
کتاب ’’طلسمی حکیم‘‘ پر جامع اور تفصیلی تبصرہ
(نوٹ۔”۔۔یہ کتاب اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت جامع ہے۔حکماء کے مزاج کے عین مطابق ہے۔اس کا نسخہ پی ڈی ایف۔میں تھا ۔جسے کمپوز کرکے بہترین ایڈیٹنگ کی گئی ہے۔طلب کرنے پر دستیاب ہوسکتی ہے)
کتاب کا تعارف اور بنیادی نظریہ
’’طلسمی حکیم‘‘
قدیم فنِ طب و حکمت کا ایک بے نظیر اور نادر شاہکار ہے، جس کے اصل مؤلف حکیم شوکت علی ہیں۔ اس کتاب کا بنیادی فلسفہ اور مرکز و محور طبِ قدیم کا وہ منفرد اور محیر العقول طریقِ علاج ہے جسے مصنف نے عام فہم اصطلاح میں ’’توڑوں گھٹنا پھوٹے آنکھ‘‘ یا ’’علاج بے دوا‘‘ (بیرونی تدابیر سے اندرونی امراض کا ازالہ) سے تعبیر کیا ہے۔
اس فلسفے کے تحت مریض کو تلخ اور بدمزہ ادویات کھلانے یا پلانے کی زحمت نہیں دی جاتی، بلکہ جسم کے دور دراز اعضاء پر مخصوص اعمال کے ذریعے اصل مرض کو دور کیا جاتا ہے؛ مثلاً:
● بیماری سر یا دماغ میں ہو تو دوا پاؤں کے تلووں پر لگانا۔
● آنکھ یا دانت کے عارضے میں مخالف جانب کے کان یا ناک میں دوا ڈالنا۔
● سینے، دل، یا معدہ کے امراض میں مخصوص تدابیر، سنگھانے، لیپ، پاشویہ یا بخور (دھونی) سے فوری شفا پانا۔
کتاب کی اہمیت و افادیت
● نازک مزاج مریضوں کے لیے نعمت: بچے، بوڑھے، خواتین اور وہ رؤساء و امراء جو کڑوی اور بدمزہ ادویات نگلنے سے گھبراتے ہیں یا جن کا معدہ دوائیں قبول نہیں کرتا، ان کے لیے یہ بیرونی تدابیر تریاق کا درجہ رکھتی ہیں۔
● جامعیت اور ابواب بندی:
کتاب میں سر سے لے کر پاؤں تک انسانی جسم کے تمام بڑے امراض کو 15 تفصیلی فصلوں میں تقسیم کیا گیا ہے؛ جن میں امراضِ سر و دماغ، چشم، گوش، ناک، دہن و دنداں، سینہ و پھیپھڑے، قلب، معدہ و امعاء، جگر و طحال، گردہ و مثانہ، امراضِ مردانہ، زنانہ، حمیات (بخار و وبائی امراض)، جلدی امراض اور متفرق جسمانی و جوڑوں کے درد شامل ہیں۔
● سریع الاثر اور آزمودہ نسخہ جات: کتاب میں موجود نسخے صدیوں کے اطباء، یونانی حکماء اور ویدک تجربات کے نچوڑ پر مشتمل ہیں جو کم خرچ، فوری اور بے ضرر ہیں۔
حکماء اور اطباء کو اس کی ضرورت
موجودہ دور کے معالجین اور حکماء کے لیے یہ کتاب ایک بیش قیمت رہنما ہے:
● متبادل معالجاتی راہیں:
بعض اوقات مطب میں ایسے پیچیدہ یا انتہائی نازک مریض آ جاتے ہیں جنہیں منہ کے راستے دوا دینا خطرے سے خالی نہیں ہوتا (جیسے بے ہوشی، غشی، سکتہ، ہیضہ کی قے، یا شدید تشنج)۔ ایسے ہنگامی حالات میں اس کتاب میں درج سعوط (ناک میں ڈالنا)، قطور (کان میں ٹپکانا)، شموم (سونگھانا)، ضماد (لیپ)، اور پاشویہ (پاؤں دھونا) جیسے فوری اعمال مریض کی جان بچانے میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔
● حکمتِ قدیم کے رازوں سے آگاہی:
یہ کتاب ایک طبیب کی نگاہ کو وسعت دیتی ہے کہ کس طرح اعصاب، عروق اور جسم کے اعضاء آپس میں جڑے ہیں اور بیرونی تحریک سے اندرونی امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
مترجم / مرتب اور سعد ورچوئل سکلز کی کاوش

● کمیاب علمی ورثے کا احیاء: طب کے اس نایاب اور گمنام نسخے کو امتدادِ زمانہ سے بچا کر دوبارہ جدید ترین کمپیوٹرائزڈ کمپوزنگ اور معیاری انداز میں پیش کرنا سعد ورچوئل سکلز پاکستان اور سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طب نبوی کا ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے۔
● حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی سرپرستی:
قاری محمد یونس شاہد میو صاحب نے جس خلوص اور عرق ریزی سے اس قدیم علمی سرمائے کی تصحیح و اشاعت کی نگرانی فرمائی، وہ لائقِ صد تحسین ہے۔
● افادۂ عامہ کے لیے وقف: ادارے نے اپنے ہونہار فرزند مرحوم سعد یونس کے ایصالِ ثواب اور یومِ تاسیس کی مناسبت سے اس بیش قیمت کتاب کو بغیر کسی تجارتی قدغن کے تمام حکماء اور عوام الناس کے لیے آن لائن بلا معاوضہ دستیاب کیا، جو ان کے اخلاص اور خدمتِ خلق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خلاصہ:
’’طلسمی حکیم‘‘ نہ صرف روایتی طب کے اعجاز اور فطری قوتوں کا آئینہ دار مجموعہ ہے بلکہ ہر مطب اور ہر حکیم کے کتب خانے کی ایک ناگزیر اور لازمی ضرورت ہے۔
