پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

ریاستِ رام پور کے عظیم عالم: مولانا نجم الغنی خان رام پوری

ریاستِ رام پور کے عظیم عالم: مولانا نجم الغنی خان رام پوری
تحریر: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو**
ناشر: سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی**
برصغیرِ ہند کی علمی، ادبی اور تہذیبی تاریخ میں ریاست رام پور کو ایک ممتاز مقام حاصل رہا ہے۔ اس ریاست کے نوابوں نے علم و ادب، زبان و ثقافت، اور تحقیق و تصنیف کے فروغ میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ خصوصاً پشتو، اردو، فارسی، عربی اور ہندی زبانوں کی آبیاری میں رام پور کے علمی خاندانوں کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہی درخشاں علمی شخصیات میں ایک نہایت قابلِ احترام اور ہمہ جہت نام مولانا نجم الغنی خان رام پوری کا ہے، جنہوں نے علم، ادب، تاریخ، طب، فقہ، عقائد اور لسانیات کے میدان میں گراں قدر سرمایہ چھوڑا۔
ولادت اور خاندانی پس منظر
مولانا نجم الغنی خان رام پوری کی ولادت 1859ء میں رام پور میں ہوئی۔ آپ ایک ایسے علمی اور معزز پشتون خانوادے میں پیدا ہوئے جہاں علم و فضل نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ آپ کے والد مولوی عبدالغنی خان رام پوری علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ممتاز عالم تھے اور معقولات و منقولات پر گہری دسترس رکھتے تھے۔
1865ء میں آپ کے والد ملازمت کے سلسلے میں ادے پور منتقل ہوگئے، جہاں تقریباً تین دہائیوں تک مختلف باوقار سرکاری مناصب پر فائز رہے۔ مولانا کی والدہ کا تعلق روہیلہ پشتون خاندان سے تھا، اور وہ معروف پشتون سردار روزی خان کی پوتی تھیں۔ مزید یہ کہ برصغیر کے نامور طبیب اور خزائن الادویہ سمیت متعدد طبی کتب کے مصنف حکیم محمد اعظم خان آپ کے ماموں تھے۔


تعلیم و تربیت
ابتدائی عمر ہی میں مولانا اپنے والد کے پاس ادے پور پہنچ گئے، جہاں انہیں بہترین علمی ماحول میسر آیا۔ آپ نے اس دور کے جید علماء سے مختلف علوم حاصل کیے۔ فلسفہ اور عقلی علوم آپ نے مولوی عبدالحق خیر آبادی سے پڑھے، جبکہ یونانی طب کی تعلیم اپنے ماموں حکیم محمد اعظم خان سے حاصل کی۔
ذاتی محنت، غیر معمولی ذہانت اور علمی انہماک نے جلد ہی آپ کو ہندوستان کے ممتاز علماء، ادباء اور مفکرین کی صف میں لا کھڑا کیا۔
عملی زندگی
1901ء میں مولانا نجم الغنی خان رام پوری کو ادے پور میں ایک تعلیمی ادارے کا ہیڈ ماسٹر مقرر کیا گیا۔ آپ نے نہایت دیانت، علمی بصیرت اور انتظامی صلاحیت کے ساتھ کئی دہائیوں تک تعلیمی خدمات انجام دیں اور 1924ء میں سبکدوش ہوئے۔
آپ کے علمی فیض کا سلسلہ آپ کی اولاد تک بھی منتقل ہوا، اور آپ کے صاحبزادے شمس الغنی خان رام پوری بھی اپنے وقت کے ممتاز عالمِ دین ثابت ہوئے۔
علمی و ادبی خدمات
مولانا نجم الغنی خان رام پوری ایک ہمہ جہت مصنف تھے۔ آپ نے پشتو، اردو، فارسی، عربی اور ہندی زبانوں میں درجنوں علمی، ادبی، تاریخی، طبی اور دینی کتب تصنیف کیں، جن میں چند نمایاں تصانیف درج ذیل ہیں:

طب اور ادویہ

  • خواص الادویہ
  • خزائن الادویہ
  • قرابادین نجم الغنی خان
    تاریخ و تہذیب
    راجپوتوں کے کارنامے
  • تاریخِ راجپوتانہ
  • واقعاتِ راجستھان
  • تاریخِ اودھ
  • تاریخِ روہیلہ
    دینی و علمی تصانیف
  • تعلیم الایمان
  • تہذیب العقائد
  • مزیل الغواشی
  • تذکرۃ السلوک
    ادب و بلاغت
  • بحر الصفات
  • بحر الفصاحت
  • مفتاح البلاغت
  • تسهیل اللغات
    خصوصاً بحر الصفات اتنی مقبول ہوئی کہ ایک عرصے تک پنجاب یونیورسٹی لاہور کے نصاب کا حصہ رہی۔
    علمی مقام و میراث
    مولانا نجم الغنی خان رام پوری ان نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ایک ہی زندگی میں طب، تاریخ، فقہ، عقائد، تصوف، ادب اور لسانیات جیسے متعدد علوم میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ صرف ایک عالمِ دین نہیں بلکہ ایک مؤرخ، طبیب، ادیب، معلم اور محقق بھی تھے۔
    بلاشبہ مولانا نجم الغنی خان رام پوری برصغیر کے ان عظیم پشتون علماء میں سے ہیں جن کی علمی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور جن کا علمی سرمایہ آج بھی تحقیق و مطالعہ کے متلاشی افراد کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہے۔
    ۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]