بھنگ اور پوست اور میرے تجربات۔

بھنگ اور پوست اور میرے تجربات۔

بھنگ اور پوست اور میرے تجربات۔

Cannabis and poppy and my experiences.

القنب والخشخاش وخبراتي.

 بھنگ اور پوست اور میرے تجربات۔
بھنگ اور پوست اور میرے تجربات۔

بھنگ اور پوست اور میرے تجربات۔

تحریر

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

بھنگ ہمارے علاقہ میں خوردرو پودا ہے،سوائے عملی اور نشئی لوگوں کے کوئی اسے آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔لیکن اییک ماہر طبیب کے لئے بےکار سمجھی جانے والی گھاس پھونس بھی اہمیت رکھتی ہیں۔بھنگ کا نام سنتے ہیں لوگوں کے من میں ایک خاص تاثیر ابھر تا ہے،میری کوشش ہمیشہ سے یہی رہی کی علاج میں معالجہ کو غذا و خوراک کی حد تک رکھوں لیکن لوگ بغیر دوا کے مطمئن نہیں ہوتے،پہلے مجھے صرف نسخوں کی حد تک حکمت کا جنون تھا جہاں کہیں سے نسخہ ملا قیمتی ہو یا ازراں بنا ڈالا،

اس کے بعد نتائج کے انتظار میں بیٹھ گیا،معاشرتی طورپر لوگوں کا خاص مزاج بن چکا ہے اگر فائدہ ہوجائے تو خاموش ہوجائو،سرِ راہ ملاقات ہوجائے تو رخ بدل لو تاکہ شکریہ ادا نہ کرنا پڑے۔یا جو دوا مفت میں لی تھی اس کی تعریف نہ کرنی پڑجائے۔
دوسری طرف اگر کسی کو نقصان پہنچے یا مریض سمجھتا ہے کہ دوا سے مجھے فائدہ نہیں ہوا علامات میں اضافہ ہوگیا ،تو کرایہ لگاکر بھی اولہانا دینے آجائے گا،کچھ عرصہ بعد مجھے اپنے نسخہ آزمانے کا رمز معلوم ہوگیا کہ اگر کسی نے نسخہ استعمال کرکے رابطہ نہیں کیا تو اسے مطلوبہ فوائد حاصل ہوگئے،اگر ایسا نہ ہوتا تو مریض یا اس سے متعلقین میں سے کوئی نہ کوئی اعتراض کرنے ضرور آتا۔
یہ تو جملہ معترضہ تھا۔اب آتے ہیںبھنگ اورپوست کے تجربات اور فوائد کی طرف ۔ رفتہ رفتہ پنساریوں کے مہنگے نسخوں سے خوف آنے لگا اور تازہ ترین جڑی بوٹیوں پر تجربات کی سوجھی،اللہ کا شکر ہے اس میں بہت سے فوائد ملے اور پنساریوں کی بھاری بھرکم پرچیوں سے جان چھوٹی۔اس قسم کے تجربات اس وقت ہوئے جب میں فری طبی کیمپ لگایاکرتا تھا۔

وسائل تھے نہیں ادویات کی کھیپ زیادہ تھی،اس وقت تازہ حالت میں ملنے وال جری بوٹیوں پر تجربات شروع ہوئے،ان کیمپوں سے مجھے تشخیص امراض۔تجویز غذا و خوراک،اور ترتیب نسخہ جات کا بہتری تجارب ہوئے۔یہ کم وسائل والی ایام میری زندگی کے سنہرے دن تھے۔طب میں جتنی مہارت مجھے ان ایام میں مسیر آئی اس کے بعد میں موقع نہ مل سکا۔
دیہاتوں میں مجھے ہری بھری تازہ حالت میں جڑی بوٹیا ں دیہاتی لوگ لادیا کرتے تھے میں انہیں نسخہ جات میں استعمال کرلیا تھا،من جمل ان میں سے ایک جڑی بوٹی بھنگ بھی تھی۔
سب سے پہلے اس کا استعمال اولاد نرینہ کے لئے کیا گیا اس کے بیج اس نسخہ کے بنیادی اجزاء میں سے ایک تھے۔جب کبھی بیج دستیاب نہ ہوتے تو اس کے خشک مسفوف پتے کام میں لائے جاتے۔پتے بھی وہی کام کرتے،ایک دوبار بھنگ کے اجزاء کو زکام اور لیکوریا کے مریجوں پر استعمال کیا بہترین فوائد حاصل ہوئے۔

اس کے بعد رطوبتی امراض والے نسخوں میں اسے بطور ایک شامل کیا جانے لگا یعنی اعصاب امراض میں اس کی سحر انگیزی بہت کام آئی،اعصابی امراض میں دردین خصوصی طورپر زیادہ تنگ کرتی ہیں،جسم کا ڈھیلا پن۔نیند کی کمی،اعصابی تنائو،جوڑوںکے درد وغیرہ میں کامیابی سے جزوے نسخہ شامل کیا جانے لگا۔میں ایک بات محسوس کی جب بھوک بند ہو تو نمک میٹھا سوڈا اور بھنگ کے پتے پیس کر دینے سے بہت فائدہ دیکھا۔اس کے بعد یہ مریے نسخوں میں مناسب مقدار میں شامل ہوتی رہتی ہے،سرعت انزال کے مریضوں میں اس کے مفید نتائج دیکھنے کو ملے۔
اس کے بعد خشخاش کا ڈوڈا،لاہور میں اس کا حصول قانونی طورپر اس کی دستیابی ایک مسئلہ ہے۔ایک بات مجھے صوابی کسی مریض کے سلسلہ میں جانا ہوا وہاںمیں نے ڈوڈے کو عام جنس کی طرح بکتے ہوئے دیکھا ۔بھائو معلوم کیا تو دو تین سو روپے کلو دستیاب تھا ۔میزبان نے جب میری دلچسپ دیکھتی تو آدھا کلو پسوا کر مجھے تحفتا پیش کردیا۔اسے میں نے بے شمار نسخوں میں ڈالا،جہاں دیکھا کہ مریضو دردوں کی شکایت کرتا ہے

ایک چٹکی شامل پوڑیہ کردی۔یہ کئی سال تک کام دیتا رہا۔جب ختم ہوا تو اللہ نے ایک او ر سبب پیدا کردیا منیگورہ سوات سے ایک شیخ الحدیث صاحب نے طب نبوی ﷺ کا کورس کیا،وہ ایک حکیم صاحب کی معرفت میرے پاس داخل ہوئے تھے،ایک بار وہ حکیم صاحب لاہور تشریف لائے مجھے با اصرار پوچھنے لگے لگے کی کوئی ضرورت ہوتو بتائیں ۔آخر ڈوڈا پر اتفاق ہوا وہ ایک کلو مسفوف حالت میں مجھے دے گئے،اسے میں نے عرصہ تک استعمال کیا۔
اسی طرح میرے ملنے والوں نے ایک صاحب عمان رہتے تھے۔جام و سبو کے رسیا تھے،میرے ساتھ عقیدت تھی،ان کے مہروں کا علاج کیا تھا،اس کے بعد ان کی نیاز مندی کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔
ایک بار پاکستان تشریف لائےبے تکلفی تھی،ایک دن کہنےلگے پیر جی میں آپ کی دعوت کرنا چاہتا ہو ،ہم ایک دش تیا رکرتے ہیں وہ آپ نے نہیں کھائی ہوگی اس لئے میں چاہتاہوں آپ بھی ہمارے ساتھ شریک طعام ہوں ،لیکن وہ خاص دش کیا تھی میرے لئے معمہ تھا،

اتفاق جس دن دعوت تھی کوئی مجبوری آ ن پڑی یوں یہ گنچے کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئے۔لیکن انہیں اصرار تھا کہ اس اجنبی خوان میں ضرور شرکت ہونی چاہئے۔انہوں نے دعوت میں غیر حاضری کو بہت مسحوس کیا،اور میرے لئے اس سے کچھ حصہ خام حالت میں رکھ لیا ایک دو دن بعدملاقات پر ایک گڈی ہرے پتوں کی تھما دی۔معلوم کرنے پر فخریہ انداز میں بتایا کہ یہ خشخاش کا ساگ ہے بکرے کے گوشت میں پکاکر کھانے سے کمال لذت دیتا ہے۔خیر میں نے دلجوئی کرتے ہوئے وصول کرلیا لیکن بکرے کے گوشت ساتھ اس تجربہ کی نوبت نہ آسکی۔
میں دیکھا یہ پتے بہت نازل ہیں جلد خراب ہونا شروع ہوگئے تو انہیں بھنگ کے پتوں کے ساتھ رگڑنا شروع کردیا ،کچھ دیگر ادویات بھی دوران رگڑائی شامل کردیں۔کئی دن رگڑائی کے بعد چنے کے برابر گولیاں بنا لیں۔اب ان گولیوں کا استعمال تھا کہ کہا کیا جائے اللہ کا نام لیکر دردوں میںاس کا استعمال شروع کردیا۔پھر کیا تھا کئی ماہ تک یہ گولیاں میرے مطب میں امتیازی طورپر کام آنے لگیں۔جب لوگوں کو استعمال کرائیں وہ آج تک ان کے طالب ہیں ۔کچھ فدائی تو ہر قیمت دینے پر آمادہ ہین کہ خرچ جتنا بھی ہوجائے ہم سے لو وہ گولیاں تیار کردو

خواص و فوائد کے لئے دیکھئے ہماری کتاب۔۔۔العقاقیر المیسرہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.