پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

بال گرنے اور گنج پن کا کثیر الجہتی تحقیقی مطالعہ

بال گرنے اور گنج پن کا کثیر الجہتی تحقیقی مطالعہ

طبِ یونانی، جدید سائنس اور قانونِ مفرد اعضاء کا علمی و مدلل تقابل

مصنف

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

مقدمہ

بالوں کا گرنا — جسے عربی طبی اصطلاح میں تساقطُ الشعر یا انتثارُ الشعر کہتے ہیں — ظاہر میں ایک جِلدی شکایت نظر آتی ہے، لیکن تحقیق کی گہری نظر سے دیکھیں تو یہ جسمِ انسانی کے اندرونی نظاموں کی بے اعتدالی کا سب سے صادق اور آشکارا عکس ہے۔ جیسے کسی درخت کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں خشک ہو جائیں تو اس کے پتے بے وقت جھڑنے لگتے ہیں، بعینہ جب انسانی جسم میں اخلاط کا توازن بگڑتا ہے، اعصابی تحریک میں خلل پڑتا ہے یا ہیئر فولیکلز کو پہنچنے والی غذائیت منقطع ہوتی ہے، تو بالوں کی جڑیں ڈھیلی پڑ کر تساقط کا شکار ہو جاتی ہیں۔

تاریخِ طب کے افق پر ابنِ سینا، زکریا رازی، علی بن عباس المجوسی اور دیسقوریدوس جیسے مایہ ناز اطباء نے اس عارضے کو محض جِلد کا مسئلہ نہ سمجھتے ہوئے اسے جسم کی مجموعی فزیالوجی سے جوڑا اور اس کی جڑ کو اخلاط کے بگاڑ، بخاراتِ دخانیہ کی ناقص صعودی حرکت اور جِلد کے مسامات کی ساختی خرابی میں تلاش کیا۔ اُسی روشنی میں برصغیر کے ممتاز محقق حکیم دوست محمد صابر ملتانی نے اپنے نظریہ قانونِ مفرد اعضاء کے ذریعے اس عارضے کو مفرد اعضاء — اعصاب، عضلات اور غدود — کی تحریکات اور خلیاتی زہروں کے تناظر میں سمجھایا۔ جدید جِلدیاتی سائنس نے اسی مسئلے کو ہیئر سائیکل کے حیاتیاتی مراحل، ہارمونل اثرات اور جینیاتی استعداد کے پیمانے پر ناپا۔

یہ مقالہ انہی تین مکاتبِ فکر کے درمیان ایک علمی، مدلل اور تقابلی مکالمہ ہے — ایک ایسا مطالعہ جو نہ صرف اسباب کی تہہ تک جاتا ہے بلکہ علاج کی وہ جامع حکمتِ عملی بھی پیش کرتا ہے جو فطرت، روایت اور سائنس کے ثمرات کو یکجا کرتی ہے۔

انتثارُ الشعر: تاریخی و نظریاتی اساس

عربی زبان میں «انتثار» درخت سے پتوں کے جھڑنے کو کہتے ہیں — یہ نام ہی بالوں کے گرنے کی کیفیت کو کتنی شاعرانہ مگر سائنسی دقّت سے بیان کر دیتا ہے۔ قدیم یونانی اطباء کے تصورِ طب میں بالوں کی پیدائش کا منبع وہ لطیف بخارات تھے جنہیں «بخاراتِ دخانیہ» کہا جاتا تھا۔ یہ بخارات ہضمِ اوّل و ثانی کے بعد جسم میں پیدا ہوتے ہیں اور جلد کے مسامات کی راہ سے اوپر کی جانب سفر کرتے ہیں۔ ان کا جو حصہ لطیف ہوتا ہے وہ مسامات سے باہر نکل جاتا ہے، جبکہ کثیف اور گاڑھا حصہ مسامات کی نالیوں میں جم کر بالوں کا مادہ بن جاتا ہے۔

ابنِ سینا نے اپنی شاہکار تصنیف القانون فی الطب میں لکھا کہ جب ان بخارات کی پیداوار ناقص ہو، یا مسامات کی ساخت میں بگاڑ آ جائے، تو بالوں کی جڑیں اپنی گرفت کھو دیتی ہیں اور بال پے در پے گرنے لگتے ہیں۔ اسی نظریے کو رازی نے الحاوی میں اور علی بن عباس نے کامل الصناعۃ میں مزید وضاحت سے بیان کیا۔ یہ تصور اپنی جگہ ایک مکمل پیتھوفزیالوجیکل نظریہ تھا جو آج کی جدید سائنس کے فولیکولر غذائیت کے تصور سے حیرت انگیز حد تک مطابقت رکھتا ہے۔

پیتھوفزیالوجی اور اسباب: تینوں مکاتبِ فکر کا تقابلی جائزہ

کسی بھی مرض کے درست علاج تک پہنچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پہلے اس کے اسباب کو مکمل گہرائی سے سمجھا جائے۔ ذیل میں تینوں طبی نظاموں کی روشنی میں تساقطِ شعر کے اسباب کا تفصیلی اور موازناتی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

۱ — طبِ یونانی اور آیورویدک نقطہ نظر

طبِ یونانی کے اصولوں کے مطابق صحت مند بالوں کی نشوونما کے لیے پانچ بنیادی شرطیں لازمی ہیں جن میں سے کسی ایک کا خلل پوری فزیالوجی کو درہم برہم کر دیتا ہے:

  • جسم میں صالح خون کی فراوانی — کیونکہ خون ہی بخاراتِ دخانیہ کا خام مادہ ہے۔ جتنا خون لطیف اور توانا ہوگا، بالوں کی جڑیں اتنی ہی مضبوط رہیں گی۔
  • خون کا قوام اعتدال پر ہو — نہ حد سے زیادہ پتلا کہ بخاراتِ دخانیہ کے اجزاء آپس میں نہ جڑ سکیں، نہ اس قدر گاڑھا کہ مسامات میں نفوذ ناممکن ہو جائے۔
  • جسم کا مزاج قدرے گرم (حار) ہو — کیونکہ حرارت ہی بخاراتِ دخانیہ کی تخلیق کا محرک ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سرد اور یخ آب و ہوا میں رہنے والے افراد میں بالوں کی نشوونما قدرے سست ہوتی ہے۔
  • رطوبت اور یبوست کا اعتدال — رطوبت کی زیادتی مسامات کو بند اور سست کر دیتی ہے، جبکہ شدید یبوست انہیں اس قدر کھلا کر دیتی ہے کہ مادہ ٹھہر ہی نہیں پاتا۔
  • مسامات کا دہانہ متوسط — اگر مسامات غیر معمولی طور پر کھلے ہوں تو بال باریک اور بے جان ہوتے ہیں، اور اگر انتہائی تنگ ہوں تو بال گھنگریالے اور جڑوں سے سخت ہو جاتے ہیں۔

مزمن امراض جیسے سل و دق اور سوء القنیہ میں جو شدید نقصِ تغذیہ پیدا ہوتا ہے، وہ جسم کو ان بنیادی رطوبات سے محروم کر دیتا ہے جو بالوں کی تشکیل کا سامان فراہم کرتی ہیں — نتیجتاً شدید تساقطِ شعر لاحق ہو جاتا ہے۔

آیورویدی حکمت بالوں کے گرنے کو دوشاؤں کے بگاڑ سے تعبیر کرتی ہے۔ جب پِتا دوشا خراب ہو کر واتا سے مل جاتا ہے تو کھوپڑی کے ٹشوز پانی سے محروم ہو جاتے ہیں اور بال جھڑنے لگتے ہیں۔ اگر ساتھ ہی بگڑی ہوئی رکت اور کاپھا دوشا بالوں کے پٹکوں کے سوراخوں کو مسدود کر دیں تو نئی نشوونما بھی رک جاتی ہے — آیوروید میں اس کیفیت کو «اندر لوپتا» کہتے ہیں جو جدید سائنس کے ایلوپیشیا اریٹا سے مماثل ہے۔

۲ — قانونِ مفرد اعضاء: حکیم صابر ملتانی کا طبی فلسفہ

حکیم دوست محمد صابر ملتانی کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی جسم اعصابی، عضلاتی اور غدی خلیات کے تین نظاموں سے مرتب ہوا ہے — اور امراض انہی نظاموں میں توازن کے خلل کا نام ہیں۔ ان کے اصولوں کے مطابق بالوں کا گرنا اور کھوپڑی کی شدید خشکی بنیادی طور پر عضلاتی اعصابی تحریک کے غلبے — یعنی سوداویت — کا ظہور ہے۔

اس نظام میں تشخیص کی بنیاد نبض ہے۔ عضلاتی اعصابی (سوداوی) نبض کو پہچاننا نسبتاً آسان ہے: کلائی پر ہاتھ رکھتے ہی معمولی دباؤ سے یہ نبض ایک یا دو انگلیوں پر اوپر ابھری ہوئی، سخت اور صلب محسوس ہوتی ہے — جیسے کسی تنی ہوئی رسّی کو چھوا ہو۔ جب عضلاتِ قلب اور شرائین میں یہ کھچاؤ پیدا ہوتا ہے تو کھوپڑی کی باریک رگیں سکڑ جاتی ہیں، خون کی سپلائی معطل ہوتی ہے اور جِلدی خلیات آہستہ آہستہ مردہ ہونے لگتے ہیں۔

صابر ملتانی کے مطابق بالوں کے گرنے کی جگہ بھی بہت کچھ بتاتی ہے: سوداوی یا بواسیری زہر کے غلبے میں سر کے درمیانی حصے سے بال گرتے ہیں، جبکہ آتشکی زہر کے غلبے میں پورے سر اور جسم کے بال یکلخت ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر کھوپڑی پر مسلسل پھنسیاں نمودار ہوتی رہیں تو یہ آنتوں کی سوزش کی علامت ہے۔

۳ — جدید جِلدیاتی سائنس کا موقف

جدید سائنس بالوں کی نشوونما کو ایک مرحلہ وار چکر کے طور پر سمجھتی ہے: ایناجن (فعال نشوونما، دو سے چھ سال)، کیٹاجن (عبوری مرحلہ، دو سے تین ہفتے) اور ٹیلوجن (آرام کا مرحلہ، تین ماہ)۔ جب جسم کوئی شدید صدمہ سہتا ہے تو ہزاروں فولیکلز وقت سے پہلے ایناجن چھوڑ کر ٹیلوجن میں داخل ہو جاتے ہیں، اور دو تین ماہ بعد بال گچھوں کی صورت میں جھڑنے لگتے ہیں — یہ کیفیت ٹیلوجن ایلوویئم کہلاتی ہے۔

اس کے بڑے محرکات میں شدید بخار (ٹائیفائیڈ، ملیریا)، بڑی جراحی، زچگی، دائمی ذہنی دباؤ اور بعض ادویات شامل ہیں جن میں بیٹا بلاکرز، لیتھیم، ریٹینوئڈز اور مانع حمل دوائیں قابلِ ذکر ہیں۔ موروثی گنج پن میں ٹیسٹوسٹیرون کی مصنوعاتی اکائی DHT ہیئر فولیکلز کو آہستہ آہستہ سکیڑ کر مردانہ گنج پن پیدا کرتی ہے۔

جدول ۱ — تشخیصی معیار کا کثیر الجہتی موازنہ

تشخیصی معیارطبِ یونانیجدید سائنسقانونِ مفرد اعضاء
نبض کی کیفیتنبضِ سوداوی — سخت، متواتر اور بھاریدل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کی مانیٹرنگعضلاتی اعصابی نبض — کلائی پر اوپر اور صلب
جِلدی علاماتجلد کا پتلا پن، خشکی اور مسامات کا پھیلاؤکھوپڑی پر اسکیلنگ، سرخ دھبے اور گول گنج دائرےسر کے درمیان سے بال اڑنا، ناخنوں پر سفید نشانات
تشخیصی ذرائعقارورہ کا رنگ اور تلچھٹ کا معائنہخون کے ٹیسٹ: تھائیرائیڈ، آئرن، زنک، ہارمونل پروفائلزبان کا رنگ، ہونٹوں پر پپڑی اور جسمانی تحریک کا جائزہ
بنیادی اندرونی بگاڑسوداوی خلط کا غلبہ اور بخاراتِ دخانیہ کا بگاڑجینیاتی اثرات، DHT کا حملہ، فولیکولر مائیکرو سوزشعضلاتی تحریک سے سوداوی زہروں کی خون میں کثرت

طریقہ ہائے علاج: روایت اور جدیدیت کا سنگم

ایک ماہر طبیب وہ ہوتا ہے جو محض علامت کو نہ دیکھے بلکہ اس کی جڑ تک پہنچے۔ تساقطِ شعر کا علاج بھی ایسا ہی ہے — اندرونی اصلاح کے بغیر بیرونی تدابیر ادھوری ہیں، اور بیرونی تغذیہ کے بغیر اندرونی دوا کا اثر سست ہوتا ہے۔

الف — طبِ یونانی کا جامع علاجی خاکہ

طبِ یونانی کا اصولِ علاج یہ ہے کہ دماغ کو تقویت دی جائے، صالح خون کو کھوپڑی کی طرف متوجہ کیا جائے اور مسامات کی اصلاح کی جائے۔ بہت اہم بات یہ ہے کہ اطباء گرم یا مرطب ادویات براہِ راست سر پر لگانے کی بجائے پہلے جِلد کو رگڑ کر سرخ کرنے کی ہدایت کرتے ہیں — اس سے خون اوپر آتا ہے اور اس کے بعد روغنیاتِ قابضہ زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ چمیلی کا تیل اپنی قابض خصوصیات کی بناء پر بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں بے نظیر سمجھا جاتا ہے۔

سر دھونے کے لیے اطباء نے «غسولُ الشعر» کا تصور دیا ہے — لعابدار ادویات جیسے کفِ دریا اور چونا ملا کر دھونے سے مسامات صاف ہوتے ہیں اور بخاراتِ دخانیہ کے نفوذ کی راہیں کھلتی ہیں۔ مسامات کو فعال رکھنے کے لیے روغنِ سویا اور کارڈل (سرسوں کا کلو) بطور طِلاء بھی استعمال ہوتا ہے۔

ایک سچا طبی کیس اس علاج کی گواہی دیتا ہے: چوبیس سالہ مریضہ جو تیز بخار کے بعد شدید ٹیلوجن ایلوویئم کا شکار ہوئی، اسے ساٹھ دن کے یونانی کورس پر رکھا گیا جس میں رات کو اطریفل اسطوخودوس دس گرام نیم گرم پانی سے دی گئی اور ہفتے میں تین بار روغنِ آملہ، روغنِ بیضۂ مرغ اور برگِ پرسیاوشان کے مرکب سے مساج کیا گیا — ساٹھ دن میں تساقط مکمل طور پر رک گیا اور نئی نشوونما شروع ہوئی۔

غذائی ہدایات میں گرم خشک مزاج والی اشیاء کو ترجیح دی جاتی ہے: اونٹ یا بکرے کا گوشت، دیسی مچھلی، دارچینی اور سیاہ مرچ۔ بلغمی، بادی اور سرد غذاؤں سے پرہیز ضروری قرار دیا گیا ہے۔

ب — آیورویدک معالجات

آیوروید کا علاجی راستہ دو مرحلوں میں طے ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میں سودھنا کے پانچ اعمال — قے، اسہال، انیمہ (بستی)، فصد (رکت موکشن) اور ناک کے راستے دوا ڈالنا (نسیا) — کے ذریعے جسم سے زہریلے مادے نکالے جاتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں شامنا کے تحت بگڑے ہوئے دوشاؤں کو پرسکون کیا جاتا ہے۔

کھوپڑی پر دھارا ڈالنے کا عمل شیرودھارا اور جڑی بوٹیوں کے گرم تیلوں سے شیرو ابھیانگا کا مساج خون کی گردش کو تیز کرتے ہیں۔ برنگراج، برہمی، آملہ، میتھی اور ملٹھی کے تیل واتا کو، جبکہ گڑہل اور نیم کے تیل پِتا اور کاپھا کو پرسکون کرتے ہیں۔ شیکاکائی، ریٹھہ اور ایلو ویرا قدرتی اور نرم کلینزر کا کام کرتے ہیں۔

ج — قانونِ مفرد اعضاء کے آزمودہ نسخے

قانونِ مفرد اعضاء کے تحت مقصد یہ ہے کہ عضلاتی اعصابی تحریک کی شدید خشکی کو توڑ کر جسم میں غدی رطوبات اور حرارت کا بہاؤ بحال کیا جائے۔ اس سلسلے میں درج ذیل نسخہ جات انتہائی آزمودہ اور مشہور ہیں:

  • روغنِ امر بیل (حکیم عبدالغفار فیصل آبادی) — ایک کلو خالص سرسوں کے تیل میں ڈھائی سو گرام امر بیل ڈال کر دھیمی آنچ پر اس وقت تک پکائیں کہ بیل جل کر کوئلہ ہو جائے۔ چھان کر جڑوں میں لگانے سے بالوں کا باریک ہونا اور گرنا فوری بند ہوتا ہے۔
  • روغنِ بے نظیر — روغنِ کنجد، ناریل کا تیل، آملہ، ماجوپھل اور ہلیلہ سیاہ کو دھیمی آنچ پر پکا کر چھانیں۔ یہ تیل بالوں کو لمبا، چمکدار اور نرم بناتا ہے اور جڑوں میں نئی جان ڈالتا ہے۔
  • تیل گوکھرو سبز — سبز گوکھرو کوٹ کر اس کا رس نکالیں اور برابر مقدار میں سرسوں کا تیل ملا کر آگ پر پکائیں؛ جب پانی جل جائے تو تیل محفوظ کر لیں۔ یہ تیل بالوں کو گرنے اور سفید ہونے دونوں سے بچاتا ہے۔

کیمیائی شیمپو کی جگہ آملہ، ریٹھہ، شیکاکائی، کلونجی، میتھی دانہ اور اجوائن کا سفوف پانی میں بھگو کر استعمال کریں — یہ نہ صرف بالوں کو صاف کرتا ہے بلکہ جڑوں کو قدرتی نمی اور تغذیہ بھی فراہم کرتا ہے۔

د — جدید سائنس کا علاجی خاکہ

جدید طب اینڈروجینیٹک ایلوپیشیا کے لیے ٹاپیکل مینو آکسیڈیل (خون کے بہاؤ کو بڑھانے کے لیے) اور زبانی فیناسٹرائیڈ (DHT کی پیداوار روکنے کے لیے) تجویز کرتی ہے۔ ایلوپیشیا اریٹا میں کورٹیکوسٹیرائڈز کے انجیکشن یا امیونوموڈیولٹرز دیے جاتے ہیں، تاہم یہ ادویات اپنے مضر اثرات کی وجہ سے ماہر ڈاکٹر کی نگرانی کے بغیر استعمال نہیں ہونی چاہئیں۔

غیر جارحانہ تکنیکوں میں کم سطحی لیزر تھراپی (LLLT) اور پلیٹلیٹ رچ پلازما (PRP) کے انجیکشن فولیکلز کی خلیاتی سرگرمی کو بحال کرتے ہیں۔ غذائیت کی اصلاح میں روزانہ چالیس سے ساٹھ گرام پروٹین (انڈے، دال، دہی) کے ساتھ آئرن، وٹامن ڈی، زنک اور بائیوٹین کے سپلیمنٹس ضروری قرار دیے گئے ہیں۔ پیاز کا رس — جس میں موجود سلفر کولیجن کی پیداوار بڑھاتا ہے — اور ناریل کا تیل جدید سائنس کی تائید یافتہ گھریلو تدابیر ہیں۔

جدول ۲ — علاجی طریقوں کا تقابلی خاکہ

پہلوطبِ یونانیجدید سائنسقانونِ مفرد اعضاء
بنیادی نظریہاخلاط کا توازن اور بخاراتِ دخانیہہیئر سائیکل اور فولیکولر جینیاتی حساسیتمفرد اعضاء کی تحریک و تسکین اور خلیاتی زہر
اندرونی دوااطریفل اسطوخودوس، خمیرہ جات، معجون مربایاتمینو آکسیڈیل، فیناسٹرائیڈ، ملٹی وٹامنزتریاقِ اعظم، مصفیٰ سودا نسخہ جات، غدی ملین
بیرونی روغنروغنِ آملہ، روغنِ چمیلی، روغنِ بیضۂ مرغروزمیری آئل، کیرئیر آئل، PRP تھراپیروغنِ امر بیل، روغنِ بے نظیر، تیل گوکھرو
غذائی ہدایاتگرم خشک غذائیں: اونٹ کا گوشت، دارچینی، سیاہ مرچپروٹین، زنک، آئرن، وٹامن ڈیغدی رطوبتی غذائیں، عضلاتی تحریک کو تحلیل کریں
پرہیزبلغمی، بادی اور سرد غذائیںہیٹ اسٹائلنگ، سخت کیمیکل، پروسیسڈ فوڈچائے، آلو، بڑا گوشت، سوداوی سرد اشیاء

نچوڑ اور حتمی علمی سفارشات

اس تفصیلی تقابلی مطالعے کا لبِ لباب یہ ہے کہ بالوں کا گرنا جسمانی نظام کی اندرونی بے اعتدالی کا بیرونی اظہار ہے — اور تینوں طبی مکاتبِ فکر، باوجود اپنے مختلف اسلوبِ تعبیر کے، اسی نتیجے تک پہنچتے ہیں۔

طبِ یونانی کا «یبوست اور ناقص بخاراتِ دخانیہ» کا نظریہ جدید سائنس کے «کیپلیری تناؤ اور فولیکولر مائیکرو سوزش» کے تصور سے بنیادی طور پر ہم آہنگ ہے — دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ بالوں کی جڑوں تک خون کی ناکافی سپلائی اور غذائیت کی عدم فراہمی بالوں کی موت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اسی طرح حکیم صابر ملتانی کے «عضلاتی اعصابی تحریک اور سوداوی زہر» کا نظریہ جدید سائنس کے ٹیلوجن ایلوویئم اور مائیکرو نیوٹرینٹس کی کمی کی پیتھوفزیالوجی کی بہترین تفسیر پیش کرتا ہے۔

ایک ماہر اور تجربہ کار طبیب کی حیثیت سے میری سفارشات درج ذیل ہیں:

  • اندرونی اصلاح کے لیے اعصابی تناؤ اور خلطی بگاڑ کو دور کرنے والے دماغی مقویات — خصوصاً اطریفل اسطوخودوس — کا باقاعدہ استعمال کریں۔
  • بیرونی علاج میں یہ ترتیب لازمی اپنائیں: پہلے کھوپڑی کو ہلکے ہاتھ سے رگڑ کر سرخ کریں، پھر قابض روغنیات — روغنِ چمیلی، روغنِ امر بیل — جڑوں میں جذب کریں۔
  • کیمیائی شیمپو اور تیز گرم پانی کو یکسر ترک کریں؛ ان کی جگہ آملہ، ریٹھہ اور شیکاکائی کے قدرتی غسول کو اپنائیں۔
  • روزانہ کی غذا میں صالح خون پیدا کرنے والے اجزاء — پروٹین، زنک اور آئرن — کی وافر مقدار یقینی بنائیں تاکہ بالوں کے فولیکلز کو اندر سے مستقل تغذیہ ملتا رہے۔
  • ذہنی تناؤ، نیند کی کمی اور بے قاعدہ طرزِ زندگی کو درست کریں — کیونکہ یہ عوامل خاموشی سے بالوں کی موت کا سامان کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ نہ تو ہر تساقط ایک جیسا ہوتا ہے اور نہ ہی ہر علاج ہر مریض پر یکساں اثر کرتا ہے۔ ماہر طبیب کی فرق یہ ہے کہ وہ نبض، علامات، مزاج اور تاریخِ مرض کو سامنے رکھ کر ہر مریض کے لیے انفرادی علاجی خاکہ ترتیب دیتا ہے — اور یہی روایتی طب کی وہ خوبی ہے جو اسے آج بھی زندہ اور موثر رکھتی ہے۔

⬥  ⬥  ⬥

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

کُلُّ عِلْمٍ یُؤَدِّی إِلَى اللّٰهِ — ہر علم جو اللہ کی طرف لے جائے وہی سچا علم ہے

ڈائون لوڈ کے لئے یہاں کلک کریں

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]