مٹی کے برتنوں کے بے شمار فوائد طب نبوی ﷺ کی روشنی میں

مٹی کے برتنوں کے بے شمار فوائد
طب نبوی ﷺ کی روشنی میں

مٹی کے برتنوں کے بے شمار فوائد طب نبوی ﷺ کی روشنی میں
مٹی کے برتنوں کے بے شمار فوائد
طب نبوی ﷺ کی روشنی میں

مٹی کے برتنوں کے بے شمار فوائد
طب نبوی ﷺ کی روشنی میں
تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
کاہنہ نو لاہور

رات کا رکھا ہوا پانی۔۔۔

سیدنا جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ سید الاولین والآخرین حضرت محمدؐ ایک انصاری کے ہاں تشریف لے گئے آپ کے ہمراہ آپ کے ایک صحابی بھی تھے۔ آپ نے انصاری سے فرمایا جو اپنے باغ کو سیراب کر رہے تھے… اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا رکھا ہوا پانی (رات کے اثر کی وجہ سے جو ٹھنڈا ہو جاتا ہے) میسر ہو تو لے آؤ اور ہمیں پلاؤ۔ ورنہ اسی پانی سے ہم دونوں ہاتھوں کا چلو بھر کر پی لیتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں! آقا! پانی رات والا موجود ہے… اور میں ابھی لایا۔ یہ کہہ کر وہ برآمدے (یا چھپر) کی جانب ہمیں لے کر چل دیئے۔ وہاں سائے میں ہمیں بٹھایا پھر مشکیزے سے پانی ایک لکڑی کے پیالے میں ڈالا اور اس میں بکری کا دودو دوھا… پھر بڑی عقیدت سے حضورؐ کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ نے وہ پسند فرمایا اور جی بھر کر پیا اور پھر جو صحابی ہمراہ تھے انہیں بھی اپنا بچا ہوا عطا فرمایا۔ (صحیح بخاری‘ کتاب الاشربہ‘ سنن ابو داؤد) (بخاری شریف کی مشہور عربی شرح فتح الباری میں حدیث کے ذیل میں لکھا ہے کہ وہ صحابی غالباً سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھے۔)
والماء البائت أجوده لصفاته عن الكدر وغيره.
وكان النبي صلى الله عليه وسلم يستعذب الماء، ويختار البائت منه.
وقال جابر: (إن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسقى فقال: إن كان عندكم ماء قد بات في شن وإلا كرعنا) خ.
وقال صلى الله عليه وسلم : (خمروا الآنية وأوكوا الأسقية، فإن في السنة ليلة ينزل فيها الوباء من السماء فلا يمر بإناء ليس عليه غطاء، أو سقاء ليس عليه وكاء إلا وقع فيه من ذلك الوباء) م.
قال الليث: الأعاجم عندنا يتقون تلك الليلة في السنة في كانون الأول، رواه مسلم.
وليحذر الماء الشديد البرد، فإنه يضر الأسنان، ويثير البحة والسعال، وإدمانه يحدث انفجار الدم والنزلة وأوجاع الصدر، لكنه ينفع من صعود الأبخرة إلى الرأس ويطفئ وهج الحمى الحارة، وسيأتي الكلام عليه في باب مداواة الحمى إن شاء الله تعالى.الطب النبوي للذهبي (ص: 196)

مٹی کے برتن سے پانی پینے کے حیران کن فوائد

پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔انسانی وجود ستر فیصد پانی پر مشتمل ہے۔بہت سارے ماہرین نے انسانی جسم کے لئے پانی کی خاص مقدار مقرر کرتے ہیں،ہر انسان کی جسمانی ساخت و جسامت کے مطابق مختلف اجسام کے لئے مختلف مقدار میں پانی درکار ہوگا۔جو لوگ گوشت،چٹ پٹی اشیاء خشک قسم کے کھانے اور خشک مزاج کے فروٹ کھاتے ہیں انہیں پانی کی زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے،جو لوگ تر یا گرم مزاج کے کھانے کھاتے ہیں انہیں پانی کی کم مقدار درکار ہوتی ہے۔
پہلے زمانہ میں لوگوں کی خوراک اور غذذائوں کا انداز کچھ اور تھا آج کچھ اور ہے،فضاء کی آلودگی،غذائوں میں ملاوٹ،کیمیکلوں کا بے تحاشا استعمال،مصںوعی طرف زندگی۔محنت سے جی چرانا اچھی غذائت والے کھانے کھانا،فریج،اے سی کے خوگر بننا۔محنت مشقت کے بجائے آرام دہ زندگی کا عادی ہونا،پیدل چلنے سے کترانا،یہ سب عوامل ایسے ہیں جو انسانی صحت کو گھن کی طرح کھائے جارہے ہیں

،
مٹی کے برکتوں کی برکات۔

جب سے گھروں سے مٹی کے برتن رخصت ہوئے ہیں صحت روٹھ سی گئی ہے۔پہلے لوگ چمڑے کے ڈول سےقوت بازو کی بنیا کر پانی نکالا کرتے تھے،انہیں مٹی کے کھڑوں یا چمڑے کے مشکیزہ میں ذخیرہ کرتے تھے۔پانی نکالنے میں مشقت لگتی تھی اس لئے ایک بات نکال کر ذخیرہ کرلیا جاتا تھا۔جتنی ضرورت ہوتی استعمال کرلیا جاتا دھاتوں کا استعال محدود تھا۔کھانے پکانے کی ہنڈیا مٹی کی ہوتی تھی جس میں ہلکی آنچ پر کھانا تیار ہوتا تھا ،بغیر مصالحوں اور کیمیکلز کے شانداز ذائقہ میسر آجایا کرتھا،پانی کے مٹی کے کھڑے اور مٹی کے پیالے اور گلاس استعمال کئے جاتے تھے۔جس برتن میں کھانا ڈال کر کھایا جاتا وہ بھی مٹی کا بنا ہوتا تھا۔آج اگر مٹی کے بنے برتنوں میں کھانے پینے کی نوبت آجائے تو دیکھیں گے کہ چہروں کی شادابی ابھر کر سامنے آجائے گی۔صحت میں بدلائو اور طبیعت میں فرحت خش بدلائو دیکھنے کو ملے ،جن زہروں کو ادویات کے نام پر حلق سے اتار رہے ہیں کافی حد تک ان سے جان چھوٹ جائے۔

مٹی کے برتن چھوڑنے کے نقصانات۔

جب سے گھروں سے مٹی کے برتن گئے ہیں ہمارے ہاتھوں مین پانی کی بوتلیں تھمادی گئی ہیں۔پانی تو وہی ہے لیکن استعمال کا انداز بدل گیا ہے،جو پانی پہلے کنویں ،تالاب۔چشمے۔جھرنے ،نہرسے لایا جاتا تھا اب وہ برقی مشینوں کے مدد سے حاصل کیا جارہا ہے۔قدرتی انداز سے حاصل شدہ پانی عمومی طورپرآلودگی اور جراثیموں سے پاک ہوتا تھا۔اگر کوئی کمی رہ جاتی تھی تو گھروں میں ذخیرہ کرنے والے برتن مٹی کے ہوتے تھے ان مقررہ وقت تک رکھے جانے کی وجہ سےمزید شفافیت آجایا کرتی تھی۔پینے کے لئے مٹی کے ڈھملے استعمال کرتے تھے۔ہمیں اس جگہ ایک حدیث یاد آرہی ہے،
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول ا صلی ا علیہ وسلم اذا شرب الکلب فی اناء احد کم فلیغسلہ سبع مرات متفق علیہ وفی روایۃ لمسلم وطھور اناء احد کم اذا ولغ فیہ الکلب ان یغسلہ ثلث مرات اولا ھن بالتراب(مشکوٰۃ باب تطھیر النجاسات ص۵۲)
اگر برتن میں میں کتا منہ دال دے تو اسے سات بار دھویا جائے،ایک تین بار مٹی سے مانجھا جائے تو برتن پاک ہوجاتا ہے۔یعنی مٹی میں ایسی خاصیت پائی جاتی ہے کہ کتے کا ہلکائو تک کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں۔جدید سائنس کتے کے اثرات دور کرنے کے لئے بڑے جتن کرنے پڑتے ہیں۔انجیکشن،ٹیبلٹ،نہ جانے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں ۔لیکن مٹی برتن اور مٹی کا استعمال۔کتے کے مضر اثرات اور ہلکائو کا تریاق ہیں ۔قدرت نے مٹی سے بہتر کوئی سستا فلٹر مہیا نہیں کیا۔جب پانی زمین سے ہوکر دوبار ہ میں استعمال کے لئے ملتا ہے تو شفافیت میں بے مثال ہوجاتا ہے۔

گھڑا بقابلہ فریج

پانی کی شفافیت کا جو انداز مٹی کے برتنوں مہیا ہوتا ہے وہ بوتل یا فریج کے پانی میں کہاں میسر۔جو لوگ فریج کا رکھا ہوا پانی پینے کے عادی ہیں وہ صحت مٹی کے برتن میں پانی پینے والوں کے برابر نہیں ہوسکتے۔کھڑے میں رکھے ہوئے پانی میں موجود کثافتیں تہیہ میں بیٹھ جاتی ہیں ۔بوتل یا فریج میں رکھے ہوئے برتن اس کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ۔سوائے مصنوعی ٹھنڈک کے اس پانی میں کوئی بدلائو نہیں آتا۔اس لئے فریج کا پانی پیاس تو بجھا سکتا ہے لیکن گھڑے والے پانی جیسی صحت نہیں دے سکتا۔
مٹی کے کولر یا مٹکے میں پانی محفوظ کرکے پینا صحت کے لیے انتہائی مؤثر اور مفید ہے۔ زمینی مٹی سے قدرتی طور پر بے شمار معدنیات اور وٹامنز حاصل ہوتے ہیں۔ اسی طرح مٹی کے برتن میں بھی یہ خصوصیت پائی جاتی ہے ۔
پہلے زمانے کے لوگ مٹی کے برتن سے پانی پیتے تھے کیونکہ ہمارے آباؤاجداد اس کی افادیت کو خوب جانتے تھے لیکن اب یہ رواج نہیں رہا۔ بہت ہی کم لوگوں کے گھر میں آج کل مٹکے میں پانی رکھا جاتا ہے۔ مٹکے کے پانی کی خصوصیات میں سب سے اہم پانی کا ٹھنڈا رہنا ہے۔
مٹکے کا پانی ٹھنڈا رہتا ہے:
مٹی میں اللہ تعالیٰ نے یہ کاصیت رکھی ہے کہ موسم کے اعتبار سے اس کے ٹمپریچر میں بدلائو ہوتا رہتا ہے۔گرمیون ٹھنڈک اور سردیوں میں گرم پانی نکلتا ہے۔بغور دیکھا جائے تو قدرت نے انسانی جسم کی ضرورت کے لئے مناسب ٹمپریچر مہیا کرنے کے لئے مہیا کرتی ہے،زمین میں تو یہ خاصیت پانی جاتی ہے یہی خاصیت کسی حد تک مٹی کے برتن میں بھی موجود ہوتی ہے۔مٹکے کے اندر پانی قدرتی طور پر ٹھنڈا رہتا ہے اور ساتھ ہی مٹی کی معدنیاتی نعمت سے بھی بھر پور رکھتا ہے ۔مٹکے کا پانی قدرتی طور پر بدلتے ہوئے موسم کے حساب سے ٹھنڈا رہتا ہے۔
الکلائن کی فراہمی :
مٹی کے اندر قدرتی الکا لائن ہوتا ہے جو کہ جسم کے پی ایچ لیول کو متوازن رکھتا ہے ۔انسانی جسم میں ایسیڈک ایسڈ ہوتا ہے، مٹی میں الکلائن کی فراہمی ہونے کی وجہ سے یہ پیٹ درد، معدے کی سوزش، تیزابیت اور دیگر اندرونی درد کی شکایات کو دور رکھتا ہے۔مٹکے یا مٹی کے برتن میں پانی محفوظ کر کے پینے سے یہ تمام فائدے حاصل ہوتے ہیں جو جسم کے لیے موثر ہیں۔

نظام ہاضمہ اور میٹا بولزم کو بہتر کرتا ہے:

مٹکے کا پانی پینے سے میٹابولزم سسٹم بہتر ہوتا ہے۔ اس سے کوئی خطرناک کیمیکلز کا خدشہ لاحق نہیں ہوتا جب کہ پلاسٹک کی بوتل اور دیگر چیزوں میں اکثر خطرناک کیمیکل بی پی اے وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ مٹکے کا پانی پینے سے نظام ہاضمہ اور جسم میں ٹیسٹوسٹیرون متوازن رہتا ہے۔ اس کے اندر معدنیات محفوظ ہونے کے باعث یہ معدے اور نظامہ ہاضمہ کو درست رکھتا ہے۔
گلے کے لیے مؤثر:
فریج میں رکھے ہوئے ٹھنڈے پانی کو پینے سے اکثر گلے میں تکلیف کی شکایت ہوتی ہے کیونکہ یہ گلے کے غدود کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

لیکن مٹکے کا پانی ایک ہی درجہ حرارت پر برقرار رہتا ہے اور اس کے پینے سے گلے کی کوئی شکایت درپیش نہیں ہوتی اس لیے مٹکے کا پانی کھانسی، ٹھنڈ اور سانس کی تکلیف سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ :

موسم گرما میں سورج پانی کی پیاس زیادہ لگتی ہے اس لیے دور جدید میں ہر کوئی فریج کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھنڈا پانی پیتا ہے جو نقصان دہ ہے۔
گرمی میں مٹکے کا پانی استعمال کرنا جسم میں نیوٹریشن ،وٹامن گلوکوز کو متوازن رکھتا ہے اور ہیٹ اسٹروک کے خدشے سے محفوظ رکھتا ہےجب کہ مٹکے کا پانی دن بھر تازگی اور تسکین فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی صحت کو تحفظ دیتا ہے۔

 

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *