکنہ سائنسی توجیہ ہے، قطعی طبی علاج نہیں۔
خلاصہ یہ کہ سونف کا ممکنہ کردار سوزش و ورم میں کمی، اینٹی آکسیڈنٹ دفاع کی سپورٹ، درد کی شدت میں کمی، اور مجموعی طور پر ہاضمے کی بہتری کے ذریعے صحت میں معاونت تک محدود سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ایک مکمل علاج۔
◆ ذیابیطس (شوگر)
سونف ذیابیطس کے مریضوں کو اس مرض سے نبرد آزما ہونے میں مدد دیتی ہے۔ اس میں موجود وٹامن سی اور پوٹاشیم بلڈ شوگر لیول کم کرنے میں مددگار ہیں، جبکہ یہ انسولین کی سرگرمی بڑھا کر بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں معاون ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود بیٹا کیروٹین ٹائپ ۲ ذیابیطس کے مریضوں میں کولیسٹرول کی سطح گھٹانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

◆ پیشاب آور (Diuretic) اثرات
سونف کو روایتی طور پر ایک عمدہ مدرِ بول یعنی پیشاب آور دوا مانا جاتا ہے جو جسم سے اضافی پانی اور زہریلے مادوں کے اخراج میں مدد دیتی ہے، گردوں کی کارکردگی بہتر بناتی ہے، اور پیشاب کی نالی میں جلن یا انفیکشن کے خطرات کم کرتی ہے۔ اس خاصیت پر جدید تحقیق اور قدیم طب، دونوں میں تائید موجود ہے، البتہ دونوں جگہ زبان محتاط رکھی گئی ہے، یعنی اسے حتمی ثابت شدہ خاصیت کے بجائے ممکنہ یا روایتی طور پر مستعمل اثر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق، ایک مطالعے (Bardai et al., 2001) میں سونف کے عرق کو پیشاب آور اور سوڈیم کے اخراج میں مددگار (natriuretic) پایا گیا۔ ایک طبی حوالہ جاتی مواد (Drugs.com) کے مطابق کچھ شواہد سونف کے ممکنہ پیشاب آور اثر کی طرف اشارہ کرتے ہیں، تاہم اسے حتمی طور پر ثابت شدہ نہیں کہا گیا۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں سونف کے بیجوں کے آبی عرق کو گردوں کی حفاظت (nephroprotective) کے لیے مفید پایا گیا، جبکہ ایک اور مطالعے میں یہ PCOS کی شکار چوہیوں میں گردوں کے فعل کو بہتر بنانے میں معاون دیکھا گیا۔ ایک جائزاتی مقالے میں سونف کے ایسنشل آئل کی خصوصیات میں مسکّن، ضدِ ذیابیطس، سوزش کش، اینٹی اسپازموڈک اور پیشاب آور اثرات کا ذکر کیا گیا، جن کی نسبت اینی تھول اور فینکون جیسے اجزاء کی طرف کی جاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ سونف کا پیشاب آور اثر بنیادی طور پر حیوانی مطالعات اور روایتی استعمال کی بنیاد پر سامنے آیا ہے؛ انسانوں پر بڑے پیمانے کے کلینیکل ٹرائلز اس ضمن میں ابھی محدود ہیں، اس لیے اسے ممکنہ اثر کہنا ہی زیادہ مناسب ہوگا۔
قدیم طبِ یونانی کی رو سے بھی سونف کا مزاج گرم اول درجہ اور خشک دوم درجہ بیان کیا جاتا ہے۔ کلاسیکی مفردات کی کتب میں اسے مدرِ بول ادویہ کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے، جیسا کہ اسی زمرے کی دیگر مفردات (مثلاً عود صلیب) کے افعال میں بھی “مدرِ بول و حیض” درج ملتا ہے۔ روایتی حکمت کے مآخذ کے مطابق سونف معدے، تلی اور گردوں کے افعال میں سہولت پیدا کرتی ہے اور مثانے کے امور میں بھی مفید بتائی جاتی ہے۔ خوراک روایتی طور پر تقریباً چھ سے نو ماشہ، یعنی لگ بھگ چھ سے نو گرام تک، بتائی جاتی ہے۔
مصنف کا ذاتی نسخہ اور مشاہدات
طبی دنیا میں اس وقت ایک نسخہ رائج و مقبول ہے جس کے تین ہموزن اجزاء ہیں: ہلدی، سونف اور ملٹھی۔ یہ نسخہ کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم راقم نے ضرورت کے پیشِ نظر اس میں دو مزید اجزاء — دھنیا خشک اور ریوند — شامل کیے۔ سب اجزاء ہموزن لے کر مشین سے پسواتا ہوں؛ یہ سفوف کافی دنوں تک مطب میں کام دیتا رہتا ہے۔
یہ نسخہ صفراوی امراض، سوزشِ معدہ، معدے کے السر، سینے کی جلن، معدے کے بھرے ہونے کے احساس، چھپاکی وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ رحم کی سوزش میں یہ کمال درجے کا نتیجہ خیز نسخہ ثابت ہوا ہے۔ جن خواتین کے نلکیوں (فیلوپین ٹیوبز) میں درد رہتا ہو، ماہواری میں تکلیف ہوتی ہو، یا درد کے ساتھ حیض آتا ہو، ان کے لیے یہ بہترین نسخہ پایا۔ کمر درد اور بدن کے کھچاؤ جیسی علامات میں بھی یہ عمدہ کام کرتا ہے۔
تجربے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس نسخے سے خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے؛ خواتین کے ایامِ مخصوصہ میں دیے جانے پر ان کا خون معمول سے زیادہ مقدار میں بہتا ہے۔ اس لیے احتیاط سے کام لینا بہتر ہے۔
احتیاط
سونف اگرچہ ایک محفوظ اور کثیرالفوائد جڑی بوٹی ہے، تاہم حاملہ خواتین، خون کی روانی سے متعلق مسائل رکھنے والے مریضوں، اور مذکورہ بالا مرکب نسخہ استعمال کرنے والی خواتین کو ایامِ مخصوصہ کے دوران احتیاط برتنی چاہیے، اور کسی بھی نسخے کے مستقل استعمال سے پہلے مستند طبیب سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
— تاج العقاقیر، ہندوستانی جڑی بوٹیاں، جلد ۱، صفحہ ۱۹۷
— Bardai, S. et al. (2001) — سونف کے عرق کے پیشاب آور و سوڈیم اخراج سے متعلق مطالعہ
— Drugs.com — سونف سے متعلق طبی حوالہ جاتی مواد

