پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

نظام ہضم کے امراض کی بڑھتی ہوئی لہر

نظام ہضم کے امراض آج کے دور کا ایک بڑا صحت کا بحران بن چکے ہیں۔ دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد افراد کسی نہ کسی ہاضمے کے مسئلے سے دوچار ہیں، اور پاکستان و جنوبی ایشیا میں یہ تعداد خاص طور پر تشویشناک ہے۔

یہ لہر اتنی تیز کیوں ہے؟

سب سے بڑی وجہ طرزِ زندگی میں آنے والی تبدیلی ہے۔ پروسیسڈ فوڈ، فاسٹ فوڈ اور میدے کا زیادہ استعمال آنتوں کے فائدہ مند بیکٹیریا (gut microbiome) کو تباہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ذہنی دباؤ کا Gut-Brain Axis کے ذریعے ہاضمے پر براہ راست اثر پڑتا ہے — یہی وجہ ہے کہ پریشانی یا اضطراب میں پیٹ کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔

آنتوں کا صحت سے گہرا رشتہ

طبی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ آنتیں “دوسرا دماغ” ہیں — یہ سیروٹونن سمیت سیکڑوں کیمیائی مادے بناتی ہیں جو موڈ، قوتِ مدافعت اور پوری صحت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ آنتوں کی خرابی صرف پیٹ کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ دل کی بیماری، ذیابیطس اور یہاں تک کہ ذہنی صحت سے بھی جڑی ہے۔

اگر آپ کے گھر میں کوئی فرد مسلسل تیزابیت، پیٹ درد یا قبض کا شکار ہے تو یہ صرف “معمول” نہیں — غذا اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے بہت بہتری آ سکتی ہے، لیکن اوپر دی گئی سرخ علامات نظر آئیں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے۔

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

زہریلی ادویات۔پارہ کا استعمال

زہریلی ادویات۔پارہ کا استعمال

زہریلی ادویات۔پارہ کا استعمالاز۔ صابر ملتانیناقل:حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میوسعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویہم نے اپنی

[saadherbal_newsletter_form]