
فرہنگ تلفظ
عرض مرتب
تبدیلی زبان کی فطرت ہے۔ ہر دور کی زبان پچھلے دور سے تھوڑی یا بہت مختلف ہوتی ہے۔ خصوصی حالات میں یہ عمل اور بھی تیز اور زیادہ نمایاں ہوگا۔ زبان جس قدر بولی اور برتی جائے گی اتنے ہی اس میں تبدیلی کے امکانات بڑھتے جائیں گے۔ زبان جامد جبھی ہوتی ہے کہ اس کا چلن باقی نہ رہے۔
زبان جتنی پھیلے گی اتنا ہی اس میں مقامی لب و لہجے تلفظ اور محاورے کا تنوع پیدا ہوگا۔ تحتی بولیاں رفتہ رفته علاحدہ زبانوں کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہیں۔
بر زبان دوسری زبانوں سے استفاده و اکتساب کرتی ہے۔ الفاظ اور اسالیب اظہار میں اضافے کا ایک مستقل ذريع اخذ و اکتساب ہے اور ہر زبان مستعار الفاظ کے معنی اور تلفظ میں تصرف روا رکھتی ہے۔ یہ عموماً نادانستہ طور پر ایک قدرتی عمل ہوتا ہے۔
یہ زبان کے بارے میں چند مسلمات ہیں۔ انھیں اس لیے دوہرایا گیا کہ ان کے حوالے سے موجودہ تالیف کے مقاصد کو واضح کیا جا سکے اور کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ اس لغت کی تدوین میں دو مقاصد سامنے رکھے گئے ہیں۔ ایک خالص علمی پہلو رکھتا ہے، اور دوسرا عملی ضرورت کا تقاضا ہے۔
علمی مسئلے کے طور پر یہ بات دلچسپ اور تحقیق کے قابل ہے کہ اردو نے دوسری زبانوں سے اخذ کردہ الفاظ، نیز اپنے ہی موروثی الفاظ میں کیا تصرفات کے ہیں۔ یہ تصرفات اب سے پچھلے دوروں میں ہمارے پیشروؤں نے زیادہ دل کھول کر روا رکھے تھے۔ یہ آزاده روی خود اعتمادی کی دلیل تھی، یعنی بولنے والوں کو اپنی زبان کے مزاج اور اس کے وقار کا پاس تھا۔ وہ خود کو دوسری زبانوں کی روش کا پابند نہیں سمجھتے تھے۔ بڑے اعتماد کے ساتھ لفظوں کو جس طرح چاہتے ، بولتے اور برنتے تھے اور پوری طرح اپنا لیتے تھے۔ مستعار لفظ جب تک مقامی لب و لہجے کے لیے اجنبی رہے گا اور اپنی اصلیت پر اصرار کرے گا، اوپری شمار ہوگا، پوری طرح جزو زبان نه بن سکے گا۔ لیکن یہ تصرفات بعض صورتوں میں بے جا اور غیر ضروری بھی تھے جس کا سبب عمومی ناواقفیت تھی۔ ہمارے ہاں خواندگی کی شرح ہمیشہ سے کم رہی ہے اور اکثریت ہمیشہ حاوی رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ عربی یا سنسکرت الفاظ میں جو تصرفات ہوئے اور بعض صورتوں میں کایا پلٹ ہو گئی، وہ مولوی یا پنڈت نہیں کر سکتے تھے۔ یہ تبدیلی ناخوانده یا نیم خوانده عوام الناس ہی کے ہاتھوں ہوئی۔ اہل علم تو ان الفاظ کو مسخ ہوتے دیکھ کر شاید سر پیٹ لیتے ہوں گے۔
بہر حال ان تصرفات کی تحقیق ایک مفید اور دلچسپ علمی مسئلہ ہے۔
اس مطالعے کے ضمن میں کچھ اور لسانی نکات بھی سامنے آئیں گے۔ مثلاً الفاظ کی اصل و اشتقاق کے سلسلے میں کوئی نکتہ جو دلچسپی کا پہلو رکھتا ہو یا تلفظ یا تذکیر و تانیث یا محاورے میں مقامی یا عہد بعہد اختلافات ، متروک و متداول الفاظ غلط العام اور غلط العوام ، فصیح و غیر فصیح کا امتیاز
جہاں تک عملی مقاصد کا تعلق ہے، ان کی تحریک و ترغیب اسی بنا پر ہوئی کہ زبان ایک تغیر پذیر شے ہے۔ تغیر کئی طرح کا ہوتا ہے۔ نئے الفاظ و اسالیب کا اضافہ اس تغیر کا ایک مثبت اور خوشگوار پہلو ہے، جسے فروغ دینا چاہیے۔ بلکہ زبان کا چلی جس قدر بڑھے گا یہ خود بخود فروغ پائے گا۔ تغیر کا منفی پہلو یہ ہے کہ اچھے
خاصے کام کے الفاظ ناحق متروک یا مغلوب ہوتے چلے جائیں جیسے کہ انگریزی نے ہمارے بہت سے چلتے چلاتے الفاظ کو مار بھگایا ہے۔ بیگانے لفظ اپنے اور اپنے لفظ بیگانے محسوس ہونے لگے ہیں۔ تغیر کا ایک سبب ناواقفیت بھی ہے۔ لوگ دانستہ نہیں محض نادانستہ طور پر بعض الفاظ کی حرکات یا معنی کو بدل دیتے ہیں۔ متشابہ لاحق ہو جاتے ہیں۔ اس سے انتشار پیدا ہوتا ہے جو ہرگز مفید نہیں کیونکہ زبان ہمارا نازک آلہ اظہار ہے۔ ہم اسے زندگی کے گوناگوں مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ادب و شاعری سے لے کر قانون اور سائنس تک ہر جگہ صحت اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔ الفاظ کی صحیح قدر و قیمت یا ان کے معانی اور محل استعمال کی بابت اشتباه نہیں ہونا چاہیے۔
چونکہ زبان میں بدلنے اور بکھرنے کا رجحان پہلے ہی موجود ہوتا ہے اسے سنبھالنے اور سمیٹنے کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے۔ انگریزی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی زبان ہے اور اس میں بھی لب و لہجے کا اختلاف موجود ہے۔ خود جزائر برطانیہ میں بھانت بھانت کی انگریزی بولی جاتی ہے۔ مگر اس کا ایک معیار بہرحال قائم ہے جس کے بغیر یہ علمی و سماجی ضروریات کو کما حقہ پورا نہیں کر سکتی تھی۔
جدید دور میں عوامی ذرائع نشر و ابلاغ کی بنا پر معیار کو سنبھالنا آسان ہو گیا ہے۔ کسی چیز کو بھی اس کی فطرت پر نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ تہذیب اور ترقی تو نام ہی فطری میلانات کو قابو میں رکھنے اور فطرت پر حاوی ہونے کا ہے۔ زبان ایک بڑھتی اور پھیلتی ہوئی بیل کی طرح ہے۔ اس کو زیادہ سے زیادہ مفید و کارگر بنانے کے لیے اس کی بھی پرداخت ضروری ہے۔
ہم اپنے ہاں ایک مربوط و منظم معاشرے کی تشکیل کے متمنی ہیں جو پڑھا لکھا ہوگا، معیار کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس کا پاسدار ہی جائے گا اور الفاظ کو صحت کے ساتھ بولنے اور برتنے کا قائل ہوگا جو ہر طرح کی ادبی سماجی قانونی علمی و سائنسی ضروریات کے لیے لازم ہے۔
اس ضمن میں سب سے اہم بات الفاظ کی حرکات اور ان کے معانی و محل استعمال کو مدنظر رکھنا ہے۔ فطری لب و لہجے کا فرق اہمیت نہیں رکھتا۔ ہم عربی کے حروف ث، ح، ذ، ط، ص، ض، ق کو صحیح مخارج سے ادا نہیں کرتے۔ اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں۔ صرف اُن کے املا کو شناخت کے لیے قائم رکھا ہے، کیونکہ املا کی تبدیلی سے نہ صرف الفاظ کا رشتہ ان کی اصل سے ٹوٹ جاتا ہے، بلکہ شکل ہی بدل جاتی ہے۔ مطالعے میں لفظ کی شکل بی پہچانی جاتی ہے۔ بجے نہیں کیے جاتے۔ لفظ کی شکل کا بدلنا ایسا ہی ہے جیسے آدمی کا ناک نقشہ بدل جائے پھر اسے پہچاننا مشکل ہے۔ املا کر تبدیل کر دیا جائے تو پڑھی لکھی آبادی بھی تقریباً ناخوانده ہو کر ره جائے اور پڑھنے لکھنے کی مشق و مہارت کھو بیٹھے۔ اس نقصان کو کوئی قوم یا اس کی کوئی پیڑھی برداشت نہیں کر سکتی، ورنہ انگریزی کا املا بدل چکا ہوتا جو بغایت بے قاعدہ واقع ہوا ہے۔
ہمارے ہاں حرکات کے لیے مد زیر زیر، پیش الف ، و ی ہے، جرم، شد وغیرہ مقرر ہیں۔ بعض لوگ اس کو اردو کی ایک کمزوری خیال کرتے ہیں، حالانکہ یہ خوبی شمار ہونی چاہیے۔ اعراب جہاں کہیں ضروری ہوں لگائے جا سکتے ہیں۔ مانوس الفاظ کے لیے ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انگریزی میں اعراب کی جگہ حروف ہی استعمال ہوتے ہیں (AEIOUY)، لیکن اس سے کوئی فائدہ انگریزی زبان کو نہیں پہنچا، کیونکہ ان مصوتوں میں سے کسی کی بھی قدر و قیمت متعین نہیں ہے۔ بات وہیں پہنچتی ہے کہ ہر لفظ چہرے کی طرح الگ پہچانا جاتا ہے۔ اس کے بچے نہیں کیے جاتے۔
زبان کا چلن عام ہو تو پڑھے لکھے لوگوں کا کام اعراب کے بغیر بھی چل سکتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ اردو کا استعمال محدود ہے۔ اس لیے بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی بعض معمولی الفاظ کی صحیح حرکات سے مانوس نہیں۔ چنانچہ تلفظ کی غلطیاں خاصی عام ہیں۔ اس لغت کا ایک عملی مقصد صحیح تلفظ کو منضبط کرنا اور ایسی اغلاط کی اصلاح ہے جو نا واقفیت کی بنا پر رواج پا گئی ہیں۔ اس سے انتشار کی روک تھام ہوگی اور زبان کو استحکام ملے گا۔
چونکہ اس لغت میں خاص طور پر تلفظ کی وضاحت مدتظر تھی، مفرد الفاظ کو زیادہ سمیٹنے کی کوشش کی
گئی ہے اور مرکبات محاورات کہاوتوں وغیرہ کا اندراج محدود سے اگرچہ بالکل متروک نہیں۔ یہ یک جلدی لغت تکمیل و استیعاب کا دعوی نہیں کرتی اردو اتنی وسیع و محیط زبان ہے کہ شاید کوئی بھی لغت یہ کام کبھی نہ کر سکے گی۔ پھر بھی اس ایک جلد میں اس کا اتنا سرمایہ سما گیا ہے کہ پڑھنے لکھنے والوں کے ایک وسیع حلقے کی ضروریات کو پورا کر سکے گا۔
اردو کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ یہ ادبی اور مجلسی زبان ہے جسے عوام خصوصاً دیہات سے چنداں لگاؤ نہیں حالانکہ اردو کی تو اساس ہی عوامی تھی۔ یہ شاہی دربار کی نہیں لشکر کی زبان تھی جهان دور و نزدیک سے آئے ہوئے رنگروٹ اسے بولتے تھے اور بازار کی عوامی بولی پر اپنی اپنی بولیوں کا پیوند لگاتے رہے۔ اسے دربار میں تو کم ہی بار ملا، پہلے فارسی پھر انگریزی کے دباؤ میں رہی۔ لیکن اتنی با صلاحیت تھی کہ جب کبھی اسے برتا اور آزمایا گیا تو اس نے بازار، کاروبار، حرفوں، پیشون، درگاہوں ، خانقاہوں اور مجالس سے لے کر سرکار دربار سیاست ،قانون نشرو اشاعت افواج اور سول یا دیوانی محکمہ جات، مدارس، مكاتب جامعات ادب و معارف تک ہر جگہ اور ہر طور سے اپنی اہلیت کو ثابت کیا۔ دراصل کوئی بھی زبان اپنی قوم کو مایوس نہیں کرتی۔ ہر زبان پھلنے پھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماڈری فرانسیسی اور اطالوی وغیرہ سب ایک وقت میں بازاری بولیاں تھیں۔ انگریزی کو خود انگریز گھٹیا غیر علمی بولی سمجھتے تھے۔ جب اس سے کام لیا گیا تو اس نے بھی اپنی قوم کے ساتھ ساتھ ترقی کی۔ اردو کے وسائل تو کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ اس نے کئی شائستہ زبانوں کاست کھینچ لیا ہے۔ اس کا کچھ اندازہ اس لغت سے بھی ہوگا اور یہ بھی نظر آئے گا کہ علمی فنی اور ادبی اسالیب و اصطلاحات کے علاوہ اس میں دیہی زندگی سے تعلق رکھنے والے کتنے الفاظ موجود ہیں، یعنی یہ اپنی علمی و ادبی استعداد کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنی اصل میراث کو بھی دامن میں سمیٹے رہی ہے، ہر چند کہ عوامی و دیہی کہاوتیں جن سے اس کا دامن مالا مال ہے، اس لغت سے خارج رکھی گئی ہیں۔ ان کا ایک الگ مجموعہ “جامع الامثال کے عنوان سے مقتدرہ قومی زبان نے شائع کر دیا ہے۔
اس کام میں مرزا نسیم بیگ صاحب نائب مدیر اردو لغت بورڈ میرے مددگار رہے، جنھوں نے پورا مسودہ بالاستیعاب پڑھ کر فروگذاشتوں پر توجہ دلائی اور میرے بہت سے سہو قلم درست کیے، جو اس وقت تو لطیفے ہی نظر آئے جن پر ہنس دیا گیا، لیکن اگر باقی رہ جاتے تو رونے کا مقام تھا۔ میں ان کا بہت ممنون ہوں، اب بھی مجھے معلوم نہیں کہ میں اپنے ناظریی یا ناقدین کے سامنے کس حد تک سرخرو ہو سکوں گا۔
شان الحق حقى

