
چقندر کے غذائی اور طبی فوائد
از: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
تعارف
چقندر ایک ایسی سبزی ہے جو غذائی اجزاء سے بھرپور ہے اور جس سے بے شمار طبی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ قدیم طب اور جدید سائنس دونوں اس کی افادیت کی تصدیق کرتے ہیں۔
- بلڈ پریشر میں کمی
چقندر میں قدرتی نائٹریٹ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ جب یہ ہضم ہوتا ہے تو جسم میں نائٹرک آکسائڈ بنتی ہے، جو خون کی شریانوں کو کشادہ کرتی ہے اور خون کا دباؤ کم کرتی ہے۔ طبی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو چار ہفتوں تک روزانہ ڈھائی سو ملی لیٹر چقندر کا جوس پلانے سے ان کا بلڈ پریشر نمایاں طور پر کم ہوا۔
قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے: چقندر کا مزاج غدی عضلاتی ہے، یعنی یہ جگر اور غدود کو متحرک کرتا ہے۔ جب غدود میں تحریک ہوتی ہے تو خون کی شریانوں کے عضلات ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور شریانیں کھل جاتی ہیں۔ جدید سائنس اسی عمل کو Vasodilation کہتی ہے۔
- جسمانی کارکردگی میں بہتری
چقندر کا جوس پلازما نائٹریٹ بڑھاتا ہے، جس سے جسم میں آکسیجن کی مقدار بڑھتی ہے اور مجموعی جسمانی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ خاص طور پر سائیکلنگ اور پیدل چلنے والوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔
- اینٹی آکسیڈنٹس کا خزانہ
چقندر میں اینٹی آکسیڈنٹس بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں جو جسم میں فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصانات کو روکتے ہیں، آکسیڈیٹو تناؤ کم کرتے ہیں اور سوزش میں کمی لاتے ہیں۔ اس کے علاوہ چقندر کا جوس فولک ایسڈ اور آئرن سے بھرپور ہوتا ہے، جو خون کی کمی دور کر کے جسم میں سرخ خلیات کی تعداد بڑھاتا ہے۔
- حاملہ خواتین کے لیے فائدہ
حمل کے دوران جسم میں خون کا حجم تقریباً پچاس فیصد بڑھ جاتا ہے، جس سے آئرن اور فولک ایسڈ کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ چقندر میں دونوں اجزاء وافر مقدار میں موجود ہیں۔ فولک ایسڈ بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما کے لیے ضروری ہے، جبکہ آئرن ہیموگلوبن بڑھا کر ماں کو خون کی کمی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ چقندر میں موجود نائٹریٹ نال (Placenta) کی طرف خون کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں۔
- قبض اور بواسیر سے نجات
ایک کپ چقندر میں تقریباً ساڑھے تین گرام فائبر پایا جاتا ہے۔ یہ فائبر آنتوں میں خوراک کی آمد و رفت تیز کر کے قبض دور کرتا ہے۔ قبض کا خاتمہ خود بخود بواسیر کے خطرے کو بھی کم کر دیتا ہے۔
- پھیپھڑوں کی حفاظت
چقندر پھیپھڑوں کے انفیکشن کے خطرات کم کرتا ہے۔ اسے بطور سلاد یا جوس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- دماغی صحت
دماغ کو درست کام کرنے کے لیے مسلسل آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ چقندر عضلات کے ساتھ ساتھ دماغ تک بھی آکسیجن کی فراہمی بہتر بناتا ہے، جس سے ذہنی صلاحیت اور یادداشت میں بہتری آتی ہے۔
- کینسر سے بچاؤ
چقندر کو اس کا گہرا سرخ اور زرد رنگ دینے والے مرکبات کو بیٹالینز کہا جاتا ہے۔ یہ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہیں جو خلیات کو نقصاندہ تبدیلیوں سے بچاتے ہیں اور کینسر کے خلیات کی افزائش کو روکتے ہیں۔
- ذیابیطس کا تدارک
چقندر میں الفا لیپوک ایسڈ نامی مرکب پایا جاتا ہے جو خون میں گلوکوز کی سطح کم کرنے کے ساتھ ساتھ انسولین کی حساسیت بڑھاتا ہے۔ اس طرح یہ ذیابیطس کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
- ہاضمے کی خرابی
یرقان یا دیگر وجوہات سے نظامِ انہضام خراب ہو جائے، متلی یا اسہال ہو تو چقندر کے رس میں ایک چمچ لیموں کا رس ملا کر پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔
بیرونی استعمالات
چہرے کے داغ دھبےچقندر کو کاٹ کر پانی میں ابالیں۔ یہ پانی روئی سے چہرے پر لگائیں، پانچ سے سات منٹ بعد دھو لیں اور پھر گلاب کا عرق لگا لیں۔ چند دن کے استعمال سے داغ دھبے ہلکے پڑنے لگتے ہیں۔
سائنسی وجہ: چقندر میں وٹامن سی اور بیٹالینز پائے جاتے ہیں جو میلانین کی ضرورت سے زیادہ پیداوار روک کر رنگت نکھارتے ہیں۔ گلاب کا عرق جلد کے مساموں کو بند کر کے نمی برقرار رکھتا ہے۔
ہونٹوں کا قدرتی گلابی پنرات سونے سے پہلے چقندر کا ٹکڑا ہونٹوں پر ہلکا رگڑیں یا رس میں ملائی ملا کر لگائیں۔ بیٹالینز قدرتی پگمنٹ کا کام کر کے ہونٹوں کی سیاہی دور کرتے ہیں۔
بالوں کی صحتچقندر کے رس کو بالوں کی جڑوں میں لگا کر مساج کریں اور آدھے گھنٹے بعد دھو لیں۔ اس میں موجود نائٹریٹ جڑوں میں خون کا بہاؤ بڑھاتے ہیں، بالوں کا گرنا کم ہوتا ہے اور خشکی دور ہوتی ہے۔
قدرتی بالوں کا رنگچقندر کے رس میں مہندی اور ناریل کا تیل ملا کر بالوں پر لگائیں۔ یہ بالوں کو کسی کیمیکل کے بغیر خوبصورت سرخ مائل رنگ دیتا ہے۔
مفید مرکبات
اندرونی استعمال کے مرکباتذیابیطس کے لیے: خشک کریلا، خشک چقندر اور جامن کی گٹھلی برابر وزن میں پیس کر سفوف بنائیں۔ صبح شام آدھا چمچ پانی کے ساتھ لیں۔
خون کی کمی کے لیے: چقندر کے پاؤڈر میں معمولی مقدار میں خشک کریلا اور نوشادر ملا کر کپسولوں میں بھر لیں۔ روزانہ دو بار ایک کپسول لیں۔
ڈی ٹاکس مشروب: چقندر کا رس، گاجر کا رس اور تھوڑی سی ادرک ملا کر صبح نہار منہ پئیں۔ یہ کولیسٹرول اور یورک ایسڈ کم کرنے میں مفید ہے۔
بیرونی استعمال کے مرکباتچھائیوں کے لیے فیس پیک: چقندر کے پاؤڈر میں حسنِ یوسف اور عرقِ گلاب ملا کر پیسٹ بنائیں اور بیس منٹ چہرے پر لگائیں۔
بالوں کا تیل: تل یا سرسوں کے تیل میں چقندر کا رس اور مہندی کے پتے ڈال کر پکائیں، چھان کر رکھ لیں۔ یہ بالوں کو مضبوط اور چمکدار بناتا ہے۔
ہونٹوں کا بام: ناریل کے تیل میں موم پگھلا کر چقندر کا پاؤڈر ملائیں اور ٹھنڈا کر کے استعمال کریں۔
چقندر کو خشک کر کے محفوظ کرنا
چقندر کو چھیل کر باریک کاٹ لیں اور پچاس سے ساٹھ ڈگری سینٹی گریڈ پر اوون یا سولر ڈرائر میں خشک کریں۔ تیز دھوپ میں سکھانے سے اینٹی آکسیڈنٹس ضائع ہو سکتے ہیں۔ خشک ہونے کے بعد گرائنڈر میں پیس کر شیشے کے ہوابند برتن میں محفوظ کریں۔ اس طرح یہ پاؤڈر چھ ماہ سے ایک سال تک قابلِ استعمال رہتا ہے۔
احتیاطی ہدایات
جن افراد کا مزاج پہلے سے گرم ہو یا جن میں غدی سوزش پائی جائے، انہیں اندرونی مرکبات کسی ماہر طبیب کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ بیرونی استعمال سے پہلے جلد کے ایک چھوٹے حصے پر پیچ ٹیسٹ ضرور کریں، خاص طور پر حساس جلد والے افراد۔
چقندر کے مزید طبی فوائد جاننے کے لیے کسی ماہرِ غذائیات یا حکیم سے رابطہ کریں۔


