پاکستان طبی کانفرنس ضلع لاہور کا ماہانہ لیکچر
“امراضِ جلد اور علاج”: ایک تاثراتی رپورٹ

ہفتہ، 3 اکتوبر 2026ء
از۔قلم۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور
گزشتہ روز بروز ہفتہ، مورخہ 03/10/2026 کو پاکستان طبی کانفرنس (پی ٹی سی) ضلع لاہور کے زیر اہتمام ماہانہ علمی لیکچر بعنوان “امراضِ جلد اور علاج” کا انعقاد ہوا۔ یہ لیکچر حمایت اسلام طبیہ کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر محمد امجد چشتی نے پیش کیا۔ لیکچر کے اختتام پر سوال و جواب کا سلسلہ بھی رہا۔
تقریب کا احوال
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ نظامت کے فرائض طبیبہ نوشین ناز نے انجام دیے۔
مہمانِ خصوصی: صدر نیشنل کونسل فار طب حکیم محمد احمد سلیمی
خصوصی شرکت:
وید جمیل صاحب
چیئرمین پی ٹی سی انسدادِ منشیات لیاقت سعید صاحب
پی ٹی سی ضلع لاہور کے تمام عہدے داران نے تقریب میں شرکت کی، جن میں حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو، حکیم سید زاہد وصی زیدی اور حکیم صوفی محمد عرفان انجم میو شامل تھے۔ لاہور بھر کے حکماء کرام کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔
کلماتِ مہمانِ خصوصی اور صدرِ ضلع
حکیم محمد احمد سلیمی صاحب نے اپنے خطاب میں شرکاء کو لیکچر میں شرکت پر مبارکباد پیش کی اور آئندہ بھی ایسے تعلیمی پروگراموں میں شرکت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی سی ضلع لاہور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھے گی۔
پی ٹی سی ضلع لاہور کے صدر جناب عطاء الرحمن صدیقی نے آئندہ انتخابات میں بھرپور شرکت اور اس کی تیاریوں میں تیزی لانے کی تلقین کی۔
تقریب کے اختتام پر چائے اور بسکٹ سے مہمانوں کی تواضع کی گئی اور گروپ فوٹو لیا گیا۔
اہلِ علم سے ملاقاتیں
اس موقع پر چند اہلِ علم اور حاذق حکماء سے خصوصی ملاقاتیں ہوئیں۔ طب، طبی مسائل اور حالاتِ حاضرہ میں ان کے مقام و کردار پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک باوقار محفل تھی، تاہم موضوع کے اعتبار سے جو لیکچر پیش کیا گیا، وہ تسلی بخش نہ تھا۔
حذاقت کیا ہے؟
حاضرین کی گفتگو اور شرکاء کے باہمی تبادلۂ خیال سے یہ حقیقت پھر واضح ہوئی کہ کسی فن میں حذاقت کے لیے محض ڈپلومہ کافی نہیں۔ اس کے لیے درج ذیل اوصاف لازم ہیں:
کثرتِ مطالعہ

طب میں عملی مہارت
وسیع تجربہ
ایک سوال، جو سر جوڑ کر سوچنے کا متقاضی ہے
بلا کم و کاست اور نپے تلے انداز میں عرض کرنا مناسب ہوگا کہ ایک علمی ادارے میں ماہرین کے سامنے جس انداز کا لیکچر دیا گیا، یا جو موضوع منتخب کیا گیا، دنیا اس سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ حکماء اور متعلقہ اداروں کو اس پر سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے کہ:

کیا آج کا طبی نصاب وقت کی ضرورت پوری کر رہا ہے؟ یا ہم محض لکیر پیٹ رہے ہیں؟
جدید دور میں جو نئے امراض سر اٹھا چکے ہیں، ان پر گفتگو ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے انداز میں بات ہو جسے خود حکماء ترک کر چکے ہوں۔
اہلِ علم اور مقتدر شخصیات کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم صرف ڈگری اور ووٹ پر محنت کر رہے ہیں، یا طب کی طرف بھی کچھ توجہ کی ضرورت ہے؟ جس میڈیکل میدان کی ہمسری کا ہم دعویٰ کرتے ہیں، کیا اس کے مطابق تیاری کا بھی کوئی انتظام ہے؟ یا ہم اسی پر خوش ہو جائیں کہ “دیکھو، فلاں بات کو میڈیکل نے بھی تسلیم کر لیا”؟
دو بنیادی کمزوریاں
مجھے جتنے اجلاسوں میں جانے کا اتفاق ہوا، سچی بات یہ ہے کہ ان محافل میں دو طرح کی کمزوری شدت سے محسوس ہوئی:
طب سے بیگانگی کا ماحول
ادب و آداب کا فقدان

علماء اور اطباء کو کم از کم مہمانوں کے ساتھ اتنا سلیقہ تو آنا چاہیے کہ وہ ان سے ادب و احترام کے ساتھ پیش آئیں، اگر اس سے بہتر نہیں تو کم از کم ایک سلیقہ مند بچے ہی کی طرح۔ مہمان نوازی اور حسنِ اخلاق ہماری روایت کا حصہ ہے، اور طبیب کی شخصیت کا زیور بھی۔
از قلم:
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ
سعد ورچوئل سکلز پاکستان


