
کہیں خیالات بھی دَبا ہاں؟
کہیں خیالات بھی دَبا ہاں؟مصنف: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو**کئی بار آدمی یو سمجھے ہے کہ دباؤ صرف اُو ہووے ہے جو کندھاں پہ بوجھ بن کے پڑے،یا جیب خالی ہووے، یا پیٹ کی فکر ستاوے۔پر اصل بات تو یو ہے کہ کئی دفعہ سب سو بھاری بوجھ




