
۔”مرقع جواہرات دو جلدیں،
طب یونانی کا علمی شاہکار”۔
ری کمپوزنگ
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
کاہنہ نولاہور۔
03238537640
تعارف
سن ۱۹۶۰ میں شائع ہونے والی “مرقع جواہرات” محض ایک کتاب نہیں ہے۔ یہ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی نگرانی میں ترتیب پائے ہوئے اطباء کے خاندانی مجربات کا ایک نادر ذخیرہ ہے جو طب یونانی کے علم کو نسل در نسل منتقل کرنے کا کردار ادا کرتا ہے۔
کتاب کا علمی مقام
مرقع جواہرات کو سمجھنے کے لیے اس کے عنوان کو سمجھنا ضروری ہے۔ “مرقع” یعنی مجموعہ اور “جواہرات” یعنی قیمتی موتیوں کی طرح، یہاں ہر نسخہ ایک قیمتی دستاویز ہے۔ حکیم قمر الدین نے جب اس کتاب کی ترتیب کی، تو انہوں نے صرف عام معلومات نہیں دیے بلکہ ان نسخوں کو شامل کیا جو قرون کے تجربے کا پھل ہیں۔
کتاب میں حکیم محمد علی امرتسری، حکیم فرید احمد عباسی، حکیم عبدالرحیم صاحب اور دیگر ممتاز اطباء کے مجربات موجود ہیں۔ یہ انتخاب محض اتفاقی نہیں تھا بلکہ ایک منصوبہ بندی تھا تاکہ طب یونانی کو جدید دور میں زندہ رکھا جا سکے۔
علمی مسائل اور حل
کشتہ جات کا سائنسی نقطۂ نظر
کتاب میں کشتہ جات کی تیاری کا جو نظام پیش کیا گیا ہے، وہ محض روایتی نہیں ہے۔ سونا، چاندی، تانبا، فولاد اور معدنیات کو خالص کرنے کا جو طریقہ بیان کیا گیا ہے، اس میں کیمیائی عملیات کا گہرا علم نظر آتا ہے۔
مثال کے لیے، کشتہ چاندی کی تیاری میں ہڑتال ورقیہ اور لیموں کے رس کا استعمال محض روایت نہیں ہے بلکہ یہ ایک قدیم کیمیائی عمل ہے جو آکسیڈیشن کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسی طرح، سونا کو صاف کرنے میں سیندھا نمک اور دیگر مواد کا استعمال نقصان دہ عناصر کو الگ کرتا ہے۔
یہ دیکھ کر سمجھ آتا ہے کہ وہ حکیم صرف تجربہ کار نہیں تھے بلکہ بنیادی سائنسی اصول سے بھی واقف تھے۔
عملی استعمال کی دقیق تفصیلات
کتاب کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہر نسخے کے ساتھ درج ہے:
• خوراک کی مقدار: چاول سے لے کر ماشہ تک، بالکل معیاری
• بدرقے (اضافی ادویہ): حسب ضرورت مختلف آپشنز
• استعمال کا طریقہ: صبح یا شام، خالی پیٹ یا کھانے کے بعد
• احتیاطات: خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کے لیے
یہ تفصیل اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کتاب علم کو منظم طریقے سے منتقل کرنا چاہتی ہے، نہ کہ صرف نسخے بیچنا چاہتی ہے۔
بیماریوں کا علاج اور نتائج
سنگین بیماریوں میں کامیابی
کتاب میں جو بیماریاں موجود ہیں، ان میں سے اکثر اس دور میں لاعلاج سمجھی جاتی تھیں:
tuberculosis/دق: حکیم محمد علی امرتسری کا نسخہ “شفائے دق” غیر معمولی ہے۔ اس میں زرنیخ، ورقِ طلا، کشتہ عقیق جیسے اہم اجزاء ہیں۔ کتاب میں درج ہے کہ یہ نسخہ “کئی مریضوں پر آزمایا جا چکا ہے”۔ یہ ۱۹۶۰ کے دور میں جب penicillin ابھی مکمل طور پر عام نہ تھا، انتہائی اہم تھا۔
جنسی کمزوریاں: کتاب میں سرعت انزال، جریان، احتلام اور نامردی کے لیے متعدد نسخے ہیں۔ شنگرف کا کشتہ، کشتہ فولاد، اور مختلف معجونات اس مسئلے کے لیے ہیں۔ ہر نسخہ مختلف مزاج کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ذیابیطس: ایک نسخہ خصوصی طور پر منصوب کیا گیا ہے جس میں قشر بیضہ، ورقِ نقرہ، پوستِ فالسہ، پوستِ جامن اور گلِ مختوم ہیں۔ یہ ترکیب قدیم طریقے سے جدید مسئلے کا حل تلاش کرتی ہے۔
معمولی علالتوں میں توازن
کتاب صرف بڑی بیماریوں تک محدود نہیں ہے۔ نزلے، سردی، آنکھوں کی کمزوری، کانوں کی بیماریوں کے لیے بھی نسخے موجود ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ ہر معمولی بیماری میں بھی غور و فکر کا ثبوت ملتا ہے۔
حکیموں کے لیے رہنمائی
تربیت اور احتیاط
کتاب میں بار بار یہ بات کہی گئی ہے کہ “تجربہ کار حضرات” یہ نسخے استعمال کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی سرِ دستی دستور نہیں ہے جو ہر شخص اپنے ہاتھ سے کر سکے۔ سونا اور چاندی جیسی دھاتوں کو محفوظ طریقے سے کشتہ کرنا ایک علم ہے۔
شنگرف جیسی سمی ادویوں کے کشتہ میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ کتاب میں مختلف جگہوں پر یہ لکھا گیا ہے:
“بچہ، حاملہ عورت، ضعیف البدن اور محرور المزاج جوانوں کو کشتہ جات بالکل نہ کھلائیں”
یہ احتیاط ایک ذمہ دارانہ رویہ ظاہر کرتا ہے۔
خطرناک ادویہ سے بچاؤ
کتاب میں کشتہ دارچکنا، کشتہ رسکپور اور کشتہ شنگرف کے لیے خصوصی انتباہات ہیں۔ ان ادویہ کو منہ میں یا حلق پر لگنے سے آنے والے نقصانات کو بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک ذمہ دار حکیم کا اشارہ ہے۔
تاریخی اور سماجی اہمیت
علم کی حفاظت
سن ۱۹۶۰ میں جب کہ ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی تیزی سے پھیل رہی تھی، اس وقت طب یونانی کو زندہ رکھنا ایک مشکل کام تھا۔ حکیم محمد علی امرتسری نے اپنے شہر امرتسر میں ایک طبیہ کالج کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ کتاب اسی کوشش کا حصہ تھی۔
حکیم قمر الدین نے لکھا: “عصرِ حاضر کے مشاہیر اطباء کے خاندانی مجربات صدری و رموز کو طشت از بام کیا گیا ہے”۔ یہ عمل علم کو محدود دائرے سے نکال کر عوام تک پہنچانا تھا۔
Saad Virtual Skills کا کردار
حالیہ دور میں Saad Virtual Skills Pakistan نے اس کتاب کو دوبارہ compose کر کے ایک بہترین کام انجام دیا ہے۔ اردو میں ٹائپوگرافی کو برقرار رکھتے ہوئے، انہوں نے اس قدیم علم کو جدید شکل میں پیش کیا ہے۔ یہ digital preservation کی ایک بہترین مثال ہے۔
علمی معیار اور اعتبار
تنقیدی تجزیہ
کتاب میں بہت سی ایسی ادویہ ہیں جن میں زرنیخ، شنگرف اور دیگر سمی عناصر ہیں۔ جدید معیار سے یہ خطرناک ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہاں سمجھنا ہوگا کہ:
- یہ ادویہ صرف تجربے کار حکیموں کے لیے ہیں
- احتیاطات بتائی گئی ہیں
- Detoxification کے طریقے موجود ہیں
- خوراک بالکل معیاری ہے
اس لیے یہ کتاب اپنے دور کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد ہے۔
قدیم اور جدید کا امتزاج
کتاب میں جہاں قدیم روایات موجود ہیں (جوشاندہ، عرقات، کھرل کرنا وغیرہ)، وہاں جدید فارمولیشن بھی نظر آتی ہے۔ مثلاً capsules میں دوائیں دینا، دقیق weighing، اور standardized doses۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ ۱۹۶۰ کا دور تھا، یہ ایک پروگرہ شدہ تبدیلی تھی۔
عملی نتائج اور شہادات
کتاب میں مختلف حکیموں کے نام اور مقام درج ہیں:
• حکیم عبدالرحیم صاحب (سعید شفا منزل، ملتان)
• حکیم فرید احمد عباسی (نظام آباد)
• رانا حبیب احمد صاحب (گوجرانوالہ)
• حکیم غلام نبی صاحب (منیجر قمر الصحت)
ہر حکیم کے نسخوں کے ساتھ ان کا تعارف اور مقام درج ہے۔ یہ ایک طریقہ تھا کتاب کو credible بنانے کا۔
حتمی تشخیص
مرقع جواہرات کا اہم ہونا اس بات میں ہے کہ یہ کتاب:
علمی حوالے سے: طب یونانی کے کشتہ جات کا سب سے منظم دستور العمل پیش کرتی ہے۔ ہر مرحلہ، ہر احتیاط، ہر نتیجہ محدود اور واضح ہے۔
عملی حوالے سے: ہر حکیم اس کتاب سے براہ راست استفادہ کر سکتا ہے۔ کوئی ابہام نہیں، کوئی الجھن نہیں۔
تاریخی حوالے سے: یہ ایک دستاویز ہے کہ کس طرح ایک مردہ ہوتے ہوئے علم کو زندہ کیا گیا۔ ۱۹۶۰ میں جب طب یونانی زوال پذیر تھی، تب بھی اس کے سپاہی قدم آگے رکھ رہے تھے۔
مستقبل کے لیے: آج کا ہر طالبِ علم یا حکیم اس کتاب سے سیکھ سکتا ہے۔ Saad Virtual Skills کی دوبارہ composition نے اسے نئی نسل کے لیے دستیاب کر دیا ہے۔
یہ کتاب نہ تو محض روایت کا بوجھ ہے اور نہ ہی حقیقت سے محروم ہے۔ یہ ایک زندہ دستاویز ہے جو علم اور تجربے کے ملتقیٰ پر کھڑی ہے۔
نتیجہ: مرقع جواہرات طب یونانی کا وہ شاہکار ہے جس میں قرون کا تجربہ، سائنسی سمجھ، عملی دانائی اور ذمہ داری کا امتزاج ہے۔ یہ کتاب اپنے آپ میں ایک یادگار ہے کہ کیسے ایک علم کو زندہ رکھا جاتا ہے۔

