
خشک پھل اور سبزیاں قدرت کا انمول تحفہ۔وقت کی ضرورت
سولر ڈیہائیڈریٹر سے پھلوں اور سبزیوں کو خشک کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان
حکیم المیوات قاری محمدیونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی
سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔
دنیا میں بڑھتی ہوئی کسان کی بے توقیری اور ضرور ت مندوں تک غذا کی عدم رسائی،قیمتوں کی گرانی۔اور پھلوں اور سبزیوں کے محفوظ کرنے کامعقول انتظام کا فقدان۔ایسے مسائل ہیں۔جو ماہرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرارہے ہیں جو قومیں کچھ کرنے کا سوچتی ہیں ۔وہ اپنے وسائل کا بہتر استعمال کرتے ہیں۔
اس وقت مارکیٹ میں، آم، ٹماٹر۔خوبانی۔کریلا۔چقندر۔پیاز۔۔کچا آم۔اروی۔وغیرہ سستے داموں دستیاب ہیں ۔اللہ نے سورج کی روشنی کی شکل میں توانائی کا بہتا دریا مہیا کردیا ہے۔یہ صنعت کئی ممالک میں تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔پاکستان کو قدرت نے بے پناہ وسائل و صلاحیتوں کا سے نوازا ہے۔اس میں شک نہیں کہ سرکاری سطح پر کسان دشمنی اعلی سطح پر جاری ہے۔لیکن اس کے باوجود بہتر

مواقع موجود ہیں۔
پھلوں اور سبزیوں کو خشک کرنے کا ہنر کم خرچ بالا نشین ہے ۔ایک ضائع ہونے والی چیز کو کار آمد بنانا۔نکمی اشیاء کو سے زر مبادلہ کمانا۔بہتر انتخاب ہے۔
دوسری طرف حکماء کرام جو ادویاتی اجزاء کی تلاش اور بہتر سے بہتر کے انتخاب میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ان کے لئے بہتر اجزاء کی دستیابی کا راستہ ہے۔ہم نے اس بارہ میں بہت سے تجربات کئے ۔
سعد طبیہ کالج۔سعد ورچوئل سکلز کے ماہرین نے اس طرف توجہ کی اورپھلوں اور سبزیوں کو خشک کیا۔اس خشک شدہ مواد کو بطور ادویات ۔اور علاج و معالجہ میں بطور نسخہ/تجویز کئے/حیرت انگیز طورپر فوائد سامنے آئے۔
قانون مفرد اعضاء والے تو غذاو خوراک کو ادویات پر ترجیح دیتے ہیں ۔ایسے لوگ خشک سبزیوں سے حاصل شدہ اجزاء کو بطور ادویات مریضوں پر تجویز کرنے کا بہتر تجربہ کیا۔ خاطر خواہ نتائج سامنے آئے۔کیونکہ خشک شدہ سبزیوں اور پھلوں میں۔نمکیات۔معدنیات اور دیگر غذائی اجزاء کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔مثلاََ دس کلو ٹماٹر خشک کرنے پر ہمیں تقریبا ایک کلو پائوڈر حاصل ہوتا ہے۔اس سفوف کا ایک چمچ تین سے چار پڑے ٹماٹر جتنی غذائی اور ادویات اثرات کا حامل ہوتا ہے۔اگر اسے علاج و معالجہ میں استعمال کیا جائے تو دوا سے کم مقدار میں کام لیا جاسکتا ہے
اس وقت دنیا میں پھلوں اور سبزیوں کو”سولر ڈیہائیڈریٹر (Solar Dehydrator)” سے خشک کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور اس کی چند بڑی وجوہات ہیں
توانائی کی بچت، فوڈ ویسٹ کم کرنا، صحت مند خوراک، اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی مانگ
1۔ دنیا میں یہ رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟
1) خوراک کے ضائع ہونے کو کم کرنا
دنیا میں بڑی مقدار میں پھل اور سبزیاں خراب ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کی شیلف لائف کم ہوتی ہے۔ خشک کرنے سے:
شیلف لائف کئی ماہ تک بڑھ جاتی ہے
کسان نقصان کم کرتے ہیں
آف سیزن فروخت ممکن ہوتی ہے
مثال:
آم → خشک آم پاؤڈر
ٹماٹر → ٹماٹر فلیکس / پاؤڈر
کیلا → Banana Chips / Powder
خوبانی → Dried Apricot
2۔ صارفین کی بدلتی ترجیحات
آج کل لوگ:
کم کیمیکل والی خوراک چاہتے ہیں
قدرتی (Natural) مصنوعات پسند کرتے ہیں
Instant اور آسان استعمال والی غذائیں لیتے ہیں
اس لیے ان چیزوں کی مانگ بڑھ رہی ہے:
فروٹ پاؤڈر
ویجیٹیبل پاؤڈر
ہربل مکس
ہیلتھ سپلیمنٹس
اسموتھی مکس
3۔ وقت کی ضرورت کیوں بن رہی ہے؟
پاکستان جیسے ممالک میں خاص وجہ:
بجلی مہنگی
فصل کا ضائع ہونا
چھوٹے کاروبار کی ضرورت
کم سرمایہ میں ویلیو ایڈیشن
سولر ڈرائنگ سے:
کم خرچ
چھوٹا یونٹ شروع ہوسکتا ہے
دیہاتی سطح پر روزگار پیدا ہوسکتا ہے
4۔ کن چیزوں کی طلب زیادہ دیکھی جا رہی ہے؟
پھل
خشک آم
کیلا
خوبانی
اسٹرابیری
سیب
سبزیاں
ٹماٹر
لہسن
پیاز
پالک
دھنیا
ادرک
5۔ آپ کے لیے خاص امکان (کیونکہ آپ پہلے بھی سولر ڈیہائیڈریٹر پر بات کر چکے ہیں)
آپ ۔خام خشک مصنوعات۔کے بجائے۔Value Added Products پر غور کر سکتے ہیں:
مرحلہ 1: خشک کرنا
مرحلہ 2: سفوف / پاؤڈر
↓مرحلہ 3: برانڈنگ
↓مرحلہ 4: آن لائن فروخت
مثال:
خشک ٹماٹر → سوپ مکس
خشک آم → ڈرنک مکس
خشک اروی → غذائی سفوف
خشک لہسن + پیاز → مصالحہ مکس


