
ناتمام حسرتوں کی چادر میں لپٹے ایک سلطان کی داستان
غِیاثُ الدّین بَلَبَن ہندوستان پر چوراسی سال (۱۲۰۶ء تا ۱۲۹۰ء) حکومت کرنے والے “خاندانِ غلاماں” کا بَوُجُوہ سب سے منفرد سلطان مانا جاتا ہے۔
پہلی وجہ تو اُس کے نام کے ساتھ آنے والا منفرد لفظ “بَلَبَن” ہے۔ کچھ فارسی اور اردو مؤرخین (اور پھر اُن کی دیکھا دیکھی انگریز مؤرخین نے بھی) اِس لفظ کی صوتی شکل “بَل بَن” (بَل + بَن) وَضع کی ہے، جو درست نہیں۔
وہ ایک اَیلبَری تُرک تھا، جسے کم عمری میں منگولوں نے گرفتار کرکے غلام بنالیا اور غزنی لے گئے۔ بصرہ کے ایک عالم اور تاجر خواجہ جمالُ الدّین بَصری نے اُسے بازارِ غزنی سے خرید لیا اور دوسرے تُرک غلاموں کے ساتھ دہلی لے آئے ، جہاں سلطان شمسُ الدّین التمش نے ۱۲۳۲ء یا ۱۲۳۳ء میں اُسے خرید لیا۔ اور یوں تقدیر الٰہی سے وہ “شمسی غلام “ بن گیا ۔
التمش کے خریدے اور تربیت یافتہ غلاموں کو مجموعی طور پر “بندگانِ شمسی” یا “غلامانِ شمسی” کہا جاتا تھا۔(بحوالہ : “تاریخِ فیروز شاہی ، ص: ۲۶)
غزنی سے دہلی تک کے بازاروں میں وہ اپنے ہر ممکنہ خریدار کو اپنا اصل تُرکی نام “بہاءُالدّین بَالابَن” بتاتا رہا۔ شکاری پرندے، باز یا عقاب کو تُرکی زبان میں “بَالابَن” کہا جاتا ہے۔
اگر اس لفظ کو “بلبن” لکھ بھی لیا جائے ، تب بھی اس کی صوتی شکل “بالا بن” ہی کی ہوگی ۔ “لغت نامۂ دہخدا” میں بھی “بلبن” کی صوتی شکل وضع کرتے ہوئے صاحبِ لغت نے “ب”، “ل” اور پھر دوسری “ب”، تینوں پر زبر لگائی ہے۔ یوں اس لغت کی رُو سے بھی لفظ “بلبن” کی صوتی شکل “بَالابَن” ہی وضع ہوتی ہے۔
سلطان شمس الدین التمشُ کے دربار میں اُسے خاصہ دار، غالباً شاہی شکار اور بازداری سے متعلق ایک منصب، ملا۔ اُس کی اصل ترقی التمش کی وفات کے بعد ہوئی۔ رضیہ سلطانہ کے زمانے میں وہ امیرِ شکار بنا، پھر بتدریج بلند مناصب حاصل کرتا گیا۔
سلطان شمسُ الدّین التمش کے بیٹے سلطان ناصر الدین محمود کے عہد میں وہ سلطنت کا عملاً سب سے طاقت ور امیر اور نائبِ سلطنت بن گیا، اور بالآخر ۱۲۶۶ء میں سلطان ناصرُ الدّین محمود کی وفات کے بعد “غِیاثُ الدّین بَلَبَن” کے لقب کے ساتھ تخت پر بیٹھا۔
غلامی سے تخت نشینی تک کا سفر طے کرتے ہوئے وہ اپنے اصل نام “بہاءُالدّین” سے تو دست بردار ہوگیا، تاہم اپنے دورِ غلامی کے سابق تُرکی لاحقے “بَالابَن” سے دست بردار نہ ہوا۔ غالباً اُسے پسند تھا کہ اُسے “دین کی مدد کرنے والا عقاب” (غِیاثُ الدّین بَلَبَن)

کہا اور سمجھا جائے ۔
منفر د ہونے کی دوسری وجہ یہ کہ غِیاثُ الدّین بَلَبَن ہندوستان کا وہ پہلا حکمران تھا، جس نے بادشاہ کو زمین پر “خدا کا سایہ” (ظِلِّ اِلٰہی) قرار دیا اور عربی کے ایک مقولے “السُّلْطَانُ ظِلُّ اللہِ فِی الْاَرْضِ” کے تصور کو اپنے نظریۂ بادشاہت کی بنیاد قرار دیا۔ یوں اُس نے اپنی پوری زندگی ہر عام و خاص کو یہ باور کروانے میں گزار دی کہ جونہی کوئی شخص تقدیرِ اِلٰہی سے “سلطان” مقرر ہوتا ہے اور اُس کے نام کا خطبہ مساجد میں پڑھا جانے لگتا ہے، وہ عام انسان نہیں رہتا، بلکہ وہ زمین پر خدا کا نائب بن جاتا ہے اور فی نَفْسِہٖ وہ خدا کا سایہ ٹھہرتا ہے۔ اُس کی اطاعت سب پر لازم ہوجاتی ہے اور اُس کی نافرمانی قہرِ خداوندی کی سبیل ٹھہرتی ہے۔
صرف یہی نہیں، بَلَبَن پوری زندگی اس بات پر بھی مُصِر رہا کہ جونہی کوئی شخص دربارِ سلطانی میں داخل ہو، وہ “ظِلِّ اِلٰہی” اور “نائبِ خدا” کو تعظیمی سجدہ کرے اور اُس کے دونوں پاؤں چومے، تاکہ سلطان اور عام انسان میں فرق واضح ہوسکے۔
اسی لیے غِیاثُ الدّین بَلَبَن کو ہندوستان میں “تعظیمی سجدے” اور “پائی بوس” کی فرسودہ رسموں کا بانی سمجھا جاتا اور فقیہان و مفتیان کی جانب سے مَطعون بھی گردانا جاتا ہے۔
غِیاثُ الدّین بَلَبَن کے منفرد ہونے کی تیسری وجہ اُس کا تخت نشین ہونے کے فوراً بعد اپنے “دربار کے آداب” (Court Etiquette) کا پورا نصاب مقرر کرنا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اُس کے دربار کا ٹھاٹھ باٹھ ایرانیوں اور رومیوں کے درباروں سے بھی دوچند ہوجائے۔
آداب ہائے دربار کے مطابق، دربارِ بَلَبَن میں کسی کو بیٹھنے کی اجازت نہ تھی، اِلّا یہ کہ وہ خود کسی کو نشست کی اجازت دے دیتا۔ اُمرا و اَرکانِ سلطنت اپنے اپنے مرتبے کے مطابق قطاروں میں کھڑے رہتے تھے اور اَمیرِ حاجب اس اَمر کی نگرانی کرتا کہ کوئی شخص اپنی مقررہ جگہ سے آگے نہ بڑھے اور بے تکلفی اختیار نہ کرے۔
بَلَبَن کے دربار میں اَز خود بولنے کی بھی کسی کو اجازت نہ تھی۔ ہر بولنے والا پہلے اِذن طلب کرتا۔ قَہقَہہ لگا کر ہنسنا سخت ممنوع تھا اور کسی امیر کو یہ جُرأت نہ ہوتی تھی کہ وہ قَہقَہہ لگا کر ہنسے، مذاق کرے یا بے تکلفانہ گفتگو کرے۔ بَلَبَن خود بھی دربار میں قَہقَہے لگانے سے اِحتراز کرتا تھا۔
بَلَبَن کے دربار میں مَسخروں اور خوش طبعی کرنے والوں کا بطورِ سائل (مانگنے والے) بھی داخلہ ممنوع تھا۔ کسی بڑے سے بڑے امیر کو بھی یہ اجازت نہ تھی کہ وہ مَخمور حالت میں اُس کے دربار میں پیش ہو۔
لباس کے معاملے میں بَلَبَن نے یہ طے کیا کہ اُس کے دربار میں ہر شخص اپنے عہدے اور مرتبے کے شایانِ شان پہناوے میں حاضر ہو۔ وہ خود بھی مکمل شاہی لباس پہن کر دربار میں بیٹھتا تھا۔ شاہی وقار کی پاس داری میں وہ اس قدر محتاط تھا کہ اُس کے ذاتی خدمت گاروں نے بھی اُسے کبھی سَرپوش، موزوں اور جوتوں کے بغیر نہیں دیکھا۔
بَلَبَن کے تخت کے دونوں جانب تَنومند پہلوان ننگی تلواریں لیے کھڑے رہتے تھے اور اس مقصد کے لیے اُس نے سِیستان سے پہلوان بھی منگوائے۔ جَلّادوں کو بھی یہی حکم تھا کہ وہ تلواریں اپنی نِیاموں سے باہر نکال کر کھڑے رہیں۔
اُس نے دربارِ سلطانی کو رُعب و دبدبے، ہَیبت اور شاہانہ عظمت کا ایسا نمونہ بنا دیا تھا کہ وہاں داخل ہونے والا شخص سلطان

کی شخصیت سے پہلے دربار کے نظم و ضبط ہی سے مَرعوب ہوجاتا تھا۔
بَرَنی کے مطابق: “دوسرے ممالک سے آنے والے سفیر اور اجنبی ملاقاتی دولت و اقتدار کے اس غیر معمولی مظاہرے سے سَکتے میں آجاتے اور بعض تو بے ہوش ہوکر گر پڑتے تھے۔”(بحوالہ : “تاریخِ فیروز شاہی” فارسی، ص: ۲۹)
غِیاثُ الدّین بَلَبَن کے منفرد ہونے کی چوتھی وجہ اُس کے شاہی جلوس کا کرّوفر تھا۔ وہ جب بھی اپنے محل سے باہر نکلتا، اُس کے جلوس کا طمطراق ایک دنیا کی آنکھوں کو خِیرہ کردیتا تھا۔
شاہی سواری کے محل سے نکلنے سے کچھ پہلے چوب داروں کا ایک پیدل دستہ راستے (Route) کو لوگوں سے خالی کروانے کے لیے باہر نکلتا۔ ہر چوب دار نے اپنے نیزے کو سیدھا کیا ہوتا تھا اور وہ سامنے نظر آنے والے ہر شہری سے بآوازِ بلند یہی کہتا کہ راستے سے نیچے اُتر کر کھڑے ہوجاؤ، ابھی ظِلِّ الٰہی کی سواری آنے کو ہے۔ اگر کوئی سیدھا سادہ بندہ راستے سے نیچے اُترنے میں تساہُل برتتا تو اُس کا مقدر ان چوب داروں میں سے کسی ایک کے نیزے کی اَنی سے زخمی ہونا بن جاتا تھا۔
چوب داروں کے بعد نقّارچیوں کا ایک دستہ محل سے باہر نکلتا، جس کے پیچھے پیچھے گھڑ سوار محافظ دستہ محل سے باہر آتا تھا۔ یہ محافظ زِرہ، بکتر اور خَود پہنے ہوتے اور مُرصّع زینوں والے گھوڑوں پر سوار ہوتے تھے۔ اُنہوں نے بھی اپنی تلواریں نِیاموں سے باہر نکال کر سونت رکھی ہوتی تھیں۔
آخر میں بَلَبَن کی ہاتھی کی سواری ظاہر ہوتی تھی۔ وہ مکمل شاہی لباس اور تاجِ شاہی کے ساتھ زیورات اور سونے سے سجے ہَودَج میں براجمان ہوتا تھا۔ سیکڑوں سِیستانی، غُوری اور سَمَرقندی پیادہ سپاہی بے نِیام تلواروں کے ساتھ اُس ہاتھی کے دائیں، بائیں اور آگے پیچھے چلتے رہتے تھے۔
دھوپ میں چمکتی تلواروں، گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور سلطان کی پُرہَیبت فِیل کی سواری کا منظر اس قدر غیر معمولی ہوتا کہ لوگ دور دور سے صرف بَلَبَن کا شاہی جلوس دیکھنے آتے تھے۔ ضیاءُ الدّین بَرَنی کے مطابق:
“مسلمان اور ہندو ایک ایک، دو دو سو کوس کی دُوری سے اُس کے شاہی جلوس کی شان و شوکت دیکھنے آتے اور اُسے دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے تھے۔”(بحوالہ: “تاریخِ فیروز شاہی” فارسی، ص:۳۱)
غِیاثُ الدّین بَلَبَن کے نامور ہونے کی پانچویں وجہ، جس کی طرف مؤرخین کی توجہ بہت کم گئی ہے، اُس کا اپنے پوتوں اور پڑپوتوں کے نام قدیم ایران کے افسانوی بادشاہوں کے نام پر رکھنے کا غیر معمولی رُجحان تھا۔
بَلَبَن نے اپنی زندگی میں اس رُجحان کو خوب پروان چڑھایا اور اپنے دو پوتوں کے نام بالترتیب “کیخسرو” اور “کیقباد” رکھے۔ صرف یہی نہیں، اُس نے اپنے تمام خونی رشتے داروں میں یہ عقیدہ بھی پیدا کیا کہ وہ سب اپنے بیٹوں کے نام قدیم ایران کے اُن نامور بادشاہوں کے نام پر رکھیں، جن کے جاہ و جلال، عدل و انصاف، فتوحات اور کارہائے نمایاں کے تذکرے فردوسی کے “شاہنامہ” میں محفوظ ہیں۔
یوں بَلَبَن کی وفات کے بعد بھی اُس کے خاندان میں قدیم ایرانی بادشاہوں کے نام رکھنے کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہا۔ اُس کی وفات کے بعد بھی خاندان کے دو شہزادے “کیومرث” اور “کیکاووس” کے ناموں کے حامل بنے۔
بَلَبَن غالباً یہ چاہتا تھا کہ اُس کی اولاد بھی “شاہنامہ” کے انہی عظیم بادشاہوں کی طرح بلند اقبال، ذی شان ، فاتح اور دیرپا اقتدار کی حامل ثابت ہو۔ لیکن تقدیر کے اپنے فیصلے ، کیونکہ فیصلے کرنے والی ذات بے نیاز ہے، اُس کے پوتوں اور پڑپوتوں میں سے کوئی ایک بھی اسم بامسمّٰی ثابت نہ ہوسکا۔
کَیخُسرو
فردوسی کے “شاہنامہ” میں کَیخُسرو، تُورانی شہزادی فَرنگیس کے بَطن سے پیدا ہونے والا سِیاوَش کا بیٹا تھا، جو بعد میں تخت پر بیٹھ کر ایران کا ایک عظیم اور دادگُستر بادشاہ بنا۔ اُس نے اپنے باپ کے قتل کا اِنتقام لیا اور ساٹھ سال تک ایران پر حکومت کی۔ فردوسی اُس کے عَہد کی خوش حالی کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
به هر جای ویرانی آباد کرد
دلِ غمگنان از غم آزاد کرد
زمین چون بهشتی شد آراسته
ز داد و ز بخشش پر از خواسته
(بحوالہ:“شاہنامہ”، پادشاہیِ کَیخُسرو، بخش ۱)
ترجمہ: “اُس نے ہر ویرانے کو آباد اور غم زدہ دلوں کو غم سے آزاد کردیا۔ اُس کے عدل و بخشش سے زمین بہشت کی طرح آراستہ اور خوش حالی سے مالامال ہوگئی۔”
بَلَبَن نے اپنے بڑے بیٹے، شہزادہ مُحمّد خان، کے بیٹے کا نام اسی عظیم ایرانی بادشاہ کے نام پر “کَیخُسرو” رکھا۔ ۱۲۸۵ء میں شہزادہ مُحمّد خان کی ملتان کے نَواح میں مَنگولوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت کے بعد بَلَبَن نے اپنے اسی پوتے کَیخُسرو کو اپنا وَلی عَہد نامزد کیا۔
تاہم قسمت کی سِتم ظریفی دیکھیے کہ بَلَبَن کے دربار میں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے والے اُمرا نے ۱۲۸۷ء میں بَلَبَن کی وفات کے بعد اُس کی وصیت کو یَکسر مسترد کرتے ہوئے کَیخُسرو کے بجائے کَیقُباد کو تختِ دہلی پر بٹھا دیا۔
یوں “شاہنامہ” کے کَیخُسرو کے ساٹھ سال کے مقابلے میں بَلَبَن کا کَیخُسرو ایک دن بھی تخت پر نہ بیٹھ سکا۔ اور صرف یہی نہیں، اس بے نَیل و مَرام اور بے تخت شہزادے کو کچھ عرصے بعد ملتان سے دہلی بلوا کر رُوہتک کے قریب قتل کروا دیا گیا۔اُس کی قبر کا نشان بھی معلوم نہیں۔
کَیقُباد
فردوسی کے “شاہنامہ” کا کَیقُباد، کَیانی خاندان کا بانی اور ایران کا ایک دانا، راست باز اور دادگُستر بادشاہ تھا۔ رُستم اُسے کوہِ اَلبُرز سے لے کر ایران آیا اور تختِ شاہی پر بٹھایا۔ اُس کے عَہد میں اَفراسیاب کو شکست ہوئی اور ایران میں اَمن و خوش حالی کا دور شروع ہوا۔ فردوسی کے مطابق کَیقُباد نے سو سال تک حکومت کی:
وزان رفته نامآوران یاد کرد
به داد و دهش گیتی آباد کرد
برین گونه صد سال شادان بزیست
نگر تا چنین در جهان شاه کیست
(بحوالہ: “شاہنامہ”، کَیقُباد، بخش ۵)
ترجمہ: “اُس نے گزرے ہوئے نامور لوگوں کو یاد رکھا اور عَدل و سَخاوت سے دنیا کو آباد کردیا۔ وہ اسی شان سے سو سال خوش و خُرّم رہا۔ دیکھیے! دنیا میں ایسا بادشاہ اور کون ہے؟”
بَلَبَن نے اپنے دوسرے بیٹے، بُغرا خان، کے بیٹے (یعنی پوتے) کا نام اسی عظیم ایرانی بادشاہ کے نام پر “کَیقُباد” رکھا۔ ۱۲۸۷ء میں بَلَبَن کی وفات کے بعد دہلی کے اُمرا نے بَلَبَن کے نامزد وَلی عَہد کَیخُسرو کو نَظرانداز کرکے اسی سترہ یا اٹھارہ سالہ کَیقُباد کو تختِ دہلی پر بٹھایا۔
لیکن “شاہنامہ” کے سو سالہ فرمانروا کے نام کا حامل یہ سلطان صرف بَرائے نام تین سال حکومت کرسکا۔ وہ عَیش و عِشرت کا دِلدادہ تھا اور اُس کا دربار اُس کی شخصی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب سازشوں کا گڑھ بن گیا۔ مزید یہ کہ فالِج کی بیماری نے اُسے جوانی ہی میں اَپاہج اور دوسروں کا دست نگر بنا دیا ۔
۱۲۹۰ء میں خَلجیوں کے غَلبے کے دوران کیقُباد کو قتل کرکے اُس کی لاش دریائے جَمنا میں پھینک دی گئی اور یوں وہ قبر میں مدفون ہوئے بغیر ہی بے نام و نشان اس دنیا سے رُخصت ہوا۔
“شاہنامہ” کے سو سال تک عَدل و اِقبال کے ساتھ حکومت کرنے والے “کَیقُباد” کے مقابلے میں بَلَبَن کا کَیقُباد صرف تین سال میں تخت، تاج، اقتدار اور زندگی، سب کچھ گنوا بیٹھا۔
کَیومَرث
فردوسی نے “شاہنامہ” میں “کَیومَرث” کو سرزمینِ ایران کا پہلا بادشاہ اور اس خطے میں انسانی تَمدّن و مُعاشرت کا بانی لکھا ہے۔ فردوسی کے مطابق اسی کَیومَرث نے یہاں کے لوگوں کو لباس، خوراک اور اِجتماعی زندگی کے اِبتدائی آداب سکھائے اور تیس سال تک حکمرانی کی۔ فردوسی اُس کی عَظمت یوں بیان کرتا ہے:
چنین گفت کآیین تخت و کلاه
کیومرث آورد و او بود شاه
به گیتی درون سال سی شاه بود
به خوبی چو خورشید بر گاه بود
(بحوالہ: “شاہنامہ”، پادشاہیِ کَیومَرث، بخش ۱)
(ترجمہ: روایت کرنے والے نے کہا کہ تخت و تاج کی رسم کَیومَرث نے قائم کی اور وہی پہلا بادشاہ تھا۔ اُس نے دنیا میں تیس سال حکومت کی اور اپنے تخت پر سورج کی طرح روشن اور تاباں رہا۔)
بَلَبَن کے پوتے کَیقُباد کے بیٹے، یعنی بَلَبَن کے پَڑپوتے، کا نام اسی اَوّلین ایرانی بادشاہ کے نام پر “کَیومَرث” رکھا گیا۔ ۱۲۹۰ء میں کَیقُباد کے فالِج زَدہ اور بے اختیار ہوجانے کے بعد تُرک اُمرا نے اس کَم سِن کَیومَرث کو “شمسُ الدّین کَیومَرث” کے لقب کے ساتھ تختِ دہلی پر بٹھایا۔
لیکن قسمت کی سِتم ظریفی کہ “شاہنامہ” میں تخت و تاج کی رسم قائم کرنے والے کَیومَرث کا ہَم نام یہ بچہ صرف چند ماہ ہی بَرائے نام سلطان رہ سکا۔
جلالُ الدّین فِیروز خَلجی نے اقتدار پر قبضہ کرکے اس کی مَجہول سی حکومت کا خاتمہ تخت کر دیا جس کے ساتھ ہی ہندوستان میں “خاندانِ غلاماں” کی چوراسی سالہ حکومت بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔ اسے بعد میں قتل بھی کروا دیا گیا اور اس کی قبر کا بھی کوئی نام و نشان موجود نہیں ۔
یوں “شاہنامہ” کا کَیومَرث دنیا میں بادشاہی کا آغاز کرنے والا پہلا فرمانروا تھا، جبکہ بَلَبَن کے کَیومَرث پر اُس کے خاندان کی بادشاہی کا خاتمہ ہوا۔
کَیکاووس
فردوسی کے “شاہنامہ” کا کَیکاووس، کَیقُباد کا بیٹا اور ایران کا ایک نہایت ذی وَقار اور صاحبِ حشمت بادشاہ تھا۔ اُس کے تخت نشین ہوتے ہی پوری دنیا نے اُس کی فَرماں بَرداری قبول کرلی اور اُس کے جاہ و جلال کا کوئی ہَم سَر باقی نہ رہا۔ فردوسی لکھتا ہے :
چو کاووس بگرفت گاهِ پدر
مر او را جهان بنده شد سر به سر
همان تازی اسپان آگندهیال
به گیتی ندانست کس را همال
(بحوالہ:“شاہنامہ”، پادشاہیِ کَیکاووس اور رفتنِ او بہ مازندران، بخش ۱)
(ترجمہ: جب کَیکاووس نے اپنے باپ کا تخت سنبھالا تو ساری دنیا اُس کی مُطیع ہوگئی۔ اُس کے بلند اور گھنی ایال والے عَربی گھوڑوں کا پوری دنیا میں کوئی ہَم سَر نہ تھا۔)
بَلَبَن کے ایک اور پوتے (یعنی بُغرا خان کے دوسرے بیٹے اور کَیقُباد کے بھائی) کا نام اسی عظیم ایرانی بادشاہ کے نام پر “کَیکاووس” رکھا گیا۔ وہ “رُکنُ الدّین کَیکاووس” کے لقب سے ۱۲۹۱ء میں بنگال کے تخت پر بیٹھا اور ۱۳۰۰ء تک تقریباً نو سال وہاں حکومت کرتا رہا۔
رُکنُ الدّین کَیکاووس کا اَنجام بَلَبَن کے دوسرے پوتوں اور پَڑپوتوں کی طرح فوری اور خُونیں تو نہیں ہوا۔ اُس نے بنگال میں اپنی حکومت قائم رکھی اور اپنی سلطنت کو بہار، دِیوکوٹ اور سَت گاؤں تک وُسعت بھی دی، لیکن یہ کَیکاووس تمام عمر اپنے خاندان کے اصل تخت، “تختِ دہلی”، کو خَلجیوں سے واپس نہ لے سکا۔ وہ خاموشی سے بنگال کی حکومت پر اِکتفا کیے رہا اور اپنے خاندان کا کھویا ہوا تخت واپس لینے کا کوئی تَرَدُّد بھی گوارا نہ کر پایا۔
یوں “شاہنامہ” کے کَیکاووس، جس کے تخت نشین ہوتے ہی ساری دنیا اُس کی مُطیع ہوگئی، کے مقابلے میں بَلَبَن کا کَیکاووس ایسے کسی جاہ و جلال کے عُشرِ عَشیر سے بھی محروم رہا۔
۱۳۰۰ء میں کَیکاووس کی وفات کے بعد بنگال کا تخت بھی بَلَبَن کے خاندان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور دربارِ کَیکاووس کے سابق اعلیٰ اہلکار اِختیارُ الدّین فِیروز اَیتگین نے “شمسُ الدّین فِیروز شاہ” کا لقب اختیار کرکے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔
غِیاثُ الدّین بَلَبَن نے خود ایک غلام ہونے کے باوجود اپنے نظریۂ بادشاہت، اپنے شاہی دربار کی پُرہیبت رسوم، اپنے شاہی جلوس کے کرّوفر اور اپنی اَولاد کو قدیم ایرانی بادشاہوں کے نام دے کر اپنی ذات، اپنے خاندان اور اپنے اقتدار کو منفرد اور لافانی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
لیکن آج مِہرَولی میں اُس کی بے سقف اور شکستہ قبر کے پہلو میں اُس کے اُن پوتوں یا پڑپوتوں میں سے کسی کی قبر موجود نہیں، جنہیں اُس نے “شاہنامہ” میں مذکور لافانی بادشاہوں کے نام دے کر لافانی بنانے کی کوشش کی تھی۔
بلکہ کَیخُسرو، کَیقُباد، کَیومَرث اور کَیکاوُوس میں سے کسی ایک کی بھی قبر کا اَتا پتا یا نام و نشان تک معلوم نہیں۔
حسرت ہائے ناتمام کی دُھند میں لپٹا بَلَبَن اور اُس کا خاندان آج بھی عقل رکھنے والوں کے لیے ایک نشانی ہے—اور وہ یہ کہ:
رہے نام اللہ کا،
جو حاضر بھی ہے اور غائب بھی،
جو ناظر بھی ہے اور منظر بھی
اور جس کی بادشاہی کو کبھی زوال نہیں !
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان


