ویاگراکےاستعمال کےنقصانات اور ان کا تدارک۔قسط دوم

ویاگراکےاستعمال کےنقصانات اور ان کا تدارک۔قسط دوم

ویاگراکےاستعمال کےنقصانات
اور ان کا تدارک           ۔قسط دوم

ویاگراکےاستعمال کےنقصانات اور ان کا تدارک۔قسط دوم
ویاگراکےاستعمال کےنقصانات
اور ان کا تدارک۔قسط دوم

 

ویاگراکےاستعمال کےنقصانات۔
اور ان کا تدارک۔قسط دوم۔۔

تحریر:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

کامیاب علاج کی مثال

گگو منڈی سے ماسٹر محمد اقبال صاحب نے دوسری شادی کرائی تو قوت باہ کے لئے مقائی حکیم سے کوئی دوا لے کر کھائی اس کے کھانے سے بے پناہ قوت میں اضافہ ہو گیا وہ بہت خوش تھا اس دوا کے تیسرےدن اچانک دائیں بازو میں فالج ہو گیا اس سے پہلے وہ عالاج و معالجہ کے سلسلہ میںرابطے میںرہتا تھا اور مریض بھی بھیجتا رہتا ہے۔ قانون مفرداعضاء کی خوبیوں سے خوب واقف تھافالج کاحملہ ہوتے ہی اسے یقین ہو گیا کہ اس قوت باہ کی دوانے ری ایکشن کیا ہے اس نے فورا مجھے فون کیا کہ حلیم صاحب میں نے قوت باہ کی دوا کھائی ہے اس سے بازو میں فالج ہوگیا ہے میں نے کہا فوراََ جوارش شاہی کی ۱۰۰ گرام کی ڈبی لے کر سالم کھا جائو ۔اور اعصابی غدی تریاق اور اعصابی عضلاتی اکسیر منگوا کر کھالو۔
ماسٹر صاحب ابھی وہاں بندہ بیٹے کا بندوبست کرہی رہا تھا کے فالج کا اثر ٹانگ کی طرف بھی بڑھنے لگا۔ میں نے کہا الائچی اور زیر و سفید کی چائے دس دس منٹ بعد استعمال کرو۔جواش شاہیکا استعمال رکھو،انشاء اللہ مرض بڑھنے سے رک جائے گا شام کا وقت تھا، اللہ کے فضل سے اسی سے فالج کا اثر بڑھنے سے رک گیا بلکہ کچھ کم ہو گیا دوسرےدن مطب پر آ گئے میں نے غدی تحر یک سمجھ کر اعصابی غدی تریاق اور اعصابی عضلاتی اکسیر

ملا کردی ساتھ جوارش شاہی و وکلو تازہ بنا کردی کہ ۱۰۰ گرام روزانہ کھائیں۔ مریض نے بتایا کہ جوارش شاہی کھاتے ہی جسم کو معلوم ہوتا تھا کہ کوئی چیز کھائی ہے جو فورا اعصاب کو طاقت دے رہی ہے مریض کو چونکہ فالج ایک دن پہلے ہی ہوا تھا لہذا تیسرے دن بالکل ٹھیک ہو گیا ۔علاج ڈیڑھ ماہ کیا تا کہ خون سے مرض کے اثرات ختم ہو جا ئیں۔ میں نے انہیں آئندہ کے لئے باخبر کیا کہ قوت باہ کی ادویات میں حکماء حضرات پا رہ ،شنگرف، سم الفار، اور کچلہ کے سوا کچھ نہیں ڈالتے اگر امساک کی کوشش کریں گے تو افیون سے پیچھے نہیں رکتے ان دواؤں کا اعتدال سے زیادہ استعمال فالج کردیتا ہے میں نے انہیں اپنی بنی ہوئی امساکی دوا دی کہ اب بھی ضرورت ہو تو سفوف سدا جوانی کے ساتھ اس کا ایک کیپسول استعمال کر لیا کروانشاء الدفا لج تو کیا جسم کو معلوم بھی نہیں ہو گا کہ کوئی دوا کھائی ہے یا نہیں، صرف قائد محسوس ہوگا ۔
دوا کا اصول بھی نہیں ہوتا ہے کہ کھائی جانے والی دوا کا مریض کوفائدہ محسوس ہو ۔ اس کے برعکس اگر کوئی دوا ایک مرض کے علاج کے کے لئے استعمال کی
جائے اور ساتھ ساتھ دو ادرد پیدا کر دے تو یہ علاج نہیں ظلم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفصیل نسخہ جات درج ذیل ہے
مفرح شاہی۔
ہوالشافی:مربہ آملہ100gمربہ سیب100gمربہ گاجر100gکشنیز خشک 25g الائچی خورد25gصندل سفید25gگل سرخ25gزرشک شیریں 50g چینی یا شہد حسب ضرورت۔حسب معمول معجون تیار کریں۔چھ ماشہ صبح کے وقت ۔ گھبراہٹ و بے چینی میں بہت مفید ہے۔مفرح قلب خفقان کی خاص دوا ہے ۔ خفقان قلب تبخیر معدہ مالخولیا کے لئے بہترین ہے۔معدہ کی جلن اور گرمی کو دور کرنا اس کا بائیں ہاتھ کا کام ہے، غشائے مخاطی جو غدد کی ایک مخصوص شکل ہے کے ورم کو بہت جلد تحلیل کرتی ہے،سوزاک تقطیر البول کے مریضوں کے لئے آب حیات سے کم نہیں ہےاس کی ایک خاص صفت یہ بھی ہے یہ اعصابی عضلاتی ہے ۔محرک دماغ و اعصاب ہے دماغی سکون کو فورا ختم کرکے دوبارہ آثار زندگی بخشتی ہے مثلاََ فالج کے دوران جب اعصاب کا سلسلہ منقطع ہوکر متأثرہ حصہ ناکارہ یا مردہ ہوجاتا ہے ایسی حالت میں مریض کا فالج اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوسکتا جب تک متأثرہ مقام کے کٹے ہوئے اعصاب دوبارہ سے جڑ کر اُن کا سلسلہ بحال نہ ہوجائے، اسی مقام پر نروس بریک ڈاؤن ہوتا ہے، اسی جگہ پر مفرح شاہی اپنا کام کرتی ہے، اعصاب کو تحریک دیکر حیات نو کی نوید لاتی ہے۔اگر کسی کو تازہ فالج ہو اہو تو چند گھنٹوں میں فالجی کیفیت کو صحت میں بدل دیتا ہے۔
مفرح شاہی کا دوسرا نسخہ
یہ جامع و مختصر ہے۔ہوالشافی،صندل سفید،الائچی خورد،زہر مہرہ خطائی ہر ایک تولہ تولہ گل سرخ 2تولے،دھنیا2تولے۔زرشک شیریں 5تولے،مربہ آملہ نصف کلو۔مربہ گاجر نصف کلو۔چینی تین کلو۔حسب طریقہ جوارش تیار کرلیں۔نہایت محرک اعصاب مقوی قلب ہے ضعف قلب گھبراہٹ بے چینی کو دور کرنے کا مفید ترین نسخہ ہے۔گرمی سے دل گھبرارہا ہو پسینہ سے شرابور ہو ایسے موقع پر آب حیات سے کم نہیں ہے۔اعصابی ادویات کے ساتھ اس کا استعمال بہت بہتر رہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعصابی عضلاتی ملین جدید
ہوالشافی۔ قلمی شورہ ایک تولہ۔کاسنی ایک تولہ۔جوکھار ایک تولہ ۔گل سرخ تین تولہ۔صندل سفید ایک تولہ سفوف بنا لیں خوراک میں چار رتی سے ایک ماشہ تک پانی کے ساتھ۔ افعال و اثرات میں اعصابی عضلاتی ملین ہے۔جسم سے صفرا کو یک دم خارج کرتا ہے، جسمانی حرارت بڑھ جانے پیشاب بند ہوجانے اور پیشاب کی جلن میں اعلی درجہ کی دوا ہے ۔دل گھبرانے،بلڈ پریشر کی وجہ سے ہونے والی تکالیف کا ازالہ کرتا ہے۔گرمیوں میں امراض گردہ کی وجہ سے ہونے والی تکلیف کو دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔پیشاب کے بعد دیر تک آنے والے قطرات کو خصوصی طورپر مفید ہے ۔جو لوگ تیز مرچ مصالحہ کھانے کی وجہ سے تکلیف محسوس کرتے ہوں انہیں فورا راحت دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعصابی غدی تریاق(اعصابی قشری تریاق)
مفرد اعضاء اربعہ فارماکوپیا کا مشہور عام نسخہ ہے اس کا مزاج ترگرم درجہ دوم ہے۔
اجزائے نسخہ۔۔۔۔
ریوند خطائی پچاس گرام، ملٹھی کی مقشر جڑ پچاس گرام، سوہاگہ سفید خام پچاس گرام، اور شیر مدار دس ملی لیٹر۔
مقدار خوراک۔۔۔ بالغ افراد کیلیئے 500 ملی گرام سے ایک گرام تک دن میں تین بار ہمراہ پانی یا دودھ۔
خواص۔ مولد رطوبات، محلل اورام، دافع سوزش، مفتت حصات،
استعمال و فوائد۔۔۔۔
عورتوں کی ماہواری کا درد سے آنے کا سبب رحم کی سوزش سے خون کی رگوں کا سکیڑ ہوتا ہے۔ یہاں ٹی-5 اندرونی سوزش کو اتار کر بلا تکلیف ماہواری کا اجرا کرتی ہے۔ حتی کہ کئی ماہ وسال سے رکی ہوئی ماہواری کو بھی رفتہ رفتہ جاری کر دیتی ہے
پیشاب رک رک کر آتا ہو تو یہ مثانے، حالبین اور پروسٹیٹ کی سوزش سے ان کا سکیڑ ہوتا ہے اس موقع پر بھی ٹی-5 ہمراہ شربت بزوری بارد دینا تریاق کا کام کرتی ہے اور پیشاب کا بلا رکاوٹ اخراج ممکن بناتی ہے
ٹی_5 عورتوں کی مخصوص دوا ہے جو کہ عورتوں کے تقریبا 80% امراض میں مفید ثابت ہوتی ہے۔
یہ رحم کے عضلات، رحم کی پرتوں، جھلیوں اور رحم کے جسم میں نرمی و لچک پیدا کرتی ہے۔ عورت میں جب رحم کی سوزش سے سختی ہوکر مینسز بند ہوجاتے ہیں اور رحم سکڑ جاتا ہے تو یہ دوا رطوبات پیدا کرکے رحم کی تمام خرابیوں کو دور کرتی ہے جس سے مینسز جاری ہوکر ریگولر ہوجاتے ہیں۔
کئی عورتوں کو مینسز تو ٹھیک آتے ہیں۔ لیکن ان کے بیضے Eggs ایسٹروجن ہارمون کی کمی کے سبب میچور نہیں ہوتے اکثر ایسی لڑکیوں کے سرکے بال گھنگریالے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ہیئر فولیکلز میں بھی سوزش سے سکیڑ ہوتا ہے اور جو بھی بال نکلتا ہے وہ ٹیڑھا میڑھا ہوکر نکلتا ہے ان کے باقی افرازات بھی گھٹے گھٹے اور تکلیف و جلندار ہوتے ہیں، پاخانہ بل دار اور ٹوٹ کر آتا ہے، جو بیضہ خارج ہوتا ہے وہ پچکا ہوا اور جھری دار ہوتا ہے۔ ایسی عورتوں کو ٹی-5 اور مقوی اعصاب ادویہ دیں تو بالوں کا گھنگریالہ پن ختم ہوجاتا ہے۔ اور ہیئر فولیکلز کا سکیڑ ٹھیک ہوکر بال سیدھے نکلنے لگتے ہیں کیونکہ فولیکلز میں لچک پیدا ہوکر راستہ کھل جاتا ہے۔
بیضے میچور کرنے کیلیئے ٹی-5 دے کر اووریز کی سوزش دور کرنی ہے یہ دوا ایسٹروجن ہارمون کی پیدائش بڑھاتی ہے۔
نوٹ۔ اگر پروجیسٹرون ہارمون کی کمی ہوتو علامات مختلف ہوتی ہے کیونکہ پروجیسٹرون ہارمون عضلاتی قشری مزاج میں پیدا ہوتا ہے۔ تو اس کو پیدا کرنے کیلیے عضلاتی قشری اغذیہ و ادویہ دینگے۔ گوشت خور عورتوں کے چہرے پر بال آ جاتے ہیں ایسٹروجن ہارمون کم ہوکر پروجیسٹرون ہارمون بڑھ جاتا ہے عورت میں مردانہ خواص واضح ہونے لگتے ہیں۔ اس مرص کا علاج ایسٹروجن ہارمون کو بڑھانا ہے جو کہ ٹی-5 سے پیدا ہوگا۔
جن عورتوں میں رحم کے سکیڑ اور دیواریں سخت ہوکر موٹی ہوگئی ہوں وہاں ٹی-5 اور محلل اورام دینگے۔ رحم کی سکڑنے کا سبب قشری عضلاتی تحریک میں حرارت کی زیادتی سے رطوبات کا خشک ہونا ہے یہاں اگر پھر سے رطوبات پیدا کرلی جائیں تو عورت صحت مند ہوکر صاحب اولاد ہوجاتی ہے۔
جن خواتین کو لیکوریا جما ہوا، بدبودار چھیچھڑوں کی طرح آتا ہو انہیں ٹی-5 دے کر پہلے لیکوریا پتلا کرنا چاہیئے تاکہ فاسد مادوں کا اخراج ہوسکے پھر جب لیکوریا پانی جیسا شفاف ہوجایے تب آرتھری جی کیپسول دے کر اسے بند کردیا جاتا ہے۔
جب ماہواری میں بلڈ کلاٹس یعنی جمے ہوئے خون کے لوتھڑے آ رہے ہوں تو یہ رطوبات کی کمی کی علامت ہے ایسی صورتحال میں ٹی-5 رطوبات کی پیدائش سے خون کو پتلا کر کے اس کا باآسانی اخراج کرتی ہے۔
جلد کی سوزش سے جلد کے مساموں میں سکیڑ ہوکر پسینہ اور فضلات کا اخراج رک جاتا ہے اور اکثر اس سبب سے چھپاکی کی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس وقت بھی ٹی-5 جسم میں حرارت و رطوبت پیدا کرکے اس مرض کو دور کرتی ہے۔
فیلوپین ٹیوبز کا سکیڑ، فیلوپین ٹیوبز کی بلاکیج اور فیلوپین ٹیوبز کا ورم تینوں علامت قشری عضلاتی مزاج میں فیلوپین ٹیوبز کی سوزش سے درجہ بدرجہ پیدا ہوتی ہیں ان علامات کا مجرب ترین علاج ٹی_5 کی دو دو گولیاں تین وقت کھانے کے بعد ہمراہ نیم گرم دودھ دینا بہترین ثابت ہوا ہے۔
یاد رکھیں مزمن امراض کا ابتدائی درجہ سوزش جبکہ ورم دوسرا درجہ ہے یہ مزید بڑھ جائے تو ترشح کے بعد تبرید میں جاکر کینسر بن سکتا ہے۔ ٹی_5 سوزش، ورم، السر، قرحہ، ناسور، بھگندر کینسر تک شفا بخش دوا ہے۔ کارسی نوما کینسر میں دیگر ادویہ کے ساتھ ٹی_5 لازما دی جاتی ہے۔
نیز معدے کی جلن، تقطیر البول، چنبل، پیشاب کی جلن، ٹی بی، بند نزلہ، اور ایگزیمیا کی مجرب ترین دوا ہے۔
تیکھے سخت منہ والے مسوں کا علاج بھی ٹی_5 سے کامیاب ثابت ہوا ہے۔
اعصابی عضلاتی اکسیر۔۔مشہور نسخہ ہے

1 thought on “ویاگراکےاستعمال کےنقصانات اور ان کا تدارک۔قسط دوم

Leave a Reply

Your email address will not be published.