پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

میو قوم اور میوات

میو قوم اور میوات
چوہدری محمد اشرف خاں، ایم۔ اے
ری کمپوزنگ و ڈیجیٹل ایڈیشن
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان // سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طب نبوی
26 کلومیٹر فیروز پور روڈ، لاہور، پاکستان

زیرِ نظر کتاب “میو قوم اور میوات” چوہدری محمد اشرف خاں ایم۔ اے۔ کی علمی و تحقیقی کاوش ہے، جو اگست 1968ء میں مکمل کی گئی۔ یہ کتاب میو قوم کی تاریخ، اس کے جغرافیائی پس منظر، سماجی تنظیم، قبولِ اسلام کے حالات اور برصغیر کی مختلف تاریخی حکومتوں کے زمانے میں اس قوم کے کردار پر ایک مستند حوالہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
مصنف نے اس کتاب کی تالیف میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹوں، شاہی گزٹیئروں، راجستھان کے سالانہ بیانات (ٹاڈ)، ہریانہ ریسرچ جرنل اور دیگر درجنوں مستند مآخذ سے استفادہ کیا، تاکہ میو قوم کے بارے میں پھیلائے گئے غلط اور بے بنیاد نظریات کی تردید کی جا سکے اور آئندہ نسلوں کے سامنے صحیح تاریخی حقائق پیش کیے جا سکیں۔
یہ کتاب میو قوم کے لیے ایک اہم تاریخی سند کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ شاہی مؤرخین نے عموماً اس قوم کا تذکرہ تعصب اور نامکمل معلومات کی بنیاد پر کیا۔ چوہدری محمد اشرف خاں نے برسوں کی محنت اور وسیع مطالعے سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی۔
اس نادر علمی سرمائے کو موجودہ دور کے قارئین تک پہنچانے کے لیے حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو نے اس کی ری کمپوزنگ اور ڈیجیٹل ایڈیشن تیار کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ حکیم صاحب ایک روایتی طبیبِ یونانی و دیسی طب کے ماہر اور عالم ہیں، جنہوں نے سعد ورچوئل سکلز پاکستان اور سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طب نبوی کے پلیٹ فارم سے علمِ طب، تاریخ اور میواتی ثقافت و زبان کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔


سعد ورچوئل سکلز پاکستان اسلامیات، طبِ نبوی، قانونِ مفرد اعضاء، عملیات، عربی ادب اور میواتی زبان و تاریخ کے موضوعات پر کتابوں کی اشاعت، ترجمہ اور ری کمپوزنگ میں مصروفِ عمل ہے، تاکہ قدیم علمی ورثہ محفوظ رہے اور نئی نسل تک منتقل ہو سکے۔ زیرِ نظر ایڈیشن میں اصل متن کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق نئی کتابی ترتیب دی گئی ہے۔
یہ سلسلہ دس سال سے زائد عرصہ سے جاری ہے۔بحمد اللہ ادارہ کی طرف سے دو صد کے قریب کتب ڈیجیٹل فارمٹنگ میں شائع کی جاچکی ہیں۔۔ادارہ مختلف جہات سے اپنی خدمات پش کررہا ہے،کتب کی اشاعت کے ساتھ ساتھ ،تعلیمی میدان میں طب کی آن لائن کلاسز،ڈیجیٹل سکلز بالخصوص اے آئی کی تربیت میں اپنا ریکارڈ رکھتا ہے۔
تیزی سے بدلتی دنیا اور عالمی رجحانات کے تناظر میں میو قوم اور میوات کی تاریخ،تہذیب و تمدن کو ڈیجیٹل فارمٹنگ میں پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کئی ایک سوفٹ وئیر بنائے گئے،پروگرام ترتیب دئے گئے۔ان میں دو سوفٹ وئیر بہت اہمیت کے حامل ہیں،ان کا ہلکا سا تعارف افادہ عامہ کے لئے پیش خدمت ہے۔


(1)سعد میواتی لغت۔


اس سوفٹ وئیر کو اوپن سورس کردیا گیا ہے،اس کی خاصیت یہ ہے کہ میواتی لغت کا ذخیرہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے،یعنی یہ آن لائن کام کرتا ہے،اس میں سہولت کے کہ کسی بھی لفظ کو آپ لکھ کر یا بول کر ڈیٹا میں شامل کرسکتے ہیں،یعنی اپنے فون میں اسے اوپن کریں،مرضی کا لفظ بولیں ،یہ اسے محفوظ کرکے میں سرور کو بھیجے گا،سیو کرکے اسے کتاب کا حصہ بنادے گا،میواتی سے اردو ہندی انگریزی فارسی جیسے دسیوں زبانوں میں الفاظ کا ترجمہ شامل کردےگا۔،اس کا PDFبنایا جاسکتاہے،اسے ورڈ کی فام(ٹیکسٹ) میں کاپی کیا جاسکاتا ہے،اسے شئیر کیا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر شئیر کیا جاسکتا ہے۔
دوسری خاصیت یہ ہے کہ دوسری زبانوں کی مستند ترین کتب کو اس کے شامل کیا گیا ہے۔مثلا آپ ایک میواتی لفظ لکھتے ہیں یا تلاش کرتے ہیں،پھر اس کا ترجمہ،عربی فارسی انگریزی وغیرہ کسی بھی زبان میں دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ آئی کو ن بناہوا ہے،کلک کریں،اصل کتاب سامنے آجائے گی،انٹرنیٹ پر کھل جائے گی۔
یہ پہلی کاوش ہے کہ میواتی زبان کو انٹر نیشل سطح پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔میواتی زبان میں کوئی کتاب اس وقت لغتکے حوالے سے شاید مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔یہ سوفٹ وئیر کسی ایک انسان کی فکری کاوش کا نتیجہ نہیں ہوگی۔بلکہ کوئی بھی انسان کہیں بھی بیٹھ کر اس میں الفاظ کا اندراج کرسے کا۔ایک لفظ دوبار درج نہ ہوگا۔۔اگر کہین کوئی لفظ غلط درج ہوا،یا غلطی سے کوئی بے معنی لفظ آیا تو اس کی تصحیح کی جاسکے گی یعنی اسے ٹھیک کرنے کی آپشن موجود ہے،آسانی کے ساتھ رپلیس کیا جاسکے گا۔اگر کوئی اسے کتابی شکل میں طبع کرانے کا ارادہ کرے تو کتاب شکل میں پرنٹ لیا جاسکے گا۔یہ کوئی حرف آخر نہیں بلکہ ابتداء ہے جب یہ مارکیٹ میں آجائے گا تو بہت سے بہتر آئیڈیاز سامنے آئیں گے،میو قوم میں مشاورت کے ساتھ اس قسم کی اور بھی پروجیکٹ کئے جاسکیں گے۔ مزید بہتری لائی جاسکے گی۔ ممکن ہے سعد ورچوئل سکلز پاکستان کا یہ آئیڈیا قبولیت عامہ اختیار کرلے اور میوقوم کے ہونہار تعلیم یافتہ نوجوان اور تجرجہ کار لوگ اس پر بہتر کام کرسکیں ،یا اس سے کوئی بہتر آئیڈیاز پے کام کیا جاسکے۔


(2) سعد میواتی ٹرانسلیٹر۔


اس سوفٹ وئیر میں یہ خاصیت رکھی گئی ہے۔کسی بھی زبان کی کتاب کو اس میں اپ لوڈ کرکے میواتی زبان میں ڈھالا جاسکتا ہے،یعنی ایک اردو،عربی فارسی،انگریزی،ہندی کسی بھی زبان کی ریڈ ایبل کتاب اس میں آپ لوڈ کردی جائے،تو ایک ونڈو میں اصل کتاب یعنی اصل ڈیٹا دکھائی دے گا،جبکہ دوسری ونڈو میں میواتی ترجمہ ٹیسکٹ کی شکل میں سامنے کھلے گا۔یعنی اصل متن اور ترجمہ کو متوازی ونڈوز میں ایک ساتھ دیکنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اس سوفٹ وئیر کا مقصد یہ ہے کہ میواتی زبان مین بین الاقوامی ادب کو ڈھالا جاسکے،میواتی زبان قلم و ادب کے لحاظ سے کم مائیگی کا شکار ہے،اصل میواتی میں کم مواد موجود ہے،جو کچھ میو قوم کے لکھاریوں نے لکھا وہ اردو یا انگریزی میں لکھا۔لیکن میواتی میں چند کتب دستیاب ہیں۔اس لئے کسی بھی بڑی زبان کے لئے ادبی ذخیرہ کا موجود ہونا انتہائی لازم ہے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ کوئی بھی چیز خرف آخر نہیں ہوتی اصلاح کی گنجائش ہر آن و ہر لمحہ موجود رہتی ہے،یہ نظام کائنات ہے،ہرپل کائنات میں تغیر و تبدل جاری رہتا ہے۔زبانین بھی حالات کے ساتھ تغیرات کا شکا ر ہوتی رہتی ہیں ،زبانوں کے الفاظ مرتے اور نئے جنم لیتے رہتے ہیں۔میواتی زبان بھی اس سے مستثنی نہیں ہے۔
میواتی زبان میں ہر وہ خوبی موجود ہے جو کسی زبان کی ضرورت ہوتی ہے،گوکہ میواتی ادب کے لئے بہت کچھ کرنا باقی ہے میو قوم کو من حیث القوم اس طرف متوجہ ہونا پڑے گا۔۔میو قوم میں ذہین ترین لوگ موجود ہیں قابلیت و صلاحیت کی دولت قدرت نے ودیعت کی ہوئی ہے،ضرورت اس بات کی ہے کچھ لوگ اس طرف متوجہ ہوں،یہ ہر زبان کی خدمت گزاروں کا ایک گروہ موجود رہا ہے،اگر میواتی زبان کو بھی ایسے باصلاحیت لوگ مل جائیں تو میواتی زبان کو بین الاقوامی زبانوں کی صف میں کھڑا کرنا مشکل کام نہیں ہے۔
قیام پاکستان سے لیکر اب تک میو قوم نے مختلف جہات پر کام کیا،اپنی بقا کی جنگ لڑی۔اسے بحیثیت قوم تسلیم کرایا،میواتی کو بطور زبان شامل کرایا ،مختلف فورمز پر اس ی حیثیت کو منوایا،لیکن ایک قوم اور ایک بولی کو جتنا کام کرنا چاہئے،جنتا مواد درکار ہوتا ہے موجود نہیں ہے۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]