طب نبویﷺ علاج و معالجہ کے بارہ میں ہدایات

طب نبویﷺ علاج و معالجہ کے بارہ میں ہدایات

طب نبویﷺ علاج و معالجہ کے بارہ میں ہدایات
طب نبویﷺ علاج و معالجہ کے بارہ میں ہدایات

 

طب نبویﷺ علاج و معالجہ کے بارہ میں ہدایات

تحریر:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان
طب نبوی ﷺ میں علاج و معالجہ کے سلسلہ میں جو ہدایات اور معالجاتی احکامات پائے جاتے ہیں اور ان سے اطباء کرام کس طرح استفادہ کرسکتے ہیں۔بغور دیکھا جائے تو کسی بھی طریقہ علاج میںجو معالجاتی تدابیر پائی جاتی ہیں وہ اور ان سے بہتر تدابیر موجود ہیں ۔۔کچھ عناوین ذیل میں دیکھےجاسکتے ہیں۔
(1)عیادت کے وقت مریض کے المناک مقام کو چھونا۔ سعد بن ابی وقاص کے سینے پر ہاتھ رکھا۔دل کے دورہ کے وقت اور انہیں عجوہ کھجوریں مع گٹھلی پیسٹ بنا کر تجویز کی گئیں۔
(2)درد کی جگہ پر مالش کرنا۔
(3)مقام مرض پر دوا لگانا۔قسط ہندی بچوں کے گلے کے لئے تجویزکرنا۔
(4)دوا کو پانی مین گھول کرنا پلانا۔ام المومین ام سلمہ موئے مبارک کو پانی میں گھول کر پلایا کرتی تھیں۔عمر کو زخمی حالت میں نبیذو دودھ پلانا۔
(5)بہتے خون کو بند کرنے کے لئے پانی کا استعمال۔۔دندان مبارک شہید ہونے پر فاطمہ کا زخموں کو پانی سے دھونا ۔یعنی کسی بھی زخم پر مرہم لگانے سے پہلے صاٖ کرنا ضروری ہوتا ہے۔آج بھی اس کی اتنی ہی افادیت ہے۔
(6)زخم سے لہو بہنے کی صورت میں خشک دوا رکھنا۔آپﷺ کے زخموں سے بہنے والے خون کو چتائی کی راکھ سے بند کیا گیا تھا۔
(7)پرہیز کرانا ۔علی کو آشوب چشم میں کھجوریں کھانے سے منع کرنا۔
(8)بیمار کے لئے غذا تجویز کرنا۔جو اور چقندر علی کے لئے پسند کرنا۔
(9) مریض کی کواہس کا احترام کرنا۔ایک بیمار کی خواہش پر کیک کھانے کو دینا
(10)ماہر جراح کا پھوڑے کا آپریشن کرنا۔
(11)پھلوں کا انتخاب کرنا۔تم لوگ پیلو سیاہ رنگ کے کھائو یہ بہترہوتے ہیں۔
(12)ذائقہ بڑھانے کے لئے چٹنی ا استعمال کرنا۔۔ایک دعوت میں رائی کی چٹنی کھائی۔
(13)درد کی جگہ پر پٹی باندھنا۔مرض الموت میں سر پر پٹی باندھی تھی۔
(14)فاسد مواد کا اخراج کرنا۔۔جلاب لینا۔
(15)ناک میں دوا دال کر علاج کرنا۔مرض الموت میں ناک میں ڈالی گئی تو ۔۔سب ھاضرین کی ناک میں دوا دالی گئی تھی۔سوا ئے عباس کے۔
(16)قطور۔۔آنکھ میں دوا ڈالنا۔۔کھنبی کا پانی آنکھوں کے شفاء ہے۔
(17)،اکتحال۔یعنی آنکھوں میں سر مہ ڈال کر علاج کرنا۔سوتے وقت تین تین سلائیاں ڈالا کرتے تھے(شمائل
(19)مقام مرض پر ضماد کرنا۔۔۔بھوک کی حالت مین پیٹ پر پتھر باندھنا۔
(20)دوا کا شربا استعمال کرنا۔یعنی دوا پلانے سے علاج کرنا۔۔۔اونٹ کا پیشاب یرقان کے مریض کے لئے تجویز کرنا۔
(21)نطول کرنا۔مقام مرض پر سیال دوا کا تریڑہ کرنا۔۔دھار باندھ کر گرانا۔بچھو کاٹے پر نمک ملا پانی زخمی جگہ پر بہایا گیا۔۔۔
(22)لعاب دہن کا استعمال۔آشوب چشم میں علی کی آنکھوں پر لعاب لگایا۔خیبر کے موقع پر۔
(23)غذائی دوا استعمال کرانا۔۔۔تلبینہ اور حیس بخار والوں کے لئے تیار کرنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.