
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا میں جو میں معرایج ترقی پونچی ہیں ان کی ترقی عروج کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنے قیمتی سے قیمتی تجربات سے اپنے ملک وقوم کو نیا ذریغ مفاد پہنچاتی ہیں۔
بستکین اس کے بر عکس ہوا تو میں ذلیل اور پس ماندہ شمار کی جاتی ہیں ان کی ذلالت اور پسماندگی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنے سفیر سے حقیر تجربات کو بھی اپنے عیبوں کی طرح پوشیدہ رکھتی ہیں .
دنیا جانتی ہے کہ ہمارے ملک میں باکمال طبیعیوں اور کامل سینا مسنور کے پاس ایسی معجزہ نما اور جھیلی بر سرسوں اگانے والی اکسیر میں موجود ہیں جن کو پھیلت یہ دم توڑتے ہوئے مریضوں کو آن کی آن میں شفایاب کر کے اپنے کمالات مظاہرہ کیا کرتے ہیں مگر افسوس کہ یہ لوگ اس قدر تنگ دل اور نیست حوصلہ واقع ہوئے ہیں کہ اپنی زندگی کے ایام میں اپنی اولاد تک کو بھی کچھ نہیں بتاتے ۔ اور سینے کے راز سینے ہی میں لے جاتے ہیں۔ مولانا حالی نے مانعی بیچ فرمایا ہے ۔ سے
منہ اک اب کا حسین کو آتا ہے
سگے بھائی کو نہیں بتا تا ہے
میں کو آتا ہے چونکتا کشتہ
وہ ہماری نظر میں ہے گونگا
انفرس میں کے پاس ہے کوئی چیز جان سے بھی ہوا ہے اس کو عزیز سب کا فات اور بہتر اس کے ترین اس کے ساتھ جاتے ہیں
اندریں حالات میں میں نے مناسب حقیاتی کیا کہ اگر کھیل و کنجوس طبیبوں اور سنتا ہوں کے مقفل سینوں سے انمول جواہرات نکال کر مستحق اور قدر شناس اظہار تک پہنچائے جائیں، تو یہ کار ثواب ہی نہیں بلکہ من طب کی بستہ بین خدمت ہے ۔
لہذا اس خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے میں نے اکسیری نسخہ جات کے حصول کے لئے سینکڑوں حکیموں اور دئیدوں سے خط و کتابت کی اور ہزاروں روپے اہل فن حضرات کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کئے کئی جوگیوں سادھنوں اور سنیاسیوں کی سنیں اور خوشاندیں کیں ۔ اسی طرح سالہا سال کی لگا تار کوشش اور زر کثیر حرف کرنے کے بعد میرے پاس نامیت لاثانی اور لاجواب نسخہ جات جمع ہو گئے ، پھر میں نے نہیں اپنے علم وعمل کی کس تھرٹی پر بارہا پھر کھا۔ اور سنگ ریزے نکال کر باہر پھینک دیئے ۔ اور جو امر ویزے کبھی انسائیکلو پیڈیا جلد اول کی صورت میں اہل ملک کی خدمت میں پی سکتے ہیں۔
طلبی انسائیکو پیڈیا بجلد اول کی حیرت انگیز مقبولیت

