پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

مسلمانوں کی علمِ نجوم میں انفرادیت اور اس کے استعمالات

مسلمانوں کی علمِ نجوم میں انفرادیت اور اس کے استعمالات

مسلمانوں کی علمِ نجوم میں انفرادیت اور اس کے استعمالات
مسلمانوں کی علمِ نجوم میں انفرادیت اور اس کے استعمالات


حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان

مسلمانوں کے ہاں “علمِ نجوم” ایک وسیع اصطلاح تھی، لیکن تاریخی طور پر اسے دو الگ شعبوں میں سمجھنا ضروری ہے:

  1. علمُ الہیئت یا علمُ الفلک — سورج، چاند، ستاروں اور سیاروں کی حرکات کا مشاہداتی و ریاضیاتی مطالعہ؛ آج اسے Astronomy کہتے ہیں۔
  2. احکامُ النجوم — ستاروں اور سیاروں سے انسانی مستقبل، قسمت یا واقعات کی پیش گوئی؛ آج اسے Astrology کہا جاتا ہے۔

مسلمانوں کی اصل علمی خدمت پہلی شاخ یعنی فلکیات میں تھی۔ دوسری شاخ یعنی نجومی پیش گوئی اسلامی معاشرے میں موجود ضرور رہی، لیکن علما، متکلمین، اطبا اور خود بعض ماہرینِ فلکیات نے اس کی شدید مخالفت بھی کی۔ اسی مخالفت کے نتیجے میں فلکیات کو احکامِ نجوم سے الگ کرکے “علمُ الہیئت” کے نام سے ایک مستقل علمی شعبہ بنانے کا رجحان پیدا ہوا۔ جارج صلیبا کی تحقیق

مسلمانوں کی علمی انفرادیت کیا تھی؟

1۔ مختلف تہذیبوں کے علم کو یکجا کرنا

مسلمانوں نے یونانی، ہندی اور ایرانی فلکیاتی علوم کا محض ترجمہ نہیں کیا، بلکہ:

یونانی بطلیموسی فلکیات
ہندوستانی حسابی طریقے
ایرانی تقاویم
عربوں کے صحرائی ستارہ شناسی کے تجربات

کو ایک مشترک علمی نظام میں جمع کیا۔ عباسی دور میں بغداد اس کام کا بڑا مرکز بنا۔ میٹروپولیٹن میوزیم کی تحقیق

2۔ مشاہدے سے قدیم نظریات کی اصلاح

مسلمان ماہرین نے بطلیموس کی ہر بات کو حتمی نہیں مانا، بلکہ نئے مشاہدات کے ذریعے اس کی جدولوں، سیاروی حرکات اور فلکیاتی مقداروں کی اصلاح کی۔

مثلاً البطانی نے:

سورج، چاند اور سیاروں کی زیادہ درست پیمائش کی۔
سال کی مدت بہتر طور پر متعین کی۔
489 ستاروں کا اندراج کیا۔
جیومیٹری کے بجائے مثلثیات کو فلکیاتی حساب میں زیادہ مؤثر انداز سے استعمال کیا۔
بطلیموس کی بعض مشاہداتی غلطیوں کی اصلاح کی۔
یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز: البطانی
3۔ فلکیات کو ریاضیاتی علم بنانا
مسلمانوں نے فلکیات میں:
سائن، کوسائن اور ٹینجنٹ
کروی مثلثیات
طول و عرض
زاویوں کی پیمائش
وقت اور سمت کے حساب
کو ترقی دی۔ خصوصاً قبلہ معلوم کرنے کے مسئلے نے ریاضیاتی جغرافیہ اور کروی مثلثیات کو بڑی اہمیت دی۔
4۔ “زیج” یعنی فلکیاتی جدولیں
مسلمان ماہرین نے ایسی کتابیں تیار کیں جنہیں زیج کہا جاتا تھا۔ ان میں مختلف تاریخوں پر:
سورج اور چاند کا مقام
سیاروں کی پوزیشن
طلوع و غروب کے اوقات
چاند گرہن اور سورج گرہن
مختلف شہروں کے طول و عرض
تقویمی حسابات
درج ہوتے تھے۔ الخوارزمی، البطانی، الزرقالی، نصیر الدین طوسی اور الغ بیگ کی زیجیں بہت مشہور ہوئیں۔
5۔ آلات کی عملی ترقی
اصطرلاب یونانیوں کے ہاں موجود تھا، مگر اسلامی دنیا میں اسے زیادہ بہتر، دقیق اور کثیرالمقاصد بنایا گیا۔ اس کے ذریعے:
وقت معلوم کیا جاتا۔
ستاروں کی بلندی ناپی جاتی۔
قبلہ متعین کیا جاتا۔
نماز کے اوقات نکالے جاتے۔
جغرافیائی عرض معلوم کیا جاتا۔
سفر اور جہاز رانی میں سمت معلوم کی جاتی۔
بعض اسلامی اصطرلابوں پر مختلف شہروں کا طول و عرض، قبلے کی سمت اور نمازوں کے اوقات باقاعدہ کندہ ہوتے تھے۔ آکسفورڈ ہسٹری آف سائنس میوزیم
6۔ باقاعدہ رصدگاہوں کا قیام
مسلمانوں نے انفرادی مشاہدات سے آگے بڑھ کر بڑے سرکاری اور علمی رصدگاہی منصوبے قائم کیے، مثلاً:
بغداد کی رصدگاہیں
مراغہ رصدگاہ
سمرقند رصدگاہ
مراغہ کے ماہرین نے نئی مشاہداتی جدولیں تیار کرنے کے ساتھ بطلیموسی سیاروی نظام پر تنقید بھی کی۔ کیمبرج کی تاریخِ سائنس

مسلمانوں نے علمِ فلک کو کن امور میں استعمال کیا؟

شعبہاستعمال
نمازفجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے اوقات متعین کرنا
قبلہمختلف شہروں سے مکہ مکرمہ کی درست سمت معلوم کرنا
رمضانسحر، طلوعِ فجر اور غروبِ آفتاب کے اوقات نکالنا
قمری تقویممہینوں، رمضان، عیدین اور حج کے ممکنہ آغاز کا حساب؛ شرعی آغاز عموماً رؤیتِ ہلال سے وابستہ رہا
جغرافیہشہروں کے طول و عرض اور باہمی فاصلے معلوم کرنا
جہاز رانیسمندر میں ستاروں سے سمت اور مقام کا اندازہ لگانا
صحرائی سفرستاروں سے راستہ، شمال و جنوب اور رات کے اوقات معلوم کرنا
وقت کی پیمائشدھوپ گھڑی، آبی گھڑی، اصطرلاب اور دیگر آلات بنانا
گرہنسورج اور چاند گرہن کے اوقات کی پیشگی تعیین
موسم و زراعتموسموں، شمسی سال، بوائی اور فصلوں کے موسمی اوقات کا تعین
انتظامِ سلطنتتقویم، سرکاری تاریخوں، محصولات اور موسمی انتظامات میں مدد
علمی تحقیقکائنات، سیاروں، ستاروں اور زمین کی جسامت و حرکت کا مطالعہ

قرآن مجید بھی ستاروں سے راستہ معلوم کرنے، اور سورج و چاند سے سالوں اور حساب کی معرفت کی طرف اشارہ کرتا ہے، مثلاً سورۂ انعام 6:97، سورۂ یونس 10:5 اور سورۂ نحل 16:16۔

احکامِ نجوم کو کن مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا؟

اسلامی سلطنتوں کے بعض درباروں میں نجومیوں سے یہ کام بھی لیے جاتے تھے:

بادشاہ یا شہزادے کا زائچہ بنانا
جنگ شروع کرنے کا مبینہ “مبارک وقت” متعین کرنا
سفر، تاج پوشی یا عمارت کی بنیاد رکھنے کا وقت چننا
بارش، قحط، بیماری یا سیاسی تبدیلی کی پیش گوئی
پیدائش کے وقت سیاروں کی حالت سے مستقبل بتانا
بعض طبی اعمال، فصد یا دوا دینے کے لیے برجوں کی مناسبت دیکھنا
تعویذات اور طلسمات تیار کرنا

درباری ماہرِ فلکیات اور نجومی بعض اوقات ایک ہی شخص ہوتا تھا اور شاہی درباروں میں زائچے بنائے جاتے تھے۔ میٹروپولیٹن میوزیم کی تحقیقی اشاعت

لیکن یہ سمجھنا درست نہیں کہ تمام مسلمان علما اس کے قائل تھے۔ بہت سے علما نے مستقبل، غیب اور انسانی قسمت کو ستاروں سے وابستہ کرنے کو دینی اور عقلی اعتبار سے رد کیا۔ اس لیے اسلامی علمی روایت میں عمومی فرق یہ رہا:

ستاروں سے سمت، وقت، موسم اور حساب معلوم کرنا علمِ فلک ہے؛ جبکہ ستاروں سے قطعی قسمت یا غیب بتانا احکامِ نجوم ہے۔

خلاصہ

مسلمانوں کی اصل انفرادیت یہ نہیں تھی کہ انہوں نے فلکیات کو بالکل ابتدا سے ایجاد کیا، بلکہ یہ تھی کہ انہوں نے قدیم یونانی، ہندی، ایرانی اور عرب علوم کو:

ترجمہ کیا،
باہم مربوط کیا،
مشاہدات سے جانچا،
غلطیوں کی اصلاح کی،
ریاضیاتی بنیاد فراہم کی،
نئے آلات اور رصدگاہیں بنائیں،
اور اسے عبادات، جغرافیہ، وقت، تقویم اور سفر کی عملی ضروریات سے جوڑ دیا۔

یوں مسلمانوں نے محض “ستارے دیکھنے” کے علم کو ایک منظم مشاہداتی، ریاضیاتی اور عملی سائنس میں تبدیل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

کشتہ ہڑتال ورقیہ

حرف اولکشتہ جات کا یہ مجموعہ کشتہ ہڑتال ورقیہ کے زیر عنوان تحقیقات کشته سازی گروپ میں جنوری ۲۰۲۵ ء

بر صغیر کےامامیه مصنّفین

بر صغیر کےامامیه مصنّفین کی مطبوعہ تصانیف اور تراجم۔جلد اول۔دوم(اردو کتب) سخن مدیرجایگاه شبه قاره هند و پاکستان در تبیین

[saadherbal_newsletter_form]