پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

غذا کی تقسیم، استحالۂ غذا اور خون کی تشکیل

غذا کی تقسیم، استحالۂ غذا اور خون کی تشکیل
طبِ نبوی ﷺ اور حکمت کی روشنی میں
حکیم المیوا ت قاری محمد یونس شاہد میو
انسانی جسم اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم الشان تخلیق ہے۔
جسم کی بقا، قوت، نشوونما اور صحت کا بنیادی ذریعہ غذا ہے۔
اگر غذا درست ہو تو جسم مضبوط، خون صاف، دماغ توانا اور دل طاقتور رہتا ہے، جبکہ خراب غذا بیماریوں کی جڑ بنتی ہے۔
حکمت، طبِ یونانی اور طبِ نبوی ﷺ کے مطابق غذا صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ جسم کے ہر عضو کی تعمیر و اصلاح کا وسیلہ ہے۔
غذا جسم میں داخل ہونے کے بعد مختلف مراحل سے گزرتی ہے، پھر اس کا استحالہ (Transformation / Metabolism) ہوتا ہے، اور آخرکار وہ خون اور جسمانی قوت میں تبدیل ہوتی ہے۔
غذا کی بنیادی تقسیم
تصویر میں غذا کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے:
1۔ کاربوہائیڈریٹس (Alkali Foods)
یہ وہ غذائیں ہیں جو جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہیں۔
مثالیں
گندم۔۔ چاول۔۔ روٹی۔۔۔ شہد۔۔۔ آلو۔۔۔ دلیہ
جسم میں کردار۔۔
یہ غذائیں:
جسم کو حرارت دیتی ہیں۔۔۔ دماغ کو توانائی فراہم کرتی ہیں۔۔۔ جسمانی حرکت برقرار رکھتی ہیں
ہاضمے کے بعد
یہ غذا:
معدے میں نرم ہوتی ہے آنتوں میں تحلیل ہوتی ہے پھر گلوکوز کی صورت خون میں شامل ہو جاتی ہے
متعلقہ افعال
تصویر کے مطابق:

دماغ کی غذا خون کا پانی پلیٹلیٹس

2۔ پروٹین (Acid Foods)
یہ غذائیں جسم کی تعمیر اور ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتی ہیں۔
مثالیں
گوشت انڈہ مچھلی دالیں دودھ
فوائد
پروٹین:
پٹھے بناتی ہے جسمانی قوت پیدا کرتی ہے زخم بھرنے میں مدد دیتی ہے خون کے سرخ خلیات کی تعمیر میں حصہ لیتی ہے
استحالہ
پروٹین:
معدے میں تیزاب اور خامروں سے ٹوٹتی ہے امائنو ایسڈ میں تبدیل ہوتی ہے جگر میں پہنچ کر نئے جسمانی اجزاء بناتی ہے
متعلقہ افعال
تصویر کے مطابق

دل کی غذا خون کی سرخی آر بی سی (RBC)

3۔ چکنائیاں / فیٹس (Salts & Fats)
یہ غذائیں جسم میں ذخیرہ شدہ توانائی پیدا کرتی ہیں۔
مثالیں
گھی مکھن روغن زیتون خشک میوہ جات
فوائد
جسم کو طاقت دیتی ہیں جوڑ نرم رکھتی ہیں اعصاب کی حفاظت کرتی ہیں ہارمونز کی تشکیل میں مدد دیتی ہیں
استحالہ
چکنائی:
آنتوں میں صفرا (Bile) کے ذریعے ہضم ہوتی ہے چھوٹے ذرات میں تقسیم ہوتی ہے پھر خون کے ذریعے جسم میں جذب ہوتی ہے
متعلقہ افعال

تصویر کے مطابق:
جگر کی غذا

خون کی گرمی، WBC (White Blood Cells)

ہاضمہ اور استحالۂ غذا
تصویر میں ایک اہم مرحلہ “Digestive and Metabolic Process” دکھایا گیا ہے۔

یہ عمل چار بڑے مراحل پر مشتمل ہے:

پہلا مرحلہ: ہضم (Digestion)
غذا:

منہ میں چبائی جاتی ہے معدے میں نرم ہوتی ہے تیزاب اور خامروں سے ٹوٹتی ہے،یہاں معدہ غذا کو قابلِ جذب بناتا ہے۔

دوسرا مرحلہ: جذب (Absorption)
چھوٹی آنت:

غذائی اجزاء کو جذب کرتی ہے وٹامنز، معدنیات، شکر اور امائنو ایسڈ خون میں شامل ہوتے ہیںیہ مرحلہ جسم کیلئے نہایت اہم ہے۔

تیسرا مرحلہ: جگر میں استحالہ (Metabolism in Liver)
جگرانسانی جسم کی سب سے بڑی فیکٹری ہے۔
تصویر میں Liver کو “Metabolism Hub” کہا گیا ہے۔
جگر:

غذا کو صاف کرتا ہے زہریلے مادے خارج کرتا ہے غذائی اجزاء کو مفید شکل دیتا ہے خون کی تیاری میں مدد کرتا ہے

چوتھا مرحلہ: خون کی تشکیل
جب غذا مکمل طور پر ہضم و جذب ہو جاتی ہے تو:
خون بنتا ہے
جسمانی حرارت پیدا ہوتی ہے

قوت اور توانائی حاصل ہوتی ہے

خون اور اس کے اجزاء
تصویر میں خون کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
خون کے بنیادی اجزاء
1۔ سرخ خلیات (RBC)
یہ:
آکسیجن پہنچاتے ہیں جسم کو توانائی دیتے ہیں
2۔ سفید خلیات (WBC)
یہ: بیماریوں سے لڑتے ہیں جسمانی دفاع کرتے ہیں
3۔ پلیٹلیٹس
یہ: خون بہنے سے روکتے ہیں زخم بھرنے میں مدد دیتے ہیں
4۔ پلازما
یہ:

غذائی اجزاء پورے جسم میں پہنچاتا ہے

طبِ نبوی ﷺ اور غذا
اسلام نے اعتدال کو بنیادی اصول قرار دیا۔
قرآن مجید

“کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو”

یہ اصول صحت کی بنیاد ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ
محمد ﷺ نے فرمایا:
“معدہ بیماری کا گھر ہے اور پرہیز علاج کی بنیاد ہے”
طبِ نبوی ﷺ میں:

شہد زیتون کھجور جو دودھکو بہترین غذا قرار دیا گیا ہے۔

متوازن غذا کی اہمیت
اگر غذا میں:
پروٹین کاربوہائیڈریٹس چکنائی وٹامنز معدنیات
متوازن مقدار میں ہوں تو:

خون صاف رہتا ہے جسم طاقتور رہتا ہے دماغ متوازن رہتا ہے دل مضبوط رہتا ہے

نتیجہ
تصویر دراصل انسانی جسم میں غذا کے پورے نظام کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کرتی ہے۔
غذا معدے سے گزر کر آنتوں میں جذب ہوتی ہے، پھر جگر میں اس کا استحالہ ہوتا ہے، اور آخرکار وہ خون اور جسمانی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
حکمت اور طبِ نبوی ﷺ کے مطابق:
درست غذا بہترین دوا ہے خراب غذا بیماری کی بنیاد ہے اعتدال صحت کا راز ہےلہٰذا انسان کو ایسی غذا اختیار کرنی چاہئے جو:

پاکیزہ ہو متوازن ہو قدرتی ہو اور جسمانی مزاج کے مطابق ہو

مرتب کردہ

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
ادارہ
سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]