عالم اسلام کا مایہ ناز سپوت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔

عالم اسلام کا مایہ ناز سپوت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔

عالم اسلام کا مایہ ناز سپوت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔

عالم اسلام کا مایہ ناز سپوت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔
عالم اسلام کا مایہ ناز سپوت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔

عالم اسلام کا مایہ ناز سپوت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔
از مولف۔۔۔تذکرہ کہن۔۔۔
استاد العلماء حضرت مولانا محمد افضال الحق جوہر قاسمی(1923تا2012ء)
ناقل
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

اسلامی ہند کی ہزار سالہ تاریخ میں علماء صوفيا، مد بر، رہنما اور بادشاہ ایک سے ایک آئے، اور اپنی یادگاریں چھوڑ کر چلے گئے مگر جس ذات گرامی نے حجۃ الله البالغہ۔ اور ازالۃ الاخفاء جیسی یادگار میں چھوڑی ہوں ، تاریخ میں ایسا کوئی نہیں گزرا۔

حجۃ الله البالغہ ایک کتاب ہی نہیں بلکہ عالمی رہنمائی اور حکمت و دانائی پیدا کرنے کی ایک تحریک ہے اورعقل وحکمت کا ایک ادارہ ہے۔
حجۃ الله البالغہ میں شاہ صاحب نے ارسطو اور ابن سینا کی طرح حکمت و فلسفہ کو تجربہ اورعقل تک محدود نہیں رکھا ہے، بلکہ اسے قرآن کی روشنی میں ، پیامبر اسلام کے علوم اور صحابہ کی زندگی میں تپا کر کندن کردیا ہے۔ چنانچہ وہ کتاب روحانیت اور مادیت کا ایسا آمیزہ بن گئی ہےجو انسانیت کی پیاس بھی بجھا سکتی ہے ،اور عصر حاضر بھی مطمئن کرسکتی ہے اور اسلامی علوم وفنون کی کسوٹی پر کھری اُتر سکتی ہے۔

حجۃ الله البالغہ ایک زندہ جاوید کتاب ہے، کیوں کہ اس میں یونانیوں کا وہ فلسفہ اور و منطق نہیں ہے جس سے بت پرستی اور وہم پرستی کی آج تک بو آ رہی ہے۔ اس لیے زمانہ جیسے جیسے ترقی کرتا گیا، یونانیوں کا تخیل اورفن اپنی قیمت کھوتا گیا اور کھوتا چلا جائے گا لیکن حجۃ الله البالغہ اسلام کے فطری اصولوں ، قرآن کے ٹھویں دلائل اور پیامبر اسلام کے الہامی نکات کا مجموعہ ہے۔ اس لیے جب تک آسمان کا سایہ ہے، انسان کی فطرت ہے اورعلم و نظر کی جستجو ہے حجۃ الله البالغہ باقی رہے گی۔

کیوں کہ شاہ صاحب نے اس میں نہ صرف وائل دیے ہیں بلکہ استدلال کے دروازے کھول دیے ہیں اور حکمت و بالغ نظری کے پھوٹتے ہوئے سوتوں کا ایسا سراغ دیا ہے، جہاں اہل نظرہمیشہ پہنچتے رہیں گے۔ چنانچہ ان ہی راہوں پر چل کر شاہ عبد العزيز : مولانا اسماعیل شہید ، مولا نا محمد قاسم نانوتوی ، مولانا عبید اللہ سندھی اور مولانا آزاد جیسے نادرہ روزگار افراد نے اس میں اضافے بھی کیے ہیں اورعصری تقاضوں کے مطابق نئے نئے زاویوں سے بحث اٹھائی ہے۔ قرآن کے عجائبات کی نقاب کشائی بھی کی ہے اور یہ سب دین حجۃ الله البالغہ کی ہے۔

اگر کوئی اکیڈمی شاہ صاحب کے ان کارناموں کو بنیاد بنا کربرصغیر اور عربی ممالک کے فکروفن والے اہل علم کی کاوشوں کا جائزہ لے تو اسے محسوس ہوگا کہ حضرت شاہ صاحب کا فن ابھی زندہ ہے، ترقی کررہا ہے اور ہمیشہ ترقی کرتا چلا جائے گا مگرکتنی ترقی کہاں کہاں ہوئی؟ یہ اکیڈمی متعین کرے گی۔
حضرت شاہ صاحب کے دور میں دہلی اور دوسرے مقامات پر شیعہ اور ایرانیوں کے اثرات بہت تھے، جس کی وجہ سے عقائد و اعمال متاثر ہورہے تھے۔ شاہ صاحب نے عقائد و اعمال کی تصحیح اور ا سے خرافات سے نکالنے کی جومنفرد کوشش کی ہے، اس کا نام ” ازالۃ الخفاء عن خلاصۃ الخلفاء،ہے۔ اس میں شاہ صاحب نے خلافت راشدہ کو قرآن و سنت سے جس طرح ثابت کیا ہے، اسے پڑھ کر ماننا پڑتا ہے کہ اس امت کا اول بھی اچھا ہے اور آخر بھی ۔ اس میں قرآن فہمی ، واقعات کی ترتیب اورفطری استدلال کے ایسے نادر نمونے یادگار چھوڑے ہیں کہ دشمن بھی پڑھے گا تو اس کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اللہ اکبر!

ازالۃ الخفاء عن خلاصۃ الخلفاء، نے شیعوں کے فتنے پی اور ان کی تشکیک پرایسا بند باندھا تھا کہ ابھی یک اسے کوئی عبور نہیں کر سکا۔ پھر حضرت شاہ عبد العزیز صاحب نے ، اوردار المبلغین قائم کر کے مولا نا عبد الشکور صاحب نے لکھنو سے مکمل کردیا ہے، اور اب ان کے گوشوں کوتکفیر تک لے جانے کا کا م مو لا نا منظور نعمانی نے شروع کیا ہے۔ دیکھنا ہے اس کے انجام کیا ہوتا ہے؟ اور ا سے امت کہاںتک قبول کرتی ہے؟۔

شاہ صاحب نے ایک جدت اور بھی کی ہے۔ اور خوب کی ہے کہ قرآن مجید کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے۔ پھر ان کے تمام صاحبزادوں نے قرآن کا اردو میں ترجمہ کردیا۔ چنانچہ شاہ عبدالقادر کے اردو ترجم کولوگ اردو میں الہامی ترجمہ بھی کہتے ہیں ۔ اس میں اس وقت کے محاورے، اس وقت کی زبان او را نشان کی مدد سے قرآن کے مفہوم کو عام کرنے میں جو کمال دکھایا ہے اس سے حضرت شیخ الہند کی نکتہ
رس زبان سے سننا چاہیے اور دادو نی چا ہیے۔

حضرت شاہ صاحب عربی سے فارسی کر کے اور انک ے صاحبزادوں نے اس کو اردو میں کر کے قرآن تک پہنچنے میں جتنی رکاوٹیں تھیں، وہ سب دور کر دی ہیں ، اور ان کے بعد علمائے کرام نے اس پر حاشیے اور شروح کے ذریعہ سونے پر سہاگہ لگا دیا ہے۔ آج کل وہی کام ہندی میں بھی ہونے لگا ہے۔ انگریزی کے تراجم بھی بازار میں آ گئے ہیں اور آج پورا ہندوستان اردو تراجم سے گونج رہا ہے ۔ کیوں کہ پھر بڑی سے بڑی شخصیتوں نے بھی اس پر قلم اٹھایا ہے اور خدا کی ترجمانی کا حق ادا کرنے کی کوشش کی

۔ آج ان میں سب سے معتبر شاہ عبدالقادر اور اورشیخ الہند کے تراجم ہیں ۔ اور سب سے مفصل اور شرح حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کا ترجمہ اور ان کی تفسیر ہے ۔ بعض بحث طلب کمزور یوں کو نظر انداز کردیا جائے تو عصر حاضر کی زبان میں مولانا ابوالکلام آزاد کا ترجمہ دوسرے تمام تر اجم سے اہم ہے مگر ان سب کا ثواب حضرت شاہ صاحب کے اعمال نامے میں لکھا جائے گا۔ کیوں کہ انھوں نے ہندوستان میں عوام و خواص تک قرن پہنچانے کی ابتدا کی ہے۔ اللہ نے ان کے خلوس کو قبول فرما کر اسے عام کر دیا ہے، اور اپنے دین کو وسعت بخشی۔

شاہ صاحب کا ایک بڑا امتیاز یہ بھی ہے کہ ان کے پڑھائے ہوئے شاگردوں کا سلسلہ خودان کے خاندان کے اندر سے چلا کہ اس نے شاہ صاحب کے علم و استدلال کو ساری دنیا میں پھیلا دیا ۔ اس میں سے سب سے بڑا کارنامہ دارالعلوم دیو بند کا ہے، جس نے نہ صرف حضرت شاہ صاحب کے علوم و فتون کو بلکہ ان کے شاگردوں کی طرح حدیث و قرآن اور فقہ کے ماہرین کی ایک ٹیم تیار کر دی اور سوبرستک و ہبرابر کرتا رہا

۔ اس لیے شاہ صاحب کافن ، ان کا امتیاز، ان کے علوم اورتدابیر کو نہ صرف کاغذ پر، نہ صرف ریشمی رومال پر۔ نہ صرف تقریروں میں محفوظ کرلیا گیا بلکہ بہت کی زندہ جاو ید شخصیتوں کے فکروفن میں سمو کر انھیں زندہ جا و یدہ بنادیا گیا ، جس سے سارا عالم فیض اٹھا رہا ہے اور سیراب ہورہا ہے۔ اس طرح شاہ صاحب کا خلوص ، ان کا علم اور ان کی فکر تینوں کے ایسے ایسے وارثین پیدا ہوتے رہے اور کم و میں آج بھی پیدا ہورہے ہیں جو ان کی فہرست اور امت کی رہنمائی کے نادر نمونے ہیں ۔
ماخذ:دینی مدارس،نئی دہلی ، شاہ ولی الله نمبر – ۱۹۹۴ء
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published.