
بے چھنی روٹی: قرآن، سنت اور جدید سائنس کی روشنی میں
مضمون نگار: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو · Oct 10, 2026
خلاصہ
بے چھنی روٹی، یعنی وہ روٹی جس کے آٹے سے بران (چوکر) الگ نہ کی گئی ہو، آج کے دور میں ہاضمے کی صحت کے لیے سب سے سادہ اور مؤثر غذائی تدبیروں میں سے ایک ہے۔ سائنسی نقطۂ نظر سے اس کا بنیادی فائدہ غذائی ریشے (Dietary Fibre) کی وافر مقدار ہے، جو آنتوں کی حرکت، پاخانے کی ساخت، مفید جراثیم کی افزائش اور خون میں شکر کے اتار چڑھاؤ پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔
یہ مضمون قرآنِ کریم اور صحیح احادیث سے اس غذائی طرز کی بنیاد بیان کرتا ہے، پھر گندم کے دانے کی ساخت اور جدید غذائی تحقیق کی روشنی میں اس کے فوائد کا جائزہ لیتا ہے، اور آخر میں بتاتا ہے کہ معدہ و آنتوں کے امراض کی موجودہ کثرت میں اس سے کیا فائدہ مل سکتا ہے اور کن لوگوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔
یہ غذائی تدبیر دوا کا متبادل نہیں، بلکہ صحت مند طرزِ زندگی کی بنیاد ہے۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں
قرآنِ کریم انسان کو اپنی غذا پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَى طَعَامِهِ أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ (سورۃ عبس: 24 تا 32)
ترجمہ: “پھر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے کہ ہم نے کس طرح پانی خوب انڈیلا، پھر زمین کو پھاڑا، پھر اس میں غلے اگائے، اور انگور اور ترکاری، اور زیتون اور کھجور، اور گھنے باغ، اور میوے اور چارہ، یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لیے ہے۔”
ان آیات میں غذا کی فہرست دانوں (حَبّ)، پھلوں، سبزیوں اور زیتون جیسی قدرتی اشیاء پر مشتمل ہے۔ جدید غذائیات کی زبان میں یہ ثابت دانے، پھل، سبزی اور صحت بخش چکنائی کا امتزاج ہے، جو آج بھی متوازن خوراک کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ “حَبّ” سے مراد گندم، جو اور دیگر اناج کے دانے ہیں، جو اپنی قدرتی حالت میں غذائی ریشہ، وٹامنز اور معدنیات کا ذخیرہ رکھتے ہیں۔
احادیثِ مبارکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خوراک سادہ، قدرتی اور کم پروسیس شدہ اناج پر مبنی تھی۔ اس کے دو پہلو احادیث میں نمایاں ہیں: آٹے کی ساخت، اور مقدارِ خوراک میں اعتدال۔
آٹے کی ساخت (صحیح بخاری): حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات تک نہ سفید میدہ دیکھا اور نہ چھلنی۔ پوچھا گیا کہ پھر بغیر چھنے جو کیسے کھاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم جو پیس کر اس میں پھونک مارتے، جو اڑنا ہوتا اڑ جاتا، اور باقی کو پانی سے گوندھ لیتے۔ (صحیح بخاری، کتاب الاطعمہ، حدیث: 5410)
اعتدال (صحیح مسلم): نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔” (صحیح مسلم، حدیث: 5374)
علما کے مطابق دوسری حدیث کا مقصد کم کھانے، قناعت اور ضرورت کے مطابق خوراک کی ترغیب ہے۔ پہلی حدیث کا سائنسی مفہوم یہ ہے کہ پھونک سے صرف ہلکا اور اڑنے والا چھلکا الگ ہوتا تھا؛ آٹے کا بڑا حصہ، بشمول بران، روٹی میں شامل رہتا تھا۔ آج کی صنعتی چھنائی کے برعکس، جو بران اور جرم کو منظم طور پر الگ کر دیتی ہے، یہ طریقہ دانے کی غذائی ساخت کو بڑی حد تک برقرار رکھتا تھا۔
گندم کے دانے کی غذائی ساخت
میدہ اور باریک چھنا آٹا بنانے کا عمل گندم کے دانے کے سب سے غذائیت بخش حصے الگ کر دیتا ہے۔ گندم کا دانہ تین بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، اور ریفائننگ میں صرف اینڈوسپرم باقی رہتا ہے۔
| حصہ | دانے میں تقریباً حصہ | اہم اجزاء | میدہ / ریفائنڈ آٹے میں |
| بران (بیرونی چھلکا) | تقریباً 13 تا 15 فیصد | غذائی ریشہ (سیلولوز، ارابینوزائیلان)، بی وٹامنز، آئرن، میگنیشیم، زنک، فینولک مرکبات | الگ کر دیا جاتا ہے |
| جرم (نطفہ) | تقریباً 2.5 فیصد | وٹامن ای، بی وٹامنز، صحت بخش چکنائی، پروٹین | الگ کر دیا جاتا ہے |
| اینڈوسپرم | تقریباً 80 تا 83 فیصد | نشاستہ، گلوٹن پروٹین | باقی رہتا ہے |
اعداد تقریباً ہیں اور گندم کی قسم کے لحاظ سے بدلتے ہیں۔ اس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ ثابت گندم کے آٹے میں غذائی ریشہ عموماً 10 تا 12 گرام فی 100 گرام ہوتا ہے، جبکہ میدے میں یہ تقریباً 3 گرام یا اس سے کم رہ جاتا ہے۔ ساتھ ہی ریفائنڈ آٹے میں فینولک مرکبات اور معدنیات بھی نمایاں طور پر گھٹ جاتے ہیں۔ نشاستہ باریک پسنے سے ہاضمے میں زیادہ تیزی سے ٹوٹتا ہے، اس لیے خون میں شکر تیزی سے بڑھتی ہے۔
سائنسی فوائد اور ان کا طریقِ کار
بے چھنی روٹی کے فوائد کا مرکز غذائی ریشہ ہے، جو دو طرح کا ہوتا ہے: غیر گھلنشیل (جیسے گندم کی بران) اور گھلنشیل (جیسے جو کا بیٹا گلوکان اور چنے کے آٹے کا ریشہ)۔
پاخانے کی ساخت اور آنتوں کی حرکت: غیر گھلنشیل ریشہ پانی جذب کر کے پاخانے کا حجم بڑھاتا اور اسے نرم رکھتا ہے، جس سے آنتوں کا گزر منظم رہتا ہے۔ گندم کی بران سے پاخانے کا وزن بڑھنے کا اثر متعدد مطالعات میں ثابت ہے۔
آنتوں کے مفید جراثیم: بڑی آنت کے جراثیم ریشے کو خمیر کر کے مختصر زنجیر والے فیٹی ایسڈز (جیسے بیوٹائریٹ) بناتے ہیں۔ بیوٹائریٹ آنت کے خلیوں کی بنیادی توانائی ہے اور آنتوں کی جھلی کی صحت اور سوزش میں کمی سے وابستہ ہے۔ اسی بنا پر ریشہ پری بائیوٹک کا کردار ادا کرتا ہے۔
خون میں شکر: گھلنشیل ریشہ معدے سے خوراک کے اخراج اور نشاستے کے جذب کو سست کرتا ہے، جس سے کھانے کے بعد شکر کا اچانک چڑھاؤ کم ہوتا ہے۔ بڑے مشاہداتی مطالعات میں ثابت اناج کے زیادہ استعمال کا تعلق ٹائپ 2 ذیابیطس کے کم خطرے سے ملتا ہے۔
وزن اور سیری: ریشے والی خوراک زیادہ دیر پیٹ بھرا رکھتی ہے اور فی لقمہ حرارے کم ہوتے ہیں، جس سے زیادہ کھانے کا رجحان گھٹتا ہے۔
دل کی صحت: جو اور جئی کا بیٹا گلوکان LDL کولیسٹرول کم کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے، اور ثابت اناج کے استعمال کا تعلق قلبی امراض کے کم خطرے سے دیکھا گیا ہے۔
یاد رہے کہ زیادہ تر ثبوت مشاہداتی مطالعات سے آتے ہیں جو تعلق دکھاتے ہیں، قطعی سبب ثابت نہیں کرتے؛ تاہم ان کی سمت مسلسل ایک ہی رہی ہے۔
آج معدہ و آنتوں کے امراض کی کثرت میں اس کا فائدہ
آج کی سب سے بڑی غذائی تبدیلی ریشے کی کمی ہے، اور بے چھنی روٹی اسی کمی کو روزمرہ خوراک میں سب سے آسانی سے پورا کرتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت بالغ افراد کے لیے روزانہ کم از کم 25 گرام ریشے کی سفارش کرتا ہے، جبکہ ریفائنڈ آٹے، بیکری اشیاء اور فاسٹ فوڈ پر مبنی خوراک میں اکثر اس سے کہیں کم ریشہ ملتا ہے۔
| بیماری / مسئلہ | بے چھنی روٹی کا کردار | ثبوت کی نوعیت |
| دائمی قبض | پاخانے کا حجم بڑھانا اور آنتوں کا گزر منظم کرنا | مضبوط (کلینیکل مطالعات) |
| بواسیر | سخت پاخانے اور زور لگانے میں کمی؛ ریشے کے استعمال سے علامات اور خون آنے میں کمی | مضبوط (منظم جائزے) |
| آنتوں کی تھیلیوں کا مرض (Diverticular disease) | زیادہ ریشے والی خوراک سے بڑی آنت میں دباؤ کم ہونا | درمیانی (مشاہداتی) |
| آنتوں کے جراثیم کا عدم توازن | ریشے کا پری بائیوٹک اثر اور مختصر زنجیر فیٹی ایسڈز میں اضافہ | درمیانی (ابھرتی ہوئی تحقیق) |
| موٹاپا اور ٹائپ 2 ذیابیطس | سیری، سست جذب اور شکر کے اتار چڑھاؤ میں کمی | درمیانی تا مضبوط (مشاہداتی) |
| بڑی آنت کا کینسر | ثابت اناج اور ریشے کے زیادہ استعمال سے خطرے میں کمی | درمیانی (مشاہداتی) |
معدے کی تیزابیت، ریفلکس اور السر جیسی شکایات میں بے چھنی روٹی کے براہِ راست علاجی اثر کے ٹھوس شواہد محدود ہیں۔ ان میں زیادہ فائدہ مجموعی خوراک سے ہوتا ہے: کم مقدار میں کھانا، بار بار حد سے زیادہ پیٹ نہ بھرنا، اور بازاری تلی ہوئی و پروسیس شدہ اشیاء سے پرہیز، جو حدیثِ نبوی کے اعتدال والے اصول سے ہم آہنگ ہے۔
خلاصہ یہ کہ بے چھنی روٹی معدے کے ہر مرض کا علاج نہیں، لیکن آنتوں سے متعلق بہت سے جدید امراض، خصوصاً قبض اور بواسیر، کے سدِ باب میں اس کا فائدہ سب سے واضح ہے۔
احتیاطیں اور مناسب استعمال
بے چھنی روٹی سب کے لیے یکساں مناسب نہیں، اور ریشے میں اچانک اضافہ پیٹ پھولنے اور گیس کا سبب بن سکتا ہے۔
ان افراد میں احتیاط: معدے یا آنتوں کی شدید سوزش، فعال السر، مسلسل اسہال، آنتوں کی سوزشی بیماری (IBD) کے حملے کے دوران، اور آنتوں کی تنگی کے مریض معالج کے مشورے کے بغیر زیادہ ریشہ نہ لیں۔ سیلیک مرض یا گلوٹن سے حساسیت میں گندم اور جو دونوں ممنوع ہیں۔
آنتوں کی حساسیت (IBS): گندم کی بران بعض مریضوں میں علامات بڑھا سکتی ہے؛ ایسے افراد معالج سے مشورہ کریں۔
تدریج: ریشے کی مقدار ہفتوں میں آہستہ آہستہ بڑھائیں، تاکہ آنتوں کے جراثیم نئی خوراک سے مطابقت پیدا کر سکیں۔
پانی: ریشہ بڑھانے کے ساتھ پانی کا استعمال بھی بڑھائیں، ورنہ قبض کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتی ہے۔
آٹا گوندھنے کا طریقہ: آٹے کو کچھ دیر رکھ کر یا خمیر دے کر گوندھنے سے اناج کا فائٹک ایسڈ کم ہوتا ہے، جو آئرن اور زنک کے جذب میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔
ملاوٹ کی احتیاط: بازار میں بعض اوقات میدے میں رنگ ملا کر اسے “براؤن آٹا” کہہ کر بیچا جاتا ہے؛ معتبر چکی یا ثابت دانے سے خود پسوایا گیا آٹا بہتر ہے۔
نتیجہ
قرآنِ کریم قدرتی غذاؤں پر غور کی دعوت دیتا ہے، اور سنتِ نبوی میں سادہ، کم پروسیس شدہ اناج اور اعتدال والی خوراک کا طریقہ ملتا ہے۔ جدید غذائی سائنس اسی سمت کی تائید کرتی ہے: ثابت اناج کا ریشہ آنتوں کی حرکت، مفید جراثیم، شکر کے کنٹرول اور دل کی صحت میں مددگار ہے۔
آج کے مشینی دور میں، جہاں قبض، بواسیر اور ہاضمے کے مسائل عام ہو چکے ہیں، بے چھنی روٹی کو بتدریج روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا ایک سادہ، سستا اور سنت سے ہم آہنگ قدم ہے۔ البتہ کسی بھی دائمی یا شدید معدے کی شکایت میں مستند معالج سے رجوع ضروری ہے۔


