
ور الشر المثال
علم الحیوانات کے امام علامہ دمیری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب حیاۃ الحیوان اور علامہ قزوینی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب عجائب المخلوقات
کے چیده چیده دلچسپ اور مفید اقتباسات کا اُردو ترجمہ
جانوروں کی دنیا
عجائب الحيوانات
اس کتاب میں جنگلی بیری ، ہوائی اور بحری جانوروں کے دلچسپ حالات اور ان کی پر لطف خصلتیں اور عادات درج ہیں علاوہ ازیں انہیں خواب میں دیکھنے کی جو تعبیر ہے اور دہ حلال ہیں یا حرام ؟ ان دونوں باتوں کا بھی ساتھ ہی ساتھ ذکر ہے، آخر کتاب میں وردہ کی ؟ مثنوی شریف کی جانوروں کی پُر لطف حکایات بھی درج ہیں۔
جامع سلطان الواعظین مولانا ابوالنور محمد بشیر صاحب
ناشر
فاروقیہ بک ڈپو
422 ملیا محل، جامع مسجد، دہلی 6
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
نَحْمَدُهُ وَتُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
۷۸۶/۹۲
پہلی نظر
اسلام نے بڑی بڑی قابل قدر اور مایہ ناز ہستیاں پیدا کی ہیں ان میں سے دونامور بزرگ حضرت علامہ کمال الدین دمیری اور امام زکریا بن محمد بن محمود قزوینی رحمہ الله علیها بھی ہیں جن کی دو کتابیں ہیں ۔ ” حیوۃ الحیوان ” اور ” عجائب المخلوقات علم الحیوانات میں بے نظیر اور شاہکار ہیں اول الذکر کتاب علامہ دمیری کی ہے اور دوسری امام قزوینی کی۔ ان دونوں بزرگوں نے ان کتابوں میں جنگلی، بری، ہوائی اور بحری جانوروں کی شکلیں صورتیں ان کی عادتیں ان کے رنگ ڈھنگ ۔ ان کی طبعی مقتضیات اور جہاں جہاں وہ پائے جاتے ہیں ان مقامات کا اس تحقیق و تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ پڑھنے والے کے سامنے گویا وہ جانور چلتے پھرتے نظر آنے لگتے ہیں اور پھر لطف یہ کہ جانوروں کے ذکر کے ساتھ حسب موقع اسلامی تاریخ کے ایمان افروز واقعات کا بھی ذکر کر دیا ہے علاوہ ازیں جس جانور کا ذکر شروع کیا ہے اس کی تفصیل کے بعد پھر اس کے اعضاء کے طبعی وطبی خواص کا بھی ذکر ہے۔ اور پھر اگر اس جانور کو خواب میں دیکھا جائے تو اس کی جو تعبیر ہے اس کا بھی ذکر ہے۔ اور سب سے خوب تر یہ بات کہ وہ جانور حلال ہے یا حرام؟ اس کے متعلق جو شرعی فیصلہ ہے آخر میں اس کو بھی بیان کر دیا ہے۔
میں نے ان سب باتوں کا ترجمہ کرنے کے بعد آخر میں ہمارا تبصرہ” کے زیر عنوان جانوروں کے متعلق بیان کردہ حالات سے آج کل کی روش کو بڑے لطیف پیرائے
اور ایک ایسے نئے انداز میں مطابق کر کے دکھایا ہے جو نئے زمانہ کی خرمستیاں اپنا لینے والوں کے لئے تازیانہ عبرت بھی ہے اور جسے پڑھتے ہوئے بھی لطف آتا ہے۔
حیوة الحيوان ” اور ” عجائب الخلوقات بڑی تعظیم کتا ہیں ہیں ۔ ان دو مخیم کتابوں میں سے چند ایک ہی دلچسپ اقتباس پیش کئے ہیں گویا اس دریا سے چند چلو پیش کئے ہیں۔
ان دو کتابوں کے اقتباسات کے علاوہ آخر میں حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ کی مثنوی شریف کی کچھ ایسی حکایتیں بھی درج کر دی ہیں جن کا تعلق جانوروں سے ہے یہ حکایتیں بجائے خود بڑی سبق آموز اور مفید ہے۔ جن میں جانورں کا ذکر ہے الغرض یہ مجموعہ اپنی طرز کا واحد مجموعہ ہے جسے پڑھ کر یقینا آپ محفوظ ہوں گے۔
چونکہ حضرت انسان بھی حیوانات ہی میں سے ہیں امتیاز یہ ہے کہ یہ صفت نطق سے موصوف ہیں اور حیوان ناطق ہیں اس لئے علامہ دمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حیوانات کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے انسان ہی کا انتخاب فرمایا ہے۔ اور میں نے بھی اپنی اس کتاب کی ابتداء انسان ہی کے ذکرے کی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جو جو خوبیاں خدا نے انسان کو عطا فرمائی ہیں۔ اس قدر خوبیاں کسی دوسری مخلوق میں نہیں انسان پوری کائنات کی خوبیوں کا جامع ہے اور ساری کائنات گویا اسی ایک انسان کی تفصیل و تفسیر ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے کس قدر جامع کمالات پیدا فرمایا ہے اور یہ اپنے اندر کیا کیا جو ہر رکھتا ہے۔
لیجئے کتاب پڑھیئے اور لطف اُٹھائیے
ابو النور محمد بشیر

