پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

تجارب الامم ابن مسکویہ کا اردو ترجمہ از حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو:

تجارب الامم ابن مسکویہ کا اردو ترجمہ از حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو:

 تاریخی و ادبی اہمیت کا تحقیقی جائزہ

(یہ کتاب8 ضخیم جلدوں میں ہے۔ترجمہ مکمل ہوچکا ہے لیکن فارمٹنگ،تصحیح پریش پرنٹنگ کے مراحل سے گزارا جارہا ہے۔اردو ترجمہ جلد اپ لوڈ کردیا جائے گا۔نیچے عربی ایڈیشن کے لنک دئے جارہے ہیں۔اہل علم رجوع فرماسکتے ہیں)

تعارف اور تاریخی پس منظر

اسلامی تاریخ نگاری کے ارتقا میں چوتھی صدی ہجری کو ایک فکری و منہجی موڑ کی حیثیت حاصل ہے۔ ابتدائی اسلامی ادوار میں تاریخ نویسی کا غالب رجحان اسناد کی جانچ، راویوں کے تسلسل اور واقعاتی جزئیات کے لفظی اندراج تک محدود تھا، جس کی سب سے جامع مثال محمد بن جریر طبری کی شہرۂ آفاق تصنیف میں نظر آتی ہے۔ تاہم، جب تمدنی وسعت اور سیاسی انتشار کے نتیجے میں عباسی خلافت کی مرکزیت کمزور ہوئی اور مختلف خودمختار ریاستیں بالخصوص آلِ بویہ کے حکمران ابھر کر سامنے آئے، تو علمی حلقوں میں تاریخ کو محض داستان یا وقائع نگاری کے بجائے سیاسی، عمرانی اور اخلاقی تجربات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسی فکری فضا میں چوتھی صدی ہجری کے ممتاز فلسفی، معالج اور مدبر ابو علی احمد بن محمد مسکویہ نے اپنی تصنیف “تجارب الامم و تعاقب الہمم” مرتب کی۔

اردو زبان کے دامن میں اگرچہ اسلامی تاریخ کے روایتی اور اسنادی مآخذ کے تراجم کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، لیکن فلسفۂ تاریخ اور تجزیاتی سیاسیات پر مبنی کلاسیکی عربی متون کے براہِ راست اور تحقیقی تراجم کی ہمیشہ سے کمی رہی ہے۔ اسی علمی ضرورت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے معروف محقق، کثیر التصانیف مصنف اور کہنہ مشق طبیب حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو نے “تجارب الامم” کا تفصیلی اردو تعارف، تجزیہ، علمی جائزہ اور ترجمہ پیش کیا ہے۔ یہ کاوش نہ صرف کلاسیکی عربی تاریخ کے ایک بنیادی ماخذ کو برصغیر کے علمی و ادبی حلقوں کے قریب لاتی ہے بلکہ اردو زبان کے تاریخی و تحقیقی ادب میں ایک گراں قدر اضافے کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔

ابن مسکویہ کی فکری بصیرت اور تجارب الامم کا منہج

ابو علی احمد بن محمد، المعروف ابن مسکویہ، تقریباً 932ء (320ھ) میں رے کے مقام پر پیدا ہوئے اور 1030ء (421ھ) میں اصفہان میں وفات پائی۔ ابن مسکویہ کا علمی سفر کیمیا گری کے ابتدائی تجسس سے شروع ہوا، مگر جلد ہی انہوں نے ارسطو اور ابو نصر فارابی کے فلسفے، اخلاقیات اور سیاسیات کو اپنے مطالعے کا محور بنا لیا۔ ان کی فکری زندگی کا سب سے زرخیز دور آلِ بویہ کے دربار میں بسر ہوا، جہاں وہ پہلے وزیر ابو محمد المہلبی اور بعد ازاں بویہی وزیر ابن العمید کے دربار سے وابستہ رہے۔ ابن العمید کے عظیم الشان کتب خانے کی سات سالہ نگہبانی نے ابن مسکویہ کو ریاست کے نایاب مآخذ، سرکاری خط و کتابت اور تاریخی دستاویزات کے عمیق مطالعے کا وہ موقع فراہم کیا جو عام مورخین کے لیے نا ممکن تھا۔

“تجارب الامم و تعاقب الہمم” کا بنیادی اسلوب اس کے نام سے ہی واضح ہوتا ہے۔ ابن مسکویہ نے اس میں طوفانِ نوح سے لے کر اپنے معاصر دور یعنی 369ھ تک کی تاریخ کو ایک تسلسل کے ساتھ احاطہ تحریر میں لایا ہے۔ روایتی مورخین کے برعکس، ابن مسکویہ نے اپنی تاریخ میں معجزات، مافوق الفطرت اساطیر، طلسماتی قصوں اور غیر متعلقہ افواہوں کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ تاریخ کا مقصد ایسی باتوں کا نقل کرنا نہیں ہے جن کا تعلق انسانی ارادے، عقل اور تدبیر سے نہ ہو۔ اس کے برعکس، انہوں نے اپنی توجہ جنگی چالوں، سفارتی حکمت عملیوں، معاشی بحرانوں، درباری سازشوں اور سلطنتوں کے عروج و زوال کے اسباب و علل پر مرکوز رکھی۔ ان کے نزدیک تاریخ درحقیقت سیاست کا عملی تجربہ گاہ ہے جس سے حکمرانوں اور شہریوں کو رہنمائی لینی چاہیے۔

ابن مسکویہ کا تاریخی منہج ان کے فلسفۂ اخلاق سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تصنیف “تہذیب الاخلاق” میں بیان کردہ اخلاقی و نفسیاتی اصولوں کا عملی مظاہرہ “تجارب الامم” کے صفحات پر نظر آتا ہے۔ بعد کے نامور مورخین، جیسے عز الدین ابن الاثیر (صاحبِ الکامل فی التاریخ) اور ابن خلکان نے بویہی دور کے سیاسی اور انتظامی واقعات کے لیے ابن مسکویہ کے بیانات اور حوالوں پر مکمل اعتماد کیا۔ جدید دور میں مستشرق ڈی ایس مارگولیتھ نے بویہی عہد کی اہمیت کے سبب اس کتاب کے آخری حصوں کو مدون کر کے “دی ایکلپس آف دی عباسڈ کیلیفیٹ” کے نام سے انگریزی میں منتقل کیا، جبکہ ایران میں محقق ابو القاسم امامی نے تہران سے اس کے مستند عربی متن کی جامع تحقیق و اشاعت کا فریضہ سرانجام دیا۔

مترجم کا تعارف: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

اس اہم تاریخی شاہکار کو اردو کے قالب میں ڈھالنے والی شخصیت حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی ہے۔ وہ ایک محقق، مورخ، سوانح نگار، ماہرِ طب اور مترجم ہیں، جن کی علمی و تصنیفی خدمات کا دائرہ ساڑھے تین دہائیوں پر محیط ہے۔ قاری محمد یونس شاہد میو نے تفسیری، تاریخی، سوانحی، طبی اور لسانی علوم میں 150 سے زائد کتب تصنیف، تالیف اور ترجمہ کی ہیں۔ لسانیات اور علومِ قرآنی کے میدان میں ان کا سب سے نمایاں کارنامہ تاریخ میں پہلی بار قرآنِ مجید کا میواتی زبان میں مکمل ترجمہ کرنا ہے، جس نے انہیں علاقائی اور بین الاقوامی علمی حلقوں میں ممتاز شناخت عطا کی۔

مترجم نے روایتی اسلامی علوم کی ترویج کے ساتھ ساتھ تاریخ و عمرانیات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے خطۂ میوات کی تاریخ، میو قوم کی نسلیاتی ساخت، ان کے شجرہ ہائے نسب اور عرب علم الانساب کے ساتھ ان کے تقابلی جائزے پر گراں قدر تحقیقی مضامین اور کتابیں تحریر کی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ طبِ نبویؐ اور قانونِ مفرد اعضاء کے جید ماہر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اپنے تنظیمی اور تدریسی وژن کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے انہوں نے کاہنہ نو، لاہور میں “سعد طبیہ کالج برائے فروغ طبِ نبویؐ” اور “سعد ورچوئل سکلز پاکستان” قائم کیے۔ یہ علمی و تربیتی پلیٹ فارم ان کے مرحوم فرزند سعد یونس کی یاد اور ان کے فکری منصوبے کی ترویج کے لیے وقف ہے، جس کے ذریعے جدید ڈیجیٹل ذرائع اور ورچوئل تعلیمی نیٹ ورکس کی مدد سے کلاسیکی متون کی بازیافت اور نشر و اشاعت کا کام انجام دیا جا رہا ہے۔

علمی و عملی جہتتفصیلات و کارہائے نمایاںادارتی و تحقیقی مرکز
قرآنی و لسانیاتتاریخ میں پہلی بار قرآن مجید کا میواتی زبان میں مکمل ترجمہسعد ورچوئل سکلز پاکستان
طبی علوم و طبِ نبویؐطبِ نبویؐ اور قانونِ مفرد اعضاء پر درجنوں تصانیف اور معالجین کی تدریسسعد طبیہ کالج، لاہور
تاریخی و نسلیاتی تحقیقمیوات کی تاریخ، بنساولی روایات (جگا) اور تقابلی علم الانساب پر کتبتحقیقی پلیٹ فارم و کتب خانے
کلاسیکی عربی تراجمتجارب الامم، العقد الفرید، المعارف اور کتاب الاصنام کے اردو تراجمسعد طبیہ کالج و سعد ورچوئل سکلز

تجارب الامم کا اردو ایڈیشن: اشاعتی فریم ورک اور مراجع

اردو زبان کے قارئین اور جامعاتی محققین کو طویل عرصے سے یہ دقت درپیش رہی ہے کہ اسلامی تہذیب کی اولین اور مستند تاریخی مصادر یا تو عربی کے نایاب اور ضخیم مخطوطات کی صورت میں مخصوص اداروں میں بند تھے، یا پھر ان کی طباعت اس قدر نایاب اور گراں قیمت تھی کہ عام قاری اور محقق کی دسترس سے باہر تھی۔ سعد ورچوئل سکلز پاکستان اور سعد طبیہ کالج نے اس فکری تعطل کو توڑنے کے لیے کلاسیکی عربی ادب و تاریخ کے شاہکاروں کا اردو زبان میں ترجمہ کرنے کا ایک جامع اور منظم سلسلہ شروع کیا۔

کتاب کا عنواناصل مصنفکتاب کا موضوعی دائرہموجودہ اشاعتی حیثیت
تجارب الاممابو علی ابن مسکویہفلسفۂ تاریخ، سیاسیات و انتظامیاتاردو ایڈیشن، تعارف و علمی جائزہ
العقد الفریدابن عبد ربہ الاندلسیتاریخ، سیاست، ادب و اخلاقیاتپی ڈی ایف ایڈیشن / زیرِ ترجمہ
کتاب الاصنامہشام ابن الکلبیقبل از اسلام کے عرب ادیان و اصنامتدریجی منصوۂ تراجم
المعارفابن قتیبہ دینوریتاریخ، انساب و عمومی سوانحیاتڈیجیٹل و اشاعتی تسلسل
طبائع النساء / امہات النبی / الابلمتقدمین علمائے عربعمرانیات، سیرت النبیؐ و لسانیاتڈیجیٹل کتب خانوں پر دستیابی

قاری محمد یونس شاہد میو کا یہ اردو ایڈیشن ڈیجیٹل پی ڈی ایف اور مطبوعہ دستاویز کے طور پر محققین کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اس ایڈیشن کی تیاری میں مترجم نے صرف سطحی عربی متن پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ بین الاقوامی سطح پر موجود تحقیقی ایڈیشنز اور مآخذ کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ مترجم نے متن کے ترجمے کے ساتھ ساتھ کتاب کا ایک مبسوط پیش لفظ اور علمی جائزہ شامل کیا ہے، جس میں مصنف کے نظریۂ تاریخ، آلِ بویہ کے معاشرتی و تمدنی حالات اور کتاب کی سند پر جامع گفتگو کی گئی ہے۔

اسلوبِ نگارش، لسانی محاسن اور تفہیمی جہات

ابن مسکویہ کا عربی اسلوب چوتھی صدی ہجری کے اس علمی نثر کا نمائندہ ہے جس میں فلسفیانہ اختصار، دقیق فکری اصطلاحات اور سیاسی باریک بینیاں یکجا پائی جاتی ہیں۔ اس قسم کی کتاب کا ترجمہ کرتے وقت اکثر مترجمین یا تو لفظی ترجمے کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر متن کو بے جان بنا دیتے ہیں، یا پھر آزاد ترجمے کے نام پر مصنف کے فلسفیانہ مفہوم سے دور نکل جاتے ہیں۔ قاری محمد یونس شاہد میو نے اس ترجمے میں اعتدال کا راستہ اختیار کیا ہے، جس میں متن کی اصل روح، وقار اور معنوی ثقاہت کو برقرار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے اردو دان طبقے کے لیے سلاست اور روانی پیدا کی گئی ہے۔

ترجمے کا ایک نمایاں وصف بویہی دور کے سیاسی اور عسکری اداروں کی اصطلاحات کی بروقت وضاحت ہے۔ چوتھی صدی ہجری میں عباسی دارالحکومت اور عراق و فارس کے خطوں میں اقطاعی نظام، دیوانی محکموں کی تنظیم، امارت الامراء کے اختیارات اور خراجی وصولیوں کے ایسے انتظامی طریقے رائج تھے جو بعد کے ادوار میں تبدیل ہو گئے۔ مترجم نے اس کتاب کے متن میں ان تمام اصطلاحات کو اردو کے فطری قالب میں اس طرح سمویا ہے کہ قاری کو قرونِ وسطیٰ کے انتظامی اور دیوانی ڈھانچے کی باریکیاں سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔

علاوہ ازیں، کتاب کے ساتھ شامل حواشی اور تعلیقات اس کام کو محض ایک روایتی ترجمے سے بلند کر کے ایک تحقیقی کارنامے کا درجہ دیتے ہیں۔ مترجم نے متن میں مذکور اہم سیاسی اور درباری شخصیات کے تاریخی کوائف کو اختصار کے ساتھ حاشیے میں یکجا کیا ہے۔ جہاں کہیں ابن مسکویہ نے کسی سیاسی سانحے یا جنگی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے انسانی نفسیات اور اخلاق کو موضوع بنایا ہے، وہاں مترجم نے ابن مسکویہ کی دیگر اخلاقی و فکری تصانیف کے مضامین کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس واقعے کے عمرانی پہلو کو مزید واضح کیا ہے۔ اس تطبیقی انداز نے ترجمے کی علمی سند کو محققین کے نزدیک نہایت وقیع بنا دیا ہے۔

اردو ادب اور تاریخ نگاری کے ذخیرے میں اس ترجمے کی وقعت

اردو کے روایتی کتب خانوں میں صدیوں تک تاریخ کا مفہوم محض سلاطین کے فتوحات، تخت نشینیوں، معرکوں کی تواریخ اور نجی سوانح کے تذکروں تک محدود رہا۔ طبری اور ابن الاثیر جیسے جلیل القدر مورخین کے جو تراجم اردو میں عام ہوئے، وہ بلاشبہ معلومات کا سمندر ہیں، مگر ان میں واقعات کی اسنادی ترسیل کا غلبہ ہے۔ ابن مسکویہ کی “تجارب الامم” اس کے برعکس ایک سائنسی اور فکری اسلوب پیش کرتی ہے جس میں تاریخ کو اصول و قوانین کے تحت پرکھا جاتا ہے۔ قاری محمد یونس شاہد میو کے اردو ترجمے نے اردو کے فکری و ادبی سرمائے کو اس جدید منہج سے روشناس کرایا ہے، جہاں تاریخ نویسی ادبی فسانہ طرازی کے بجائے سیاسی شعور کی تربیت بن جاتی ہے۔

موجودہ دور میں، جب اجتماعی زوال اور سیاسی انتشار کا سامنا ہے، ابن مسکویہ کا یہ بیانیہ انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں اتفاقی عناصر کے بجائے اخلاقی رویے، انتظامی عدل اور معاشی تدابیر فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ مترجم نے اپنے تجزیاتی مقدمے میں اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ تاریخ کا مطالعہ فقط ماضی پر فخر یا نوحہ خوانی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد حال کے مسائل کی تفہیم اور مستقبل کے لیے ایک پائیدار لائحۂ عمل وضع کرنا ہے۔ اس اردو ترجمے کی بدولت اب جامعات کے اساتذہ، سیاسیات و تاریخ کے محققین اور عمومی اردو دان طبقہ براہِ راست ابن مسکویہ کی ان آراء تک رسائی حاصل کر سکتا ہے جو قبل ازیں صرف عربی داں ماہرین تک محدود تھیں۔

نتیجہ

“تجارب الامم” قرونِ وسطیٰ کے اسلامی فلسفۂ تاریخ کا ایک ایسا سنگِ میل ہے جس نے تاریخی واقعات کو اساطیری اور روایتی جمود سے نکال کر انسانی عقل، حکمتِ عملی اور اخلاقی فیصلوں کے تابع کیا1 ۔ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کا پیش کردہ اردو ایڈیشن نہ صرف متن کی تفہیم اور ترسیل میں اعلٰی لسانی معیار کا حامل ہے، بلکہ اس نے تاریخی، عمرانی اور اخلاقی حواشی کے ذریعے اس کتاب کی تفہیم کو اردو طبقے کے لیے آسان تر بنا دیا ہے1 ۔ سعد طبیہ کالج اور سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی یہ کاوش اردو زبان کی علمی وسعت، کلاسیکی تراجم کے معیار اور برصغیر میں تاریخی علوم کی سنجیدہ تفہیم کے فروغ میں ایک گراں قدر اور دیرپا اضافہ ہے1 ۔

لنک1

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

تجارب الاُمم(اردو۔ایڈیشن)

تجارب الاُمم(اردو۔ایڈیشن) (اِبنِ مِسکَویہ) اردو تعارف، تجزیہ اور علمی جائزہ قلم: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو منتظمِ اعلیٰ:

[saadherbal_newsletter_form]