مصیبت اور صبر کو راز۔اور لفظ کُن کی حقیقت

مصیبت اور صبر کو راز۔

اور لفظ کُن کی حقیقت

مصیبت اور صبر کو راز۔اور لفظ کُن کی حقیقت
مصیبت اور صبر کو راز۔اور لفظ کُن کی حقیقت

 

مصیبت اور صبر کو راز۔اور لفظ کُن کی حقیقت
(میواتی زبان میں فکر انگیر تحریر)
ازحکیم المیوا ت حکیم قاری محمد یونس شاہد میومنتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور
فاضل نصرۃ العلوم گوجرانوالہ/وفاق المدارس العربیہ پاکستان

اللہ تعالیٰ نے انسان خاص مقصد کے مارے پیدا کرو ہے یا کی زندگی میں ابھار ہے جوش و جذبہ ہے جو لوگ کہوا ہاں کہ ندگی میں پریشانی اور مصیبت کیوں آواہاں؟وے اپیدائش کی غرض و غائت سو نا واقف ہاں۔سیدھی سی بات ہے انسان کو خدا کو نائب ہے جو کام اصل کا رہوا ہاں وہی نائب کا بھی رہوا ہاں۔اللہ تعالی نے سورہ رحمن میں کہوہے کل یوم ہو فی شان۔واکی ہر دن نئی شان یعنی تخلیق ہےانسان کی بھی یہی خواہش رہوے کہ ہر دن کچھ نئیو کرے،کوئی نہ جوئی ایسو کام کرے جائے دوسرا نہ کرتا ہوواں۔یامارے ہر وقت سوچ و بچار میں لگو رہوے ہے۔انسانی کی حیثیت کو تعینسب سو پہلے تو انسانی حیثیت کوتعین قران کریم کی نظر سو کراں کہ انسان کی کائنات میں حیثیت کہا ہے؟ اور خود خالق کائنات نے یاکو کہا حیثیت دی ہے؟۔۔اللہ تعالیٰ نے جو بھی چیز پیدا کری ہے واکا بارہ میں قران کریم بتاوے ہے کُن کہوے تو اُو چیز موجود ہوجاوے ہے،انما امرہ اذا اراد شئی ان یکون لہ کن فیکون۔لیکن انسان کی باری آئی تو بتایو کہ خلقتہ بیدی کہ ای تو میں نے اپنا دست قدرت سو پیدا کرو ہے۔حدیث مبارکہ کا مطالعہ سو پتو چلے ہے کہ یاکو خمیر پوری زمین کی منتخب مانٹی سو کری گئی ہے۔ حدیث میں یاکو ذکر ہے کہ فرشتہ نے ساری زمین سو تھوڑی تھوڑی سی مانٹی لاکے خدا کے سامنے پیش کری،اللہ نے اپنا دست قدرت سو واکو خمیر تیار کرو،ای طویل بحث ہے۔جب ہر طرح سو کلبوت تیار ہوگئیو تو قران بتاوے ہے کہ اللہ نے وامیں اپنی روح پھونکی،ونفختہ فیہ من الروحی،کہ میں نے انسان کے بھینتر اپنی روح پھونکی۔اگلو مرحلہ یاکی رہائش اور یاکی نسل کی بڑھوتری ہی تو اللہ نے کچھ نے کچھ دن مہمان بنا کے اپنے پئے جنت میں راکھو۔لیکن یاکو اصل وجود یا دنیا کے مارے بنایو گئیو ہو۔جب مقررہ مدت پوری ہوئی تو اللہ نے زمین پے اتار دئیو۔مستقر و متاع ۔کہ ایک مقررہ وقت تک یا زمین پے رہیگا۔پھر یاکی ذمہ داری لگائی کہ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔۔کہ اعمال کا لحاظ سو کون اچھا اور برا عمل کرے ہے۔اور کون یا زندگی کی مقصد اے پورو کرے ہے۔انسان یا دنیا کی چیز نہ ہے لیکن یا دنیا کو انتظام یاکا ہاتھ میں دیدیو گئیو ہے۔یا دنیا میں ہر رنگ اور دھرم کا لوگ موجود ہاں ۔نت نئی سوچ کا مالک ہاں ،انن نے زندگی گزارن کا اپنا پان انداز اپنایا ہوایا ہاں۔ہر ایک کو اپنو رکھ رکھائو ۔تہذیب و تمدن ہے۔اپنی اپنی ریت و رواج ہاں ،اختلاف طبائع کی وجہ سو سوچ بھی الگ الگ ہاں ۔انسان کی تخلیق بھی عجیب ہے یاکو وجود تو مختصر و محدود ہے لیکن آج تک یائے کوئی سمجھ نہ سکو،جانے بھی دعویٰ کرو ہے کہ انسان سجمھ لیو گئیو تو وانے منہ کی کھائی۔انسان کو سمجھنو خدا اے سمجھن والی بات ہے، ایسو کون ہے تو محدود ذہن کے ساتھ لا محدود ہستی کو ادراک کرسکے۔انسانی ہستی کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت سو بھی گھنی ہے۔ہزاروں برس بیت گیا ابھی تک انسان ایک مرض اے نہ سمجھ سکو،اگر کوئی یقینی بات کہی بھی تو واکی حیثیت ایک تخمین و ظن سو گھنی نہ ہے۔سوچن والی بات ہے جا خدا نے ہم کو بے شمار صلاحیت اور احساسات دیا ہاں کہا ہم کو دو غلہ روٹی نہ دے سکے ہو؟یا جو انسان کی روزی کے مارے ذرائع اختیار کرنا کی ترغیب دیوے ہے کہا اُو بے ذرائع روزی نہ دے سکو ہو؟کیونکہ بالکل ایسو کرسکے ہو اور جا روزی اے ہم حاصل کراہاں واپے ہمارو اختیار رہوے ای کتنو ہے؟۔بھیج زمین میں دبیا دئیو۔ کھاد پانی دئیو۔ تھوڑا سا پھینکا گیا اناج کا بدلہ میں ڈھیر ساری روزی دیدی ۔۔ای سب واکا غیبی نظام کو ایک سلسلہ ہے۔اب ہم اصلی بات کا مہیں آواں تو سوچن والو سوچے ہے کہ زندگی میں مصیبت کائیں کو آواہاں ؟پھر ہم کو تلقین کری جاوے ہے کہ ان مصیٰبت اور پریشانین پے صبر کرو۔۔اگر یہ پریشانی اور مصیبت نہ ہوتی تو صبر کی ضرورت ای نہ پڑتی؟بات تو سوچن والی ہے۔ ایسو کیوں نہ ہویو؟اگر ایسو ہوجاتو زندگی کتنی بہترین طریقہ سو بسر ہوتی؟مثال سو سمجھانا کی کوشش کرونگو، ممکن ہے بات دماغ میں بیٹھ جائے۔پہلا لوگ اپنا وقت کا لحاظ سو مثال دیوے ہا ،ہم اپنا وقت کا لحاظ سو سمجھارا ہاں ۔گاڑی یا سواری کتنی بھی اچھی ہوئے یا کتنی بھی تیز چلتی ہوئے،وامیں کلچ اور بریک ضرور راکھی جاوے ہے، ورنہ تیز رفتاری حطرناک بھی ہوسکے ہے۔گاڑی میں جتنی ضروری ایکسی لیٹر رہوے ہے واسو زیادہ ضروری بریل اور کلیچ رہوے ہے،لیکن آج کل کلیچ کو کام بھئ ختم ہوگئیو ہے لیکن جوکام واکو ہے کہ گاڑی کنٹرول کری جاسکے،کو نظام موجود ہے۔اگر تیز رفتاری میں بریک فیل ہوجائے تو واکو انجام سبن نے پتو ہے کہ زندگی بچنو مشکل ہے۔یہی حال انسانی زندگی کو ہے مصیبت اور غیر طبعی حالات یا وجہ سو آواہاں کہ انسان جلد بازی میں کہیں زندگی کی گاڑی اے ٹکرا نہ دئے؟کوئی حادثہ پیش نہ آجائے۔یامارے جاسو ہم پریشانی کہوا ہاں دراصل او ہماری حفاظت کو سامان ہے۔جب انسان کے سامنے غیر موافق حالات رہواہاں تو واکی دبکی اور خفیہ صلاحیت کام کرنو شروع کردیوہاں۔ہم نے پہلے بتادئیو ہے کہ انسان اے آج تک کوئی نہ سمجھ سکو۔جادن انسان پورو کو پورو سمجھ لئیو گئیو سمجھو انسان خدا کے پئے پہنچ گئیو ،یانے خدا کا راز پالیا۔مصیبت اور پریشانی ہم نے ناامید کرن کے مارے نہ آواہاں، یہ تو یامارے آواہاں کہ جن باتن نے پوری سمجھو ہو وے ادھوری ہاں۔یاجن صلاحیتن سو کام لیو جارو ہے یہ بہت ناقص ہاں،ان کے علاوہ بھی بہت ساری صلاحیت اور خاصیات ایسی ہاں جن کو کائی بھی پتو نہ ہے۔حتی کہ تم خود انسو ناواقف ہو۔ان سو واقفیت ضروری ہے جاسو اللہ کی تخلیق کو اظہار ہوسکے۔واکی نعمتن کو شکرانہ کو موقع مل سکے۔انسان بہتر انداز سو زندگی گزار سکے ،انسانیت کے مارے کئی دوسرا راستہ کھل سکاں۔انسانی ارادہ قوت تخلیق ہے۔انسانی ارادہ قوت تخلیق راکھے جو چیز سوچی جاسکے ہے اُو بنائی اور اپنائی بھی جاسکے ہے،یعنی انسانی ذہن میں کائی چیز کو پیدا ہونو یابات کی علامت ہے اگر یاکا سارا لوازمات اکھٹا کرلیا جاواہاں تو یاکو وجود ممکن ہے۔کدی غور کرو ہے قران کریم میں الہ تعالی نے اپنی شان ایسے بیان کری ہے ،جب ہم کائی چیز اے پیدا کرن کو ارادہ کرایاں تو کہوا ہاں ہوجا/وائی وقت اُو موجود ہوجاوے ہے۔اب دوسری بات سمجھو انسان بھی تو اللہ کو نائب اور خلیفہ ہے ،جو طاقت اللہ کی روح میں ہاں ،وہی طاقت یا روح کا ذریعہ سو انسان کے اندر منتقل ہوگئی ہاں،جوکام خدا کرسکے ہے ،واکو کام واکی شان کے مطابق ہے لیکن وائی کام اے انسان اپنی حیثیت کے مطابق کرسکے ہے۔کیونکہ نائب کو بھی وہی اختیار ہاں جو اصل کو ہاں۔۔اللہ بھی جب کائی چیز کا بارہ میں ارادہ کرے ہے تووائے پورا اہتمام کے ساتھ تخلیق کردیوے ہے۔یاکائنات میں ہر ن و ہر لمحہ تعمیر و تخریب کو عمل جاری ہے۔جب تک تعمیر و تخریب کو سلسلہ جاری ہے ای کائنات چلی رہے جب ای سلسلہ مٹو تو سمھو کائنات بھی فنا کےے گھاٹ اتر جائے گی۔لفظ کُن کو ادھورو تصور۔کچھ لوگن کا ذہن میں کن کو عجیب سو تصور موجود ہے کہ نوں سو کن کہو وائی لمحہ چیز بن کے موجود ہوگئی ،ممکن ایسو ای ہوئے لیکن شاید ای قانون قدرت کے خلاف ہے ۔اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں کائنات کی پیدائش کا بارہ میں بتاتے ہوئے کہوہے کہ فی ستۃ ایام۔کہ چھ دن میں بناگیا ہاں۔جب زمین و آسمان چاند سورج کی پیدائش نہ ہوئی ہی تو چھ دن کو کہا حساب ہو؟یائے وہی جانے۔کیونکہ ہمارا حساب سو تو دن سورج می ایک گردن یعنی چوبیس گھنٹہ کو نام ہے۔علم والا گیانی جانا ہاں کی یاکائنات میں صرف زمین اور سورج ای نہ ہاں بہت سا ان گنت سیارہ اور آفتاب موجود ہاں،ای سورج اور چاند تو رہو ایک گھاں کو، ای تو معلوم کائنات کو ایک معمولی سو ذرہ ہے۔یاسو کہیں بڑی بڑی دنیا اور کائنات موجود ہاں۔پھر چھ دن کوحساب کیسے کرو جائے؟اتنی سی بات سمجھ لئیو کہ جوچیز جتنی اہمت والی ہوئے گی ،واکی تیاری میں اتنو ای وقت درکار ہوئے گو۔جتبو وقت کائی چیز کی تعمیر یا تخلیق میں لگے گو اگر اُو اپنا پورا وقت میں مکمل ہوگئی تو سمجھو واکے مارے یہی کن ہوئے گو۔جولوگ “کن”: کی حقیقت سو ناواقف ہاں، ان کے مارے شاید ای بات ہضم کرنی کچھ مشکل ہوئے لیکن یہی بات حقیقت کے قریب تر ہے۔یہی کن انسان کے ساتھ بھی ہے۔کہ اگر کوئی خیال ذہن میں آئیو ،جاکا ذہن میں خیال پیدا ہویو ہے ای ارادہ کو پکو بھی ہویو،تو یا خیال تخلیق کرن میں لگ جائے گو ۔یاتخلیق میں جو علوم وفنون درکار ہونگا۔یا جو خام مال اور ضروریات درکار ہونگی اُنن نے اگھٹی کریگو۔واکے بعد من تن دھن سو مصروف عمل ہوجائے گو۔ایک وقت ایسو بھی آئے گو کہ اگر وہی، نہ تو واسو ملتو جلتو کوئی کام /تخلیق کرگزرے گو۔یہی واکو کُن ہوئئے گو۔ انسان جواب دہ کیوں ہے؟انسان کی حیثیت یا کائنات میں نائب خدا وندی ہے۔جاپے جتو بڑو عہدہ ہوئے گو واپے اتنی ہی بڑی ذمہ داری عائد ہوئے گو۔کیونکہ پوچھ واسو کری جاوے ہے جاپے اعتماد ہوئے،واکو اختیار دئیو گئیو ہوئے۔وامیں ذمہ داری کو بوجھ اٹھان کی صلاحیت ہوئے،کام کرنے کی قابلیت ہوئے۔واکو کام کا موقع اور وسائل مہیا کراگیا ہوواں۔۔اگر یہ چیز موجود نہ ہوواں تو کائی قسم کی جواب دہی فضول امر ہے۔انسان کو سب سو پہلے وے صلاحیت دی گئی جن کی بنیاد پے کائنات میں ای ذمہ دار ٹہرایو گئیو ہے۔کچھ صلاحیت اور سامان ایسا بھی ہاں جن کو سرے دست انسان اے پتو نہ ہے لیکن جب مشکل و مصیبت آوے ہے تو ان دیکھی طاقتن سو کام لئیو جاوے ہے۔مشکل حالات یا جاسو مصیبت کہہ سکو ہو ایسی چابی ہے جاسو مشکل سو مشکل تالا کھولو جاسکے ہے۔پیٹ بھر انسان اور دولت کا گھمنڈ میں چور انسان بہت کم بھلائی اور انسانی فلاح و بہبود کاکام کراہاں ۔کیونکہ بھرا پیٹ والا کو دماغ بند رہوے ہے جیسے جیسے پیٹ بھرتو جاوے ہے دماغ کا کواڑ بند ہوتو جاوے ہے۔تاریخ کی کتابین نے پڑھ کے دیکھ لیو جتنی بھی ایجادات اور انسانیت کے مارے مفید کام ہویا ہاں۔وے عمومی طورپے بھوکا وننگان نے کراہاں۔فاتح بھی عمومی طورپے بھوکا و ننگا رہوا ہاں۔انن نے اپنی فوج کے مارے وسائلن کی ضرورت رہوے ہے یامارے وے خوشحال اور مالدار ملکن کا مہیں چڑھ دوڑا ہاں۔

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *