
علاج بذریعہ پانی و بھاپ:
موجودہ جرمنی کے مشہور ڈاکٹر لوئی کو ہنی کی مشہور کتاب کا اردو ترجمہ۔
(دیباچہ)
“میں تندرست ہوں یا مریض؟” اس مضمون پر تمام بنی نوع انسان نیز ہر ایک شخص کا توجہ دینا نہایت ضروری امر ہوگیا ہے۔ یہ کم فکر کا معاملہ نہیں ہے، کہ دن بدن انسانوں کی تندرستی، طاقت اور قوتِ برداشت گھٹ رہی ہے۔
زنگروٹ بھرتی کے وقت اکثر دیکھا جاتا ہے کہ فوجی اشخاص کی تندرستی رفتہ رفتہ کم ہوتی جارہی ہے۔ اس سچائی پر پردہ ڈالنے کی کوشش فضول ہے، یہ سچی بات کبھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔
گورنمنٹ تندرستی قائم رکھنے والے معاملات پر توجہ دے سکتی ہے اور دیتی بھی ہے، مگر اس کی زیادہ تر ذمہ داری ہر ایک شخص کو خود لینی چاہیئے۔ جو اپنے جسم کی پرواہ خود نہیں کرتا، اس کے لئے تندرستی کو قائم رکھنے یا دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا آسمانی پھول کی مانند ہے۔
جو پابند فرائض انسان اپنے بال بچوں کی پرورش نیز کاروبار کے لئے جسم تندرست رکھنا اپنا فرض سمجھتا ہے، اسے “میں تندرست ہوں یا مریض” یہ سوال بڑی الجھن میں ڈال دیتا ہے۔ اگر وہ دولت مند ہے تو سال میں ایک یا زیادہ مرتبہ کسی اچھے ڈاکٹر سے اپنی تندرستی کی تشخیص کر لیتا ہے۔
اگرچہ اس معائنہ کا نتیجہ زیادہ تسلی بخش نہیں ہوتا، ایک کے بعد دوسرے معائنہ کے دوران میں نہ معلوم کیا کیا ہو جائے۔ یہ کتاب اِسی مدعا لئے لکھی گئی ہے کہ ہر ایک ہمیشہ بے خوفی سے اپنے معمولی اور خاص کر اپنی حواسِ ہاضمہ نیز پھیپھڑوں کی حالت جان سکے۔
یہ سچ ہے کہ اگر دوبارہ تندرست ہونے کا طریقہ نہ بتلایا جائے تو صرف اپنی تندرستی کی حالت جان لینے سے ہی کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ لہذا اس کی مدد سے تندرستی کے بگڑ جانے کا علم حاصل کرنے کا طریقہ بھی بتلایا گیا ہے۔
میری دلی خواہش ہے کہ میری یہ چھوٹی کتاب ہر ایک شخص کی توجہ نیز اپنے خاندان کی تندرستی کی طرف مبذول کرے اور تمام افراد اور اقوام کو طاقت ور اور پرجلال ہونے میں مدد کرے۔
“لوئی کو ہنی”

صفحہ نمبر 4 (کیا میں تندرست ہوں یا مرض؟)
علاج بذریعہ پانی و بھاپ — کیا میں تندرست ہوں یا مریض؟ انسان کو اس وقت تک تندرست کہا جانا چاہیئے جب اس کے حواس کسی قسم کا درد یا بے چینی پیدا کئے بغیر اپنے کام درست طور پر کر رہے ہوں۔
کام کے بعد تھکاوٹ کا محسوس ہونا قدرتی ہے، اس سے کوئی تکلیف نہیں بلکہ صرف آرام نیز نیند کی قدرتی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ تندرست انسان کو آرام اس سے پیشتر کی ہوئی محنت کے برابر ہی پیارا لگتا ہے۔
تمام اندرونی حواس اپنا کام خود بخود اُسی طرح کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا۔ معلوم تب ہوتا ہے جب حواسوں میں کچھ گڑبڑ ہوتی ہے یا کوئی بیرونی نقصان دہ اثر پڑتا ہے۔
جیسے کھانا کھانے کے بعد کوئی انسان اگر بھوک مٹ جانے کے سوا کسی قسم کی بے چینی محسوس کرے تو اس کے معدے میں کچھ گڑبڑ ہے یا اس نے کوئی ناواجب چیز کھائی ہے۔ جسم کے تمام اعضاء کا آپس میں ایسا گہرا تعلق ہے کہ کسی بھی عضو کے اپنا کام درست طور پر نہ کرنے سے تمام جسم پر اس کا بُرا اثر ہوتا ہے، جیسے کسی کنبہ میں ایک فرد کے بیمار پڑنے سے باقی سب افراد کو کچھ نہ کچھ تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے۔
صفحہ نمبر 5 (حواس اور جسم پر اثرات)
یہاں یہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہر ایک شخص اپنی روزانہ زندگی میں اس کی سچائی کو محسوس کرتا ہے۔ ہاتھ میں چوٹ لگ جانے سے صرف اُس کے کام میں رکاوٹ نہیں پڑتی بلکہ ہماری مرضی کے موافق عمل نہ کرنے والے دل اور معدے جیسے حواسوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔
ممکن ہے کسی زخم کے باعث کچھ دنوں کے لئے بھوک تک بند ہو جائے۔ کیونکہ حواسوں کے ذریعہ جسم کے تمام اعضاء کا آپس میں تعلق ہے، اس لیے ہم دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہر ایک گڑبڑ و نقص کا اثر تمام جسم پر پڑتا ہے۔
اس کے برعکس اگر ہم یہ دکھاویں کہ صرف ایک عضو بھی اپنا کام بالکل درست طور پر کر رہا ہے تو تمام جسم تندرست ہے۔ مگر پرانے نقص انسان کے تمام جسم میں ظاہرہ طور پر تبدیلی کر دیتے ہیں، اس سے جسم کے کسی بھی عضو کے ذریعہ اس کا کام مکمل طور پر نہیں ہوتا۔
انسان کے چہرے پر یہ تبدیلیاں خوب اچھی طرح ظاہر ہوتی ہیں، کیونکہ چہرے پر تمام کے تمام حواس خاص خاص طور پر موجود رہتے ہیں۔ سخت یا مہلک امراض کے چہرے پر پڑے ہوئے اثر عام انسان بھی دیکھ سکتے ہیں۔ مگر مرض کی ابتدائی علامت — خاص کر سخت امراض کے ابتدائی مرحلے میں — چہرے سے مرض کا علم حاصل کرنا ناممکن نہ ہونے پر بھی سخت مشکل ضرور ہے۔
مصنفِ کتاب ہذا کے بہت سالوں تک غور سے اس سوال پر وچار کرنے کا نتیجہ علمِ تشخیصِ امراض کی ایجاد ہے۔ اس کے بعد اُسے چہرہ نیز گردن کی حالت اور شکل دیکھ کر مرض کا مقام نیز حالت کا درست فیصلہ کرنے میں ہمیشہ کامیابی نصیب ہوئی ہے۔
صفحہ نمبر 6 (مرض کا پتہ لگانے کا طریقہ اور ہاضمہ)
لیکن علامت دیکھ کر مرض کا پتہ لگانے کے فن کا ذکر کر کے سمجھانا بہت ہی مشکل ہے۔ اس بات کا اصلی علم صرف تجربہ سے ہی حاصل ہو سکتا ہے، مگر یہاں مرض کی تشخیص کا ایک اس سے بھی آسان طریقہ بتلایا جائے گا۔ علم قیافہ شناسی کا ذکر جو خانہ پر کیا جائے گا، ناظرین وہاں پر ملاحظہ فرمادیں۔
جسم کی پرورش کرنے والے حواس (سانس لینے والے پھیپھڑے اور ہضم کرنے والا معدہ) جسم میں سب حواسوں سے زیادہ افضل ہیں اور مراد یہ ہے کہ یہی دونوں بہت جلد مرض کے چنگل میں پھنستے ہیں۔
حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو یہ بات تجربہ سے ثابت ہو گئی ہے کہ تمام اندرونی گڑبڑ کی جڑ یہ صرف معدہ ہی ہے۔ ہاضمہ بگڑ جانے کے ساتھ ہی دوسرے امراض کا حملہ ہو جانا ضروری امر ہے۔
کم از کم خوراک کے ٹھیک طور پر ہضم نہ ہونے کا اثر تو ہوتا ہی ہے کیونکہ خون کا اچھا ہونا حواسِ ہاضمہ کے درست طور پر کام کرنے پر منحصر ہے اور جسم کی مناسب پرورش کے لئے خون کا صاف اور پاکیزہ ہونا نہایت ضروری ہے۔
صفحہ نمبر 7 (معدے کی خرابی اور اس کی شناخت)
بہت درست ہاضمہ: بہت ہی کم لوگ اس بات پر ناز کر سکیں گے کہ ہماری قوتِ ہاضمہ بالکل درست ہے۔ ان کی تعداد یقیناً ان بوڑھوں کی تعداد کے قریباً برابر ہی ہوگی جو کسی مرض کا شکار ہوئے بغیر لقمہ اجل ہو جاتے ہیں۔
اس بات پر آپ کو حیرت کا اظہار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اکثر لوگ معدے پر جتنا ستم ڈھاتے ہیں، اتنا کسی اور عضو پر نہیں۔ واجبی تو یہ ہے کہ معدے میں کوئی گڑبڑ یا نقص شروع ہوتے ہی ہم فوراً اس پر توجہ دیں۔
اسے پہچاننا بہت ہی آسان ہے — ڈکار، قے یا معدے میں کسی قسم کا بھاری پن نقص کی یقینی علامات ہیں، مگر جب تک یہ نقص از حد تکلیف نہیں دینے لگتے، تب تک ان کی بالکل پرواہ نہیں کی جاتی۔
اب ہم اپنے ناظرین کو ایک ایسی پہچان بتلانا چاہتے ہیں جس سے معدے کا چھوٹے سے چھوٹا نقص بھی جان لیا جا سکتا ہے۔ معدے میں کوئی خرابی نہ رہنے پر تمام حواسِ ہاضمہ اپنی جگہ اپنا کام درست طور پر کرتے رہتے ہیں۔ فضلہ کا نکاس بھی مناسب شکل میں ہوتا ہے۔
نالی کا دروازہ (فضلہ کے نکاس کا دروازہ) اتنی خوبی سے بنا ہوا ہے کہ پاخانہ یعنی رفع حاجت کے بعد وہاں ذرا بھی فضلہ نہ لگا رہنا چاہیئے۔ اور اگر کبھی وہاں فضلہ لگا رہ جائے تو سمجھ لو بڑی آنتڑی میں فضلہ پہنچانے سے پیشتر کام کرنے والے حواسوں نے اپنا کام درست نہیں کیا اور حواسِ ہاضمہ میں کچھ نہ کچھ نقص ضرور پیدا ہوا ہے۔
صفحہ نمبر 8 (تندرست انسان کی علامت)
جنگلی جانوروں کے فضلہ یا اس کے نکاس کی جگہ کو دیکھ کر یقینی طور پر ان کی صحت کا علم حاصل کیا جا سکتا ہے اور یہی پہچان انسان کے لئے بھی ہے۔ بالکل تندرست انسان کے لئے بھی پاخانہ یعنی رفع حاجت کے لئے پانی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہاں ذرا بھی فضلہ لگے۔
فضلہ کے بالکل درست حالت میں ہونے پر یہ سوال بھی فضول ہے کہ فضلہ کس قدر اور کتنی مرتبہ آتا ہے۔ تندرست جسم ضرورت کے مطابق اس کا انتظام خود کر لیتا ہے۔
بچہ، نوجوان خواہ کوئی بھی کیوں نہ ہو، سب پر بہت دنوں تک تجربہ کرکے اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی حالت میں بھی یہ بات غلط نہیں نکلی۔ ایسی سولہ آنے صاف قوتِ ہاضمہ کا انسان بے شک دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ “میں بالکل تندرست ہوں! اس کا تمام جسم بغیر نقص کے ہے”، کیونکہ جسم میں کہیں ذرا بھی نقص ہونے کی حالت میں معدے پر اس کا تھوڑا بہت اثر پڑے بغیر نہیں رہتا۔
ہم کچھ اور دیکھے بھالے بغیر ایسے مکمل تندرست انسان کی نسبت یہ کہنے کو تیار ہیں کہ وہ اپنی زندگی قدرتی اور مناسب طریقے سے بسر کرتا ہے۔
مصنفِ کتاب ہذا کی خاص طور پر درخواست ہے کہ جن اشخاص کے فضلہ کا نکاس ایسا صاف طور پر ہوتا ہو تو وہ براہِ عنایت مجھے مطلع فرما دیں، اس میں شک نہیں کہ ایسے لوگ شاذ و نادر ہی ملیں گے۔
صفحہ نمبر 9 (بدہضمی کے باعث اور نتائج)
بدہضمی کے باعث اور نتائج: اس میں شک نہیں کہ بدہضمی غیر قدرتی بودوباش سے ہوتی ہے۔ ہم لوگوں میں جوں جوں چوپارین (چوکر یا چکنائی)، گوشت، شراب، تیز چٹ پٹے مصالح اور لیس دار چیزوں وغیرہ کے کھانے کی عادت بڑھتی جاتی ہے، توں توں قوتِ ہاضمہ بھی بگڑتی جاتی ہے۔
ہمیں اپنے بزرگوں کی سیدھی سادی مفید خوراک اب پسند نہیں آتی۔ جب تک تھالی میں کئی چٹ پٹی چیزیں، قسم قسم کے خوب کھٹے میٹھے لوازمات نہ ہوں، تب تک ہمارے حواسِ لذت کی سیری نہیں ہوتی۔
حواسِ ہاضمہ پر ایک جانب تو اس طرح بوجھ ڈالا جاتا ہے، دوسری جانب چیزوں کا عرق نکال کر اور انہیں کئی ایسی شکلوں میں بدل کر پیٹ میں پہنچایا جاتا ہے کہ اسے ہضم کرنے میں معدے کو زیادہ محنت نہ کرنی پڑے — معدے پر بڑی مہربانی کی جاتی ہے۔
جس طرح جسم کے دوسرے اعضاء سے ان کی طاقت سے زیادہ یا بہت کم کام لینے سے وہ کمزور ہو جاتے ہیں، ویسی ہی معدے کی بھی حالت ہے۔ معدے کی کمزوری اور نقائص اتنے آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں کہ یہ اُن اشخاص کی عادت میں داخل ہو جاتے ہیں، نہیں تو ظاہرہ طور پر ان کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا، مگر اس کا نتیجہ بہت ہی برا ہوتا ہے۔
صفحہ نمبر 10 (معدے پر بچپن سے مظالم)
اگر معدے پر کئے گئے مظالم کا اثر آہستہ آہستہ نہ ہو کر شراب کے نشے کی طرح فوراً ہوتا تو انسان فوراً اُس کے دور کرنے کی کوشش بھی کرتا۔
بیچارے معدے پر بچپن ہی سے مظالم ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ جنہیں بچپن میں ماں کا دودھ نہ مل کر بناوٹی خوراک ملتی ہے، ان کے معدے کی بری حالت کچھ نہ کچھ اسی وقت سے شروع ہو جاتی ہے۔
مستورات کا اپنے بچوں کو دودھ نہ پلا سکنا بڑی بدقسمتی کی بات ہے، اس سے عورت کا مریض ہونا صاف ثابت ہوتا ہے۔ مگر بناوٹی خوراک سے معدے کا بگڑنا تو بعد کی بات ہے، اس سے پیشتر ہی زیادہ تر بچے تو پیٹ سے ہی بیمار نکلتے ہیں، کیونکہ مریض والدین کی اولاد تندرست کہاں سے پیدا ہوگی — بڑا بیج اچھے پھل کیسے لائے گا۔
بات سخت رینج کی ہے لیکن محض شکایت سے کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اب دیکھنا یہ چاہیھیے کہ ہم کیا طریقے عمل میں لا سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ ہمارے ہاتھ کچھ نہیں، اس کا کوئی علاج نہیں ہے؛ آگے پڑھنے پر طریقہ علاج معلوم ہوگا۔
اب ہمیں زیادہ تشریح کے ساتھ اس مضمون پر غور کرنا ہے کہ ہمارے جسم میں نقائص کے پیدا ہونے کے باعث کیا ہیں۔ جسم غیر قدرتی خوراک کو دشمن کے برابر سمجھتا ہے اور جلدی اُسے نکال باہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
حتی الامکان یہ کوشش کبھی قے، کبھی دست اور کبھی دیگر اشکال میں ظاہر ہوتی ہے۔ اور اگر جسم اس طرح سے مادہ نہ نکال سکا تو کم سے کم وہ خوراک کچی حالت میں ہی ہضم…
صفحہ نمبر 11
شراب کے نشے کی طرح فورا ہوتا تو انسان فورا اس کے دور کرنے کی کوشش بھی کرتا۔ بیجارے معدے پر بچپن ہی سے مظالم ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ جنہیں بچپن میں ماں کا دودھ نہیں مل کر بناوٹی خوراک ملتی ہے ان کے معدے کی بڑی حالت کچھ نہ کچھ اسی وقت سے شروع ہو جاتی ہے۔ مستورات کا اپنے بچوں کو دودھ نہ پلا سکنا بڑی بد قسمتی کی بات ہے۔ اس سے عورت کا مریض ہونا صاف ثابت ہوتا ہے، مگر بناوٹی خوراک سے معدے کا بگڑنا تو بعد کی بات ہے، اس سے بیشتر ہی زیادہ تر بچوں کے تو بہت ہی بیمار نکلتے ہیں۔ کیونکہ مریض والدین کی اولاد تندرست کہاں سے پیدا ہوگی، برا درخت اچھے پھل کیسے لائے گا۔ بات سخت رینج کی ہے لیکن محض شکایت سے کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اب دیکھنا یہ چاہیے کہ ہم کیا طریقے عمل میں لا سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ ہمارے ہاتھ میں اس کا کوئی علاج نہیں ہے، آگے پڑھنے پر طریقہ علاج معلوم ہوگا۔ اب ہمیں زیادہ تشریح کے ساتھ مضمون پر غور کرنا ہے کہ ہمارے جسم میں نقائص کے پیدا ہونے کے باعث کیا ہیں؟ جسم غیر قدرتی خوراک کو دشمن کے برابر سمجھتا ہے اور حتی الامکان جلدی اسے نکال باہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کوشش کبھی تیز اور کبھی سست اور کبھی دیگر اشکال میں ظاہر ہوتی ہے اور اگر جسم اس طرح فورا نہ نکال سکا تو کم سے کم وہ خوراک کسی حالت میں بھی نیم اضم
صفحہ نمبر 12
خوراک کے حصے کو بھی کچھ حالت میں باہر نکال لاتی ہے۔ اس طرح غیر قدرتی اور بغیر مفید خوراک کے حصے ایک ساتھ ہی بڑی نالی میں پہنچتے ہیں۔ اس سے انسان کو اس مفید خوراک کے حصے کا کچھ فائدہ نہیں ملتا۔ ایسا حصہ پیٹ سے اکثر قدرتی طور پر نگلا جاتا ہے، اگر نہ نکلا اور خون میں ایسا حصہ مل گیا تو وہ جسم میں جمع ہو جاتا ہے۔ ایک آدھ مرتبہ تو انسان ایسے بڑے نتیجے سے بچ بھی جاتا ہے۔ مگر انسان قدرتی اصولوں کو ایک ہی مرتبہ توڑ کر تو نہیں رہ جاتا بار بار اسے توڑتا چلا جاتا ہے۔ یہ کوئی کم رنج کی بات نہیں ہے کہ تقریبا ہمیشہ ہی وہ ان اصولوں کے خلاف عمل کرتا ہے۔ جسم میں بہت دنوں تک غیر قدرتی نیز غیر ہضم خوراک کو نکال دینے کی کارروائی کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔ اس سے جسم میں جلدی ہی نقصان دہ فضول مادہ جمع ہونے لگتا ہے۔ شروع میں زہر یا مادہ پیڑو کے پاس پاخانہ پیشاب نکالنے والی جگہوں کے قریب جمع ہوتا ہے۔ پھر اس میں نیا ہر روز نیا تیار شدہ زہریلا مادہ مل کر بڑھتا رہتا ہے اور جلد ہی اندر ہی اندر اس میں ایک تبدیلی ہونے لگتی ہے۔ اس کے حصے بکھرنے لگتے ہیں، اور ان میں جوش اور بو پیدا ہو جاتی ہے۔ زہر یا مادہ گھلنے پر جسم میں اوپر کی جانب پھیلنے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ جسم کے مختلف اعضا میں جمع ہو جاتا ہے، یہ مادہ پیڑو سے ہٹ کر سر کے سر
صفحہ نمبر 13
پیر پاؤں کی حد تک پہنچے بغیر نہیں رہتا۔ اس وقت جسم اسے ہر طرح سے باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے مگر زیادہ دیر تک وہ اس کارروائی کو قائم رکھنے کے ناقابل ہوتا ہے۔ اس کوشش میں جسم کو بہت زیادہ پسینہ آتا ہے۔ پھوڑے پھنسیاں وغیرہ امراض نمودار ہوتے ہیں۔ شروع میں ہمیشہ یہ ہاتھ پاؤں میں نکلتی ہیں۔ پاؤں کا پسینہ آنا— جس کے متعلق اتنا زیادہ اختلاف ہے — اصل میں جسم کی صفائی کے لیے ہی ہوتا ہے۔ دراصل یہ مرض کی علامات ہیں لیکن اسے غیر قدرتی طریقوں سے روکنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جسم میں مرض بڑھیں گے۔ جسم کو جوش میں لانے والے حادثات جیسے اچانک سردی، بیرونی چوٹ، زبردست نقائص وغیرہ کا نتیجہ اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ جسم کے اعضا کے سروں پر جمع ہوئے زہریلے مادے کو اس کے مقام پیدایش کی جانب دو لبھیجنے لگتا ہے۔ اس وقت وہ مادہ اکثر جوڑوں کے ہاں آکر رک جاتا ہے۔ اسی سے سوزش پیدا ہوتی ہے، جو مندرجہ بالاوجوہات سے ہمیشہ جوڑوں کے نیچے کی جانب ہی ظاہر ہوتی ہے۔ گٹھیا کے کسی بھی مریض کو دیکھ کر ہم اس کا احساس کر سکتے ہیں۔ جب اعضا میں زہر کا مادہ جمع ہو جاتا ہے تو وہ اپنا قدرتی کام مناسب طریقے سے سر انجام نہیں دے سکتے۔ خون کے دباؤ میں رکاوٹ پڑنے لگتی ہے اور اس سے جسم کی واجب اور درست پرورش نہیں ہو پاتی۔ بہت زیادہ زہریلا مادہ جمع ہو جانے پر اعضا چھونے سے سرد
صفحہ نمبر 14
معلوم ہوتے ہیں، ان میں گرمی لانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ پہلے پہل جسم کے بیرونی بڑھے ہوئے حصے مثلاً ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں مگر دوسرے اعضا میں بھی اس کا اثر معلوم ہونے لگتا ہے۔ ساتھ ہی زہریلے مادے کے باعث جسم کی ہیئت میں ایک غیر قدرتی تبدیلی ہو جاتی ہے۔ مگر یہ زیادہ تر ہر شخص میں ہونے کے باعث زیادہ تر اشخاص کو اس میں کوئی حیرت نہیں ہوتی۔ اگرچہ ان تبدیلیوں سے ہی انسان کو معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے جسم میں زہریلے مادے کی کتنی مقدار جمع ہو گئی ہے۔ مصنف کتاب کے علم قیافہ شناسی کی بنیاد بھی انہیں پر ہے۔ گردن اور چہرہ ہی ایسے عضو ہیں جن میں ذرا بھی تبدیلی ملنے سے تالا لینا ممکن ہے۔ مگر اس طرح دیکھ کر پہچاننا اور اس سے نتیجہ اخذ کرنا صرف اسی انسان کے لیے ممکن ہے جس نے بہت دنوں تک اس مضمون کا بغور مطالعہ کیا ہو۔ ہم یہاں جسم کے بالکل تندرست ہونے کے علامات کی بات چیت کی جانب ناظرین کی توجہ مبذول کرتے ہیں۔ جب اس علامات سے یہ جان لیا گیا کہ جسم تندرست ہے، تب حواس ہاضمہ میں نو سرے مادے کی موجودگی کا شک ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر ان میں نہیں تو پھر جسم میں نہیں ہے۔ کیونکہ ان خرابیوں کا آغاز تو وہیں سے ہوتا ہے۔ لیکن اس علامت سے اگر جسم تندرست ہے تب حواس ہاضمہ میں نو سرے مادے کی موجودگی کا شک ہی نہیں کیا جا سکتا۔
صفحہ نمبر 15
اور اگر ان میں نہیں تو پھر جسم میں نہیں ہے۔ کیونکہ ان خرابیوں کا آغاز تو وہیں سے ہوتا ہے۔ لیکن اس علامت سے اگر جسم تندرست نہ جان پڑے تو ہمیں سب سے پہلے جسم کی ہیئت کی تبدیلی سے یہ لگانا ہوتا ہے کہ جسم میں سڑا ہوا زہریلا مادہ کی کتنی مقدار جمع ہو گئی ہے۔ کبھی کبھی توڑے پر یہ مادہ اس شکل میں ہوتا ہے کہ ہر کوئی اسے دیکھ سکتا ہے جیسے گانٹھوں، گلیوں وغیرہ کی شکل میں، یہ گانٹھیں وغیرہ جسم کی ہیئت کی دیگر تبدیلیوں کی طرح ہی جسم کو اندر سے بالکل صاف کر ڈالنے پر خود بخود غائب ہو جاتی ہیں۔ مگر اگر انہیں بیرونی فضول طریقوں سے دور کرنے کی کوشش کی جائے تو جسم کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ باعث یہ ہے کہ اس حالت میں وہاں کا زہریلا مادہ جسم کے دوسرے حصے میں چلا جاتا ہے۔ جس انسان کے جسم میں زہر کا مادہ موجود ہے، مہلک امراض کے چنگل میں ایسا ہوا ہے۔ جس میں جتنا زیادہ زہریلا مادہ موجود ہے وہ اتنا ہی زیادہ مرض میں مبتلا ہے۔ زہریلے مادے کے جمع ہونے سے ایک کے بعد ایک ہونے والے نتائج سے مریض کو اپنے جسم کی حالت کا اصلی علم ہونے لگتا ہے۔ زہر مادہ ہمیشہ سڑنا چاہتا ہے۔ مگر اس سڑن کا جلدی یا شروع ہونا بیرونی حالتوں پر منحصر ہے۔ موسم کی تبدیلی سڑن پیدا کرنے کی طاقت رکھنے والی خوراک یا دیگر وجوہات سے سڑن کا آغاز ہو سکتا ہے
صفحہ نمبر 16
یا جسم کے تپنے پر یہ سڑن تمام جسم میں پھیل سکتی ہے اور زیادہ تر جسموں میں پھیل سکتی ہے۔ سڑن سے گرمی پیدا ہوتی ہے اور سڑن کا عمل چاروں اطراف میں ہونے پر تمام جسم کو اس گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ اسی کو لوگ بخار کا جو کہتے ہیں۔ سڑنے کے وقت جب زہریلا مادہ تیزی سے پھیلتا ہے تو جسم حتی الامکان اسے باہر نکالنے میں اپنی تمام طاقت خرچ کر دیتا ہے۔ زہر یا سڑا ہوا مادہ اپنی تمام طاقت خرچ کر دیتا ہے۔ اس لیے جسم میں سڑن کے عمل کے باعث ہونے والا ہر ایک تیز بخار جسم کے دوبارہ تندرستی حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ ایسے ہی بخار سے تعلق رکھنے والے امراض مہلک کہلاتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسم کو اپنی کوشش میں کامیابی حاصل ہوتے ہی بخار خود بخود دور ہو جائے گا۔ بخار کے دور کرنے کا یہی واحد علاج ہے۔ اگر اسے بناوٹی طریقوں سے دبا دیا جائے تو سڑا ہوا مادہ جسم کے اندر ہی رہ جاتا ہے اور جسم میں مہلک امراض کی جڑیں اور مضبوط ہو جاتی ہیں۔ پیاسے ناظرین! کیا آپ نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی کہ آپ کا ایک دوست تو بخار کے بعد اپنے کو زیادہ تندرست بتلاتا ہے۔ مگر دوسرا دوست تو بخار کے نقصان کی شکایت کرتا ہے؟ پہلی مثال میں تو ہمارے جسم کے اندر جمع ہوا کوڑا کرکٹ نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی اور
صفحہ نمبر 17
دوسری میں نہیں۔ امید ہے اب آپ کو ان دو آپس میں منہ دکھائی پہننے والی باتوں کے سمجھنے میں کوئی الجھن نہیں ہوگی۔ بخار طرح طرح کی بیرونی اشکال کی بنا پر اس کے کئی ایک نام پڑ گئے ہیں۔ اسی طرح بچوں پر حملہ کرنے والے امراض کے بھی کئی نام رکھے گئے ہیں۔ بچوں کے جسم میں صفائی کا کام کرنے کی طاقت زیادہ رہتی ہے اسی سے انہیں چیچک، سرخ بخار، چھپک وغیرہ امراض ہو کر جسم کی صفائی ہوا کرتی ہے۔ ہیضہ، پیچش وغیرہ بھی ایسے ہی امراض میں سے ہیں۔ پہلے کے مطابق ان سب کی پیدایش کا باعث ایک ہی ہے۔ مگر ان کی مختلف اقسام یا اشکال بیرونی باتوں پر منحصر ہیں۔ خاص کر اس بات پر کہ جسم کی قدرتی طور پر صفائی کے راستوں کے نزدیک زہریلا مادہ کتنا کم یا زیادہ جمع ہوا ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ اکثر موٹے تازہ اشخاص کو تیز بخار کیوں نہیں ہوتا۔ ان کا جسم زہریلا مادہ کو تقسیم کرتا رہتا ہے صرف پسینے یا دیگر راستوں سے کچھ حصہ نکالتا ہے۔ ایسے انسان اکثر اپنی اچھی صحت پر ناز کرتے ہیں۔ کیونکہ رفتہ رفتہ جمع ہونے والے مادہ سے انہیں تکلیف نہیں معلوم ہوتی۔ لیکن آگے چل کر دوا کے ذریعہ دبائے ہوئے بخار والے انسانوں کے برابر ہی اُن کی بھی حالت ہوتی ہے۔ اس وقت اس کا اثر جلدی پھوٹ نکلنے والی بیماریوں کی نسبت زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
صفحہ نمبر 18
اس زہریلے مادے کے تباہ سے رفتہ رفتہ تکلیف دہ نقائص پیدا ہوتے ہیں۔ سر درد، زکام، کھانسی، دانتوں کا نقص، نیز دیگر تکلیف مرض ضرورت ہو جاتے ہیں، زندگی وبال ہو جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ سرد ہوا سے پیدا ہونے والے نقائص بڑھ کر ستانے لگتے ہیں۔ جسم کا کوئی کوئی حصہ تو بالکل ضائع ہو جاتا ہے۔ دانت خراب ہو جاتے ہیں، بال سفید ہو جاتے ہیں، یا سر گنجا ہو جاتا ہے۔ آنکھ اور کانوں میں اپنا کام اچھی طرح کرنے کی طاقت باقی نہیں رہتی، بینائی جاتی رہتی ہے اور بہرہ پن تک کی بھی نوبت پہنچ جاتی ہے۔ ہاتھ پاؤں جن میں زہریلا مادہ زیادہ مقدار میں صحیح ہوتا ہے سرد پڑ جاتے ہیں۔ اس کے بعد گٹھیا، قبض یا کبھی پتلے دست آنے لگتے ہیں۔ یہ دونوں اندرونی گرمی کے علامات کبھی قبض اور کبھی کا مہر ہے۔ قوت ہاضمہ دن بدن کمزور ہوئی جاتی ہے۔ انتڑیوں میں گرمی کا زور ہو جاتا ہے اور ضرور فضا باہر نکالنے میں دور گار انتڑی میں رہنے والا چکنا مادہ شور ہو پاتا ہے اور اس سے قبض ہو جاتی ہے۔ جب کبھی جسم کی صفائی کا کام زور سے ہوتا ہے تو غیر ہضم شدہ چیزیں جسم میں پہلے دست کی شکل میں باہر نکلتی ہیں، اسی کو پیچش کہتے ہیں۔ انہیں تمام وجوہات سے مرض پیدا ہوتے ہیں۔ امراض کئی اقسام کی ہوتی ہیں، یہاں ان کا ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ ان میں سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اس لیے یہاں ہم صرف پھیپھڑے
صفحہ نمبر 19
کے مشہور نیز خطرناک امراض اور ان کے پیدا ہونے کے اسباب کا ہی ذکر کریں گے۔ دوسرے حواسوں کی طرح پھیپھڑوں میں مرض کا آغاز کرے ہوئے زہریلے مادہ کے جمع ہو جانے پر ہی ہوتا ہے۔ ان مواد کے نکاس میں رکاوٹ پیدا ہونے پر پھیپھڑوں کی تباہی ہونے لگتی ہے۔ پھیپھڑوں کی طرف سے آنے والا سڑا ہوا مادہ پہلے پھیپھڑوں میں ہو کر اوپر کی طرف جاتا ہے اور کندھوں کے نیچے پھیپھڑوں کے بالائی سروں میں جا کر رکتا ہے، آگے سر یا ہاتھ کی طرف جاتے ہیں کمزور ہونے کے باعث پھیپھڑوں کے سروں میں رگڑا اور سڑن پیدا کرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سڑے ہوئے مادے کی یہ سڑن بہت تیز ہونے پر پھیپھڑوں کی تباہی شروع ہو جاتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مریض ہمیشہ پھیپھڑوں کے اگلے حصے میں شروع ہوتا ہے۔ ہر ایک انسان اپنے پھیپھڑوں کی درست حالت کا علم حاصل کر سکتا ہے۔ اُن کی تندرست حالت میں ہم منہ بند رکھ کر ناک سے سانس لیتے ہیں۔ جب کبھی ہمیں منہ سے سانس لینے پر مجبور ہونا پڑے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا باعث ناک یا پھیپھڑوں کی کوئی خرابی ہے۔ ناک کے امراض کی پہچان بہت آسان ہونے کے باعث ہم سانس لینے کے طریقہ کا تجربہ کر پھیپھڑوں کی حالت کا بخوبی علم حاصل کر سکتے ہیں۔ عام رفتار کے تحت صرف اتنی ہی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنا منہ بند رکھ سکتے
صفحہ نمبر 20
ہیں یا نہیں۔ اور اس سے بھی بڑی بات ہوگی کہ ہماری نیند کی حالت میں دوسرا شخص دیکھے کہ ہمارا منہ کھلا رہتا ہے یا بند۔ علاوہ بریں منہ کے کم یا زیادہ کھلا رہنے پر بھی بیماری کی کمی بیشی کا بلا کسی شک کے علم ہو سکتا ہے۔ زیادہ عمر والے اشخاص اکثر چلتے وقت اپنا منہ بند رکھتے ہیں۔ ان کے زیادہ عمر پانے کا باعث یہی ہے کہ ان کے پھیپھڑے عام صحت اچھے ہوتے ہیں، اور ان کی عام سانس لینے میں کچھ مشکلات پیش آئیں تو سمجھ لیجئے کہ اب ان کے دن پورے ہو گئے ہیں۔ لحظہ بھر کے لئے بھی یہ مت سمجھو کہ منہ کا کھلا رہنا صرف ایک عادت ہے۔ یہ حالت ہمیشہ کسی نہ کسی مرض کے باعث ہوتی ہے۔ اور بغیر اس مرض کے دور ہونے کی کوشش کے بغیر منہ بند نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر ہم لڑکیوں پر اس بات کی آزمائش کریں تو ہم ہر ایک لڑکی کے متعلق یہ جان سکتے ہیں کہ وہ پاکیزہ فرائض مادری یعنی معنوں سے بچوں کو دودھ پلانے کے قابل ہے۔ اس کے قابل ہونے کے لئے مکمل علاج کی ضرورت ہے۔ پھیپھڑوں کی مرض میں مبتلا مستورات بہت کم اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے قابل ہوتی ہیں۔ دودھ پلانے کی ناقابلیت کا لوگ خواہ کچھ ہی سمجھتے رہیں۔ لیکن سب سے اہم باعث یہی ہے۔ مندرجہ بالا باتوں کے ضروری نتائج بہت ہی پر از عظمت ہیں
صفحہ نمبر 21
اور مریضوں کا علاج انہی پر منحصر ہے۔ تمام اندرونی امراض کے سوائے بیرونی چوٹوں کے صرف ایک ہی باعث ہے۔ اور سچ پوچھا جائے تو مرض بھی ایک ہی ہے جو طرح طرح کے اشکال میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ہم لوگوں کے بہتریں کا پر عظمت نتیجہ ہے جس کی سچائی آگے چل کر کئی ایک ثبوتوں سے ثابت ہو جائے گی۔ سائنس کسی قول کی راستی یا دروغ گوئی جانچنے کے لئے ایک ثابت شدہ کسوٹی ہے۔ تجربہ اور اصول کے مطابق کھوج اگر تمام امراض کی جڑ ایک ہی ہے تو ان سب کا علاج بھی اگر ایجاد ہو سکے تو تمام باتوں میں ایک ہی ہونا چاہئے۔ اس لئے اگر ہم تمام بیماریوں کو دور کرنے والا ایک ہی علاج نکال سکیں جس میں خاص خاص مرض میں مبتلا اشخاص کے لئے صرف تھوڑا سا رد و بدل کرنا پڑے تو ہمیں مرضی مطابق ثبوت مل جائے گا۔ ایسا علاج اکثر مرتبہ خود ایجاد ہوا ہے۔ اب ہم ادھر ادھر کی بھی چوڑی باتیں کرنے کے بغیر اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ مرض کیسے دور ہو سکتے ہیں؟ در اصل جسم اپنا علاج خود کر لیتا ہے ہمارا کام تو صرف اتنا ہی ہونا چاہیے کہ ہم سب باتوں کا ایسا سلسلہ باندھ دیں کہ اسے تندرستی حاصل کرنے میں ضرور کامیابی حاصل ہو۔ اس حساب سے ہمارا کام
صفحہ نمبر 22
صرف اتنا ہی رہ جاتا ہے:- (1) جسم میں سڑنے والی گندی چیز کو نہ جانے دینا۔ (2) ایسی پرانی چیزوں کو باہر نکالنا۔ اس کے لیے ہمیں کرنا چاہیے کہ: (1) اپنی زندگی قدرتی اصولوں کے موافق بسر کریں۔ (2) اس طرف توجہ دیں کہ جسم کا کوڑا کرکٹ نکالنے والے حواس کام بخوبی کر سکیں۔ قدرتی خوراک کیا ہے؟ تمام قسم کے مریضوں کے لئے کسی ایک ہی قسم کی خوراک نہیں بنائی جا سکتی۔ قدرتی خوراکوں میں سے مرض کی حالت کے مطابق کوئی خوراک چن لینی چاہیے۔ جب کسی مزیدار یا بے مزہ چیز سے ڈوکار آوے تو سمجھنا چاہیے کہ معدہ اسے منظور نہیں کرتا پس جب تک جسم منظور نہ کرنے لگے اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اسے تو اپنا ایک ضروری اصول بنا لیں کہ معدے پر کبھی زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ ٹھونس کر نہ کھائیں، اس سے پورے طور پر ہضم ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور ادھوری ہضم شدہ خوراک جسم کے لئے محض کوڑا ہے۔ پرانے مریضوں کا پیٹ اکثر نکل آتا ہے اس کا باعث ہے بد مزہ یا بے فائدہ چیزوں کا زیادہ:
صفحہ نمبر ۲۳
استعمال یا پیٹ میں زہریلے مادہ کی سٹرن۔ ایسے انسانوں کو اپنی خوراک کا اندازہ نہیں رہتا۔ انہیں چاہیئے کہ کبھی مناسب مقدار سے زیادہ خوراک نہ کرنے کی طرف پوری توجہ دیں۔ یا دوسرا کوئی ہو، جو ان پر نگاہ رکھے تاکہ وہ زیادہ مقدار میں کھانا نہ کھا جائیں۔ ٹھوس خوراک کھانے کی طرف سب سے زیادہ خیال رکھنا چاہیئے۔ جو چیزیں نگلنے سے پیشتر خوب چبانی پڑتی ہیں، وہ پتلی یا طلا یم خوراک سے ہمیشہ جامد اور آسانی سے ہضم ہونے والی ہوتی ہیں۔
خوب چبانے سے ہی بھو جن میں منہ کا لعاب مناسب مقدار میں ملتا ہے۔ اور یہی خوراک کو ہضم ہونے کے قابل بناتا ہے۔ اسی باعث وہ سب خوراکیں جنہیں ہم ان کی اصلی غیر مبدل حالت میں کھا سکتے ہیں، بہت جلد ہضم ہوتی ہیں، اور ہمارے جسم کے لئے بہت مفید ہوتی ہیں۔ تمام پکائی ہوئی خوراکیں ہضم ہونے میں بھاری ہوتی ہیں۔ مگر ہر حالت میں خوراک کو خوب چبانا ضروری ہے۔
صفحہ نمبر ۲۴
جسم کے کوڑے کی صفائی
جسم میں جمع ہوا کوڑا نکالنے نیز بالکل صفائی ہونے تک اس عمل کے جاری رکھنے کے بارے میں اب ہم خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔ جسم میں فضلہ نکالنے والے چار خاص حواس ہیں: پھیپھڑے، مثانے، چمڑا، گدا۔ پاخانہ نکالنے کی جگہ اور پیشاب کرنے والے جو اس جسم کا کوڑا نکالنے کے لئے ان سب سے پورا کام کرانا ہو گا۔
پھیپھڑے اپنا کام جسم میں بخوبی حرکت ہونے پر بھی کر سکتے ہیں۔ مکمل تندرستی کے لئے کھلی ہوا میں خوب ورزش کرنا ضروری ہے۔ بہر یا سڑا ہوا مادہ صاف ہونے کے وقت مریض آسانی سے خود بخود گہری سانس لینے لگتا ہے۔
جگر: چمڑے کی نہ کے پاس جمع ہوا کوڑا نکالنے ہی کا جگر کا خاص کام ہے۔ جب تک یہ کام مقررہ طور پر ہوتا رہے کسی خطر ناک مرض کا شک نہ کرنا چاہیئے۔ لیکن زہریلے سڑے ہوئے مادے کے باعث خون جمع کرنے میں رکاوٹ پڑنے سے مثانوں کے عمل میں کمزوری آ جاتی ہے۔ پھر چھونے سے مثانے ہمیشہ ٹھنڈے جان پڑتے ہیں۔ قوت حس ہمیں بتلاتی ہے کہ یہ حالت غیر قدرتی ہے۔ کیونکہ جسم کے سرد اعضا کو چھونا اچھا نہیں لگتا۔ ہمیں اس طرح مردہ ہوئے جگر
صفحہ نمبر ۲۵
میں گرمی پہنچا کر اس میں از سر نو کام کرنے کی طاقت پیدا کرنی چاہیئے۔ جانداروں کے نشو و نما کے لئے گرمی اور سردی دونوں ضروری ہیں۔ جگر پر بھی ان دونوں کا بڑا مفید اثر پڑتا ہے۔ ان سے اس کے سوراخ کھل جاتے ہیں۔ وہ کام کرنے پر مستعد ہو جاتا ہے۔ بھاپ کے غسل سے بڑھ کر اور کوئی علاج نہیں ہے۔ درست طور پر بھاپ لینے سے ہمیشہ ہمارے جگر میں کام کرنے کی طاقت آجاتی ہے۔ کتاب کے آخر میں بھاپ کے عمل کا سب سے اعلیٰ طریقہ درج کیا گیا ہے۔ اب چھوٹے بچوں کے لئے ایک اس سے بھی زیادہ قدرتی طریقہ بتلایا جاتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ سردی لگنے پر بچے اپنی ماں سے چمٹنا چاہتے ہیں۔ بچوں میں ماں کے جسم کی گرمی سے اپنا بدن گرم کرنے کی بڑی خواہش رہتی ہے۔ یہ قدرتی بات بعض تعلیم یافتہ اصحاب کو فضول اور بے طریقہ معلوم ہو گی۔ مگر ماں کے دل میں پاکیزہ اور قدرتی الفت مادری پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے بچے کو ساتھ سلانے اور اپنے جسم کی گرمی پہنچانے کا کام بڑی خوشی سے کرے گی۔ بچے کے خسرے، سرخ بخار، چیچک جیسے مہلک امراض بھی خوف زدہ نہ کر سکیں گے۔ اس قدرتی علاج کا حیرت انگیز پھل ہوتا ہے۔ در حقیقت بچوں کو اگر ماں کے جسم سے مناسب گرمی ملتی رہے
صفحہ نمبر ۲۶
تو انہیں بہت کم امراض کا سامنا کرنا پڑے۔ مصنف کتاب ہذا جانتا ہے کہ اس ایک بات سے اُسے کتنے لوگوں کی بڑی خصلت کی مخالفت کرنی پڑ رہی ہے، لیکن اس سے وہ سچائی پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔ اگر لوگ اس کا استعمال کریں تو کتنے ہی خاندانوں کو اس سے از حد فائدہ حاصل ہو۔ برابر دیکھا جاتا ہے کہ قدرتی زندگی بسر کرنے والے انسان اس بارے میں ہماری نسبت فرائض مادری کو خاص طور پر سمجھتے ہیں۔ ذرا حیوانوں کی طرف توجہ دیجیے۔ مویشیوں نیز پالتو چوپایوں کو دیکھئے۔ وہ کتنی محبت سے اپنے جسم کے ذریعہ اپنے بچوں کو گرمی پہنچاتے ہیں۔ لیکن ہاں، اس کام کے لیے خود ماں میں واجب گرمی ہونی چاہیئے۔ اگر اسی کے جسم میں گرمی لانے کے لئے بیرونی طریقوں یا علاج کی ضرورت ہو تو وہ اپنے بچے کی پرورش کیا کرے گی؟ بچوں کو اصلی فائدہ تو مہر مادری سے ہی مل سکتا ہے۔ مگر جن بیچاروں کو یہ نصیب نہ ہو، انہیں ہلکا غسل بھاپ دینا چاہیئے۔
انتڑی اور فضلہ: ان کا پیشاب اور فضلہ دونوں کے اندرونی مقام پر غسل بھاپ کا اثر پڑتا ہے، مگر اس کے سوا اور زیادہ زور دار عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیشہ سڑنے والی اور ابلتی ہوئی چیزیں زیادہ تر انہیں راستوں سے باہر نکلتی ہیں۔ دیگر اعضاء کی نسبت انہیں جگہوں پر زیادہ تر
صفحہ نمبر ۲۷
جمع رہتی ہیں، اس سے وہاں اکثر کچھ نہ کچھ جلن پھیلی رہتی ہے۔ پس بڑی احتیاط سے ان دونوں جگہوں میں سردی پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اس سے سب سے آسان اور اعلیٰ طریقہ غسل پیٹ ہے۔ زہریلے مادہ کو باہر نکال دینے کے لئے غسل پیٹ کے وقت ان دروازوں کو جہاں تک ممکن ہو نزدیک کی جگہ کو کپڑے سے رگڑنا پڑتا ہے، جس سے جلن بڑھنے نہ پائے۔ مگر یہ عمل پانی کے اندر ہی کرنا چاہیئے۔ اس سے اکثر پھنسیاں ہو جاتی ہیں، جن کے ذریعہ زہریلا مادہ ہمیشہ کی نسبت زیادہ مقدار میں باہر نکلتا ہے۔ جب جب مندرجہ بالا جگہوں میں گرمی معلوم ہو، ایسے غسل لینے چاہئیں، ممکن ہے ایک ایک دن میں تین تین چار چار مرتبہ لینے پڑیں اور کسی کسی حالت میں ایک ایک گھنٹہ تک لینا پڑے۔ اس کے لئے دریا کا پانی سب سے اعلیٰ ہوتا ہے کیونکہ یہ جمے ہوئے فضلہ کو جلدی سے ڈھیلا یا نرم کر دیتا ہے۔ اگر بھاری پانی ملے تو استعمال کرنے سے پہلے اسے کچھ دیر پڑا رہنے دینا چاہیئے۔
ان غسلوں کے شروع ہوتے ہی عجیب و غریب نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ دست ٹھیک آنے لگتا ہے، کبھی کبھی تو مندرجہ بالا ذکر کے مطابق بند ہوا فضلہ کے دروازے سے بالکل لگانہ
صفحہ نمبر ۲۸
رہنے والا فضلہ نکلتا ہے۔ بایں ہمہ کہ ان غسلوں سے انتڑیوں کا جمع ہوا ہوا سڑنے والا مادہ باہر نکل جاتا ہے۔ لیکن جسم کی پوری صفائی نہ ہو لینے تک نیا نقصان دہ مادہ جمتا جاتا ہے۔ اس لئے مکمل تندرست ہونے تک اس علاج کو جاری رکھنا چاہیئے۔ علاج کتنے دن تک جاری رکھنا چاہیئے؟ یہ جسم میں جمع ہوئے زہریلے مادے کی مقدار نیز غسلوں کے اثر پر منحصر ہے۔ یہ علاج ہفتوں تک اور کبھی کبھی مہینوں یا سالوں تک کرنا پڑتا ہے۔
وہ انسان جو جنم سے ہی مرض ساتھ لاتے ہیں یا یوں کہو کہ جو اشخاص جنم سے ہی مریض ہوتے ہیں، ان کے علاج میں سب سے زیادہ وقت صرف ہوتا ہے۔ مگر ان نوجوانوں پر جو تھوڑے ہی عرصہ میں مرض کے چنگل میں گرفتار ہوئے ہیں، اس کا اثر بہت ہی جلد ہوتا ہے۔ علاج شروع کرنے پر اکثر مندرجہ بالا بخاروں میں سے کوئی ایک پھوٹ نکلتا ہے۔ اس سے صفائی کا کام بڑی پھرتی سے ہوتا ہے۔ ان کا علاج بھی اسی ڈھنگ سے کرنا چاہیئے۔ اس وقت خاص کر جگر کو جلد کام میں لگانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ پسینہ ملتے ہی بخار فوراً غائب ہونے لگتا ہے۔ ہم کہہ آئے ہیں کہ بخار تندرستی حاصل کرنے کی کوشش ہے، زہریلے مادہ کو باہر
صفحہ نمبر ۲۹
نکالنا اس کا فرض ہے۔ زہریلے مادے کو باہر نکالنے پر اندرونی جلن اور ساتھ ہی گرمی دور ہو جاتی ہے۔ ضدی اور کم عقل انسان بغیر آزمائے بیٹھتے ہیں کہ غسل بھاپ سے گرمی بڑھتی ہے، میں کہتا ہوں ایک بار آزما کر دیکھیئے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ بات اس کے بالکل برعکس ہے۔ لیکن اس بات پر دوبارہ توجہ دلانے کی ضرورت پڑتی ہے کہ چھوٹے بچوں کی حالت میں پسینہ لانے کے لئے ماں کی گرمی ہی سب سے اعلیٰ علاج ہے۔ اس لئے ماں کو اپنے جسم کی گرمی پہنچا کر بچے کی زندگی بچانی چاہیئے۔ ہر ایک مہلک مرض میں مریض کو خوب پسینہ لانا ہی ہماری سب سے پہلی کوشش ہونی چاہیئے۔ اس بات پر بھی برابر توجہ دینی چاہیئے کہ دیگر زہریلے مادہ نکالنے والے حواس بھی اپنا کام مناسب طور پر کرتے رہیں۔ اس لئے بخار میں غسل پیٹ اور معدہ بھی بار بار دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔
بخاروں میں ڈیتھیریا یا تپ دق یا سل، سب سے خطر ناک بخار شمار کیا جاتا ہے۔ بچوں کے لئے تو مجسم موت سمجھا جاتا ہے۔ جسم میں زہریلے مادہ کے زیادہ مقدار میں جمع ہو جانے کی وجہ سے اور گلے میں رکاوٹ پاکر لیٹتے وقت سانس کی نالی نیز پھیپھڑوں میں خاص طور پر جمع ہو جانے سے بچوں پر ڈیتھیریا یا تپ دق یا سل کا حملہ ہوتا ہے۔ جگر کا اپنا کام تقریباً
صفحہ نمبر ۳۰
بند کر دینے پر یہی زہریلے مادے گلے کی طرف آکر اس مرض کا باعث ہوتے ہیں۔ ہوشیار والدین پہلے سے اپنے بچے پر ہونے والے بخار کے حملے کو جان لیں گے، پھر ڈیتھیریا یا مرض کے مریض کے جسم کی مثال ایک ایسی بوتل سے دی جا سکتی ہے جس میں خمیر اٹھانے والا دقیق مادہ بھرا ہو۔۔۔ طوفان یا ابال شروع ہونے سے زہریلا مادہ بوتل کے سرے کی جانب جانا چاہتا ہے، کیونکہ بوتل کی چہار دیواری اسے باہر نہیں جانے دیتی۔ یہی حالت ڈیتھیریا کے مریض کی بھی ہوتی ہے۔ ڈیتھیریا کے ساتھ ہی اکثر اوقات سرخ بخار بھی ہو جاتا ہے، کیونکہ ابال تمام جسم میں پھیل جاتا ہے۔ ایسا ہونا فائدہ مند ہے، اس سے فضلہ باہر نکلنے میں مثانے سے بھی مدد ملتی ہے۔ مندرجہ بالا کے مطابق پسینہ لانے کا عمل ضرور کرنا چاہیئے۔ ممکن ہے بچوں کو پسینہ لانے کے لئے ماں کو گھنٹوں اس کے بستروں میں لیٹنے کی ضرورت پڑے۔ یہ نہ ہو تو غسل بھاپ دینا چاہیئے۔ عسل پیٹ یا معدہ بھی باری باری سے تندرست ہونے تک دینا چاہیئے۔ ڈیتھیریا یا میں اکثر مریض دم گھٹ گھٹ کر مر بھی جاتے ہیں۔ ہمیں اسے روکنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ اس خون کا باعث زبان پر جمی ہوئی سفیدی تو ہے ہی۔ مگر
صفحہ نمبر ۳۱
گلے کی جلن سے پیدا ہوتی ہوئی سوزش اس سے بھی اہم باعث ہے۔ اس جلن کو بند کر سکنے سے مریض ضرور بچ جائے گا۔ زبان پر جمی ہوئی سفیدی دور کرنے کے لئے مریض کو منہ میں سرد پانی بھر لینا چاہیئے۔ یہاں تک کہ سفیدی بالکل دور ہونے تک یہ عمل جاری رکھنا چاہیئے۔ مریض کو اس طرح لینا چاہیئے کہ پانی منہ کے اندر رہے اور سفیدی اچھی طرح ڈھلتی رہے۔ اس سے مریض کو ظاہراً آرام معلوم ہوگا۔ مریض کو اس طرح لینا چاہیے کہ پانی منہ کے اندر جائے اور سفیدی اچھی طرح ڈھلتی رہے۔
یہ علاج بہت چھوٹے بچوں کا نہیں ہو سکتا۔ ان کے لئے غسل معدہ کافی ہو گا۔ اس کا ایسا اچھا اثر ہوتا ہے کہ ایک ہی غسل کے بعد تمام سفیدی تقریباً غائب ہو جاتی ہے۔ بارش کا پانی عمل میں لانے سے تو جلد نتیجہ حاصل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہیئے۔ اس کی غیر موجودگی میں دریا کا پانی عمل میں لانا چاہیئے، اس پانی کے لانے میں اگر قدرے محنت بھی کرنی پڑے تب بھی کوئی ہرج نہیں۔ جیب سے کچھ پیسے تو خرچ ہوتے ہی نہیں۔ لوگ ڈاکٹروں کے دروازوں پر ٹھوکر کھانے میں بھی تو گھنٹوں وقت برباد کر دیتے ہیں۔ کنویں یا نلکا کے پانی کو عمل میں لانے سے پیشتر کھلی ہوا میں
صفحہ نمبر ۳۲
دھوپ میں کئی گھنٹے پڑا رہنا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو دھوپ میں رکھنا چاہیئے۔ مندرجہ بالا علاج اتنی بار آزمایا جا چکا ہے کہ اس کی سچائی پر شک کرنا کفر میں داخل کے برابر ہے۔ پھر بھی ہم مضمون کو اچھی طرح سمجھانے کے لئے یہاں کچھ مثالیں درج کرتے ہیں:
(۱) ایک نو سالہ لڑکے پر سرخ بخار اور ڈیتھیریا کا حملہ ہوا۔ بید کی بنی کرسی پر لٹا کر اس کے جسم میں گرمی پہنچانے کے ذریعے خوب پسینہ لایا گیا۔ پھر سردی کے لئے عسل پیٹ (Hip Bath) کرایا گیا۔ سر و غسل کے اثر سے سر کی گرمی نیز سانس لینے میں تکلیف دور ہونے پر بستر میں ڈھانک دیا گیا، اس سے قدرتی پسینہ آگیا۔ اور زیادہ غسل بھاپ نہ دینے پڑے مگر سرد غسل بار بار دینے پڑے۔ جوں ہی لڑکے کو بستر میں لٹایا گیا، اس کے منہ میں سرد ہلکا پانی بھرا گیا، اس کے ابال کے باعث گلے میں جمی ہوئی سخت تہہ جلد دور ہو گئی۔ ایک گھنٹہ بھی نہ صرف ہوا ہوگا، گلے کی جلن بھی جلد ہی دور ہو گئی، اور مریض اچھا ہو گیا۔ پانچ دن میں بالکل تندرست ہو گیا۔ پھر کوئی نقص پیدا نہیں ہوا۔ (۲) ایک بیس سالہ نوجوان تیرہ سال کی عمر سے
صفحہ نمبر ۳۳
مرض میں مبتلا تھا۔ بڑے بڑے تجربہ کار ڈاکٹروں نے لا علاج مرض کہہ کر اس کا علاج چھوڑ دیا تھا۔ اس کی مرض اس میں شک نہیں آبائی تھی۔ زہریلے مادے اس کے جسم میں اس طرح بھرے ہوئے تھے کہ جسم کی ہیئت گر گئی تھی۔ سر آگے کی جانب جھک گیا تھا، کمر ٹیڑھی ہو گئی تھی، مس کرنے پر ہاتھ اور پاؤں ہمیشہ سرد جان پڑتے تھے۔ مثانوں نے اپنا کام تقریباً بند کر دیا تھا، قوت ہاضمہ بہت خراب ہو گئی تھی، جسم میں ہمیشہ اندرونی بخار رہتا تھا۔ باہر اس کا روپ نہ ہوتا تھا۔ اس کا علاج خوب اچھی طرح کیا گیا۔
خوراک سادہ زود ہضم دی گئی۔ صبح دودھ اور چوکر دار آٹے کی روٹی، دوپہر کو ساگ اور ابالے ہوئے میوہ جات، شام کو چوکر دار آٹے کی روٹی اور میوہ جات۔ آغاز میں مثانوں کا کام درست طور پر کرانے کے لئے ہر ہفتہ اگلے صفحات میں بیان کئے ہوئے کھٹولے پر تین تین چار چار مرتبہ غسل کے بعد باہر کھلی ہوا میں گھومنے دیا جاتا تھا۔ اس علاج سے تھوڑے ہی دنوں میں ہاضمہ کچھ درست ہوا اور چار ہفتہ بعد خود بخود کچھ پسینہ آنے لگا۔ ہیئت میں فرق پڑنے
[صفحہ ۳۴]
لگا۔ رفتہ رفتہ اس کے دل کی بیماری دور ہونے لگی۔ اُس کو دلی تسکین ملنے اور ساتھ ہی سوچنے کی طاقت بھی آنے لگی۔ تو ہفتہ کے علاج کے بعد وہ کچھ کام سیکھنے لایق ہو گیا ۔ اس دوران میں اس کا وزن پانچ سیر بڑھ گیا تھا ۔ اس مثال سے یہ پر عظمت نتیجہ نکلتا ہے کہ روحانی نقایص کے باعث بھی جسمانی تکلیف ہو جاتی ہے۔ جسم تندرست ہو جانے پر نقایص خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔
۱-(۳) ایک ۱۲ سالہ لڑکے کے دائیں ہاتھ پر اچانک لقوہ مار گیا ۔ ایک ڈاکٹر نے اپنے عام اصول کے مطابق صرف مقامی علاج کیا ۔ یعنی اس نے صرف اُس ہاتھ کو ہی مریض سمجھا اور اس ہاتھ کا ہی علاج کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جیوں جیوں دوا کی مرض بڑھتا ہی گیا آخر کار لڑکے کا علاج میرے اصولوں کے مطابق کیا گیا۔ اس لڑکے کا بھی بلا شک تمام جسم مریض تھا ۔ مگر زہر بلا مادہ دائیں حصہ میں جمع ہوا تھا۔ اور دائیں ہاتھ میں تو اتنی زیادہ مقدار میں جمع ہو گیا ۔ کہ خون کا دباؤ تقریباً بند ہو کر لقوہ ہو گیا تھا۔ بچے کو سخت قبض کی شکایت تھی ۔ اسی سے زہریلے مادہ نے بہت قلیل عرصہ میں ہی اس پر اپنا اثر جما لیا تھا ۔ علاج تقریباً دوسری مثال
[صفحہ ۳۵]
کے مطابق کیا گیا۔ صرف غسل بھاپ کی اتنی ضرورت پڑی ۔ کیونکہ جسم میں پسینہ جلد ہی آنے لگا ۔ یہ خاص قابل ذکر بات ہے ۔ لقوہ ماری ہوئی جگہ کا کوئی الگ علاج نہ کیا گیا ۔ پھر بھی دن بدن لڑکے کو آرام ہوتا گیا۔ تین ہفتوں میں ہاتھ اچھی طرح کام کرنے لایق ہو گیا ۔ لڑکے کی ماں جو ہر روز لڑکے کو غسل کراتے بکھیتی تھی، سمجھ ہی نہ سکی کہ یہ کیا جامد ہو گیا۔
۴۔ ایک نو جوان پادری خطرناک وات روگ (سر چکرانا) میں مبتلا تھا ۔ اُسے زیادہ مطالعہ ہی اپنی بیماری کا باعث جان پڑتا تھا ۔ اس سے اس کی مرض بڑھی تھی لیکن صلی اس کے جسم کے زہریلے مادہ تھے۔ مریض کا جسم باعث ٹوٹ گیا تھا ۔ اُسے تندرست होने کی کوئی امید نہ رہی تھی ۔ اتنی خرابی کا باعث یہ تھا ۔ کہ مثانوں نے اپنا کام تقریباً بند کر دیا تھا ۔ دوسری مثال کی طرح اُسے بھی بخار کا رہ ہمیشہ ہمیشہ ستایا کرتا تھا۔ قوت ہاضمہ بالکل اندرونی جاتی رہی تھی ۔ جو کچھ کھاتا وہ بغیر ہضم ہوئے جسم سے باہر نکل جاتا تھا ۔ اُسے دوسری مثال سے بھی خاص سادہ خوراک دی گئی ۔ باقی علاج بالکل ویسا ہی کیا گیا۔ پہلے ہی دن سے قوت ہاضمہ میں اصلاح جان پڑی نہ۔
[صفحہ ۳۶]
کہ پھر کبھی ھے نہ ہوئی ۔ خود بخود تیسرے دن سے پسینہ آنے لگا۔ جس کی کوئی امید ہی نہیں کی جاتی تھی۔ ہاں اچھی طرح پسینہ لانے کے لئے کچھ غسل بھاپ ضرور دیئے گئے۔ آٹھ ہفتوں میں مریض کی روحانی نیز جسمانی حالت ایسی ہو گئی تھا۔ یہ جہ و وہ اپنے کام میں لگ گیا ۔ ۵۔ دو مہینے کے ایک بچے کے سر میں گنجا پن ہو گیا تھا۔ جنم کے کچھ دن بعد ہی شروع ہو گیا تھا ۔ مرہم لگانے سے حالت اور بھی خراب ہو گئی تھی ۔ بچے کے پاؤں چھونے سے مرد جان پڑتے تھے۔ اس لئے اسے نگیٹھی کے پاس رکھتے اور بہترے میں گرم پانی کی بوتلیں رکھی جاتی تھیں۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ بچہ بہت بے چین ہو جاتا تھا۔ اس خشک گرمی کا اور دوسرا اثر ہو ہی کیا سکتا تھا ؟ اس مثال میں خشک گرمی کی بجائے بچے کو مان کے جسم کی گرمی پہنچانے سے عجیب فائدہ پہنچا۔ رات کو بچہ اپنی ماں کے جسم کی گرمی سے گرم ہونے کے لئے اُس کے ساتھ سلایا جاتا تھا ۔ پہلی ہی رات کو پسینہ آنا شروع ہو گیا رفتہ رفتہ پسینہ بڑھتا گیا دن میں دس یا بارہ منٹ تک ایک چھوٹے سے برتن میں سرو غسل کرائے جاتے تھے۔ اس طرح سے
[صفحہ ۳۷]
بچہ تین ہی ہفتوں میں بالکل تندرست ہو گیا ۔ اور اُس کا جسم موٹا تازہ ہوتا گیا۔ ان تھوڑی سی مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا علاج کے مطابق تمام امراض سے شفا حاصل ہو سکتی ہے ۔ کیسی ہی مرض ہو۔ اور خواہ اس کا کوئی بھی نام ہو اس علاج سے دور کیا جا سکتا ہے۔ ہاں بعض مریض ایسے ہوتے ہیں کہ جسم کی قوت زندگی بالکل تباہ ہو جانے کے باعث مکمل طور پر تندرست نہیں ہو سکتے۔ اب یہاں چوٹ یا جلے ہوئے زخم وغیرہ کے بارے میں دو لفظہ کہنا ضروری جان پڑتا ہے ۔ کیونکہ یہ بیرونی باعثوں سے ہوتے ہیں۔ جسم میں زہر بیا مادہ نہ ہونے پر ایسی چوٹیں ۔ زخم وغیرہ بہت جلد دور ہو جاتے ہیں زہریلا مادہ ہوا تو دیر لگتی ہے۔ اور اسی حالت میں تمام جسم کا کا علاج بھی ساتھ ہی ساتھ کرنا پڑتا ہے۔ چوٹ وغیرہ کے علاج کے طریقوں کے لئے تندرست ہونے کا نیا اور آسان طریقہ نامی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ اس کتاب میں میرے تمام اصولوں اور علاج کا مفصل ذکر ہے ۔ بغیر دوا استعمال کئے ۔ نیز بغیر عمل جراحی کے امراض کو دور کرنے ہیں مجھے جو کامیابیاں نصیب
[صفحہ ۳۸]
ہوئی ہیں ۔ ان سب کا تجربہ اس کتاب میں درج کر دیا گیا ہے ۔ یہ کتاب تقریباً تمام زبانوں میں شایع ہو چکی ہے ۔ دیہاتوں میں اس کی ۶۰۰۰۰ جلدیں فروخت …. ہوئی تھیں۔ ….
[صفحہ ۳۹]
چہرے کی میت کے زریعلیم ہم علم علم قیافه شناسی میرے نئے طریقہ علاج سے علم قیافہ شناسی (چہرے کی ہیئت کے ذریعہ تمام جسم کا علم کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ دو توکو الگ الگ نہیں رکھا جا سکتا۔ جیسے گھوڑے کے بغیر دو سوار اور ساحل کے بغیر سمندر کا خیال ہی نہیں آسکتا۔ اسی طرح میرا یہ علم قیافہ شناسی (چہرے کی ہیئت کے ذریعہ تمام حسیم کا علم، تندرست ہونے کے نئے اور آسان طریقہ علاج سے الگ نہیں ہو سکتا ۔ نہ یہ زہریلے سڑے ہوئے مادہ کی موجودگی ۔ جسم کے اندر اس کی تبدیلی نیز جوش اور اُس کے باعث جسم کی بہیت کی تبدیلی سے ہی अलग ہو سکتا ہے ۔ صرف وہی شخص اس علم قیافہ شناسی سے کی ہیئت دیکھ کر تمام جسم کے علم کو اسمجھ سکتا ہے جس نے میرے نئے طریقہ علاج کے اصولوں کو سمجھا ہے جو میری تندرست ہونے کا نیا اور آسان طریقہ علاج نامی کتاب میں با تشریح اور مفصل درج کئے گئے ہیں علم قیافہ شناسی دچہرے کی ہیئت دیکھ کر تمام جسم کا علم لوگوں
[صفحہ ۴۰]
کو نیا نیز عجیب سامان پڑے گا۔ اس کا باعث صرف یہی کہ وہ اس مضمون کا بہت کم علم رکھتے ہیں نئے طریقے سے مرض کی تشخیص کر اُس سے تمام جسم کا علم حاصل ! کرنے کے علم کے لیئے مجھے اس سے زیادہ مناسب اور موزوں الفاظ نہیں ملے مگر تشخیص کے نئے طریقہ علاج کا ایک نام رکھنا ضروری تھا۔ اور یہی نام رکھنا درست سمجھا گیا۔ کسی ایسے مضمون کا جس کی علم ہیئت کی مانند اتنی مختلف شاخیں ہوں ایک ہی ایسے لفظ میں جس سے نیا شخص فوراً مطلب کو سمجھ لے بیان کرنا مشکل کام ہے نہیں اپنی زندگی میں ایسے بہت سے لفظ ملتے ہیں ۔ جن کا مطلب پہلے کچھ اور جان پڑتا تھا ۔ مگر ان کا علم حاصل کر لینے کے بعد اور ہی جان پڑھنے گئے علم ہیئت نیز میرے نئے طریقہ علاج کے فوائد کو سمجھانے کے لئے ہمیں دیرینہ علاج نیز طریقہ تشخیص کی طرف توجہ دینی چاہیئے ایا مجھ کے مطابق ہزاروں امراض اور اُن کی لاکھوں ایلو پیی دوائیاں ہیں ۔ ان بے شمار امراض کی تشخیص کے لئے بڑے قیمتی فضول اوزاروں سے کام لیا جاتا ہے ۔ جن کے طریقہ استعمال کے علم میں ماہر ہونے کے لئے کئی برس گذار دینے پڑتے ہیں۔ ایسے دور تک
[صفحہ ۴۱]
والے اوزاروں کی ایجاد کی گئی ہے ۔ جن سے پیٹ کے اندر تک کی چیزیں دیکھ لی جا سکتی ہیں ۔ پھر بھی اس کا طریقہ تشخیص ادھورا امینی نا مکمل ہے۔ اگر اتنا بھی معلوم ہو گیا انسان مریض ہے۔ تب بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ۔ انہیں مرض کی اصلیت کا تو پتہ ہی نہیں رہتا۔ تمام دوائیاں اور ڈاکٹری کے اوزار بھی مرض کو دور کرنے کے نا قابل ثابت ہوتے ہیں مرض کی صرف بیرونی شکل میں ان کی مدد سے کچھ تبدیلی ہو سکتی ہے : آج بھی یہ ممکن ہے۔ کہ اگر اندرونی مرض میں مبتلا شخص دس ڈاکٹروں سے مشورہ لے تو دسوں کے دس دس طرح کی رائے دیں گے ۔ اگر خوش قسمتی یا اتفاق سے دو کی رائے مل بھی گئی تو سنتے تو ضرور ہیہی الگ لکھیں گے تاہم سب کے سب ڈاکٹر یہی کہنے والے ملیں گے کہ میں نے مرض کی درست پہچان کی ہے۔ اور میرا ہی نسخہ درست ہے۔ باقی سب نے غلطی کھائی ہے۔ تشخیص کی موجودہ سائنٹیفک طریقہ کی ایجاد بھی حال ہی کے زمانے ہوئی ہے۔ بہت عرصہ نہیں گزرا جب ڈاکٹروں کو کسی عضو میں کو ٹھوک کر اور کان سے اس کی رفاز سن کر تشخیص کرنے کا طریقہ معلوم نہ تھا۔ مجھے آج بھی مشہور مشہور ڈاکٹروں
[صفحہ ۴۲]
کے وہ تشخیص کے ڈھونگ جو میری مریض ماں کی چار پائی کے پاس ہوا کرتے تھے۔ یاد ہیں۔ ہاتھ کی چھڑی پر تھوڑی کا سہارا دے کر وہ لوگ ہاضمہ کے بارے میں کچھ سوال کیا کرتے تھے ۔ اور یہ پوچھ لیا کرتے تھے ۔ کہ درد کہاں ہے بعد ازاں مریض کی زبان دیکھنے کا سوانگ ہوتا تھا۔ یہ نکتی ناچیز باتیں ایسی سنجیدگی اور پیر اسرار خیال سے کی جاتی تھیں ۔ کہ صرف یہی سوانگ انجان آدمی کے دلیران ڈاکٹروں کار شب جانے کے لئے کافی تھے۔ پھر ایک نسخہ لکھا اور قصہ ختم کیا ۔ مریض کو ان نامکوں سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر مریض کو مرض سے شفا حاصل ہو گئی تو سمجھ لیجئے کہ وہ بغیر ڈاکٹری علاج کے بھی اچھا ہو جاتا۔ ختم ۔ تقریباً عرصہ پچاس سال سے ہم اس ٹھوک پیٹ کے ذریعہ طریقہ تشخیص امراض کی نئی ایجاد کا ذکر سننے لگے ہیں جسے پیرس کے ڈاکٹروں نے ایجاد کیا تھا ۔ او۔ جس پر بے حد ڈھول بیٹے گئے تھے ۔ گویا کوئی بڑی عجیب ہلچل مچا دینے والی ایجاد ہو گئی ہو ۔ لیکن آج اتنے دنوں کے بعد بھی ڈاکٹر لوگ عقلمندی سے ایجاد کئے ہوئے اوزاروں کی مدد نیز ٹھوک پیٹ کی تشخیص سے بھی سرطان جیسے اندرونی خطرناک امراض کو ان کے
اس کتابی نسخے (صفحات ۵۵ تا ۷۵) میں مختلف طریقہ ہائے علاج (جیسے ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی، مسمریزم، اور قدیم قدرتی طریقہ علاج)، تشخیص کے طریقے، علم قیافہ شناسی، غسل بذریعہ بھاپ، غسل پیٹ، اور دیگر متعلقہ موضوعات پر مفصل بحث کی گئی ہے۔ مکمل عبارت ذیل میں درج ہے:
صفحہ ۵۵
ڈاکٹر نے بڑے غور سے جانچ کرنے کے بعد کہا کہ مرض کا ذرہ بھر بھی دکھائی نہیں پڑتا۔ سب حواس اپنا کام درست طور پر کر رہے ہیں تمہیں صرف بیماری کا وہم ہو گیا ہے۔ لیکن جس خطرناک ذہن کی بیماری سے مریض تکلیف اٹھا رہا تھا اس کو کوئی
دوسرا شخص محسوس نہیں کر سکتا تھا۔ ڈاکٹر کے کہہ دینے پر بھی کہ نہیں خالی وہم ہو گیا ہے اس کو یقین نہ آیا۔
تمام ایلوپیتھی کی ستے کی عمارت کی بنیاد بھی ہومیوپیتھی میں یہ مانا جاتا ہے کہ دوا بہت کم مقدار میں دینے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ جیسے پانی لطیف مشکل بھاپ بن کر انجمن وغیرہ چلانے کے قابل ہوتا ہے۔ اگرچہ اپنی اصلی حالت میں اس میں اتنی طاقت نہیں ہوتی۔ اسی طرح ہومیوپیتھی نے بھی یہ ایجاد کیا ہے کہ دوائیاں ایلوپیتھی کی طرح نہ دے کر بہت کم مقدار میں دی جائیں تو ان سے فائدہ عظیم اور نقصان کم ہوگا۔ اس کم مقدار کے اصول کے باعث ہومیوپیتھی اسے اعلیٰ اور بہتر مگر طریقہ تشخیص ایلوپیتھی میں یہ ایلوپیتھی سے بھی گئی گزری ہے کیونکہ۔
صفحہ ۵۶
اسی طرح یہ بھی ہزاروں امراض مانتی ہے اور ان کی ہر ایک کی خاص خاص دوائیاں رکھی گئی ہیں۔ مگر ان کا اثر تب ہوتا ہے جب تشخیص کے ذریعہ مرض کی جانچ ہو جائے۔ درحقیقت ہومیوپیتھی کے مطابق دوائیوں کی مقدار کو زیادہ سے زیادہ کم کرنے کے طریقے ایسے مشکل ہو گئے ہیں کہ جو لوگ اسے سیکھنا چاہتے ہیں انہیں مدت تک مغز پچی کرنی پڑتی ہے۔
مسمریزم: تمام مسمریزم میں ان دونوں علاجوں کی نسبت یہ ایک بڑی خصوصیت ہے کہ یہ تمام امراض کا ایک ہی علاج بتلاتی ہے جسے روحانی طاقت کہتے ہیں۔ اسے امراض کے نام اور ان کی اقسام سے کوئی بحث نہیں۔ صرف اپنے جسم کی بجلی مریض کے جسم میں ڈال کر یہ علاج کیا جاتا ہے۔ اس لیے مسمریزم بلا شک ان طریقہ ہائے علاج سے بہت بہتر ہے۔ اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسمریزم کرنے والا یعنی عامل اپنی اچھا شکتی طاقت (خواہش) کے اثر سے سینکڑوں میں سے صرف دس مریض صحت یاب کر سکتا ہے۔ باقی تو اشخاص پہ اس کا۔
صفحہ ۵۷
۴۷ کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان حالتوں میں جبکہ مریض جلد ہی مسمریزم کرنے والے یعنی عامل کے بس میں ہو جاتا ہے تو اکثر مرض دور ہونے کے عجیب نتائج دکھائی پڑتے ہیں۔ کیونکہ اس سے جسم کا زہریلا مادہ بڑی مقدار میں جلدی سے مریض کے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔ طریقہ تشخیص میں وہ ایلوپیتھی اور ہومیوپیتھی سے یقینی طور پر بہتر ہے کیونکہ اس میں امراض کی مختلف اقسام اور ناموں کا بکھیڑا نہیں۔ اس لیے مختلف اقسام کی علوم روائیوں کی تلاش اور ان سے ہونے والی غلطیوں کے نتیجہ سے وہ آزاد ہے۔
قدیم قدرتی طریقہ علاج: اپنی عجیب کامیابیوں کے باعث دیگر طریقہ ہائے علاج سے بہتر ثابت ہو چکا ہے۔ قدرتی طور سے زندگی کی سرانجام دہی اور کئی طرح سے پانی کا استعمال بھی اس علاج کا مول منتر ہے۔ تمام امراض پر اس کے یہی عمل کام میں لائے جاتے ہیں۔ اور یہی طریقہ سب سے زیادہ قدرتی بھی ہے۔ اگرچہ ایلوپیتھی کو دیکھتے اتنی بہتری کو پہنچ چکی ہے تاہم وہ طریقہ تشخیص میں وہ۔
صفحہ ۵۸
۴۰ آزاد نہیں ہے۔ اس حساب سے یہ دو کشتیوں پر سوار ہے۔ کیونکہ مریض کی تشخیص کا مکمل اور یقینی طریقہ نہ جاننے کے باعث اسے اوزاروں کے ذریعہ تشخیص کرنے کے پر از وہم طریقوں کی مدد لینی پڑتی ہے۔ جو اس کے اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔ اتنا بڑھ چڑھ کر ہونے پر بھی اپنی پرانی بہنوں سے اس کا ساتھ نہیں چھوٹا ہے۔ ابھی تک اس کا موہ ان میں لگا ہوا ہے اس سے شک ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ یہ کہیں اسی جماعت میں نہ جائے۔
یہ خواہ کتنا ہی محفوظ طریقہ سے علاج ہو۔ مگر یہ آزاد اور دیگر علاجوں سے بے تعلق طریقہ علاج نہیں کہا جا سکتا۔ اگرچہ اس کے طریقہ علاج کو دیکھ کر مریض کی نجیوئی کے اصول کی طرف توجہ مبذول ہوتی ہے۔ مگر پھر بھی اسے اس کا صاف علم نہیں ہے۔ پرانے غلطی آمیز اور پر از نقایص طریقہ علاج سے جکڑے رہنے کے باعث اتنی ترقی کر لینے پر بھی یہ پرانی غلطیوں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے۔ ابھی تک امراض کے بڑے بڑے پر از او مبر سائنٹیفک ناموں کو مانتا ہے اور اس لیے علاج کا صرف ایک سچا عمل مرض کے مطابق یعنی غلط۔
صفحہ ۵۹
طریقہ سے کرتا ہے۔
طریقہ تشخیص کے ماتحت رہنے کے باعث اس قدرتی علاج کے بے شمار علاج کنندہ شک کی حالت میں اپنے مریضوں سے کہتے ہیں کہ جائے پہلے کسی اچھے ڈاکٹر سے مرض کی جانچ کرا لئیے۔ کہ آپ کو کیا مرض ہے تب ہم اس کا علاج کر دیں گے۔ ایسے علاج کنندہ مریض کے پاس آنے سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ دوبارہ انہیں تشخیص نہیں کرنی پڑتی۔
آج شکریہ ہے میرے اس نئے طریقہ علاج اور علم قیافہ شناسی کا۔ جس کے باعث ہم سب الجھنوں سے آزاد ہو گئے۔ ہم صرف ایک ہی مرض مانتے ہیں۔ ہاں شکلیں اس کی بے شمار ہوتی ہیں۔ مگر علت سب کی ایک ہی ہے۔ اور سب کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اور اسی اصول کے مطابق ان تمام دنیا کے علاج کنندوں دھوپ روشنی، ہوا اور قدرتی خوراک کے علاوہ اپنے علاج میں تم صرف پانی کا بہت آسان طریقے میں استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے نکالے ہوئے سرد عسلوں کی شکل میں اور ضرورت جان پڑنے پر بھاپ کی شکل میں اس حیرت انگیز آسان اور سادہ۔
صفحہ ۶۰
طریقہ علاج میں میرا علم قیافہ شناسی کی کامیابی کا یقین دلاتا اور وعدہ کرتا ہے۔ سب سے پہلے میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرے طریقہ علاج کا قدیم طریقہ علاج سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک بالکل ہی نئی چیز ہے اور اسی نظر سے دیکھنے پر اس کی پوری عظمت جان پڑے گی۔ اگر کوئی پرانے طریقوں سے اس کی ایک ایک بات لا کر سیکھنا چاہے تو وہ علم قیافہ شناسی کو عمل میں لا کر کبھی بھی نہ سیکھ سکے گا۔
موجودہ مروج طریقہ علاج مرض کے صاف طور پر ظاہر ہو جانے تک کوئی علاج نہیں کر سکتے۔ کیونکہ جب تک مریض کو خود اس کا علم نہ ہو جائے تب تک یہ اسے دیکھ کر جان ہی نہیں سکتے۔ علم قیافہ شناسی کی بدولت آج ہم ایسی اچھی حالت میں ہیں کہ یقینی طور پر بیماری کی طوالت اس کی دبی ہوئی حالت نیز اس کی ابتدائی حالت کو اچھی طرح جان سکتے ہیں۔ ہمیں مرض کے کامل طور پر بڑھ جانے تک، یہاں تک کہ وہ سب لوگوں کی نظروں میں آجائے، ٹھہرنا نہیں پڑتا۔ مرض کے لاعلاج ہو جانے تک ہمیں راہ نہیں دیکھنی پڑتی۔ اب ہماری ایسی حالت ہے کہ جب چاہیں صاف طور پر مرض کی حالت۔
صفحہ ۶۱
۵۱ کو جان سکتے ہیں۔ لہذا مریض کے خود محسوس کرنے سے بہت پہلے ہی یہ بات ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہم یہ خواہش کرتے ہی مرض کو دور کرنے کے لیے علاج شروع کر سکتے ہیں انتظاری میں وقت خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس کے سوا نہیں مریض کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہی کہ مرض کہاں ہے۔ مرض کی علامت کیا ہے۔ بلکہ خود ہی فوراً یقینی علامات سے انہیں پہچان سکتے ہیں۔ اپنے کام کے لیے ہمیں موجودہ مروج علاجوں کی طرح بہت قیمتی اوزاروں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تشخیص کے لیے ہماری آنکھیں ہی کافی ہیں۔ تشخیص کے لیے یہ اوزار ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔
اور یہ کہنا کوئی ناز کی بات نہیں ہوگی اگر انسان اس نئے علم کی کافی مشق کر لے تو اس کی آنکھیں اسے کبھی شک یا دھوکے میں نہیں پڑنے دیں گی۔ اس طرح سادہ اور آسان ہو جانے سے طریقہ تشخیص میں بڑی پر از عظمت ترقی ہوئی ہے۔ امراض مخصوصہ مستورات کی تشخیص کے لیے تو یہ بہت ہی قیمتی طریقہ ہے۔ اب ان امراض کے لیے مقامی تشخیص کی۔
صفحہ ۶۲
۵۲ کوئی ضرورت نہیں رہی۔ اب ہم کامل بلکہ یقینی طور پر پیٹرو کی اندرونی حالت کو مقامی طریقہ تشخیص سے جتنا ممکن ہے اس سے کہیں زیادہ اچھی طرح جان سکتے ہیں۔ کہنے کی ضرورت نہیں ان امراض میں مبتلا لڑکیوں اور مستورات کو طریقہ تشخیص میں کس قسم کی شرم و حیا کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب انہیں اس سے فراعت یا سنجات مل گئی ہے۔
یہاں شک کیا جا سکتا ہے کہ جب ہم ایک ہی مرض اور اس کا ایک ہی علاج مانتے ہیں تو تشخیص کرنا ہی بے فائدہ ہے۔ درست ہے ہمارے پاس کسی مریض کے جو اپنی مرض کا علم رکھتا ہے آنے پر ہمارا طریقہ تشخیص صرف مرض کا مقام بدل دیتا ہے۔ علم قیافہ شناسی کی زیادہ عظمت یا اہمیت اس بات میں ہے کہ ہم اس کی موت یقینی طور پر جسم کا مرض کی طرف جھکاؤ جان سکتے ہیں۔ اس لیے ہر ایک انسان جان سکتا ہے کہ اس کے جسم میں مرض کی ابتدا ہوئی ہے یا نہیں صرف ایک اسی بات سے ممکن ہے۔ ہم یقینی طور پر امراض کے حلوں سے بچ سکتے ہیں اور میرا طریقہ علاج اس علم کی کنجی ہے۔
صفحہ ۶۳
۵۳ علم قیافہ شناسی کی مدد سے ہم غیر تندرست جسم کی ہیئت کی چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی کو بھی فوراً جان سکتے ہیں۔ اور اس طرح تمام جسم نیز اس کے کسی عضو کی حالت کا یقینی طور پر علم حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ان تمام تبدیلیوں کی جسم کے ایک ہی حصہ یعنی معدے کی پیدائش سے ہوتی ہے۔
تندرست ہونے کا نیا اور آسان طریقہ: “
نیا علم شفا بخشی” نامی کتاب میں میں نے امراض کی یکسانیت کا مفصل طور پر ذکر کیا ہے۔ اس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ہر ایک مرض بخار ہے۔ خواہ وہی ہوئی حالت میں ہو یا ظاہر حالت میں اور اس بخار کے باعث جسم کی ہیئت میں تبدیلی ہوتی ہے۔ جنہیں ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔ اور اسی بات پر میرے علم قیافہ شناسی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
کوئی مہلک مرض نمودار ہونے سے پہلے کچھ عرصہ تک جسم میں دبا ہوا رہتا ہے۔ اس لیے یہ بات دھیان میں بھی نہیں آسکتی کہ مکمل تندرست انسان پر یکایک پیچش، ہیضہ، پیچش وغیرہ امراض ہوتے ہیں۔ ہمارے۔
صفحہ ۶۴
۵۴ الفاظ میں یوں کہیے کہ مرض تبھی ممکن ہے جب پہلے سے جسم میں زہریلا سرد ہوا مادہ بھرا ہو۔
مرض کی طرف ہونے والے جھکاؤ کا پہلے کچھ گمان کیا جاتا تھا۔ مگر پورا علم ناممکن تھا۔ آج یقینی طور پر ہر ایک حالت میں علم قیافہ شناسی کی مدد سے مرض کے جھکاؤ کو جان سکتے ہیں۔ مرض کی طرف جھکاؤ سے جسم کی ہیئت میں ہونے والی تبدیلی سے نتائج اخذ کرنا جو علم قیافہ شناسی کا کام ہے۔ اصول کی شکل میں بتلانا، ثابت کرنا اور سکھلانا ممکن نہیں ہے۔ مشق سے ہی اس کا علم ہو سکتا ہے۔
صفحہ ۶۵
غسل بذریعہ بھاپ: تندرستی کے لیے جگر کا اپنا کام مقررہ طور پر کرتے رہنا نہایت ضروری ہے۔ تندرستی کی حالت میں بغیر کسی دوسری مدد کے مثانہ اپنا کام کرتا بھی ہے۔ مگر مرض کی حالت میں مثانے سے اس کا کام کرانے کے لیے سب سے اچھا طریقہ غسل بذریعہ بھاپ ہے۔
بہت عرصہ تک مصنف کتاب ہذا ایک ایسا سیدھا سادہ کھٹولہ بنانے کی فکر میں رہا کہ جو زیادہ بیمار انسانوں کی حالت میں بھی ہر ایک خاندان میں کام آ سکے۔ آخر کار اس نے ایک ایسا کھٹولہ تیار کیا جسے۔
صفحہ ۶۶
۵۶ ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھا جا سکے۔ اسے کام میں لانے کے لیے کسی خاص ہنر کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس کے استعمال میں لانے کے لیے ایک بڑا کھیل کچھ برتن اور ایک ٹب کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ تمام جسم کو یا جسم کے کسی خاص عضو کو بھی بھاپ دے سکتے ہیں۔
تصویر کے مطابق کھٹولے کو پھیلا کر تین یا چار برتنوں میں چولہے پر پانی گرم کرنا چاہیے۔ پانی چھلکے نہیں اس لیے برتنوں کو کچھ خالی رکھنا چاہیے۔ چھوٹے بچوں کے لیے صرف ایک ہی برتن کافی ہوگا۔
پانی جوں ہی ابلنے لگے مریض کو ننگے ہو کر پہلے پیٹھ کے بل اس کھٹولے پر لیٹ جانا چاہیے۔ بعد ازاں اوپر سے ایک کمبل اس طرح ڈالنا چاہیے کہ اس کے مرے اچھے طرح لگ جائیں۔ جس سے بھاپ باہر نہ نکل سکے۔ سر بھی پہلے ڈھک لینا چاہیے۔ یہ ہو چکتے پر کپڑے کو آہستگی سے اٹھا کر ایک شخص کو کھولتے ہوئے پانی کا ایک برتن لیے ہوئے شخص کی پیٹھ کے نیچے رکھ دینا چاہیے۔ برتنوں پر ڈھکن ضرور ہونے چاہئیں۔ مرضی مطابق کم یا زیادہ گرم کرنے کے لیے ان کو کم یا زیادہ۔
صفحہ ۶۷
۵۷ کھول دینا چاہیے۔ کوئی دس منٹ ہو جانے پر بھاپ کم ہونے لگے گی۔ تب چولہے پر چڑھا ہوا تیسرا برتن اٹھا کر پیٹھ کے نیچے رکھ دینا چاہیے۔ اور پہلے برتن کو اٹھا کر دوبارہ آگ پر چڑھا دینا چاہیے۔ جب اس سے بھاپ دوبارہ اچھی طرح نکلنے لگے تب پاؤں کے نیچے والے برتن کو بھی بدل دینا چاہیے۔ کوئی دس پندرہ منٹ کے بعد مریض کو پیٹ کے بل لیٹنا چاہیے۔ جس میں پیٹ، پیٹرو اور چھاتی پر خوب بھاپ لگے۔ اگر اب تک پسینہ نہ نکلا ہوگا تو تب ضرور نکلے گا۔ اور پاؤں نیز سر دونوں میں ایک ہی ساتھ نکلنے لگے گا۔ جن کو پسینہ جلد نہیں آتا ان کا سر ڈھکا رہنا چاہیے۔ مگر جن کو جلد آتا ہے ان کے لیے سر ڈھکنا کوئی خاص ضروری بات نہیں ہے۔ تاہم پہلے تھوڑی دیر کے لیے اسے ضرور ڈھک لینا چاہیے۔
پسینہ کو پندرہ منٹ سے لے کر نصف گھنٹہ تک نکلنے دینا چاہیے۔ پسینہ نکل آنے پر برتنوں کو بدلنا یا نہ بدلنا مریض کی مرضی پر منحصر ہے۔ جسم کے جن حصوں میں زہریلے سڑے ہوئے مواد زیادہ مقدار میں جمع رہتے ہیں ان حصوں میں دیر سے پسینہ نکلتا ہے۔ مریض ایسے۔
صفحہ ۶۸
۵۸ حصوں پر خود دیر تک بھاپ کا زیادہ استعمال کرنا چاہے گا۔ اس کی یہ خواہش ضرور پوری ہونے دینی چاہیے۔ ایسا کرنے سے ہی غسل بھاپ کا پورا فائدہ ہوتا ہے۔
غسل بھاپ کے بعد جلدی ہی سرد پانی سے اشنان کر لینا چاہیے۔ اس کے بعد غسل پیٹ لینا چاہیے۔ پھر کھلی ہوا میں گھومنے جانا چاہیے۔ پسینہ آنے سے جسم کے اندر کسی قسم کا جوش نہیں ہوتا۔ صرف مثانہ میں گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے کسی کو غسل بھاپ کے بعد اشنان کر لینے سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ لوہے کو آگ میں خوب سرخ کرنے کے بعد ٹھنڈے پانی میں ڈبو کر تب پیٹنا شروع کرتے ہیں جس سے وہ نکتا ہو جائے۔ یہی حالت انسانی جسم کی بھی ہے۔
بہت زیادہ مریضوں یا چھوٹے بچوں کو غسل بھاپ لینا مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ اس غسل سے ان کے جسم میں زہریلا سڑا ہوا مادہ اتنا ڈھیلا یا نرم ہو جاتا ہے کہ ان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ اسے اتنی تیزی سے باہر نکال سکیں۔ ایسے مٹھیوں کو پیٹرو پر پٹی باندھنی چاہیے۔ اسے تیار کرنے کا مندرجہ ذیل طریقہ ہے:۔
ایک انگوچھے کو ٹھنڈے پانی میں بھگو کر اچھی طرح نچوڑ لینا چاہیے۔ بعد ازاں اسے سارے پیڑو پر رکھ دینا۔
صفحہ ۶۹
۵۹ چاہیے۔ تب خوب احتیاط اور مضبوطی سے ایک اون کپڑے سے ڈھک دینا چاہیے۔ جس میں اسے پسینہ آ جائے۔
۲۱۲ ڈگری فارن ہائٹ تک گرم کرنے کے بعد بھاپ پیدا ہوتی ہے۔ بھاپ کے بائلروں جیسی ہی بھائی ان برتنوں میں بھی پیدا ہوتی ہے۔ فرق صرف بھاپ کی مقدار میں ہوتا ہے جو ایک مرتبہ کے استعمال سے معلوم ہو جائے گا۔ یہ برتن اپنے کام کے لیے موزوں ہیں۔ مصنف کتاب ہذا نے ایک ایسا برتن بنایا۔ سپرٹ کی بتی سے گرم کیا جاتا ہے۔
غسل بذریعہ بھاپ کے لیے اگر کسی کو مندرجہ بالا قسم کے بینچ یا چار پائی وقت پر نہ مل سکے تو بید سے بنی ہوئی کرسی پر بیٹھ کر نیچے گرم پانی کا برتن رکھ دینا چاہیے اور پاؤں ایک دوسرے برتن پر جس میں کھولتا ہوا پانی نصف فاصلہ تک بھرا ہو دو لکڑیاں رکھ کر اس پر رکھنا چاہیے۔ بہت کمزور آدمیوں کو اس طرح غسل بھاپ لینے میں بہت تکلیف ہو سکتی ہے۔
صفحہ ۷۰
۶۰ غسل پیٹ: غسل پیٹ کے لیے اس ٹب میں جس کی تصویر اوپر درج کی گئی ہے اتنا پانی بھرنا چاہیے جس میں ایک طرف نان تک اور دوسری طرف جانگھ تک پہنچے۔ پانی ۲۴ سے ۷۵ ڈگری فارن ہائٹ کا لینا چاہیے۔ غسل بھاپ کے بعد ہر ڈگری سے زیادہ لیا جا سکتا ہے۔ اس سے مثانہ میں گرمی جلد آتی ہے۔ یہ بہت ضروری بات ہے کہ ہاتھ پاؤں نیز جسم کا بالائی حصہ باقی اعضا کے ساتھ ٹھنڈا نہ کیا جائے۔ کیونکہ اس میں زیادہ تر خون کی کمی ہوا کرتی ہے۔ اگر ضروری جان پڑے تو انہیں اونی کمبل سے ڈھک لینا چاہیے۔
غسل پیٹ کے بعد ہی جسم میں گرمی لانی چاہیے۔ جس۔
صفحہ ۷۱
۶۱ کے لیے سب سے بہتر یہ ہوگا کہ کسی کھلی ہوا میں ورزش کی جائے۔ اگر مرض بڑھتی ہوئی ہے تو بیمار کو احتیاط سے بہترے میں ڈھک کر گرمی لانی چاہیے۔ اگر گرمی دیر سے آتی جان پڑے تو جسم کے چاروں طرف اونی کپڑا لیا جا سکتا ہے۔ غسل لینے کے بعد جسم کی معمولی گرمی لوٹ آنے تک کچھ کھانا نہ چاہیے۔ ایک دن میں ایسے غسل پیٹ کے عوض غسل معدہ لینا نہایت فائدہ مند ہوگا۔ یہ زیادہ تر جلد اور زیادہ نتائج پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ اس سے آنتیں اور گروہ اپنا کام بڑی ہی پھرتی سے کرنے لگتے ہیں۔ اس میں ضرورت سے زیادہ جوش امید نہیں۔ ساتھ ہی اس کے جسم کے ان اندرونی حصوں میں جن میں بخار کی ایک دھدھک سی بنی رہتی ہے ٹھنڈک پہنچتی ہے۔ اس عمل کو لیتے وقت مریض کو سری نہیں ستاتی۔ کیونکہ جسم کا بہت ہی تھوڑا حصہ اس میں ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ بلکہ ایک گلابی گرمی جان پڑتی ہے۔
صفحہ ۷۲
۶۲ خاتمہ: جس انسان نے اپنا کھویا ہوا تندرستی کا قیمتی گوہر دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور پہلی بتلائی علامات کو دیکھ کر جو ہمیشہ اپنی مکمل تندرستی کا علم حاصل کر لیتا ہے وہی اس حاصل کردہ گوہر کی قیمت اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ جسمانی اور روحانی طاقت محنت کے لیے نہ تھکنے والی خواہش، طاقت اور جلال جنم بھر کے لیے اس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ زندگی پر لطف اور راحت پذیر ہو جاتی ہے۔
صفحہ ۷۳
برہم چریہ کی نادر بالکیف (مہاتما گاندھی):
یہ کتاب مہاتما گاندھی کے ۱۴ سالہ تجربات کا نچوڑ ہے۔ جو اردودان اصحاب کے لیے براہ راست انگریزی سے ترجمہ کر کے چھپوائی گئی ہے۔ اس مفید کتاب میں بتایا گیا ہے کہ برہمچریہ کیا ہے۔ برہمچریہ کی پابندی کرنے سے کیا کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ برہمچریہ کے سادھن، برہمچریہ کے اصلی معنی، برہمچریہ کی محدود صورت پر میر کے احساس وغیرہ وغیرہ اہم مضامین پر بڑی وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ مہاتما جی کے ان پریمیوں کے لیے جو اس قدر ضروری اور اہم مضمون پر مہاتما جی کے خیالات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں بہت ہی مفید کتاب ہے۔ نوجوانوں کو خاص طور پر اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ قیمت ملنے کابینہ: ۶۰۰۔
جنرل نیکو پبلشرز اندرون لوہاری گیٹ لاہور۔
صفحہ ۷۴
متعلقہ مہاتما گاندھی:
خوراک صحبت اس کتاب میں ہمیں کیسی خوراک کھانی چاہیے، قدرتی ورزش، برہمچریہ، نفسانی جذبات، صحت اور پوشاک، مرض اور اس کا علاج، علاج بذریعہ پانی، مٹی کے ذریعہ علاج، بخار اور اس کا علاج وغیرہ وغیرہ مضامین پر مہاتما جی نے اپنے تجربات کی بناء پر روشنی ڈالی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی صحت برقرار رہے، اگر آپ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کو کون سی خوراک کھانی چاہیے، خوراک کا جسم اور روح پر کیا اثر ہوتا ہے تو آپ کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس کتاب کا مطالعہ آپ کو بہت سی بیماریوں سے نجات دلائے گا۔ اس کتاب میں مندرجہ ہدایات پر عمل کرنے سے آپ کا گھر سورگ دھام بن سکتا ہے۔ قیمت: ۱۲۰۔ ملنے کا پتہ: جنرل بک ڈیپوٹ، اندرون لوہاری گیٹ، لاہور۔
صفحہ ۷۵
OUR SPECIALITY: All sorts of Urdu and Hindi Books Religious Social and Political suitable to all taste and published in any Part of India kept in stock for sale. Complete Price list sent free on application. Please Apply to:- GENERAL BOOK DEPOT, Inside Lohari Gate, LAHORE.


