
اہل اللہ کے ساتھ کچھ بتائے لمحے۔
از۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
زندگی مٹھی میں دبائے ہوئے ریت کے زروں کی طرح پھسلتی جارہی ہے۔جتنا دباتے ہیں اتنی ہی قابو سے باہر ہوتی جاتی ہے ۔
زندگی کا ہر طلوع ہونے والا دن۔ اپنا نیا رنگ و روپ لیکر آتا ہے۔
آغازِ دن اس عزم سے کیا جاتا ہے کہ آج سارے کام مکمل کرکے دم لونگا۔
کام تو مکمل نہیں ہوتے لیکن انرجی ختم ہوجاتی ہے۔
رات کو ہجوم افکار کے ساتھ تھکے ذہن و بدن کے ساتھ ۔آغوش بستر میں جا دُبکتے ہیں۔
غیر محسوس طریقے سےہاتھ سے بچپن گیا۔جوانی بڑھاپے میں ڈھلی۔جسمانی قوتیں مضمہل ہوئیں ۔آرزوئوں امیدیں۔جوان ہوتی گئیں ۔۔

بہت سے بدلائو آئے لیکن زندگی کو ریت کے زروں کی پھسلنے میں بدلائو نہ آیا۔
وہی رفتار وہی انداز۔جو دن گزرتا ہے۔میری زندگی کی کتاب سے حذف کردیا جاتا ہے۔
زندگی نے بہت سے موڑ دکھائے۔انسانی روئیوں کو بدلتے دیکھا۔
مقاصد کی تکمیل پر تعلقات کو ٹوٹتے دیکھا۔ترجیحات بدلتی دیکھیں۔عقیدت کے بٹ پاش پاش ہوئے تو حقائق کی دنیا سامنے آئی۔
لیکن اس تجرباتی دنیا بھی تھے۔پیاز کے چھلکوں کی طرح اَن گنت پردے تھے۔
ہر پردہ یہی سمجھ کر ہٹایا جاتارہا کہ یہ آخری ہوگا۔
حقائق و مشاہدات کی دنیا میں بھی بہت دائو پیچ دیکھے۔
لیکن ایک بات ضرور سمجھ میں آئی کہ بغیر محنت کے عزت نہیں۔بغیر اخلاص کے بلندی نہیں ۔
بغیر اطاعت کے سکون نہیں ۔۔ہر سوچ ۔ہوکام کی ایک حد ہوتی ہے۔
اس کے بعد اس کی حقیقت کھتلی ہے تو جھٹکا لگتا ہے لیکن زندگی نئے راستے کھول دیتی ہے۔
عرصہ ہوا۔مذہبی جلسے جلوس۔محافل چھوڑ دیں۔کیونکہ دین سے مطمین تھا لیکن اس کی نمائیدگی کرنے والے کرداری لحاظ سے قابل اطمنان نہ تھے۔

اس لئے تنہائی بھی ایک دنیا رفیق و ہمراز رہی۔کتابیں ۔مونس رہبر رہیں ۔۔
پہلے کتابوں پڑھنے والوں کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔
پھر خود کتابیں پڑھنے کا جنون سوار ہوا۔
پھر مطالعہ کی راہ جو مواد اور نورانیت دل و دماغ میں اُتری۔
وہ قلم کے راستے کاغذ پر ڈھلنے لگی۔پھر غیب سے وہ راستے کھلے ایسے کھڑیاں سامنے آئیں جہان سے مضامین کی آمد ہوتی ہے ۔
یوں صفحات سے شروع ہونے والا سفر کتابوں کی شکل اختیار کرگیا۔
آج بحمد اللہ دوسو سے زائد کتب کا ذخیرہ مہیا ہوچکا ہے۔
موضوعات کا تنوع ہے۔تراجم تفاسئر۔تاریخ ،نفسیات،طب، علمیات۔تمدن و ثقافت۔ہنر مندی۔ اور بھی بہت سے موضوعات پر خامہ فرسائی کرچاہوں۔کبھی تو خود کی کتابیں دیکھ کر حران رہ جاتا ہوں کہ یہ میں نے کب لکھی تھی؟۔کچھ کتب ایسی ہیں اگر ان کے سر ورق ہٹا دئے جائیں ۔
شاید میں خود بھی نہ پہچان سکوں کہ یہ بھی میں نے لکھی ہے۔
انٹر نیٹ پر اپ لوڈ کتب کے بارہ میں جب لوگ سوالات کرتے ہیں تو ہر بات کا استحضار نہیں رہتا۔
ان سے پوچھتا ہوں یہ کتاب کس نے لکھی ہے؟
اس کا لکھنے والا کون ہے؟۔تو بتایا جاتا ہے یہ آپ ہی کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔
رفتار اس قدر ہے کہ۔ایک دن میں سو پچاس صفحات سے لیکر ہزار دو ہزار صفحات کا مطالعہ روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔
کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک نکتہ پھیلتا ہوا کتاب میں ڈھل جاتا ہے۔
ایک بات افسانہ بن جاتی ہے۔کوئی بھی موضوع ہو جس سے مناسبت رہی ہو۔
جب اس طرف توجہ مبذول ہوتی ہے تو۔ذہن کا ایک دریچہ کھل جاتا ہےجیسے ہوا کے آنے جانے کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ کھلی ہوئی کھڑکی سے کتنی ہوا کمرے میں آتی ہے۔
اسی طرح مجھے بھی معلوم نہیں ہوتا مضامین کا بندھا ہواتاتناکتنا ہے ۔
کس قدر عمیق و گہرا ہے۔ پھر قلم ہوتا ۔اور خیالات ومضمامین کا انبار ہوتا ہے۔
حوالہ جات کے لئے برسوں پہلے پڑھی ہوئی کتب ایسی محسوس ہوتا ہے کھلی پڑی ہیں ۔
جس طرف دیکھتا ہوں ۔کتابوں کے انبار ہیں۔
جہاں سے جس حوالے کی ضرورت پڑتی ہے نقل کریتا ہوں ۔۔یہ نہیں کہ یہ حوالے اسی انداز کے ہوتے ہیں،جو عبارت کتاب میں لکھی ہوتی ہے۔بلکہ اس کا رخ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ یہ حوالہ جات و ماخذات۔عبارت کے لحاظ سے تطابق نہیں رکھتے ۔
البتہ تفہیم و حوالےکے لحاظ سے وہی کچھ ہوتا ہے۔جو اس وقت پیش نظر ہو۔
کل ہمارے ایک دوست صوفی عرفان انجم کے ہاں درس قران تھا،
انہوں نے شفقت فرمائی اور اصرار فرمایا کہ شرکت ضروری ہے۔
مغرب کے بعد پروگرام تھا۔گھر سے کافی فاصلہ بن جاتا ہے اس لئے پہلے طبیعت آمادہ نہ ہوئی۔
لیکن اصرار کچھ ایسا کہ ٹالا نہ گیا۔یوں درس قران میں شرکت ہوئی۔
عمومی طورپر انداز بیان۔اور موضوع سے ہٹی ہوئی باتین دل کو نہیں بھاتیں ۔
مشاہدات یہ ہیں کہ درس قران ہو یا ختم قران۔یا پھر قران و حدیث کے نام پر دیگر تقریبات۔
ان میں مقررین و ملغین سب کچھ کہتے ہیں،
سب کچھ بتاتے ہین لیکن ان میں قران ہوتا ہے نہ دین اسلام ۔
ان کے اپنے نظریات و افکار ہوتے ہیں ۔اپنے جذبات و جوش ہوتا ہے۔
مسلک اور اپنے جھتہ یا گروہ کو عین اسلام ثابت کرنا ہی سب سے بڑی دین کی خدمت ہوتی ہے۔
اس لئے ان محافل کا اثر ایسا نہیں ہوتا ۔جو مطالعہ و تحقیقات سے پہلے ہوا کرتا تھا۔
خلاف مزاج اور خلاف عادت درس قران میں شریک ہوا۔۔
عصر کے بعد مسجد مائی برکتے والی ساہنکے گائوں پہنچا۔
میزبان بھی منتظر تھے اور مہمان بھی مسجد کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔
کوئی کرو فر نہیں ۔چہروں پر کوئی تنائو نہیں جسے عرف عام میں بزرگی کا خاصہ کہا جاتا ہے ۔
ماتھے پر کوئی شکن نہیں چہرا بزرگی کے بوجھ سے تناہوا ،کھنچا ہوا نہیں۔
ایک بے نیازی تھی۔خاک ساری تھی۔مسجد کی صفوں پر دو بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔
بزرگ عمر کے لحاظ سے نہیں ۔بلکہ ان کے انداز ۔وضع قطع کے لحاظ سے ،
یوں تو میری عمر بھی 53 سال کے پیٹے میں ہے۔
عمر کے لحاظ سے مجھے بھی عرف عام میں بابا کہا جاسکتا ہے۔
لیکن صحت اور جسمانی طورپر مختصر جُسے سے لوگ یہ کم ہی مانتے ہیں کہ میں زندگی کے اتنے سال بتانے کے باوجود ابھی تک جسمانی طور پر پھرتیلا۔جست اور صحت مند ہوں۔
لیکن ان کے ماننے نہ ماننے سے میری عمر کم تھوڑی ہوجائے گی؟
مسجد کے مختصر سے صحن میں دونوں روحانی شخصتیں موجود تھیں ۔
دو قدم مسجد میں گیا ۔مصافحہ کیا۔دونوں حضرات ایسے ملے کہ برسوں سے سناشائی ہو۔
خندہ جبین تھے۔مسکراتے چہرے۔لب و لہجہ میں اپنایت۔پرتپاک انداز میں مصافحہ کیا ۔
احوال معلوم کئے۔حیررانی ہوئی کہ پہلے ملاقات ۔اور یہ اپنایت۔خیر حال و احوال ۔پوچھے۔
مزاج پرسی کی۔کچھ جوان و بچے مسجد میں کام میں مصروف تھے
انہوں نے بھی آکے۔سلام ،دعا لی۔
ان دونوں شخصیات کے نام بالرتیب یہ ہیں۔
(1)حضرت مولانا پیر شفیع اللہ خان ۔ان کا تعلق ٹانگ ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔
(2)حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمن صاحب ،خلیفہ مجاز حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی نور اللہ مرقدہ۔
صوفی صاحب کا تعلق بھی سلسلہ قادریہ سے ہے ۔
ان کے والد صاحب بھی اسی سلسلہ کے نمائیندے تھے ۔
گوکہ ان کا رابطہ چاروں سلاسل سے رہتا تھا ۔
لیکن ان کی شہرت اور ان کی رجحان و سلسلہ قادریہ تھا۔
ان کی خانقاہ کا نام بھی”خانقاہ قادریہ گائوں ساہنکے واہگہ بارڈر لاہور۔ہے۔
ابتدائی خیر و عافیت معلوم کرنے کے حضرت مولانا شفیع اللہ خان فرمانے لگے ۔
اچھا ہوا آپ آئے۔خوشی ہوئی مل کر۔ہم تو سوچ رہے تھے کہ اگر آپ نہیں آتے تو ۔
از خود ملاقات کی کوئی ترتیب بناتے۔آپ کا آنا ہمارے لئے راحت کا سبب بنا۔
اتنے میں میزبان کی طرف سے لسی چائے۔جوسز۔بسکٹ وغیرہ پیش کئے گئے۔
حسب ذوق ہر کسی نے اپنی مرضی سے منتخب مشروبات سے لذٹ اٹھائی۔
نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگا کہ میں ان دونوں حضرات کو بہت پہلے سے جانتا ہوں۔
یہ میرے محسوسات ہیں ۔ اور محسوسات سے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
خندہ جبینی سے گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔
یہ بڑے روحانی لوگ۔اور راقم الحروف کی حیثیت ظاہری اسباب میں کچھ بات بنتی نہیں ۔
لیکن جو کچھ دیکھا محسوس کیا ۔ لکھ رہا ہوں۔
انہوں نے کمال مہربانی سے (شاید میرا دل رکھنے کے لئے)مجھے کہا کہ سب سے پہلے آپ ہماری نبض چیک کریں۔
یہ میرے لئے اعزاز کی بات تھی۔ دونوں حضرات نے راقم الحروف کی تشخیص سے کافی مطمئن دکھائی دئے ۔ڈھیر ساری دعائیں دیں۔
ہر کوئی اپنے انداز میں سوچتا ہے ۔میرا انداز یہ ہے کہ کوئی کتنا بھی بڑا مرتبہ کا مالک ہو۔
اس کا تعلق کسی بھی میدان عمل سے ہو۔ مالدار غریب۔کاروباری،روحانی۔سیاسی کوئی بھی ہو۔
سب سے پہلے دیکھتا ہوں ۔سب سے پہلے یہ انسان بھی ہے کہ نہیں ۔اگر اس میں انسانیت پائی جائے تو اس کے ساتھ لگے القابات۔عہدے۔اور اس کی معاشرتی مقام قابل التفات ہوتا ہے۔
اگر وہ انسانی صفات سے عاری ہے۔اس سے جلد طبیعت اچاٹ ہوجاتی ہے۔
بہت سے بزرگی کے لبادے میں لپٹے ہوئے۔چھوٹے موٹے خدائی ذہن کے مالک دیکھے۔
چند پیسوں کے مالک ہامان و فرعون کے وارث۔دیکھے۔عجیب و غریب قسم کی دہری طبیعت کے لوگ دیکھے۔بس ایسے لوگوں سے کچھ زیادہ نہیں بنتی۔موقع ملتے ہی ۔اٹھ کر چلا آتا ہوں۔
جاری ہے بقیہ کل۔۔۔

