
آیئنہ ان کا، عکس ہمارا
قوموں کے عروج و زوال کی کہی اَن کہی داستان
طبائع الاستبداد ومصارع الاستعباد
از قلم
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
شام سے تعلق رکھنے والے معروف مسلم مفکر اور مصلح عبد الرحمن الکواکبی (1855–1902) کی ایک شاہکار اور انقلابی تصنیف ہے۔ یہ کتاب عرب اور اسلامی دنیا میں سیاسی شعور بیدار کرنے، آمریت کے خلاف آواز اٹھانے اور جمہوریت و آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک بنیادی ستون مانی جاتی ہے۔
عبد الرحمن الکواکبی نے اس کتاب میں انتہائی گہرائی سے آمریت (استبداد) کی نفسیات، اس کے اسباب، معاشرے پر اس کے

مہلک اثرات اور اس سے نجات کے طریقوں پر بحث کی ہے۔
ذیل میں اس کتاب کا تفصیلی خلاصہ اہم نکات کی صورت میں پیش ہے:
1، استبداد (آمریت) کیا ہے؟
الکواکبی کے نزدیک استبداد کا مطلب یہ ہے کہ کوئی فردِ واحد یا مخصوص ٹولہ بغیر کسی آئین، قانون یا عوامی جوابدہی کے، اپنی مرضی کے مطابق حکومت کرے۔ وہ لکھتے ہیں کہ آمر (مستبد) اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے اور عوام کو اپنی بھیڑ بکریاں، جن پر وہ جیسے چاہے حکومت کرے۔
2، استبداد اور مذہب کا گٹھ جوڑ (الاستبداد والدين)
کتاب کا یہ حصہ انتہائی اہم ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ تاریخ میں آمروں نے ہمیشہ اپنے سیاسی اقتدار کو طول دینے کے لیے مذہب کا غلط استعمال کیا ہے۔
آمر ایسے درباری علماء یا مذہبی رہنماؤں کی سرپرستی کرتے ہیں جو عوام کو یہ پٹی پڑھائیں کہ “حاکم کی اطاعت ہر حال میں فرض ہے، خواہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو”۔
کواکبی سچے دین اور سیاسی آمریت میں فرق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حقیقی اسلام آزادی، مشاورت (شوریٰ) اور عدل کا علمبردار ہے، جبکہ آمرانہ نظام میں مذہب کی روح کو مسخ کر کے اسے عوام کو غلام بنائے رکھنے کا آلہ بنا دیا جاتا ہے۔

3، استبداد اور علم (الاستبداد والعلم)
الکواکبی کے مطابق، آمریت اور علمِ نافع (ایسا علم جو شعور بیدار کرے) ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں۔
آمر کبھی نہیں چاہتا کہ اس کی رعایا تعلیم یافتہ، باشعور اور اپنے حقوق سے واقف ہو۔ وہ ایسے علوم (جیسے فلسفہ، سیاسیات، قانون اور تاریخ) کا راستہ روکتا ہے جو انسان کو سوال کرنا سکھاتے ہیں۔
آمر صرف ان علوم یا ہنر کی اجازت دیتا ہے جو اس کے اقتدار کو فائدہ پہنچائیں (جیسے مخصوص دفتری کام یا تعیشات کا سامان)۔ وہ عوام کو جہالت اور وہم و گمان میں رکھنا پسند کرتا ہے کیونکہ جاہل عوام پر حکومت کرنا آسان ہوتا ہے۔
4، استبداد اور اخلاق (الاستبداد والأخلاق)
مصنف کا کہنا ہے کہ آمریت صرف نظامِ حکومت کو ہی تباہ نہیں کرتی، بلکہ پورے معاشرے کے اخلاق کا جنازہ نکال دیتی ہے۔
ایک آمرانہ معاشرے میں سچائی، عزتِ نفس، شجاعت اور امانت داری جیسے اخلاق ختم ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہاں بقا صرف خوشامد، جھوٹ، منافقت اور جاسوسی کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔
لوگ بزدل ہو جاتے ہیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
5، استبداد اور مال و معیشت (الاستبداد والمال)
الکواکبی کے مطابق، آمریت معیشت کو برباد کر دیتی ہے۔
آمرانہ نظام میں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے۔ عوام پر بھاری ٹیکس لگائے جاتے ہیں، لیکن وہ پیسہ عوام کی فلاح پر خرچ ہونے کی بجائے حاکموں کے محلات، عیاشیوں اور ان کی حفاظت کرنے والی فوج یا پولیس پر خرچ ہوتا ہے۔
لوگ محنت کرنا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ انہیں یقین نہیں ہوتا کہ ان کی کمائی ان کے پاس محفوظ رہے گی یا کوئی ظالم اسے چھین لے گا۔
6، استبداد کا علاج اور متبادل (علاج الاستبداد)
کتاب کے آخری حصے میں عبد الرحمن الکواکبی اس موذی مرض کا علاج تجویز کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آمریت کو راتوں رات کسی خونی انقلاب سے ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اگر عوام کا شعور بیدار نہ ہو تو ایک آمر جائے گا اور اس کی جگہ دوسرا نیا آمر آ جائے گا۔ ان کے تجویز کردہ اصول یہ ہیں:
1، امت کو بیدار کرنا (الامۃ تشعر بالآلام):
سب سے پہلے عوام میں یہ احساس پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور آزادی ان کا بنیادی حق ہے۔
2، پرامن اور فکری تبدیلی: آمریت کا مقابلہ طاقت سے کرنے سے پہلے نظریاتی اور فکری محاذ پر کرنا چاہیے تاکہ عوام خود آزادی کے محافظ بنیں۔
3، متبادل نظام کی تیاری:
الکواکبی ایک ایسے سیاسی نظام کی وکالت کرتے ہیں جو آئینی (Constitutional) ہو، جہاں قانون کی بالادستی ہو، حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہو، اور فیصلے شوریٰ (مشاورت/پارلیمنٹ) کے ذریعے کیے جائیں۔
حاصلِ کلام (Conclusion):
طبائع الاستبداد” محض ایک سیاسی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی آزادی کا ایک منشور ہے۔ عبد الرحمن الکواکبی کا یہ پیغام آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا سو سال پہلے تھا کہ:
کوئی بھی قوم اس وقت تک زوال سے نہیں نکل سکتی جب تک وہ اپنے اندر سے خوف کو ختم کر کے آزادی اور انصاف کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہ بنا لے۔”
مقدمہ میں لکھاہے:۔
استبداد ایک ایسی بیماری ہے جو تاریخ کے بعض موڑ پر کچھ قوموں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ حکمرانی کی بدترین شکل ہے، ناانصافی اور ظلم کے زیر اقتدار معاشرے میں انسانوں اور دیگر چیزوں دونوں کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن ہے۔ اس سے زندگی کے تمام گوشوں میں زوال، صلاحیت کا گھٹن اور بربادی، اور معاشرے کے تمام طبقات، حکمرانوں اور حکمرانوں کے درمیان ریاکاری اور دکھاوے کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔ الکوکیبی اپنے پورے معاشرے اور قوم کے ساتھ اس قسم کی حکمرانی کا شکار ہوئے اور آج بہت سے معاشرے اور ممالک اس کا شکار ہیں۔ یہ کہنا درست ہے کہ ’’تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ یہی حقیقت ہے جس نے ہمیں الکوکیبی کی کتاب The Nature of Depotism پر توجہ مرکوز کرنے پر اکسایا۔ ہم نے اس کے متن کی تنقیدی ایڈیشن اور تدوین کا کام شروع کیا اور اسے “آزادی اور استبداد کے درمیان” کے عنوان سے ایک مضمون کے ساتھ پیش کیا۔ مقصد اس چھوٹی سی کتاب کو پڑھنے کے فائدے کو وسیع کرنا ہے، جو مواد سے بھرپور ہے اور جس میں اس کے مصنف نے اس دیندار انسان کی مثال دی ہے جو سچائی کو برقرار رکھنے اور اس کا اعلان کرنے کے لیے اپنی زندگی کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے۔ اس کتاب میں، ہم الکوکیبی کو ظلم کے غلبہ والے دور میں غیر معمولی دلیری اور صاف گوئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، جہاں اظہار رائے کی آزادی کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے، اور ایک بے رحم، بہرے اور ناقابل فہم حکومت کے تحت۔ صرف ایک آدمی جو خدا پر یقین رکھتا ہو اور سچی لگن کے ساتھ جدوجہد کرتا ہو، اور جس نے اصلاح پر یقین رکھا ہو اور اپنی زندگی اور اس کے پاس جو کچھ تھا وہ اس کے لیے وقف کر دیا ہو، وہ اس کتاب کو لکھنے کی ہمت کر سکتا تھا۔
کتاب “استبداد کی فطرت” اپنے تمام مشمولات کے ساتھ نہ صرف حکومتوں پر تنقید کرتی ہے بلکہ لوگوں کو ان کی دردناک حقیقت سے روشناس کراتی ہے۔ یہ عمل کی دعوت ہے، سوئے ہوئے عوام کی بیداری ہے کہ وہ ہر جابر ظالم اور ہر لالچی استعمار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ ان تمام وجوہات کی بناء پر میں اصلاح، آزادی اور ترقی کے لیے کوشاں اپنے نوجوانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس بلند آواز، اس بے باک اور اظہار خیال کو غور سے پڑھیں تاکہ یہ ان کے دلوں میں جڑ پکڑ لے اور وہ عظمت کے متلاشی بن جائیں، نہ کہ محض تسبیح کے متلاشی۔ڈاکٹر اسد السہمرانی
لمحة عن الكتابتحميل كتاب طبائع الاستبداد ومصارع الاستعباد pdf الكاتب عبد الرحمن الكواكبي
عن الكتاب: كتاب طبائع الاستبداد ومصارع الاستعباد من أشهر الكتب على الاطلاق فى مجال الحريات حيث أن الكتاب يعالج مسألة الإستبداد السياسي وهو أمر كان منتشراً إلى وقت قريب في معظم الدول العربية وتميز عبد الرحمن الكواكبي بإنه قد وضع يده على أصل الداء وهو تركيز السلطة في يد شخص واحد أو حزب أو جماعة بشكل مطلق وعدم إشراك الشعب والعامة في أمور بلدهم , السلطة المطلقة مفسدة مطلقة
هذا الكتاب من تأليف عبد الرحمن الكواكبي و حقوق الكتاب محفوظة لصاحبها


