پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

خانزادے اور میو قوم میوات کی تاریخ کے آئینے میں ایک تحقیقی جائزہ

خانزادے اور میو قوم
میوات کی تاریخ کے آئینے میں ایک تحقیقی جائزہ

از: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

حصہ اول: تعارف اور تاریخی پس منظر
تمہید — میوات کا تاریخی خطہ اور شناخت کا سوال
میوات، شمالی ہند کا وہ تاریخی خطہ ہے جو دہلی، آگرہ اور جے پور کے تزویراتی مثلث کے درمیان واقع ہے۔ یہ علاقہ ایک قدیم قبیلے “میو” کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کا جغرافیائی دائرہ مختلف ادوار میں میوؤں کی پیشقدمی اور حملہ آوروں کی یلغار کے ساتھ بدلتا رہا۔ میوات کی الکلائی اور بنجر زمین نے یہاں کے باشندوں کو محنتی اور جفاکش بنایا۔ بنجر زمین نے عورتوں کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور کیا۔ تاہم اراولی کی پہاڑیاں ان کے لیے قدرتی نعمت ثابت ہوئیں جو انہیں ایندھن اور فطری دفاعی حصار فراہم کرتی تھیں۔

قرونِ وسطیٰ میں میوات کے باشندوں میں میو قوم کے علاوہ خانزادے، جاٹ، گوجر، اہیر، راجپوت، بقال، برہمن، مینا، ٹھٹھار اور مالی جیسے متعدد کاشتکار طبقے شامل تھے۔

خانزادے: اصل، قبولِ اسلام اور ریاست کا قیام

میوات کے خانزادے مسلمان راجپوت سرداروں کا وہ خاندان تھا جس نے چودہویں صدی کے آخر سے سولہویں صدی کے اوائل تک میوات کی نیم خودمختار ریاست پر حکومت کی۔ یہ راجپوتوں کے جادون قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آبا و اجداد، جن میں لکھنا پال اور اس کے بیٹے سمترا پال (بعد میں بہادر نہر خان) شامل تھے، سلطان فیروز شاہ تغلق کے دور میں اسلام قبول کر کے دہلی سلطنت کی توسیع کے ساتھ جاگیریں اور اثرورسوخ حاصل کرنے کے لیے مسلمان ہوئے۔
ایک روایت کے مطابق خانزادوں کے آبا و اجداد نے ۱۳۵۰ء کی دہائی میں فیروز شاہ تغلق کی دعوت اور نصیرالدین چراغ دہلوی کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا۔

برطانوی مؤرخ F.C. Channing نے اپنی کتاب Land Revenue Settlement of Gurgaon District (1882ء) میں خانزادوں کی سماجی و معاشی حیثیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے، جبکہ Denzil Ibbetson کی Punjab Castes (1911ء) اور H.A. Rose کی A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West (1980ء) میں بھی ان کے نسلی اور قبائلی ڈھانچے کا تجزیہ موجود ہے۔

خانزادوں اور میوؤں کا باہمی تعلق

میوات کو عام طور پر میوؤں کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا ہے، مگر تاریخی طور پر انہوں نے یہ خطہ خانزادوں اور دیگر مسلمان و ہندو سماجی گروہوں کے ساتھ مشترکاً آباد کیا۔ خانزادے میوات کا حکمران طبقہ تھے اور دہلی سلطنت اور ابتدائی مغل سلطنت کے سیاسی معاملات میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔
خانزادوں نے حاکمانہ اور زمینداری دونوں حیثیتوں میں متعدد سلاطین سے جاگیریں حاصل کیں، لودی خاندان جیسے گھرانوں سے شادی بیاہ کے ذریعے تعلقات استوار کیے، کوٹلہ اور تجارہ جیسے دارالحکومتوں میں مساجد تعمیر کیں، اور میو قبائل میں ڈکیتی کا خاتمہ کرتے ہوئے مقامی راجپوت روایات کے ساتھ اسلامی ثقافت کو یکجا کیا۔

جدید محقق Surajbhan Bhardwaj نے اپنی کتاب Contestation and Accommodation: Mewat and Meos in Mughal India (Oxford University Press, 2016ء) میں اس پیچیدہ تعلق کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔

'میواتی' اصطلاح کا ابہام

میوات میں ‘میواتی’ کی اصطلاح تاریخی طور پر ابہام کی شکار رہی ہے۔ بعض اوقات یہ خطے کے تمام باشندوں کے لیے استعمال ہوتی تھی اور بعض اوقات خاص طور پر حکمران خانزادہ طبقے کی نشاندہی کرتی تھی۔ یہی ابہام خانزادہ-میو تعلق کی پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

حصہ دوم: جنگِ خانوہ (1527ء) اور میوات کی تاریخ کا نقطۂ انقلاب
راجہ حسن خان میواتی: آخری خانزادہ حکمران
راجہ حسن خان میواتی (وفات ۱۷ مارچ ۱۵۲۷ء) میوات کے مسلمان خانزادہ راجپوت حکمران تھے۔ پچھلے حکمران راجہ علاول خان کے بیٹے، ان کے خاندان نے تقریباً دو سو سال تک میوات کی ریاست پر حکومت کی۔ وہ راجہ نہر خان میواتی کی اولاد تھے جو چودہویں صدی میں میوات کے والی تھے۔

مؤرخ صدیق احمد میو کے مطابق میوات خاندان کے پہلے حکمران سمرپال (یا سونپال) تھے۔ وہ ۱۳۷۲ء میں فیروز شاہ تغلق کے قریب ہوئے جب انہوں نے تغلق کو شیر سے بچایا۔ فیروز شاہ نے انہیں “خانزادہ بہادر نہر (شیر)” کا لقب دیا اور وہ ۱۴۰۲ء تک حکمران رہے۔ راجہ حسن خان میواتی اس خاندان کے نویں اور آخری حکمران تھے جنہوں نے ۱۵۰۴ء سے ۱۵۲۷ء تک حکومت کی۔

پانی پت سے خانوہ تک: مزاحمت کی داستان

حسن خان میواتی نے ۱۵۲۶ء میں پانی پت کی پہلی جنگ میں ابراہیم لودی کا ساتھ دیا جو مغل سلطنت کے بانی بابر اور دہلی کی سلطنت کے درمیان لڑی گئی۔ اس جنگ میں بابر فاتح رہا اور لودی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس تنازع میں بابر نے حسن خان میواتی کے بیٹے کو یرغمال بنا لیا۔ پانی پت کی جنگ کے بعد حسن خان میواتی نے رانا سانگا کے ساتھ مل کر بابر اور مغل سلطنت کے خلاف لڑنا جاری رکھا۔

بابر نے اتحاد کے خلاف شامل ہونے والے افغانوں کو کافر اور مرتد قرار دیا۔

جنگِ خانوہ: میوات کا فیصلہ کن معرکہ

خانزادہ حسن خان، میوات کے حکمران، نے رانا سانگا کے ساتھ مل کر ایک ایسے اتحاد میں شمولیت اختیار کی جس میں راجپوت، افغان اور میو افواج شامل تھیں۔ یہ اتحاد پانی پت کے بعد بابر کی پھیلتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ حسن خان نے اس میں تقریباً پانچ سے دس ہزار میو جنگجو لگائے، جو بنیادی طور پر غیر منظم قبائلی فوجی تھے جو کھلے میدان کی بجائے چھاپہ مار طرزِ جنگ کے لیے موزوں تھے۔
جنگ کے دوران رانا سانگا توپ کے گولے سے زخمی ہو کر گھوڑے سے گر گیا۔ میواتی نے کمان سنبھالی لیکن وہ خود بھی بابر کی افواج کی توپ سے شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کے بعد خانزادہ خاندان کی اہمیت زمینداروں تک محدود ہو کر رہ گئی۔
مغل بادشاہ بابر نے اپنی آپ بیتی بابر نامہ میں حسن خان میواتی کو علاقے کی “خرابیوں اور سرکشیوں” کا “مرکزی محرک” قرار دیا۔

برطانوی مؤرخ William Erskine نے اپنی کتاب A History of India Under the Two First Sovereigns of the House of Taimur Baber and Humayun (19ویں صدی) میں مغل افواج کے لیے راجپوتوں کو انڈیا کے ان تمام مخالفوں سے زیادہ طاقتور حریف قرار دیا جن کا انہیں اب تک سامنا ہوا تھا۔

حصہ سوم: تجزیہ اور نتائج

مشترکہ میواتی شناخت کا ارتقا
محقق یوگیندر سکند نے ۱۹۹۵ء کے اپنے مقالے میں میوؤں کو ہندو راجپوت، مینا اور گوجر خاندانوں کی اولاد قرار دیا جو اسلام قبول کر کے دہلی کے جنوب میں ایک وسیع علاقے میں آباد ہو گئے تھے۔
جنگِ خانوہ کے بعد خانزادہ خاندان کے بچے کھچے افراد مغل خدمت میں ضم ہو گئے یا دور دراز علاقوں میں منتشر ہو گئے جہاں وہ جدید ہریانہ اور راجستھان میں زمینداروں اور زرعی برادریوں کے طور پر رہ گئے۔

میوات کی تاریخ میں تبلیغی جماعت کا ابھار بھی اہم ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے مسلمانوں میں دینی تجدید و اصلاح کی متعدد تحریکیں ابھریں۔ تبلیغی جماعت، جو آج دنیائے اسلام کی بڑی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے، نے ۱۹۲۰ء کی دہائی کے وسط میں میوات کے میوؤں میں اپنی جڑیں پکڑیں۔

مآخذ و حوالہ جات

مصنفکتابسال
BaburBaburnama۱۵۳۰ء
William ErskineA History of India Under Taimur’s House۱۹ویں صدی
F.C. ChanningLand Revenue Settlement of Gurgaon District۱۸۸۲ء
Denzil IbbetsonPunjab Castes۱۹۱۱ء
H.A. RoseA Glossary of the Tribes and Castes of Punjab۱۹۸۰ء
Surajbhan BhardwajContestation and Accommodation: Mewat and Meos in Mughal India۲۰۱۶ء
Yoginder Sikandمقالہ، Economic and Political Weekly۱۹۹۵ء
Elliot & DowsonThe History of India as Told by Its Own Historians۱۸۷۷ء
Wolseley HaigCambridge History of India۱۹۲۸ء

نوٹ: راقم الحروف کی ضخیم کتاب میوات کی تاریخ اور میو قوم — ایک تہذیبی و تمدنی مطالعہ” میواتی زبان میں طباعت کے مراحل میں ہے اور بہت جلد میو قوم کے لیے پیش کی جائے گی۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]