
جنگ میں شرکت کا اول تا آخر مکمل خلاصۃ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۸۵۷ء کی پہلی جنگِ آزادی میں خطہ میوات اور میو قوم کی شرکت برصغیر کی تاریخ کا ایک بے مثال اور سرفروشانہ باب ہے
۔ میواتی عوام نے برطانوی استعمار کے خلاف کسی باقاعدہ نظام یا شاہی فوج کے بغیر، اپنے محدود وسائل اور سنبھاالے گئے کسان لشکروں (دھار) کے بل بوتے پر ہمہ گیر عوامی جنگ لڑی
۔ ذیل میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں میواتی قوم کی شرکت کا اول تا آخر مکمل تاریخی خلاصہ پیش ہے:
۱. پس منظر اور جنگ کے بنیادی اسباب
معاشی استحصال و ستم ظریفی: ۱۸۰۳ء میں برطانوی تسلط کے بعد میوات میں شدید اور ظالمانہ زمینی ٹیکس (لگان) نافذ کیا گیا، جس سے کاشتکار سخت بدحالی کا شکار ہوئے
۔
نواب شمس الدین خان کی پھانسی (۱۸۳۵ء): فیروز پور جھرکہ کے نواب شمس الدین خان اور ان کے میو ساتھی کریم خان کو برطانوی ایجنٹ ولیم فریزر کے قتل کے الزام میں ۱۸۳۵ء میں پھانسی دی گئی اور ان کی ریاست ضبط کر لی گئی، جس سے میواتیوں کے دلوں میں انگریزوں کے خلاف شدید غصہ پھیلا
۔
نگینہ کا واقعہ (۱۸۵۴ء): نومبر ۱۸۵۴ء میں انگریز افسروں کے نگینہ علاقے سے میو چودھریوں کو زبردستی گرفتار کر کے دہلی لے جانے کے واقعے نے بارود میں فلیتہ لگانے کا کام کیا
۔
۲. بغاوت کا آغاز اور گڑگاؤں سے انگریزی راج کا خاتمہ (مئی ۱۸۵۷ء)
دہلی و میرٹھ کی چنگاری: ۱۰ مئی ۱۸۵۷ء کو میرٹھ اور ۱۱ مئی کو دہلی میں انقلاب کے بعد ۱۳ مئی ۱۸۵۷ء کو آزادی کی لہر میوات پہنچ گئی
۔
گوڑگاؤں پر حملہ: ۱۳ مئی کو میواتی مجاہدین نے گوڑگاؤں چھاؤنی پر زبردست دھاوا بول دیا
۔ انگریز ڈپٹی کمشنر ولیم فورڈ مقابلہ نہ کر سکا اور بھونڈسی و پلول کے راستے بھاگ نکلا
۔
خزانے پر قبضہ اور بادشاہ کی بیعت: مجاہدین نے ۷,۸۴,۰۰۰ روپے کا سرکاری خزانہ اور اسلحہ خانہ اپنے قبضے میں لے کر رقم فوراً مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو دہلی بھیج دی
۔
عوامی راج کا قیام: مئی کے آخری ہفتے تک پورے میوات سے برطانوی تسلط کے تمام نشانات مٹا دیے گئے اور میواتیوں نے انتظامیہ اپنے ہاتھ میں لے کر خود لگان جمع کر کے دہلی بھیجنا شروع کر دیا
۔
۳. قوم کا اتحاد، مہا پنچایت اور انقلابی قیادت
میواتی مہا پنچایت (۲۰ مئی ۱۸۵۷ء): ۲۰ مئی ۱۸۵۷ء کو پنہانہ، پنگواں، ہتھین، نگینہ، نوح، فیروز پور جھرکہ، روپڑا کا، کاما اور الور کے چودھریوں نے تاریخی مہا پنچایت بلائی اور بہادر شاہ ظفر کو ہندوستان کا واحد تاجدار اور اپنا قائد تسلیم کیا
۔
اہم میواتی رہنما:
صدر الدین میواتی (شرف الدین): موضع پنگواں کے کسان رہنما، جو پورے میوات کے متفقہ جنگی سالار بن کر ابھرے
۔
علی حسن خان میواتی: نوح، گھاسیڑہ اور رائے سینا کے انقلابی محاذ کے سالار
۔
سعادت خان میواتی: فیروز پور جھرکہ، دوہا اور راولی کے محاذ کے قد آور رہنما
۔
مولانا مہراب خان میواتی: مذہبی رہنما، جنہوں نے دیہاتوں میں گھوم کر جہاد کی ترغیب دی اور مجاہدین کو منظم کیا
۔
چودھری ناہر خان میواتی: نوح کے سرفروش رہنما
۔
۴. میوات کے عظیم تاریخی معرکے (جون تا نومبر ۱۸۵۷ء)
۱۸۵۷ء کے دوران میواتی مجاہدین نے برطانوی افواج اور ان کی اتحادی ریاستوں (جے پور، الور، بھرت پور) کے خلاف پے در پے معرکے لڑے:
معرکۂ سوہنہ و تاوڑو (جون ۱۸۵۷ء): جون ۱۸۵۷ء میں جے پور کا پولیٹیکل ایجنٹ میجر ایڈن ۶,۰۰۰ فوج اور ۷ توپوں کے ساتھ دہلی کی مدد کے لیے میوات پہنچا
۔ مولانا مہراب خان اور میواتی مجاہدین نے سوہنہ اور تاوڑو کے درمیان ایڈن کے لشکر پر گوریلا حملے کر کے اس کی فوج کا نظم و ضبط توڑ دیا، جس کے بعد ایڈن کی فوج میں بغاوت ہو گئی اور وہ جان بچا کر جے پور بھاگ گیا
۔
معرکۂ رائے سینا: دہلی پر انگریزی قبضے (۲۰ ستمبر) کے بعد انگریزوں نے میوات کی سرکوبی کے لیے بریگیڈیئر جنرل شاورز اور اسسٹنٹ کلکٹر کلیفورڈ کو بھیجا
۔ رائے سینا میں میواتیوں نے شدید مقابلہ کرتے ہوئے انگریز افسر کلیفورڈ سمیت ۶۰ برطانوی فوجیوں کو ہلاک کر دیا
۔
معرکۂ گھاسیڑہ (۱۸-۱۹ نومبر ۱۸۵۷ء): کماؤں بٹالین اور ٹوہانہ ہارسز کی بھاری فوج نے گھاسیڑہ پر حملہ کیا
۔ علی حسن خان میواتی کی قیادت میں ۵۰۰ مجاہدین نے کماؤں بٹالین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جس میں ۱۵0 سے ۱۶۰ میواتی شہید ہوئے
۔
معرکۂ روپڑا کا (۱۹ نومبر ۱۸۵۷ء): کپتان ڈرمنڈ کے تحت انگریزی فوج نے ۳,۵۰۰ میواتی مجاہدین کا محاصرہ کیا
۔ صدر الدین میواتی اور میواتی سرفروشوں نے روپڑا کا کے مقام پر زبردست جنگ لڑی
۔ اس خونریز معرکے میں ۳۵۰ سے ۴۰۰ میواتی مجاہدین شہید ہوئے اور ڈرمنڈ نے انتقاماً روپڑا کا، پچانکہ، گوہ پور، کوٹ، اتاوڑ اور کھلوکا سمیت ۱۲ دیہات نذرِ آتش کر دیے
۔
معرکۂ پنگواں و مہوں (۲۷-۲۹ نومبر ۱۸۵۷ء): روپڑا کا کے بعد صدر الدین نے پنگواں اور پھر مہوں گاؤں کی پہاڑی پر مورچہ لگایا
۔ کیپٹن رامزے اور جوائنٹ مجسٹریٹ میکفرسن کی گورکھا رجمنٹ نے تین طرف سے حملہ کر کے گاؤں کو آگ لگا دی
۔ اس معرکے میں صدر الدین کے فرزند سمیت ۲۸ مجاہدین اور مضافات کے ۴۲ افراد شہید ہوئے
۔
معرکۂ نوح: نوح میں چودھری ناہر خان میواتی کی قیادت میں مجاہدین نے انگریز افسر میکفرسن کی فوجی ٹکڑی پر حملہ کر کے میکفرسن کو ہلاک کر دیا
۔
۵. برطانوی انتقامی کارروائیاں اور نتائج
نومبر ۱۸۵۷ء کے اختتام تک انگریزوں نے جدید ہتھیاروں اور پنجاب و راجپوتانہ کی ریاستوں کی فوجی امداد کے ذریعے میوات کے قیامِ امن پر قابو پایا
۔ اس کے بعد انگریزوں نے اندھا دھند انتقامی مظالم ڈھائے:
دیہاتوں کا جلاؤ گھیراؤ: میوات کے ۶۰ سے ۷۰ دیہات بے دردی سے جلا کر راکھ کے ڈھیر بنا دیے گئے
۔
اجتماعی پھانسیاں:
نوح: نوح میں پرانے بس اڈے کے پاس برگد کے درخت سے لٹکا کر ۵۲ میواتی چودھریوں کو پھانسی دی گئی
۔
فیروز پور جھرکہ و گہلاب: فیروز پور جھرکہ میں املی کے درخت سے ۱۴ (یا ۴۲) مجاہدین کو پھانسی دی گئی اور گہلاب میں ۱۸ افراد کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا
۔
دہلی: ۱۰۲ سے زائد میواتی مجاہدین کو گرفتار کر کے دہلی بھیجا گیا جہاں انہیں پھانسی دی گئی
۔
اراضی کی ضبطی: رائے سینا، دوہا، نوح، محمد پور اور ناہڑ کی تمام زمینیں اور بسویداری حقوق ضبط کر کے انگریز کے وفاداروں میں بطور انعام تقسیم کر دیے گئے
۔
معاشی و تعلیمی بائیکاٹ: برطانوی حکومت نے میواتیوں پر سخت تعلیمی و معاشی پابندیاں عائد کر دیں، کوئی سرکاری سکول قائم نہیں ہونے دیا اور بعد میں میو قوم کو قانوناً “مجرم قبیلہ (Criminal Tribes Act)” قرار دے کر دہائیوں تک پسماندہ رکھا گیا


