پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

معدنیات، دھاتیں اور قیمتی پتھر: قرآنی بیانات، قانونِ طب اور معاصر سائنسی علوم

معدنیات، دھاتیں اور قیمتی پتھر: قرآنی بیانات، قانونِ طب اور معاصر سائنسی علوم
معدنیات، دھاتیں اور قیمتی پتھر: قرآنی بیانات، قانونِ طب اور معاصر سائنسی علوم

معدنیات، دھاتیں اور قیمتی پتھر: قرآنی بیانات، قانونِ طب اور معاصر سائنسی علوم
کا تحقیقی و تقابلی جائزہ

ارضی و کائناتی وسائل کا قرآنی و علمی تناظر

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان

قرآنِ کریم کائنات اور اس کے طبعی مظاہر کو محض خام مادی اشیاء کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ ارضی وسائل اور زیرِ زمین مخزونات کو الٰہی حکمت، تمدنی ارتقاء اور انسانی بقا کے ناگزیر ستونوں کے طور پر متعارف کرواتا ہے۔ ارضی طبقات کے باطن میں ودیعت کی گئی دھاتیں اور بحری گہرائیوں میں پرورش پانے والے قیمتی جواہرات جہاں انسانی معیشت، تزویراتی دفاع اور فنونِ لطیفہ کی بنیاد بنے ہیں، وہیں وہ حیاتیاتی نظام کے استحکام، عضویاتی اعتدال اور امراض کے علاجی میکانزم میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسلامی عہد کے محققین، بالخصوص شیخ الرئیس ابن سینا نے القانون فی الطب میں ان معدنیات کے کیفیاتی اثرات، مزاجی مدارج اور انسانی اخلاط کے ساتھ ان کے باہمی تعلق کو باقاعدہ علمی و فلسفیانہ بنیادیں فراہم کیں1۔ معاصر سائنسی اکتشافات، بالخصوص مٹیریل سائنس، نینو ٹیکنالوجی اور حیاتی کیمیا نے ان قدیم طبی مشاہدات اور قرآنی اشارات کے مابین گہرے نسیجاتی اور ساختی روابط کو تسلیم کیا ہے، جس سے مادی کائنات اور انسانی جسم کے مابین ایک مکمل ہم آہنگی کا ثبوت ملتا ہے3۔

لوہا (الحدید): تمدنی قوت، مزاجی توازن اور نینو ادویاتی تعاملات
قرآنی نصوص اور تفسیری توجیہات

قرآنِ حکیم کی سورتوں میں سے ایک مکمل سورت کا نام “الحدید” رکھا گیا ہے، جس کے اندر اس دھات کی فضیلت، منبع اور انسان کے لیے اس کی ہمہ جہت نافعیت کا صریح اعلان ملتا ہے۔ سورۂ حدید کی آیت 25 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ لوہے کو نازل کیا گیا، جس میں شدید جنگی ہیبت اور عسکری قوت ہے اور انسانوں کے لیے لاتعداد معاشی و تمدنی منافع رکھے گئے ہیں5۔ امام ابن کثیر اس آیت کی شرح میں بیان کرتے ہیں کہ “بأس شدید” سے مراد جارحانہ و مدافعانہ اسلحہ سازی ہے، جس میں تلواریں، نیزے، تیر کے پھل اور فولادی زرہیں شامل ہیں، جبکہ “منافع للناس” تمدنی اور صنعتی معیشت کے تمام ناگزیر اوزاروں جیسے کلہاڑی، آری، سوئی اور زراعتی ہل پر محیط ہے جن کے بغیر انسانی معاشرت کا قیام ناممکن ہے5۔ امام ابن جریر طبری اور امام قرطبی نے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت نقل کی ہے جس کے مطابق روئے زمین پر انسانی تمدن کی بقا کے لیے ابتدائی تین فولادی آلات یعنی سندان، ہتھوڑا اور سنسی نازل کیے گئے تھے6۔
علاوہ ازیں، صانعانہ مہارت کے تناظر میں سورۂ سبأ کی آیات 10 اور 11 میں حضرت داؤد علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے اس فضل کا ذکر ہے کہ ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا گیا تاکہ وہ وسیع اور کڑی دار زرہیں تیار کر سکیں8۔ مفسرین جیسے قتادہ اور مجاہد واضح کرتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام بغیر آگ اور ہتھوڑے کے اپنی مادی گرفت سے لوہے کو موم کی طرح نرم کر کے انگوٹھی دار کڑیوں کے پیچیدہ جال بنا سکتے تھے، جس سے روایتی وزنی تختیوں کے برعکس لچکدار اور ہلکی دفاعی پوشاکیں بنانا ممکن ہوا8۔ اسی طرح سورۂ کہف کی آیت 96 میں ذوالقرنین کے انجینئرنگ کے اس شاہکار کا ذکر ملتا ہے جس میں یاجوج و ماجوج کے فساد کو روکنے کے لیے لوہے کی دیوقامت سلوں (زبر الحدید) کو بنیادی تعمیراتی چنائی کے طور پر کام میں لایا گیا9۔

قانونِ طب میں فولاد کا مقام اور مزاجی کیفیات

طبِ یونانی اور قانونِ طب کے نظریات کی رو سے لوہے اور اس کے ادویاتی مرکبات کا مزاج بنیادی طور پر گرم خشک تسلیم کیا جاتا ہے11۔ شیخ الرئیس ابن سینا نے القانون فی الطب میں لوہے کی خالص دھات اور اس کے آکسائڈز، بالخصوص “خَبَثُ الحَدِید” (Iron rust/slag) کے امراضِ معدہ و امعاء پر اثرات کو مفصل انداز میں قلمبند کیا ہے12۔ طبِ مشرق میں فولاد کی خام شکل کو براہِ راست اندرونی طور پر کھلانا سخت ممنوع اور مہلک قرار دیا گیا ہے، اس لیے اسے جڑی بوٹیوں کے رسوں کے ساتھ مخصوص درجاتِ حرارت پر دہکا کر کشتہ بنایا جاتا ہے جسے “کشتہ فولاد” کہا جاتا ہے3۔
علاجی نقطۂ نظر سے کشتہ فولاد خون کی پیدائش کے عمل کو متحرک کرتا ہے اور صالح خون پیدا کر کے چہرے کی زردی اور انیمیا (جسے اطباء “سوء القنیہ” کہتے ہیں) کو زائل کرتا ہے11۔ چونکہ اس کی خاصیت میں لطیف حرارت اور شدید قبض موجود ہے، اس لیے یہ جگر اور معدے کے سرد بلغمی نقائص کو دور کرتا ہے اور عِظَمِ طحال (تلی کے بڑھ جانے) اور استسقاء کے امراض میں تریاقی افعال سرانجام دیتا ہے11۔ مزید برآں، یہ رطوباتِ فاسدہ کو خشک کر کے پرانے اسہال، پیشاب کے بار بار آنے (سلس البول)، اور اعصابی نقاہت کو رفع کرنے کے لیے ایک مستند مقویِ باہ اور مصلحِ قویٰ دوا کے طور پر مستعمل رہا ہے11۔

کائناتی نزول اور نینو ٹیکنالوجی کا سائنسی تقابل

معاصر فلکی طبیعات (Astrophysics) کے شواہد بتاتے ہیں کہ زمین کی ارضیاتی ساخت اور اس کا اندرونی درجہ حرارت لوہے کے بھاری ایٹمی مرکزے کو پیدا کرنے کی مطلق صلاحیت نہیں رکھتا۔ لوہے کے ایٹموں کی تالیف صرف ان عظیم الشان ستاروں کے مرکز میں شدید جوہری فیوژن (Nucleosynthesis) اور سپرنووا کے دھماکوں کے نتیجے میں ہوتی ہے جن کا درجہ حرارت کروڑوں ڈگری تک پہنچتا ہے، جس کے بعد یہ مادہ شہابیوں کے ذریعے زمین پر برسا۔ یہ مشاہدہ قرآنی لفظ “وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ” کی حقیقت پسندانہ ترجمانی کرتا ہے6۔
ادویاتی میدان میں ٹرانسمیشن الیکٹران مائکروسکوپی (TEM) اور اسکیننگ الیکٹران مائکروسکوپی (SEM) کے ذریعے روایتی کشتہ فولاد کے معائنے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ تکلیس (Calcination) کا صدیوں پرانا روایتی طریقہ درحقیقت میٹل نینو ٹیکنالوجی کی ایک قدیم ترین شکل ہے3۔ اس عمل کے دوران لوہے کا برادہ 6 سے 49 نینو میٹر سائز کے انتہائی باریک نینو پارٹیکلز میں تبدیل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی سطح کا رقبہ وسیع ہو جاتا ہے3۔ روایتی غیر نامیاتی آئرن کے برعکس، یہ نینو ساختیں معدے میں جلن یا آنتوں کے اندر سوزش پیدا کیے بغیر آسانی سے نسیجات میں جذب ہو جاتی ہیں اور ہیموگلوبن کی بحالی کو تیز تر کرتی ہیں، جس سے روایتی کشتہ سازی کی طبی افادیت کو جدید بائیو فارماسیوٹیکل سند حاصل ہوتی ہے

تانبا (القطر اور النحاس): ارتقائے صنعت اور حیاتیاتی اثرات
قرآنی حقائق اور تفسیری پس منظر

قرآنِ مجید میں تانبے کا تذکرہ دو مختلف اسالیب یعنی “القِطْر” اور “النُّحَاس” کے تحت آیا ہے۔ سورۂ سبأ کی آیت 12 میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے دورِ حکومت کی تمدنی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تانبے کے چشمے کو بہا دیا تھا15۔ حضرت عبداللہ بن عباس، مجاہد، قتادہ اور ضحاک سمیت مفسرین کا اس امر پر مکمل اتفاق ہے کہ القطر سے مراد پگھلا ہوا تانبا ہے15۔ امام بغوی اور قرطبی نقل کرتے ہیں کہ یمن کی سرزمین میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے تانبے کو پانی کی روانی کی طرح چشمے کی صورت جاری کر دیا تھا، جس سے ان کے زیرِ حکم کاریگروں اور جنات نے وسیع و عریض عمارتیں، سنگی محرابیں، تالاب نما پیالے اور دیوقامت وزنی دیگیں تیار کیں جنہیں اپنی جگہ سے ہلانا ممکن نہ تھا
اسی طرح سورۂ کہف کی آیت 96 میں ذوالقرنین کے فولادی پشتے کی تکیمل کا ذکر ہے، جہاں انہوں نے لوہے کے بلاکس کو آگ سے دہکا کر سرخ کرنے کے بعد مزدوروں کو حکم دیا کہ اس کے اوپر پگھلا ہوا تانبا (قطراً) انڈیل دیں9۔ تفاسیرِ طبری اور قرطبی کے مطابق اس مرحلے کا تزویراتی مقصد لوہے کی درزوں اور مسامات کو پگھلے ہوئے تانبے سے بھرنا تھا تاکہ یہ دونوں دھاتیں آپس میں پیوست ہو کر ایک ایسا زنگ آلودگی سے محفوظ، ٹھوس اور چٹان نما مرکب بنا دیں جس پر نہ تو چڑھا جا سکے اور نہ ہی اس کے اندر نقب لگائی جا سکے

روایتی طب میں تانبے کے خواص اور مزاج

قانونِ طب اور روایتی اطباء کے نزدیک تانبے (مس/نحاس) کا مزاج عضلاتی، گرم اور خشک (درجہ سوم) تسلیم کیا جاتا ہے21۔ تانبے کو خام حالت میں زہرِ قاتل، سخت قابض اور متلی و قے پیدا کرنے والا مادہ گردانا جاتا ہے، جس کی طویل مدتی مقدار جگر اور دماغ پر انتہائی زہریلے اثرات مرتب کر سکتی ہے21۔ تاہم، جب اسے ماہر اطباء تصفیہ اور تدبیر کے عمل سے گزار کر اور مختلف جڑی بوٹیوں میں دہکا کر “کشتہ تانبا” تیار کرتے ہیں تو اس کے زہریلے اثرات معدوم ہو کر شفا بخش خواص میں تبدیل ہو جاتے ہیں

طبی لحاظ سے کشتہ تانبا اپنے تیز گرم خشک مزاج کی بنا پر اعصابی اور بلغمی بیماریوں میں تریاق کی مانند اثر کرتا ہے، جس میں فالج، لقوہ اور اعصابی لرزہ شامل ہیں21۔ یہ عضلات میں تحریک پیدا کر کے سستی رفع کرتا ہے، قوتِ باہ کو تقویت دیتا ہے اور دودھ و گھی جیسی ثقیل غذاؤں کو ہضم کرنے کی جسمانی صلاحیت پیدا کرتا ہے11۔ علاوہ ازیں تانبے کے آکسائڈز، چھلکے (توبال النحاس) اور زنگار (Copper acetate) کو ابن سینا کے مطابق جراثیم کش ادویات، گندے زخموں کے فاسد گوشت کو کاٹنے والے مرہموں، اور آنکھوں کے امراض، بالخصوص ناخنہ اور سبل میں بینائی کی بحالی کے لیے سرموں میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے

جدید کیمیاوی و حیاتیاتی تجزیہ

معاصر کیمیا کی رُو سے تانبا (, جوہری عدد 29) اپنی غیر معمولی حرارتی اور برقی موصلیت کی بدولت صنعتی دنیا کی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے24۔ حیاتیاتی سطح پر یہ ایک ناگزیر مائیکرو نیوٹرینٹ ہے جو انسانی جسم کے بنیادی انزائمز، خاص طور پر سائٹوکروم سی آکسیڈیز (جو خلیاتی تنفس اور اے ٹی پی کی پیداوار کا ضامن ہے) اور سپر آکسائیڈ ڈسمیوٹیز (جو خلیات کو آکسیڈیٹو تناؤ سے بچاتا ہے) کا لازمی جزو ہے22۔ تانبا خون میں آئرن کے اخراج اور اس کے جذب کے لیے درکار پروٹین “سیریولوپلاسمین” کی تشکیل کرتا ہے، جس کے بغیر لوہا ہیموگلوبن کی ساخت میں شامل نہیں ہو سکتا، یوں تانبے کی کمی خود خون کی شدید کمی کا باعث بنتی ہے
مائیکرو بیالوجی میں تانبے کی سطحوں پر جراثیم کشی کی تصدیق “اولیگو ڈائنامک اثر” (Oligodynamic effect) کے تحت کی گئی ہے، جہاں تانبے کے آئنز بیکٹیریا اور وائرس کے خلیاتی پروٹینز کو تباہ کر دیتے ہیں۔ تانبے کا یہی طبعی اثر قرونِ وسطیٰ میں زخموں کی عفونت روکنے اور جدید ہسپتالوں میں آلودگی کش آلات کی تیاری میں یکساں بنیاد فراہم کرتا ہے۔

سونا اور چاندی: معاشی وقار، جمالیاتی حسن اور مزاجی تقابل
قرآنی تفہیم: معاشی پیمانہ اور اخروی اعزاز

قرآنِ مجید میں سونے (الذھب) اور چاندی (الفضہ) کو ارضی حیات کے بنیادی سرمایہ، معاشی استحکام اور مادی تمناؤں کا محور قرار دیا گیا ہے۔ سورۂ آل عمران کی آیت 14 میں سونے اور چاندی کے جمع کیے گئے خزانوں (القناطیر المقنطرة) کو دنیوی زیبائش و کشش کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ سورۂ توبہ کی آیت 34 میں ان دھاتوں کو منجمد رکھنے، کنز

کرنے اور معاشی گردش سے روکنے پر سخت تادیبی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس، اخروی تناظر میں یہی دو دھاتیں اہل جنّت کے اعزاز، طہارت اور روحانی انعامات کے مظہر کے طور پر جلوہ گر ہوتی ہیں۔ سورۂ حج کی آیت 23 اور سورۂ کہف کی آیت 31 میں اہلِ جنت کے سونے کے کنگنوں سے آراستہ ہونے کا تذکرہ ملتا ہے، جبکہ سورۂ انسان کی آیات 15، 16 اور 21 میں چاندی کے شفاف برتنوں اور کنگنوں کا بیان ہے۔ قرآن نے چاندی کے لیے “قَوَارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ” کی جو بلیغ ترکیب استعمال کی ہے، وہ مفسرین کے نزدیک مادے کی ایسی لطافت اور شفافیت کی جانب اشارہ ہے جہاں چاندی اپنی دھاتی کثافت کے باوجود شیشے کی مانند عیاں اور پاردرشک دکھائی دے گی۔

قانونِ طب میں طبعی و مزاجی تضاد

شیخ الرئیس ابن سینا نے القانون فی الطب میں سونا اور چاندی کو دیگر تمام جامد دھاتوں کے مقابلے میں انسانی مزاج کے قریب ترین قرار دیا ہے1۔ قانونِ طب کے مطابق سونا اپنی جوہری کیفیت میں نہایت معتدل ہے، تاہم بعض اطباء نے اسے درجہ اول میں لطیف حرارت اور خشکی کا حامل (معتدل مائل بہ گرم خشک) قرار دیا ہے، جبکہ چاندی کا مزاج قطعی طور پر سرد اور خشک تسلیم کیا گیا ہے11۔
سونا انسانی روح، قلب اور دماغ کے لیے سب سے بڑا مقوی اور حامیِ حرارتِ غریزیہ مانا جاتا ہے11۔ ابن سینا نے سونے کے برادے اور اس کے باریک اوراق کو امراضِ نفسانیہ جیسے مالیخولیا، خفقان (دل کی بے قاعدہ دھڑکن)، وسواس، اور اعصابی پژمردگی کے خاتمے کے لیے بے نظیر قرار دیا ہے کیونکہ اس کی لطیف حرارت حیوانی روح کو تقویت دے کر حزن و ملال کو فرحت میں بدل دیتی ہے11۔
اس کے برعکس چاندی اپنے سرد خشک مزاج کی وجہ سے طبعی حرارت کے ابال کو تسکین دیتی ہے، خون کے جوش کو اعتدال پر لاتی ہے اور گرم خفقان، حار اختلاج، اور دماغی ہیجان کو ٹھنڈک بخشتی ہے11۔ اطباء نے ان دونوں دھاتوں کے خواص کو متوازن کرنے کے لیے دل اور اعصاب کے مقوی مرکبات، بالخصوص خمیرہ جات (جیسے خمیرہ گاؤزبان عنبری جواہر دار اور خمیرہ ابریشم) میں سونے اور چاندی کے ورق اور کشتہ جات کو لازمی جزو کے طور پر شامل کیا تاکہ قلبی و دماغی افعال کو بیک وقت تقویت اور تسکین فراہم کی جا سکے

جدید مادی و نینو سائنسی وسعت

معاصر مادی سائنس میں سونا () اپنی عظیم الشان غیر عاملیت (Chemical Inertness) اور نوبل حیثیت کے باعث آکسیجن اور نمی کے اثرات سے قطعی محفوظ رہتا ہے۔ جدید بائیو میڈیکل سائنس میں سونے کے نینو پارٹیکلز (Gold Nanoparticles) خلیاتی سطح پر دواؤں کی ٹارگٹڈ ترسیل (Drug Delivery) اور کینسر زدہ خلیات کی فوٹو تھرمل تباہی میں سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، جہاں سونے کی بایو کمپیٹیبلٹی انسانی بافتوں کے لیے قطعی غیر زہریلی رہتی ہے۔
دوسری طرف چاندی () معاصر علمِ ادویات میں اینٹی مائیکروبیل اثرات کا سب سے معتبر مآخذ سمجھی جاتی ہے۔ سلور نینو ذرات آزاد آئنز () خارج کر کے بیکٹیریا کی سیل وال کے سوراخوں سے اندر داخل ہوتے ہیں اور ان کے انزائمز کو غیر فعال کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید جلے ہوئے مریضوں کے لیے سلور سلفاڈائیزین (Silver Sulfadiazine) کے مرہم اور جدید جراحی کے بینڈیجز میں چاندی کا دھاتی غلبہ روایتی طب کے مبرد اور دافعِ تعفن اثرات کی توثیق کرتا ہے۔

موتی اور مرجان: بحری حیاتیات اور نسیجی پیوند کاری
قرآنی آیات اور تفسیری مباحث

قرآنِ مجید نے سمندری وسائل اور بحری گہرائیوں کی نفاست کو بیان کرتے ہوئے موتی اور مرجان کو انسان کے لیے تسخیر شدہ نعمتوں کی صورت میں پیش کیا ہے۔ سورۂ رحمن کی آیات 22 اور 23 میں سمندروں کے باہم ملنے اور ان سے موتی اور مرجان برآمد ہونے کی خبر دی گئی ہے، جبکہ اسی سورت کی آیت 58 میں جنتی خواتین کی پاکیزگی، حیا اور دلکشی کو یاقوت اور مرجان سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ وہ اپنے حسن میں یاقوت اور مرجان کی مانند ہیں
امام ابن کثیر اور امام قرطبی نے حضرت حسن بصری اور مجاہد کے تفسیری اقوال نقل کیے ہیں جن کے مطابق اہلِ جنت کی حوروں کو یاقوت کی شفافیت اور سرخی، اور مرجان کی بے داغ سفیدی اور آبدار چمک کے ساتھ مشابہ قرار دیا گیا ہے31۔ اہلِ لغت کے مابین اگرچہ مرجان کے اطلاق پر چھوٹے موتی اور سرخ مونگے کی تخصیص موجود ہے، تاہم روایتی طب، علم الادویہ اور معدنیات میں مرجان سے مراد بحری چٹانوں پر بننے والا سرخ پتھر ہی ہے جسے “بُسُد” یا Corallium rubrum کہا جاتا ہے

قانونِ طب میں سرد خشک مزاج اور تریاقی افعال

روایتی قانونِ طب میں موتی (مروارید/لؤلؤ) اور مرجان (بسد) دونوں کا مزاج سرد اور خشک (درجہ دوم) مانا جاتا ہے25۔ ان دونوں سمندری اجزاء کو باریک کھرل کر کے سفوف اور کشتہ کی شکل میں ادویات میں برتا جاتا ہے
علاجی سطح پر مرجان کو عربی طب میں “ناشف” (رطوبات کو جذب کر کے خشک کرنے والا) اور “حابس الدم” (خون کو منجمد کر کے بہاؤ روکنے والا) تسلیم کیا جاتا ہے25۔ چنانچہ پھیپھڑوں سے خون تھوکنے (سل و دق)، نکسیر پھوٹنے، بواسیری خون کے بہاؤ اور خواتین میں کثرتِ حیض کے عوارض میں کشتہ مرجان ایک فوری اثر دکھانے والا ہیموسٹیٹک ایجنٹ ثابت ہوتا ہے25۔
اسی طرح کشتہ مروارید اور کشتہ مرجان دونوں مفرحِ قلب، دافعِ خفقان اور مصلحِ دماغ دوا کے طور پر مستعمل ہیں جو اعصابی تناؤ، مرگی، سر درد، اور تیز دھڑکن کو ٹھنڈک پہنچا کر سکون فراہم کرتے ہیں25۔ ان کے باریک سرمے آنکھوں سے پانی بہنے کے مرض کو روکتے ہیں اور قرنیہ کے زخموں کو خشک کر کے بینائی کی تیزی کو بحال کرتے ہیں

حیاتیاتی معدنیات اور جدید بون گرافٹنگ کا انکشاف

معاصر میرین بائیولوجی اور بائیو میٹریلز کے مطابق موتی اور مرجان دونوں جاندار سمندری مخلوقات کے تیار کردہ بائیو منرلز (نامیاتی معدنیات) ہیں25۔ کیمیائی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرجان کا 80 سے 90 فیصد مادہ کیلشیم کاربونیٹ () پر مشتمل ہوتا ہے، جو کیلسائٹ اور اریگونائٹ کی قلمی شکلوں میں منظم رہتا ہے، جبکہ بقیہ اجزاء میں اسٹرونشیم ()، میگنیشیم، فاسفورس اور فولاد کے ناگزیر ٹریس منرلز شامل ہوتے ہیں
معاصر آرتھوپیڈک سرجری اور طبِ جراحی میں مرجان کا سب سے حیران کن سائنسی اطلاق ہڈیوں کی پیوند کاری (Bone Grafting) میں سامنے آیا ہے25۔ چونکہ مرجان کی اندرونی خوردبینی اور مسام دار ساخت (Porous Architecture) انسانی اسفنجی ہڈی (Cancellous Bone) کے نسیجاتی خلا کے ساتھ ہو بہو مماثلت رکھتی ہے، اس لیے جدید جراحی میں مصنوعی کیمیکلز کے بجائے مرجان کے ڈھانچے کو ہڈیوں کے شدید فریکچرز اور نقائص کو پر کرنے کے لیے بون گرافٹ کے طور پر امپلانٹ کیا جاتا ہے25۔ یہ قدرتی کیلشیم انسانی خلیات کے ساتھ مل کر ہڈی ساز خلیوں (Osteoblasts) کی افزائش کو تحریک دیتا ہے، جس سے انسانی ہڈی کا نیا جال بغیر کسی مدافعتی ردِ عمل کے چند ہی ہفتوں میں نشوونما پا کر مرجان کے مادے کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے25۔

تقابلی موازنہ: معدنیات کے خصائص، طبی مزاج اور سائنسی اطلاقات

مندرجہ ذیل جدول میں قرآنی نصوص میں مذکور دھاتوں اور معدنیات، ان کے قانونِ طب میں طے شدہ مزاج، روایتی طبی افعال، اور معاصر سائنسی علوم کے مادی و کیمیائی شواہد کا جامع تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے:

عنصر / معدنقرآنی اصطلاح و مصادرمزاج (قانونِ طب)روایتی طبی افعال و کشتہ جاتکیمیائی و طبعی ترکیبمعاصر سائنسی و صنعتی اطلاق
لوہاالحديد   (الحدید: 25، سبأ: 10، الکہف: 96)5گرم خشک (درجہ دوم/سوم)11تولیدِ دمِ صالح، ازالہ انیمیا و سوء القنیہ، مقوی جگر، قابضِ رطوبات11لوہا ()، آئرن آکسائیڈز (, )3بھاری ساختی صنعتیں، دفاعی ہارڈویئر، نینو ادویات برائے بایو میڈیسن3
تانباالقطر / النحاس   (سبأ: 12، الکہف: 96، الرحمن: 35)9عضلاتی، گرم خشک (درجہ سوم)21ازالہ فالج و لقوہ، دافع بلغم، التیامِ قروح، زنگار برائے جراثیم کشی2تانبا ()، سلفیٹس و ایسیٹیٹس24برقی مواصلات، بھرت سازی (Bronze/Brass)، اولیگو ڈائنامک اینٹی بیکٹیریل سطحیں22
سوناالذهب   (آل عمران: 14، الحج: 23، التوبة: 34)معتدل مائل بہ گرم خشک1مفرحِ قلب، حامیِ حرارتِ غریزیہ، دافع مالیخولیا و خفقان، مقویِ اعصاب11خالص سونا ()، نوبل غیر عامل میٹلکیمیائی مزاحمت، کینسر تھراپی، نینو گولڈ پارٹیکلز برائے ڈرگ ڈلیوری
چاندیالفضة   (الإنسان: 15-16, 21، التوبة: 34)سرد خشک (درجہ اول/دوم)11مسکنِ حرارت، دافع خفقانِ حار، مبردِ دم، دافع ہیجانِ دماغ11چاندی ()، آئنک سلور ()اعلیٰ برقی موصل، سلور سلفاڈائیزین، نینو سلور بطور اینٹی مائیکروبیل ایجنٹ
موتیاللؤلؤ   (الرحمن: 22، الواقعة: 23، فاطر: 12)سرد خشک (درجہ دوم)25مقوی اعضائے رئیسہ، مفرح، مبرد، مانع رقت و نزلہ، مقوی بصر36کیلشیم کاربونیٹ ( اریگونائٹ)، کونچیولن پروٹینبائیو ایکٹیو کاسمیٹکس، ہڈیوں کے سپلیمنٹس، ادویاتی اور جمالیاتی استعمال4
مرجانالمرجان / بُسُد   (الرحمن: 22، 58)25سرد خشک (درجہ دوم)25حابس الدم، ناشفِ رطوبات، مانع کثرتِ حیض، تریاقِ خفقان و دماغ25کیلشیم کاربونیٹ ( کیلسائٹ)، اسٹرونشیم و میگنیشیم25بون گرافٹنگ (ہڈیوں کی پیوند کاری)، نسیجاتی بحالی، قیمتی جواہرات25

نتائج اور علمی مشاہدات

قرآنی نصوص، روایتی قانونِ طب اور معاصر طبعی و کیمیائی علوم کے عمیق مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ارضی معدنیات اور دھاتوں کا کائنات میں ظہور اور انسانی جسم کے ساتھ ان کا تعامل ایک ہمہ گیر الٰہی حکمت کے تابع ہے۔ قرآنی تناظر میں دھاتوں کی تعمیری، تزویراتی اور جمالیاتی قدر و قیمت انسان کی مادی اور روحانی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے، جس کا واضح ثبوت حضرت داؤد علیہ السلام کی لچکدار زرہیں، حضرت سلیمان علیہ السلام کے پگھلے ہوئے تانبے کے وسیع تمدنی اثاثے، اور ذوالقرنین کی تعمیر کردہ فولاد اور تانبے کی مشترکہ شیلڈ ہے جو قدیم انجینئرنگ میں زنگ آلودگی سے تحفظ اور ساختی استحکام کی بے نظیر مثال ہے8۔

طبی میدان میں اطبائے یونان و مشرق نے ان عناصر کے مزاجی مدارج کو انسانی جسم کے خلطی توازن کے ساتھ مربوط کیا۔ لوہے اور تانبے کے گرم خشک مزاج کو سرد، رطب اور بلغمی امراض کے ازالے کے لیے تجویز کیا گیا، جبکہ چاندی، موتی اور مرجان کے سرد خشک مزاج سے صفراوی غلبے، خون کی حدت، اور قلبی و دماغی سوزش کو تسکین دی گئی11۔ اس روایتی حکمت کی اصل معراج کشتہ سازی (تکلیس) کا فن ہے، جسے جدید علوم نے نینو ٹیکنالوجی کی اولین شکل کے طور پر تسلیم کیا ہے، جہاں خام دھاتیں زہریلے پن سے پاک ہو کر خلیاتی سطح پر فعال اور زود ہضم مادوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں3۔ آخر کار، سمندری مرجان کے خوردبینی ڈھانچے کا انسانی ہڈی کے اسفنجی نظام کے ساتھ مکمل تال میل اور جدید جراحی میں اس کا بطور بون گرافٹ کامیاب اطلاق اس گہرے نظریے کو ثابت کرتا ہے کہ آسمانی وحی، ارضی وسائل اور حیاتیاتی اجسام ایک ہی مربوط کائناتی نظام کا حصہ ہیں، جن کی تفہیم سے انسانی شعور، طب اور ٹیکنالوجی کے نئے آفاق روشن ہوتے ہیں25

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

روح اسلام، سید امیر علی ترجمہ۔ محمد ہادی حسین

روح اسلام،سید امیر علی

روح اسلام،سید امیر علیترجمہ۔ محمد ہادی حسینحرف آغازرائٹ آنریل سید امیر علی کی شہرہ آفاق تصنیف سپرٹ آف اسلام علمی

[saadherbal_newsletter_form]