(طبائع الاستبداد ومصارع الاستعباد)

استبداد کی نوعیت اور غلامی کا زوال»
(طبائع الاستبداد ومصارع الاستعباد)
کتاب کا تفصیلی و فکری جائزہ
کتاب: «استبداد کی نوعیت اور غلامی کا زوال» (طبائع الاستبداد ومصارع الاستعباد)
مصنف: علامہ عبد الرحمن الکوکبی رحمہ اللہ (1855ء – 1902ء)
تبصرہ نگار: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
منجانب: سعد ورچوئل سکلز پاکستان
(اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کتاب جس دن سے لکھی گئی ہے ۔اسی دن سے اس کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر ،لوگوں کے مطالعہ میں شامل ہوگئی ہے۔دنیا بھر میں ظلم و ستم کی جو مختلف شکلیں رائج ہین ۔حتی کہ مسلمانوں مین جو مذہب اور دیگر احترامی خول مین تقدسات پائے جاتے ہیں ،اور مقدس راہ سے کیسے حقوق غصب کئے جاتے ہیں وہ سب کچھ اس مین مطالعہ کے لئے ملے گا)
1. پس منظر اور کتاب کا تعارف
یہ دستاویز عالم اسلام کے نامور مفکر، صحافی اور مجاہدِ آزادی علامہ عبد الرحمن الکوکبی کی شہرۂ آفاق کتاب کا اردو ترجمہ اور تعارف پیش کرتی ہے۔ الکوکبی نے عثمانی دور کے اواخر میں صحافت، عدلیہ اور سماجی خدمات کے ذریعے عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کی اور استبداد کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنے کی پاداش میں جلاوطنی اور بالآخر قاہرہ میں زہر کے ذریعے شہادت پائی۔
مصنف نے 30 سالہ مسلسل تحقیق، تدبر اور عملی مشاہدے کے بعد یہ قطعی نتیجہ اخذ کیا کہ مسلم اور مشرقی اقوام کے زوال، فکری انتشار، اخلاقی تنزلی اور غربت کی بنیادی وجہ “سیاسی استبداد” ہے۔ جب تک استبداد کا قلع قمع نہیں کیا جاتا، تعلیم، اخلاق اور معیشت کی کوئی بھی اصلاح مستقل اور بارآور نہیں ہو سکتی۔
2۔ استبدادی نظام کے کلیدی کردار اور ساخت
الکوکبی نے کتاب میں بڑی باریک بینی سے ان عناصر اور طبقات کو بے نقاب کیا ہے جو استبداد کو جنم دیتے ہیں اور اسے قائم رکھتے ہیں:
الف: مستبد و ظالم حکمران
1ظالم حکمران حقیقت میں ایک شدید بزدل، شکی اور خوفزدہ انسان ہوتا ہے جو عوام کی طاقت کو خود عوام ہی کو کچلنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
وہ اپنے اختیارات کو کسی قانون، آئین یا عوامی احتساب کا پابند نہیں سمجھتا۔
3وہ اپنے باطن کے خوف اور کمزوری کو چھپانے کے لیے شاہانہ نمود و نمائش، محلات کے طمطراق، تقریبات اور اسراف کا سہارا لیتا ہے تاکہ عوام پر ہیبت طاری رہے۔
وہ خوددار، باضمیر اور آزاد خیال مصلحین سے خوف کھاتا ہے اور صرف چاپلوسوں اور نااہلوں کو اپنے قریب کرتا ہے۔
ب: درباری و مفاد پرست مذہبی طبقہ
الکوکبی کے نزدیک سیاسی استبداد کا سب سے بڑا مددگار اور جڑواں بھائی “مذہبی استبداد” ہے۔
اسلام کی اصل روح توحید، عدل، حریتِ فکر اور باہمی مشاورت (شوریٰ) پر مبنی ہے، مگر آمر اپنے مظالم کو تقدس کا لبادہ اوڑھانے کے لیے درباری مولویوں اور پیروں کا سہارا لیتا ہے۔
یہ طبقہ نصوص کی تحریف کر کے عوام کو یہ باور کراتا ہے کہ غربت، ظلم اور رسوائی تقدیر الٰہی کا اٹل فیصلہ ہیں، جن کے سامنے سر جھکانا اور خاموش رہنا ہی بندگی ہے۔ وہ حکمران کے احتساب کو “فتنہ” قرار دیتے ہیں، حالانکہ اسلام میں ظالم کے سامنے حق کہنا افضل ترین جہاد ہے۔
ج: خوشامدی اشرافیہ اور تمغہ بردار (المتمجدین)
مصنف نے ظالم کے حواریوں، چاپلوس وزراء اور ریاستی مراعات یافتہ طبقے کو “تسبیح کرنے والے” کہا ہے۔
یہ وہ بے ضمیر لوگ ہوتے ہیں جن کی اپنی کوئی اخلاقی قدر نہیں ہوتی؛ وہ حاکم کی خوشنودی کے بدلے القابات، جاگیریں اور ناجائز مراعات سمیٹتے ہیں۔
یہ طبقہ آمر کی آنکھیں، کان اور ہاتھ بن کر عوام کی گردنوں کو دباتا ہے اور قومی خزانے کو شیرِ مادر سمجھ کر لوٹتا ہے۔
د: منظم عسکری طاقت کا استبدادی کردار
الکوکبی واضح کرتے ہیں کہ جب افواج کا کام بیرونی خطرات سے سرحدوں کی حفاظت کے بجائے اندرونی سیاست، سویلین امور اور عوام کو قابو میں رکھنا بن جائے تو وہ انسانیت کے لیے مصیبت بن جاتی ہیں۔
یہ نظام معاشرے میں درندگی، اندھی اطاعت اور بے لاگ خوف پھیلا کر قوم کی تخلیقی اور حریت پسندانہ قوت کو کچل دیتا ہے۔
ہ: محکوم و قیدی عوام کی نفسیات
الکوکبی عوام کے زوال کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں کہ طویل غلامی عوام کے اخلاق کو مسخ کر دیتی ہے۔ وہ بھیڑیے کے خوف سے سمٹی ہوئی بھیڑوں کی طرح ہو جاتے ہیں۔
وہ اپنے حقوق کو چھیننے کے بجائے التجا اور خیرات کے طور پر مانگتے ہیں۔ خوف کی وجہ سے وہ منافقت، جھوٹ اور افیونی بے

حسی کو اپنی بقا کا قانون بنا لیتے ہیں۔
،3 استبداد کے مختلف شعبہ ہائے زندگی پر اثرات
علم پر اثر: ظالم حکمران صرف ان علوم کی اجازت دیتا ہے جو بے ضرر ہوں؛ وہ فلسفہ، سیاسیات، شہری حقوق اور تاریخ جیسے علوم سے کانپتا ہے جو ذہنوں کو کشادہ کرتے ہیں۔
مال و معیشت پر اثر: استبداد میں چند فیصد اشرافیہ قومی دولت اور وسائل پر قابض ہو جاتی ہے، محنت کشوں کا خون نچوڑا جاتا ہے، اور عام آدمی کو دو وقت کی روٹی میں اس لیے الجھایا جاتا ہے تاکہ اسے حقوق کی آواز اٹھانے کی مہلت نہ ملے۔
تربیت اور نسلِ نو پر اثر: استبدادی ماحول میں پیدا ہونے والے بچے خوف، جھوٹ اور محرومی کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں، جس سے نسلیں بے سمت اور احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتی ہیں۔
،4 پاکستان کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں افادیت
الکوکبی کا یہ فکری تجزیہ آج کے پاکستان کے تمام بحرانوں کے حل اور فہم کے لیے ایک شفاف آئینے کی مانند ہے:
- آئینی ڈھکوسلہ بمقابلہ حقیقی شوریٰ:
پاکستان میں بظاہر پارلیمان اور جمہوری ڈھانچہ موجود ہے، مگر اصل فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے نادیدہ قوتوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ الکوکبی نے واضح کیا تھا کہ اگر حکومت آئینی بھی کہلائے مگر اس پر عوام کا حقیقی احتساب اور سخت نگرانی نہ ہو تو وہ استبداد کی بدترین قسم ہے۔ - معاشی تباہی اور اشرافیہ کی لوٹ کھسوٹ:
پاکستان میں عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے سسک رہا ہے، جبکہ اشرافیہ اور کارٹلز ریاستی مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ الکوکبی کے بیان کردہ معاشی ظلم کے ماڈل کے مطابق جب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی اور قومی دولت پر چند خاندانوں کا تسلط ختم نہیں ہوگا، ملک معاشی طور پر کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ - نوجوانوں کا فرار (Brain Drain):
پاکستان سے لاکھوں باصلاحیت نوجوان، ڈاکٹرز اور انجینئرز ناامید ہو کر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ الکوکبی نے پہلے ہی نشاندہی کی تھی کہ جہاں شہریوں کی جان، مال اور عزت غیر محفوظ ہو، وہاں حب الوطنی کمزور پڑ جاتی ہے اور باصلاحیت افراد دیارِ غیر کا رخ کرتے ہیں۔ - مذہب اور سیکیورٹی کے بیانیے کا استحصال:
جب بھی عوام اپنے بنیادی حقوق، ووٹ کے تقدس یا قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو ان کے خلاف فتوے جاری کیے جاتے ہیں یا انہیں ریاست کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ الکوکبی کے مطابق آمر اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے مذہب اور وطن کے دفاع کے جھوٹے نعروں کو ہتھیار بناتا ہے۔ - خوف کے بت توڑنے کا درس:
پاکستان کی حالیہ سیاسی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کے اندر خوف کی زنجیریں کمزور ہو رہی ہیں۔ الکوکبی کا پیغام یہی ہے کہ ظالم کی طاقت اس کی اپنی نہیں بلکہ عوام کے خوف اور بے حسی سے پیدا ہوتی ہے؛ جب عوام اپنے حقوق کا شعور پا لیں تو استبداد کا خاتمہ یقینی ہو جاتا ہے۔
حاصلِ کلام
علامہ عبد الرحمن الکوکبی کی کتاب «استبداد کی نوعیت اور غلامی کا زوال» پاکستان کے ہر باشعور شہری، استاد، خطیب اور خصوصاً نوجوان نسل کے لیے لازمی مطالعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب یہ واضح سبق دیتی ہے کہ غلامی کا خاتمہ کسی معجزے یا بیرونی سہارے سے نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے فکری شعور، آئین و قانون کی پاسداری، خوف کا خاتمہ اور شوریٰ و عدل پر مبنی اجتماعی نظام کا قیام ناگزیر ہے۔
(تبصرہ نگار: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو — سعد ورچوئل سکلز پاکستان)
اردو ترجمہ۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
