پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

میو قوم میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کا رجحان

میو قوم میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کا رجحان۔
میو قوم میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کا رجحان۔

میو قوم میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کا رجحان۔

اسباب، عوامل اور اصلاحی امکانات

از قلم: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

سعد طبیہ کالج، کاہنہ نو، لاہور

کبھی آپ نے کسی بزرگ کو یہ کہتے سنا ہے کہ “ہمارے زمانے میں تو طلاق کا نام سن کر گاؤں کانپ جاتا تھا، اب تو ہر گلی میں کوئی نہ کوئی گھر ٹوٹ رہا ہے”؟ یہ فقرہ کسی ایک بزرگ کا نہیں، پوری میو قوم کے اجتماعی اضطراب کی آواز ہے۔ جو قوم رشتوں کی مضبوطی، خاندان کی چھاؤں اور برادری کے تعاون پر فخر کیا کرتی تھی، آج اسی قوم کے گھروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، اور یہ دراڑیں دن بدن گہری ہوتی جا رہی ہیں۔

میو قوم برصغیر کی ایک قدیم، بہادر اور غیرت مند قوم ہے، جس کی اصل طاقت ہمیشہ خاندان، برادری اور باہمی تعاون میں رہی ہے۔ یہاں شادی دو افراد کا نہیں، دو خاندانوں بلکہ کبھی کبھی دو بستیوں کا رشتہ ہوا کرتی تھی۔ مگر معاشی دباؤ، جہیز کی لعنت، عدم برداشت اور موبائل کے غلط استعمال نے اس رشتے کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔

اعداد و شمار بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ گیلپ پاکستان کی PSLM پر مبنی رپورٹ بتاتی ہے کہ پندرہ سال سے زائد آبادی میں طلاق شدہ افراد کا تناسب 2010-11 میں 0.31 فیصد تھا، جو 2012-13 میں 0.38 فیصد اور 2014-15 میں 0.39 فیصد تک جا پہنچا — یعنی رجحان مسلسل اوپر کی طرف ہے۔ میو قوم کے لیے الگ سے کوئی مستند سروے موجود نہیں، اس لیے یہ گزارشات قومی رجحانات اور میواتی معاشرتی مشاہدے کی روشنی میں پیش کی جا رہی ہیں۔

طلاق: ناپسندیدہ، مگر جائز

اسلام نے نکاح کو محبت اور سکون کا ذریعہ بنایا۔ قرآن نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا — یعنی عزت اور حفاظت کی علامت۔ مگر جب زندگی ناقابلِ برداشت ہو جائے، ظلم اور بے وفائی کا سلسلہ ختم نہ ہو، تو طلاق آخری دروازہ ہے، بند کمرہ نہیں۔ سوال طلاق کے جائز ہونے کا کبھی نہیں رہا، سوال ہمیشہ اس کے جلد بازی اور انا میں استعمال ہونے کا رہا ہے۔

پرانے وقتوں میں پنچایتیں بیٹھتیں، بزرگ صلح کراتے، خاندان دونوں طرف سے سمجھوتہ کرواتے۔ آج بھی صلح کی ضرورت ہے، مگر پرانی پنچایت کے ساتھ اب دینی شعور، قانونی سمجھ اور نفسیاتی مشاورت بھی درکار ہے۔ صرف عورت کو دبا دینا یا مرد کو مجرم ٹھہرا دینا کوئی حل نہیں — اصلاح دونوں طرف چاہیے۔

جب فرق نظرانداز کیا جائے

میو قوم کے اندر ہی معاشرتی ناہمواری کی خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ کوئی خاندان معاشی طور پر مستحکم ہے تو کوئی ابھی تعلیمی پسماندگی سے نکل نہیں پایا۔ کوئی گھرانہ شہری زندگی اپنا چکا ہے، کوئی ابھی دیہی روایات میں سانس لے رہا ہے۔ رشتہ طے کرتے وقت جب یہ فرق نظرانداز کر دیا جاتا ہے، تو نتیجہ شادی کے بعد سامنے آتا ہے۔

کہیں لڑکی شہر کی پروردہ ہے اور سسرال گاؤں کا مزاج رکھتا ہے، کہیں لڑکا بیرونِ ملک کماتا ہے مگر ذہنی پختگی ابھی راستے میں ہے۔ اکثر خاندان صرف ذات اور زمین دیکھ کر رشتہ جوڑ دیتے ہیں، مزاج، تعلیم اور کردار کو تولے بغیر۔ یہی بے جوڑ رشتے آگے چل کر شکوک، بداعتمادی اور بالآخر طلاق کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

جہیز: عزت کا ترازو یا ذلت کا بوجھ؟

ایک وقت تھا کہ شادی سادگی سے ہوتی، ضرورت کی چیزیں دی جاتیں، رشتہ انسانی بنیاد پر قائم ہوتا۔ آج جہیز کو عزت کا پیمانہ بنا دیا گیا ہے۔ فریج، واشنگ مشین، موٹرسائیکل، سونا اور مہنگا ولیمہ — یہ سب مل کر غریب خاندان کو قرض اور ذہنی دباؤ میں دھکیل دیتے ہیں۔

پاکستان میں “Dowry and Bridal Gifts (Restriction) Act 1976” موجود ہے، جو جہیز اور شادی کے تحائف کو ضابطے میں لانے کے لیے بنایا گیا، مگر قانون کی موجودگی کے باوجود رسم و رواج کا دباؤ اکثر قانون سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے۔

جہیز کا مطالبہ صرف مالی بوجھ نہیں، یہ لڑکی کے وقار پر براہِ راست حملہ بھی ہے۔ “یہ نہیں لائی، وہ نہیں لائی” کے طعنے دل میں احساسِ کمتری اور نفرت بو دیتے ہیں، اور یہی بیج آگے چل کر طلاق کی صورت میں پھوٹتا ہے۔ جہیز کے نام پر لڑکی کو کمتر جاننا نہ اسلامی ہے، نہ میواتی غیرت کے شایانِ شان۔

انا، جب رشتے سے بڑی ہو جائے

آج کا ازدواجی بحران محض غربت کی پیداوار نہیں، عدم برداشت بھی اتنا ہی بڑا سبب ہے۔ “میں کیوں جھکوں؟”، “میرے گھر والے ٹھیک ہیں، تمہارے غلط” — یہ جملے آہستہ آہستہ رشتے کی جڑیں کھوکھلی کر دیتے ہیں۔

اختلاف کا ہونا فطری بات ہے؛ دو مختلف گھروں سے آئے انسانوں کے درمیان کوئی مماثلت مکمل نہیں ہو سکتی۔ اصل کمال اختلاف کے نہ ہونے میں نہیں، اسے صبر اور حکمت سے حل کرنے میں ہے۔ مگر ہمارے گھروں میں غصہ قابو کرنا، معافی مانگنا اور دوسرے کے جذبات سمجھنا کم ہی سکھایا جاتا ہے۔ مردانگی ظلم نہیں، ذمہ داری ہے؛ اور خودداری ضد نہیں، وقار ہے۔ جس دن میاں بیوی انا کو رشتے سے بڑا بنا لیتے ہیں، اسی دن گھر ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔

وہ تربیت جو کبھی دی ہی نہیں گئی

بیٹے کو کمانا سکھایا جاتا ہے، بیوی کا احترام نہیں۔ بیٹی کو گھر سنبھالنا سکھایا جاتا ہے، اپنے حقوق اور حدود نہیں۔ والدین کپڑے، زیور اور دعوت پر توجہ دیتے ہیں، ازدواجی تربیت پر نہیں — یہی خلا بعد میں بحران بن کر سامنے آتا ہے۔

لڑکے کو شادی سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بیوی نوکرانی نہیں، شریکِ حیات ہے۔ لڑکی کو یہ سمجھایا جانا چاہیے کہ شادی محض خوابوں کا گھر نہیں، ذمہ داری اور سمجھوتے کا نام بھی ہے۔ سسرال کا احترام لازم ہے، مگر ظلم کی برداشت لازم نہیں؛ والدین کی عزت ضروری ہے، مگر میاں بیوی کے گھر کی رازداری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

جب سب کچن میں چمچہ ہلانے لگیں

مشترکہ خاندانی نظام کی اپنی برکتیں ہیں — بزرگوں کا سایہ، بچوں کی تربیت، دکھ سکھ کی شراکت۔ مگر یہی نظام نقصان دہ بن جاتا ہے جب ہر رشتہ دار میاں بیوی کے ذاتی معاملے میں دخل دینے لگے۔ ماں، بہن، پھوپھی، نند — ہر طرف سے آنے والے مشورے اور شکایات گھر کو میدانِ جنگ بنا دیتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے بجائے اپنے اپنے خاندان کے وکیل بن جاتے ہیں۔ حل یہ ہے کہ میاں بیوی کو پہلے آپس میں مسئلہ حل کرنے کا موقع ملے؛ بزرگوں کی مداخلت آخری مرحلے میں، انصاف کے لیے ہو، آگ بھڑکانے کے لیے نہیں۔

جب تنخواہ خواہشوں سے چھوٹی پڑ جائے

مہنگائی، بے روزگاری، قرض اور علاج کے اخراجات میاں بیوی کے درمیان مسلسل تناؤ کی وجہ بنتے ہیں۔ کچھ نوجوان شادی تو کر لیتے ہیں مگر روزگار مستحکم نہیں ہوتا۔ دکھاوے کی خاطر مہنگی شادی پر قرض لے لیا جاتا ہے، اور پھر وہی قرض رشتے کو چاٹنے لگتا ہے۔ کہیں عورت شوہر کی حالت سمجھنے کے بجائے دوسروں کے گھروں سے موازنہ کرتی ہے، کہیں مرد کمائی کی کمی کا غصہ بیوی پر نکالتا ہے۔ حل یہی ہے کہ شادی سے پہلے مالی حقیقت واضح ہو، اخراجات سادہ رکھے جائیں اور قرض سے حتی الامکان بچا جائے۔

اسکرین کے پیچھے چھپتی بدگمانی

موبائل اور سوشل میڈیا نے رابطے آسان کیے، مگر گھروں میں شکوک اور موازنے بھی بڑھا دیے۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر دوسروں کی سجی سجائی زندگی دیکھ کر لوگ اپنے گھر سے ناخوش ہونے لگتے ہیں — کیونکہ ہر کوئی صرف اپنی خوشی دکھاتا ہے، مسئلہ کوئی نہیں دکھاتا۔

خفیہ چیٹنگ، فون چھپانا، پاس ورڈ نہ بتانا — یہ سب چھوٹی چھوٹی باتیں بداعتمادی کا دروازہ کھول دیتی ہیں، اور جہاں بداعتمادی داخل ہو جائے، وہاں محبت آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہے۔ میاں بیوی دونوں کو موبائل کے استعمال میں شفافیت اور حیا کا خیال رکھنا ہوگا۔

جہاں صبر نہیں، انصاف چاہیے

کچھ گھروں میں طلاق کی وجہ محض غلط فہمی نہیں، نشہ، جوا، مارپیٹ یا مسلسل بے وفائی ہوتی ہے۔ ایسے معاملات کو صرف “صبر کرو” کہہ کر ٹال دینا درست نہیں — اسلام ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے۔ اسی طرح اگر عورت مسلسل بدزبانی یا نافرمانی پر اتر آئے تو اسے بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ گھر صرف عورت کے صبر سے نہیں چلتا، مرد کے انصاف اور اخلاق سے بھی چلتا ہے۔

جب رسمیں دین پر حاوی ہو جائیں

نکاح ایک دینی عہد ہے، مگر افسوس شادیوں میں دین کم اور دکھاوا زیادہ ہو گیا ہے۔ مہندی، ڈھول، تصویریں اور کھانوں کی دوڑ میں نکاح کی اصل روح کہیں گم ہو جاتی ہے۔ خطبہ نکاح سنا تو جاتا ہے، مگر اس کے حقوق و فرائض پر عمل کم ہوتا ہے۔ اگر لڑکے کو معلوم ہو کہ بیوی کے حقوق ادا نہ کرنا گناہ ہے، اور لڑکی کو معلوم ہو کہ شوہر کی جائز اطاعت دین کا حصہ ہے، تو بہت سے جھگڑے سرے سے جنم ہی نہ لیں۔

رشتہ صرف خاندان دیکھ کر نہیں، انسان دیکھ کر

آج کل بعض رشتے عجلت میں طے پا جاتے ہیں — کہیں صرف برادری دیکھی جاتی ہے، کہیں صرف پیسہ یا خوبصورتی۔ کردار، نماز، اخلاق، صحت اور گھریلو مزاج جیسی بنیادی باتیں نظرانداز ہو جاتی ہیں۔ ماضی میں میو قوم میں رشتہ کرتے وقت بزرگوں کی گہری تحقیق ہوا کرتی تھی، آج یہ روایت کمزور پڑ چکی ہے۔ شادی کے بعد جب حقیقت کھلتی ہے تو پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ رشتہ “اچھے خاندان” سے نہیں، “اچھے انسان” سے کیا جانا چاہیے۔

بدلتی عورت، تیار ہوتا مرد

تعلیم یافتہ عورت اگر دین اور اخلاق کے شعور کے ساتھ ہو تو خاندان کی ترقی کا سبب بنتی ہے۔ مگر جب مرد اس تعلیم کو خطرہ سمجھنے لگے، یا عورت کی رائے کو کوئی وقعت نہ دے، تو گھر میں محرومی جنم لیتی ہے۔ آج کی عورت پہلے سے زیادہ باشعور ہے اور ظلم کو خاموشی سے برداشت نہیں کرتی — یہ تبدیلی بذاتِ خود بری نہیں، بس اسے خاندانی وقار اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔

جب گھر ٹوٹتا ہے تو صرف دیواریں نہیں گرتیں

طلاق صرف دو افراد کی جدائی نہیں۔ بچوں کی نفسیات متاثر ہوتی ہے، خاندانوں میں دشمنی جنم لیتی ہے، عورت کو معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور برادری میں بداعتمادی بڑھتی ہے۔ بعض اوقات بچے ماں باپ کی لڑائی کے درمیان اپنی شخصیت اور اعتماد ہی کھو بیٹھتے ہیں۔

اعتدال یہی ہے کہ طلاق کو نہ اتنا بدنام کیا جائے کہ مظلوم انسان ظلم میں جلتا رہے، نہ اتنا آسان کہ ہر معمولی اختلاف پر گھر توڑ دیا جائے۔ راستہ یہ ہونا چاہیے: پہلے اصلاح، پھر مشاورت، پھر خاندان کے منصف بزرگ، پھر دینی و قانونی رہنمائی، اور اگر واقعی کوئی راستہ نہ بچے تو عزت کے ساتھ علیحدگی۔

اب نصیحت نہیں، نظام چاہیے

میو قوم میں اس رجحان کو روکنے کے لیے صرف وعظ کافی نہیں، عملی اقدامات درکار ہیں:

  • شادیوں کو سادہ بنایا جائے، اور جہیز کا مطالبہ برادری کی سطح پر عیب سمجھا جائے۔
  • نکاح سے پہلے لڑکے اور لڑکی، دونوں کی ازدواجی تربیت لازمی قرار دی جائے۔
  • ہر برادری میں دیندار اور غیر جانبدار بزرگوں پر مشتمل اصلاحی کمیٹی بنائی جائے، جو صلح کرائے، انصاف اور رازداری کے ساتھ۔
  • رشتہ طے کرتے وقت ذات اور زمین سے آگے بڑھ کر کردار، دین اور مزاج کو دیکھا جائے۔
  • گھریلو تشدد، نشہ اور مسلسل مالی ظلم کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
  • نوجوانوں کو موبائل کے اخلاق اور حدود سکھائی جائیں۔
  • لڑکیوں کو تعلیم کے ساتھ صبر و حدود کی، اور لڑکوں کو روزگار کے ساتھ بیوی کے حقوق کی تربیت دی جائے۔

آخری بات

میو قوم میں طلاقوں کا بڑھتا رجحان کسی چند گھروں کا نجی معاملہ نہیں، یہ پوری قوم کے خاندانی نظام اور آنے والی نسلوں کا سوال ہے۔ اسباب واضح ہیں — معاشرتی ناہمواری، جہیز، عدم برداشت، تربیت کی کمی، معاشی دباؤ، خاندانی مداخلت اور دینی شعور کی کمی۔ اور علاج بھی اتنا ہی واضح ہے: سادگی، تربیت، صبر، انصاف اور جہیز سے نفرت۔

میو قوم نے تاریخ میں بڑے بڑے طوفانوں کا سامنا کیا ہے۔ یہ خاندانی بحران بھی علم، اخلاق اور اجتماعی اصلاح سے ضرور تھمے گا — بشرطیکہ ہم اسے صرف “دوسروں کے گھر کا مسئلہ” سمجھنے کے بجائے اپنی مشترکہ ذمہ داری تسلیم کر لیں۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]