
کمزورمریضوں میںطاقت کی بحالی
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
معالجاتی دنیا میں نے بے شمار ایسے لوگ دیکھے جو وزن کم کرنے کے لئے خوراک کم کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جہاں تین روٹیاں کھاتے تھے اب دو کھانے سے ہی میرا ایک ماہ میں تین کلو وزن کم ہو گیا ہے اور کچھ لڑکیاں اس سے بھی زیادہ غذا کم کر کے اپنا وزن کم کرتی ہیں کہ ان سے اگر یہ پوچھا جائے کہ وزن تو کم ہو گیا ہے اب طاقت کا کیا حال ہے ؟ تو پتہ چلتا ہے کہ طاقت بھی آدمی رہ گئی ہے۔
طاقت کے متعلق یادرکھیں کہ اس کا پتہ ہی اس وقت چلتا ہے جب کم ہو جاتی ہے جب تک موجود رہے تو معلوم نہیں ہوتی اور جب کم یا ختم ہو جائے تو پتہ چلتا ہے۔
بعض اوقات کچھ ایسی علامات مریضوں میں دیکھنے میں آتی ہیں کہ وہ بظاہر تو عام سی ہوتی ہیں لیکن ان کے علاج میں اچھے اچھے نسخے اور تدابیر نا کام ہو جاتی ہیں جب ایسا بار بار ہوتا ہے تو مجبوراً کہ دیا جاتا ہے کہ یہ مرض لا علاج ہے یا اس کی قسمت میں آرام نہیں ہے ایسے وقت اکثر کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی بلکہ صرف طاقت کی کمی ہونے کی وجہ سے اعضاء اپنے افعال انجام نہیں دے سکتے۔

مثلا 60 سال سے زائد عمر میں جا کر اکثر ایسی شدید قبض ہو جاتی ہے کہ دو تین دن تک پاخانہ نہیں آتا تیز ترین قبض کشاء دوائیں مریض طاقت کی کمی کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتا اور ہلکی پھلی دوائیں کام نہیں کرتیں لہذا علاج نا کام ہو جاتا ہے
ایسے حالات میں اصل مرض نہیں بلکہ کمزوری ہوتی ہے اس کمزوری یا طاقت کی کی کی وجہ سے ایک طرف دواؤں کے پورے فوائد حاصل نہیں ہو پاتے اور دوسری طرف عضلات نے جس قوت سے عمل در آمد کرانا ہوتا ہے ان کے پاس وہ قوت نہیں ہوتی۔
اسی قبض کو ہی لیجئے پاخانہ کو خارج ہونے کے لئے جس قدر حرکات کی ضرورت ہوتی ہے وہ عضلات سے ملتی ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ جسم انسان میں حرکات کا تمام نظام عضلات کے ماتحت ہی چلتا ہے کوئی چیز ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتی ہے یا ہم خود ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں تو عضلات ہی حرکات کراتے ہیں ،معدہ کے بارے میں یاد رکھیں کہ یہ خودعضلاتی عضو ہے اور انہی عضلات نے اپنی حرکات سے پاخانہ کوباہر نکال ہوتا ہے لیکن بد قسمتی سے عوام اور عام اطباء نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ قبض ہوتی ہی عضلاتی تحریک میں ہے یا خشک چیزیں قبض کرتی ہیں جو کہ بالکل غلط خیال ہے اگر ایسا ہوتا تو استادمحترم فارما کو پی میں عضلاتی مسہل نہ بناتے یہاں میری ان باتوں کا مطلب یہ نہ سمجھ لینا کہ قبض کشاء دوائیں صرف عضلاتی ہی ہوا کرتی ہیں باقی نہیں ہو تھیں۔
حقیقت یہ ہے کہ تینوں تحریکات میں چونکہ کیمیائی اور مشینی صورتیں ہیں لینا ۔ تینوں تحریکات میں قبض اور قبض کشاء صور میں ہوسکتی ہیں یہاں ہی مقصد واضح کرنا ہے کہ عضلاتی تحریک میں قبض نہیں ہوتی بلکہ عضلات کی حرکات یا عضلات کی طاقت سے ہی تو پاخانہ اندر سے باہر پھینکنے میں کامیاب ہوتا ہےایسے ہی آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک جو ان طاقت در مریض کے گلے میں یا چھاتی میں بلغم ریشہ دخیرہ جما ہو تو تھوک اور کانگار کے ساتھ نکال کر دور پھینک دیتاہے لیکن بڑھا ہے میں بلغم کی مقدار کچھ زیادہ نہیں ہوتی لیکن اسے نکالنے کے لئے جس قدر طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ طاقت نہیں ہوتی ۔بےچارہ سارادن زور لگاتا رہتا ہے لیکن ہوتا کچھ نہیں، ایسے موقع پر بلغم خارج کرنے والی دواؤں کے ساتھ طاقت پیدا کرنے کی غذا میں یا کوئی تدابیر لازمی کی جائیںورنہ علاج نا کام ہو جائے گا۔
ایک اور مثال
جب خون میں ہیمو گلوبن انتہائی کم ہو جائے تو اس خون کی کمی کے سبب جب بلڈ پر یشر لو ہو جاتا ہے تو ایسے بلڈ پر یشر لو میں جس قدر نمک یا انڈے کھلائے جائیں ذرا بھر فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ خون ہی اتناکم ہو گیا ہے کہ اس کا پریشر بنتا ہی نہیں یا چڑھتا ہی نہیں۔ ایسے موقع پر بھی بلڈ پریشر بڑھانے کی بجائے خون پیدا کرنے والی دوائیں دینی پڑتی ہیں۔
کام خون پیدا کرنے کے لئے یا طاقت پیدا کرنے کے لئے آپ کو پتہ ہے کہ یہ کسی دوا سے ممکن نہیں ہو سکتایہ صرف غذاؤں سے ممکن ہے اور غذا میں بھی ایسی جن کے مزاج کی خون میں انتہائی کمی ہو چکی ہو ۔استعمال کرائی جائیں اور ایسی غذائیں جو خون میں زیادہ ہو چکی ہوں انہیں بند کرایا جائے لہذا ایسے مقویات نسخے جو غذائی اجزاء پر مشتمل ہوں۔ کھلا ئیں تو اچھا نتیجہ لگتا ہے ،مثال کے طور پر اگر اعصابی تحریک کی شدت کی وجہ سے عضلاتی تسکین کی وجہ سے کمزوری ہو چکی ہو تو عضلاتی مقویات جیسے حلوہ بیضہ مرغ ، چٹنی مقوی قلب و مولد خون کشکمش اور چنے بھنے مربہ آملہ وغیرہ استعمال کرائے جائیں۔
ای طرح غدی تسکین ہو تو اسے دور کرنے کے لئے غدی مقویات حلوہ ادرک کا پانی مقوی جگر و مولد خون آم کا مربہ اور دیگرغدی مقویات وغیرہ استعمال کرائے جائیں۔
اعصابی تسکین کی مثال
اعصابی تسکین کی صورت میں اعصابی مقویات حلوہ با دم، حریر ہ بادا۔ہڈی کی یخنی یا سری پائے۔ چٹنی مقوی اعصاب و مولد خون استعمال کرائے جائیں تو کوئی کی وجہ نہیں کہ علاج ناکام ہو جائے۔ میرے خیال میں مندرجہ بالا غذائی مقوی نسخہ جات بڑی بڑی دواؤں سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں، یہ تمام مقویات۔مرکبات۔عام دستیاب اشیاء سے ترتیب دئے جاتے ہیں۔
اگر غذائوں کی ترکیب میں پھلوں اور سبزیوں کو شامل کرلیا جائے۔یاپھر خشک پھلوں اور سبزیوں کا استعمال۔
اس وقت دنیا فوڈ سپلیمنٹ اور غذائوں کے مخصوصاجزاء کی طرف مائل ہورہی ہے۔نیوٹریشن کی دنیا میں انقلاب برپاء ہوچکا ہے۔دیسی معالجین اور حکماء کو ا س طر ف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔تاکہ خشک شدہ پھلوں اور سبزیوں سے غذائی ضروریات پوری کی جاسکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


