
پرانے چراغ
عرض مرتب
ارباب بصیرت سے یہ ام مخفی نہیں کہ طلاب قدیم کا قرابادینی ذخیر اپنی فراوانی کے لحاظ سے ایک محیط بیکراں ہے جس کا معاملہ فرد واحد کے بس کی بات نہیں۔ اور نہ محمد حاضر کی مجبوریاں اس تفصیل میں سہانے کی اجازت دیتی ہیں جس کا وہ مستحق ہے ہے
دامان نگه تنگ و گل حسن تو بسیار کی بہار تو ز دامان نگه دارد میں نے کوشش کی ہے کہ اس بحر در خمار سے صرف ان ادوار کے آباد از کو سے لیا جائے جن کی تو باقی حیثیت ہر لحاظ سے مسلم ہے اس طرح طلب تقدیم کی یہ ایک ایسی قرابادینی تلخیص مرتب ہو گئی ہے جو مجامع بھی ہے اور مختصر بھی معتبر بھی ہے۔ اور موثر بھی۔ امید ہے وہ اطبائے کرام جو اخصار پسند ہیں یا وہ اصحاب بودیم کتابوں کی ورق گردانی سے بچنا چاہتے ہیں ۔ یا وہ جو انقالب چین نے گردوں کے باعث اپنے قیمتی کتب خانے پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ اس منتخب مجموعہ سے پیر را میرا نامہ اٹھائیں گے ؟
اقبال حسن

