
ماں باپ کی عظمت
ماں کا آنسو پونچھ دے بھائی بعد میں پھر پچھتائے گو
وقت ہے بیتے جارو ہر پل اوجھو ہاتھ نہ آئے گو
ماں کا پاؤں تلے ہے جنت باپ ہے دروازو جنت کو
با نینو یا کو بند ہو گو تو جنت کیسے پائے گو
گھر والی تیری نوں چاہے چھوڑ دے اپنا ماں با پن نے
چھورو ہے اِن ماں با پن کو کیسے چھوڑ کے جائے گو
لمبی چاہے جے تُو عمریا باپ سُو یاری گانٹھ لے تُو
حبیب کہے نہ اپنے پئے سُو حدیث کی بات بتائے گو
پچھتائے گو = پچھتائے گا | اوجھو = دوبارہ | با نینو = دروازہ | عمریا = عمر
(شاعر: انجینئر حبیب میو کینیڈا)


