پتہ

لاہور کاہنہ نو

کال کریں

+92 3238537640

بچہ یا بچی والدین میں سے کس کی مشابہت ہوتی ہے؟

بچہ یا بچی والدین میں سے کس کی مشابہت ہوتی ہے؟
بچہ یا بچی والدین میں سے کس کی مشابہت ہوتی ہے؟

بچہ یا بچی والدین میں سے کس کی مشابہت ہوتی ہے؟
(یہ اقتباس۔ہماری کتاب”قانون مفرد اعضاء کی تفہیم اے آئی کے توسط سے”لیا گیا ہے۔یہ کتاب سعد طبیہ کالج کے ماہرین کی نگرانی میں قانون مفرد اعضاء اور آرٹفیشل انٹلجینس،کا ایک نمائیدہ امتزاج اور،اس میدان مین پہلا قدم ہے۔۔)
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی
امام مسلم ؒ نے ام سلیم رضی اللہ عنہ کے طریق سے جو روایت ہے: ”آدمی کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے، جبکہ عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے، پس ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آ جائے یا سبقت لے جائے تو بچے کی مشابہت اسی پر ہو جاتی ہے۔ “ رواہ مسلم [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 434]رواه مسلم (30 / 311)»
انسانی تولید، مادہ منویہ کی ماہیت اور وراثتی مشابہت:
حدیثِ ام سلیمؓ کا قانونِ مفرد اعضاء اور جدید میڈیکل سائنس کے تناظر میں ایک جامع تحقیقی مطالعہ
انسانی تخلیق اور افزائشِ نسل کا عمل ازل سے ہی انسانی تجسس اور علمی تحقیق کا مرکز رہا ہے۔ اسلامی فکری روایت میں وحیِ الہیٰ نے جہاں انسان کو اس کی روحانی اقدار سے روشناس کرایا، وہاں اس کی جسمانی تشکیل اور حیاتیاتی عمل کے حوالے سے بھی ایسے حقائق بیان کیے جن کی گہرائیوں کو سمجھنے کے لیے صدیاں درکار تھیں۔ ان میں سے ایک اہم ترین علمی و طبی باب حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کی وہ روایت ہے جو صحیح مسلم میں درج ہے اور جس میں مرد و عورت کے تولیدی مادوں کی ظاہری صفات اور بچے کی والدین سے مشابہت کے اصولوں کو بیان کیا گیا ہے 1۔ یہ مقالہ اس حدیثِ مبارکہ کا ایک کثیر جہتی تجزیہ پیش کرتا ہے، جس میں روایتی محدثانہ تشریحات، حکیم صابر ملتانی کے پیش کردہ طبی فلسفہ ‘قانونِ مفرد اعضاء’ (QMA) اور جدید جینیات (Genetics) و ایمبریولوجی کے مابین تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

جنت کی زندگی اور انسانی نظامِ جسمانی
جنت کی زندگی اور انسانی نظامِ جسمانی


حدیثِ ام سلیمؓ: متن، تخریج اور سیاق و سباق
امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ان کی والدہ حضرت ام سلیمؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو خواب میں وہی کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی احتلام) 1۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسی صورت میں عورت پر غسل واجب ہے بشرطیکہ وہ پانی (منی) دیکھے۔ اس گفتگو کے دوران حضرت ام سلیمؓ نے ازراہِ شرم و تعجب دریافت کیا: “کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے اور کیا اس کا بھی پانی نکلتا ہے؟” آپ ﷺ نے اس کے جواب میں ایک ایسی حیاتیاتی حقیقت بیان فرمائی جو اس وقت کے عالمی طبی نظریات کے لیے ایک چیلنج تھی: “ہاں، (اگر ایسا نہیں ہے تو) پھر بچہ اس کے مشابہ کیسے ہوتا ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے، جبکہ عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے، پس ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آ جائے یا سبقت لے جائے، بچے کی مشابہت اسی پر ہو جاتی ہے” ۔

حدیث کی اسنادی حیثیت اور محدثانہ اہمیت
یہ حدیث صحیح مسلم کے علاوہ مشکوٰۃ المصابیح (حدیث: 434)، سنن نسائی (حدیث: 196، 197) اور دیگر کتبِ حدیث میں صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے 5۔ محدثِ عصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اس کی تخریج کرتے ہوئے اسے صحیح مسلم کے معیار پر پرکھا ہے 1۔ اس حدیث کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ نہ صرف فقہی احکام (غسلِ جنابت) کی بنیاد فراہم کرتی ہے، بلکہ انسانی تولید میں عورت کے فعال حصے کی نشاندہی بھی کرتی ہے، جو کہ ارسطو جیسے قدیم یونانی فلاسفروں کے نزدیک تسلیم شدہ نہیں تھا، کیونکہ وہ عورت کو محض ایک مٹی یا برتن کی طرح سمجھتے تھے جس میں مرد کا بیج پروان چڑھتا ہے ۔
الفاظ کی لغوی و علمی تشریح
حدیث میں استعمال ہونے والے چند اصطلاحی الفاظ کی تفہیم ضروری ہے:
1 غلیظ (Thick): اس سے مراد مرد کے مادے کا گاڑھا پن اور اس میں موجود پروٹینز اور خلیات کی کثافت ہے ۔
2 ابیض (White): یہ مرد کے مادے کے رنگ کی علامت ہے جو صحت مند حالت میں دودھیا یا سفید مائل ہوتا ہے 8۔
3 رقیق (Thin/Fluid): یہ عورت کے تولیدی مادے کی لطافت اور کم گاڑھے پن کی طرف اشارہ ہے ۔
4 اصفر (Yellow): یہ عورت کے مخصوص تولیدی مادے (جسے ہم بعد میں فولیکولر فلوئیڈ کے طور پر زیرِ بحث لائیں گے) کے رنگ کی عکاسی کرتا ہے
5 علا (Prevails/Dominates): اس سے مراد ایک مادے کا دوسرے پر قوت، مقدار یا اثر کے لحاظ سے چھا جانا ہے
6 سبق (Precedes): اس سے مراد زمانی ترتیب میں پہلے پہنچنا یا پہلے فارغ ہونا ہے
قانونِ مفرد اعضاء (QMA) کے تناظر میں تجزیہ
حکیم صابر ملتانی کا قانونِ مفرد اعضاء ایک ایسا طبی نظام ہے جو انسانی جسم کو تین بنیادی بافتوں یا اعضاء (Nervous, Muscular, Glandular) میں تقسیم کرتا ہے 11۔ اس نظریے کے تحت ہر عضو کا اپنا ایک مزاج، رنگ اور رطوبت ہوتی ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں بیان کردہ مادوں کے رنگ اور صفات اس طبی نظریے کے ساتھ حیرت انگیز مطابقت رکھتے ہیں۔
رنگوں کی طبی تعبیر اور اعصابی و غدی نظام
قانونِ مفرد اعضاء میں سفید رنگ ‘اعصابی نظام’ (Nervous System) اور بلغم سے منسوب ہے، جبکہ زرد رنگ ‘غدی نظام’ (Glandular/Liver System) اور صفراء سے منسوب ہے
1 مرد کا پانی (سفید اور گاڑھا): یہ اعصابی-عضلاتی تحریک کی علامت ہے۔ سفید رنگ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مرد کے تولیدی خلیات (Sperms) کی بنیاد میں اعصابی رطوبات کا غلبہ ہے جو انہیں دماغی مراکز سے توانائی اور پیغام رسانی کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں 8۔ گاڑھا پن عضلاتی تحریک (Muscular force) کو ظاہر کرتا ہے، جو اخراج کے وقت قوت (Dafq) پیدا کرتی ہے
2 عورت کا پانی (زرد اور پتلا): یہ غدی تحریک (Glandular stimulus) کی واضح علامت ہے۔ قانونِ مفرد اعضاء میں جگر اور غدد (Glands) کا رنگ زرد ہے
۔ عورت کا بیضہ (Ovum) جس تھیلی میں پروان چڑھتا ہے، وہ ہارمونز پیدا کرنے والا ایک بڑا غدہ ہے، اور اس کا رنگ زرد ہونا اس کے اندر موجود کیمیائی حرارت (Heat) اور انزائمز کی نشاندہی کرتا ہے جو حمل کے لیے ضروری ماحول فراہم کرتے ہیں
‘غلبہ’ اور ‘سبقت’ کا نظریہ اخلاط
حکیم صابر ملتانی کے نزدیک مشابہت اور جنین کی تشکیل کا انحصار اس بات پر ہے کہ حمل کے وقت والدین میں سے کون سے عضو کی ‘تحریک’ (Stimulus) زیادہ قوی ہے 1۔
● اگر مرد کا اعصابی و عضلاتی نظام ‘غالب’ ہے، تو بچہ باپ کے نقش و نگار اور جسمانی ساخت (Structure) لے کر پیدا ہوگا
● اگر عورت کا غدی نظام ‘غالب’ ہے، تو بچے میں ماں کی کیمیائی صفات اور شکل و صورت نمایاں ہوگی

عضو/نظام منسوب رنگ حدیث میں تذکرہ طبی کیفیت
اعصابی (Nervous) سفید (White) مرد کا پانی رطوبت اور پیغام رسانی
عضلاتی (Muscular) سرخی مائل (Reddish) مرد کی قوت تحریک اور گاڑھا پن
غدی (Glandular) زرد (Yellow) عورت کا پانی حرارت اور کیمیائی عمل 4
اس طرح، قانونِ مفرد اعضاء اس حدیث کو محض ایک مذہبی بیان کے بجائے ایک مکمل ‘بایو کیمیکل فارمولا’ کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں رنگوں کے تغیر سے والدین کی صحت اور بچے کی مستقبل کی ساخت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
جدید میڈیکل سائنس: تولیدی رطوبات کی ماہیت
جدید طب نے خوردبینی تحقیق کے ذریعے ان رطوبات کی کیمیائی اور حیاتیاتی ساخت کو واضح کر دیا ہے، جو چودہ سو سال پہلے بیان کردہ صفات کی تصدیق کرتی ہیں۔
مرد کا مادہ منویہ (Seminal Fluid)
مرد کا انزال مختلف غدود کی رطوبات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس میں خصیوں (Testes) سے آنے والے سپرمز محض 1 سے 5 فیصد ہوتے ہیں
● سفید رنگ اور گاڑھا پن: منی کا سفید مائل دودھیا رنگ بنیادی طور پر غدہ قدامیہ (Prostate Gland) کی رطوبت کی وجہ سے ہوتا ہے، جبکہ اس کا گاڑھا پن ‘سیمل ویسیکلز’ (Seminal Vesicles) سے خارج ہونے والے پروٹینز اور فرکٹوز (Fructose) کی مرہونِ منت ہے ۔
● کیمیائی ماحول: منی کی پی ایچ (pH)
عام طور پر سے کے درمیان ہوتی ہے، جو اسے اساسی (Alkaline) بناتی ہے تاکہ وہ عورت کی اندامِ نہانی کے تیزابی (Acidic) ماحول میں سپرمز کی حفاظت کر سکے 16۔
عورت کا تولیدی مادہ (Follicular Fluid)
عورت کے “زرد اور پتلے” پانی کی شناخت کے حوالے سے جدید سائنس دو اہم رطوبات کی طرف اشارہ کرتی ہے:
1 فولیکولر فلوئیڈ (Follicular Fluid): یہ وہ مادہ ہے جو بیضہ دانی (Ovary) کے اندر ‘گرافین فولیکل’ (Graafian Follicle) میں بیضے کے گرد موجود ہوتا ہے 4۔ اس کا رنگ زرد (Straw-colored) ہوتا ہے کیونکہ اس میں کیروٹینائڈز (Carotenoids) اور لیوٹن (Lutein) جیسے پگمنٹس پائے جاتے ہیں ۔ بیضہ خارج ہوتے وقت یہ زرد مادہ بھی ساتھ نکلتا ہے اور سپرمز کو بیضے کی طرف کھینچنے میں مدد دیتا ہے ۔
2 پیرا یوریتھرل (Skene’s) غدود کی رطوبت: عورت کے جنسی جوش یا خواب کے دوران ایک رطوبت خارج ہوتی ہے جو پتلی ہوتی ہے اور بعض اوقات اس میں زردی مائل رنگت ہو سکتی ہے 20۔ اسے “عورت کی منی” کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس کا کیمیائی خواص مرد کے پراسٹیٹ فلوئیڈ سے مشابہت رکھتے ہیں۔
مادہ مقامِ پیدائش خصوصیات سائنسی مشاہدہ
مرد کا مادہ ویسیکلز اور پراسٹیٹ سفید، گاڑھا، اساسی سپرمز کا محافظ اور خوراک 15
عورت کا مادہ فولیکل اور غدود زرد، پتلا، انزائمی بیضے کی پرورش اور کشش 10
جینیات (Genetics) اور مشابہت کا اصول
حدیثِ مبارکہ میں مشابہت کے حوالے سے دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں: ‘غلبہ’ (Dominance) اور ‘سبقت’ (Precedence)۔ جدید جینیات ان دونوں مفاہیم کی گہری سائنسی بنیادیں فراہم کرتی ہے۔
جینیاتی غلبہ (Genetic Dominance)
جدید جینیات کا علم بتاتا ہے کہ انسان کی ہر صفت (جیسے آنکھوں کا رنگ، ناک کی ساخت وغیرہ) کے لیے دو ‘ایلولز’ (Alleles) ہوتے ہیں—ایک باپ سے اور ایک ماں سے۔ ان میں سے جو جین ‘غالب’ (Dominant) ہوتا ہے، بچے کی شکل و صورت اسی کے مطابق بنتی ہے
● اگر باپ کے جینز کی کوالٹی یا اثر پذیری ماں کے جینز پر ‘غالب’ آ جائے، تو بچہ ددھیال کے مشابہ ہوگا۔
● اسی طرح اگر ماں کے جینز ‘غالب’ ہوں، تو مشابہت ننھیال کی طرف چلی جائے گی یہ وہی حقیقت ہے جسے اللہ کے رسول ﷺ نے “جس کا پانی غالب آ جائے” کے جامع پیرائے میں بیان فرمایا ۔
زمانی سبقت (Precedence) اور جنسی تعین
حدیث کے بعض الفاظ “سبقت لے جائے” کی تشریح میں شارحین نے اسے ‘پہلے فارغ ہونے’ یا ‘پہلے پہنچنے’ سے تعبیر کیا ہے 6۔ جدید طب میں اس کا تعلق دو اہم پہلوؤں سے ہو سکتا ہے:
1 سپرمز کی ریس: مرد کے مادے میں دو طرح کے سپرمز ہوتے ہیں: X (جو لڑکی پیدا کرتے ہیں) اور Y (جو لڑکا پیدا کرتے ہیں)۔ جو سپرم پہلے بیضے تک پہنچ کر اسے فرٹیلائز (Fertilize) کرتا ہے، وہی بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے ۔
2 کیمیائی ماحول (pH) کا اثر: عورت کی رطوبت کا تیزابی یا اساسی ہونا سپرمز کی رفتار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر عورت کا مادہ پہلے سے موجود ہو اور اس کی نوعیت مخصوص ہو، تو وہ یا تو X سپرمز کو راستہ دے گا یا Y کو، یوں ‘سبقت’ کا عمل جنس اور مشابہت دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے
بایو کیمیکل تجزیہ اور فولیکولر فلوئیڈ کی اہمیت
جدید ریسرچ پیپرز کے مطابق، فولیکولر فلوئیڈ (FF) محض ایک مادہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک پیچیدہ حیاتیاتی ماحول ہے جو امینو ایسڈز، ہارمونز اور میٹابولائٹس سے بھرپور ہوتا ہے 10۔
امینو ایسڈز کا کردار
ایک سائنسی مطالعے کے مطابق، فولیکولر فلوئیڈ میں موجود امینو ایسڈز (جیسے گلوٹامین، ایلانین وغیرہ) کی مقدار براہِ راست ایمبریو (Embryo) کی کوالٹی پر اثر انداز ہوتی ہے 1 اگر عورت کے اس “زرد پانی” میں امینو ایسڈز کا تناسب بہتر ہو، تو بیضہ زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور اس کے جینیاتی اثرات کے غالب آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔
● پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) جیسی بیماریوں میں اس پانی کی کیمیائی ساخت بدل جاتی ہے، جس سے نہ صرف مشابہت بلکہ افزائشِ نسل کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے
pH بیلنس اور ‘غلبہ’ کی میکانکی شرح
مرد کی منی کی پی ایچ ( ) اور عورت کے ماحول کی پی ایچ کے ملاپ سے ایک ایسا توازن پیدا ہوتا ہے جو سپرمز کی ‘ہائپر ایکٹیویشن’ (Hyperactivation) کے لیے ضروری ہے۔
اگر کسی ایک فریق کا مادہ اپنی کیمیائی طاقت (Buffering capacity) میں دوسرے پر ‘غالب’ ہو، تو وہ اس ماحول کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیتا ہے، جس سے مخصوص جینیاتی صفات کے منتقل ہونے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں ۔ یہ سائنسی نکتہ حدیث میں مذکور “غلبہ” کی ایک مادی اور کیمیائی توجیہ پیش کرتا ہے۔
قانونِ مفرد اعضاء اور وراثتی امراض کا علاج
حکیم صابر ملتانی نے حدیث کے اسی اصول ‘غلبہ و مشابہتہ کو علاج معالجے کے لیے بھی استعمال کیا۔ ان کے نزدیک اگر والدین میں سے کسی ایک کو کوئی موروثی بیماری ہے، تو اس کا مادہ (پانی) اس بیماری کی تحریک (تحریکِ اعصابی، عضلاتی یا غدی) سے متاثر ہوگا
● علاج کا مقصد اس ہتحریکہ کو متوازن کرنا ہوتا ہے تاکہ حمل کے وقت صحت مند مادہ ہغالبہ آئے اور بچہ موروثی نقائص سے پاک پیدا ہو
● مثلاً، اگر مرد کا مادہ حد سے زیادہ پتلا اور سفید (اعصابی تسکین) ہو جائے، تو اسے عضلاتی-غدی ادویات کے ذریعے ہغلیظہ (گاڑھا) کیا جاتا ہے تاکہ اس کی حیاتیاتی قوت ہغالب آ سکے 8۔
کلینیکل مشاہدات: رنگ اور زرخیزی کا تعلق
جدید میڈیکل سائنس اور قانونِ مفرد اعضاء دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ تولیدی مادوں کے رنگ میں تبدیلی کسی اندرونی خرابی کی علامت ہوتی ہے:
1 زرد مائل منی: اگر مرد کی منی زرد ہو جائے، تو جدید طب اسے انفیکشن یا یرقان (Jaundice) سے تعبیر کرتی ہے، جبکہ قانونِ مفرد اعضاء اسے غدی سوزش (Heat inflammation) قرار دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ زرخیزی میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
2 سفید پتلی رطوبت (عورت): اگر عورت کا مادہ زردی کے بجائے سفید ہو جائے (لیکوریا)، تو یہ اس کے نظام میں حد سے زیادہ رطوبت اور حرارت کی کمی کو ظاہر کرتا ہے، جس سے بیضے کی پختگی متاثر ہوتی ہے
کیفیت رنگ (حدیث) نارمل حالت (سائنس) غیر نارمل حالت
مرد سفید سفید/خاکستری 14 پیلا (انفیکشن/گرمی) 15
عورت زرد زرد شفاف (FF) 4 سفید (رطوبت/سردی) 11
نچوڑ اور کثیر الجہتی بصیرت (Synthesis)
حدیثِ ام سلیمؓ محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی بیالوجی کا ایک عظیم الشان ضابطہ ہے۔ جب ہم اسے قانونِ مفرد اعضاء کے مزاجی فلسفے اور جدید جینیات کے مالیکیولر میکانزم کے ساتھ جوڑتے ہیں، تو چند گہری بصیرتیں سامنے آتی ہیں:
1 بایو کیمیکل ہم آہنگی: رسول اللہ ﷺ نے جن مادی صفات (رنگ اور کثافت) کا ذکر فرمایا، وہ دراصل ان رطوبات کے اندر موجود کیمیائی اجزاء (پروٹینز، انزائمز اور ہارمونز) کی ظاہری علامات ہیں 4۔
2 ایکٹو رول آف مدر (عورت کا فعال کردار): یہ حدیث قدیم طبی نظریات کے برعکس عورت کو حمل میں برابر کا شریک ٹھہراتی ہے۔ جدید طب نے بیضہ دانی کے فولیکولر فلوئیڈ اور اس کے زرد” ہونے کی تصدیق کر کے اس نبوی سچائی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے ۔
3 غلبہ کا ہمہ گیر مفہوم: “غلبہ” کا لفظ جینیاتی سطح پر ہڈومیننسہ (Dominance)، کیمیائی سطح پر ہپی ایچ بیلنسہ (pH Balance) اور طبی سطح پر ہتحریکہ (Stimulus) کے مفاہیم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے
4 صحت کی تشخیص: ان مادوں کی رنگت اور گاڑھا پن والدین کی مجموعی صحت اور ان کے نظامِ ہضم و نظامِ غدد کی کارکردگی کا آئینہ دار ہے
نتیجہ
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کی بیان کردہ روایت انسانی پیدائش کے ان پہلوؤں کو روشن کرتی ہے جن تک رسائی کے لیے انسانی عقل کو صدیوں کا سفر طے کرنا پڑا۔ قانونِ مفرد اعضاء نے اسے مزاج اور اعضاء کی تحریک و تسکین کے آئینے میں دیکھا، جبکہ جدید میڈیکل سائنس نے اسے جینیات اور بائیو کیمسٹری کے آلات سے پرکھا۔ دونوں ہی میدانوں میں اس حدیث کے الفاظ—سفید، زرد، گاڑھا، پتلا، غلبہ اور سبقت—ایسی سچائیاں ثابت ہوئے جو انسانی تخلیق کے اسرار کو سمجھنے میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ وحیِ الہیٰ اور صحیح احادیث میں بیان کردہ حقائق سائنسی ارتقاء کے ساتھ نہ صرف مطابقت رکھتے ہیں بلکہ بسا اوقات سائنس کے لیے نئی راہوں کا تعین بھی کرتے ہیں۔ والدین کے تولیدی مادوں کا توازن اور ان کا معیار ہی وہ بنیادی پتھر ہے جس پر آنے والی نسل کی جسمانی و موروثی عمارت کھڑی ہوتی ہے

:اس مضمون کو شیئر کریں

فیس بک
ٹویٹر
لنکڈن
واٹس ایپ

حکیم قاری یونس

اس مضمون کے لکھاری، جو طبِ قدیم میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں اور صحت کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

دوسرے دیکھے بلاگ

[saadherbal_newsletter_form]