طب کی حقیقت و ماہیت۔غرض وغایت۔مہارت۔قانون شفاء
طب کی حقیقت و ماہیت۔غرض وغایت۔مہارت۔قانون شفاء
in

طب کی حقیقت و ماہیت۔غرض وغایت۔مہارت۔قانون شفاء

 

طب کی حقیقت و ماہیت۔غرض وغایت۔مہارت۔قانون شفاء

   طب کی حقیقت و ماہیت۔غرض وغایت۔مہارت۔قانون شفاء

طب کی حقیقت و ماہیت۔غرض وغایت۔مہارت۔قانون شفاء

طب کی حقیقت و ماہیت۔غرض وغایت۔مہارت۔قانون شفاء
طب نبوی کے معنی و مفہوم
طب نبوی ﷺ کے معنی اور مفہوم نہ تو طب کی کتاب کے ہیں اور نہ ہی اس سے مراد کسی طبی نسخہ ہے لہذا اس کا موازنہ موجودہ طبی علم سے کرناطر یق قدیم طبی کتابوں سے اس کا مقابلہ کرنا ایک نامناسبت طریقہ ہے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے اسلامی انقلاب صرف ایک دینی انقلاب نہیں ہے بلکہ دنیاوی انقلاب بھی ہے یایوں کہا جائے کہ یہ ایک ہمہ جہتی انقلاب تھاجسکا مقصد پورے نظام زندگی میں انقلاب لانا تھااور طب نبوی بھی اسی مقصد کا ایک حصہ ہے اسی طرح طبی انقلاب کو اسلامی انقلاب کا ایک حصہ کہا (مانا)جاسکتا ہے،یہ سچائی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کے سامنے بخوبی آشکارا ہے،طب نبوی اصل میں نام ہے ایک پیغام کا جو طب کے سلسلہ میں ذہنوں کو جھنجھوڑتاہے۔طب نبویﷺ نام ہے اس ہدایت کاجو ہمیں دوا اور دعا کی ضرورت کو سمجھنا کے لئے دی گئی،طب نبوی نام ہے ایک نصیحت کا ان لوگوں کے لئے جو علاج و معالجہ میں روحانی علاج کے نام سے غلط روایات کا شکار رہتے ہیں،طب نبوی فہمائش ہے ان حضرات کے لئے جو مرض کو تقدیر الہی سمجھ کر علاج و دوا کو گناہ سمجھتے ہیں،طب نبوی نام ہے اس کا حکم کا جو رسول اللہ نے انسانوں کو طب کے میدان میں نئی راہیں تلاش کرنے کے لئے دیا،طب نبوی کے پیغامات،ہدایات،نصائح اور احکامات اصل میں قران کریم کے ارشادات کی روشنی میں دئے گئے ہیں حضرت علی سے مروی ہے ’’بہترین دوا قران ہے‘‘ابن ماجہ بحوالہ طب نبوی اور نباتات احادیث45)
طب اور طبیب
طب عام طور پر طاء کے زیر کے ساتھ مستعمل ہے یہ زیر ،زبر،پیش تینوں حرکات سے کے ساتھ منقول ہے سیوطی کہتے ہیں یہ تینوں حرکات کے ساتھ منقول اور اس کے معنی علاج کرنا،دوا کرا،اور بعض موقوعوں پر طاء کے زیر کے ساتھ ’’سحر‘‘ جادو کے معنی بھی استعمال کیا گیا ہے س اسی اعتبار سے ’’مطبوب‘‘ اسے کہتے ہیں جس پر جادو کیا گیا ہو۔طب کا تعلق ظاہر جسم سے بھی ہوتا ہے اور نفس(باطن) سے بھی چنانچہ حفظان صحت اور دفع مرض کے ذریعہ بدن کے علاج معالجہ کو جسمانی طبیب کہتے ہیں اور باطنی ہلاکت و تباہی پہنچانے والے افکار و اعمال اور بری عادات و اطوار کے ترک و ازالہ کے ذریعہ نفس کا علاج کرنے کو طب نفسانی کہتے ہیں۔جس طرح طب کی دو قسمیں ہیںاسی طرح دوا کی بھی دو قسمیں ہیں ایک تو جسمانی و طبعی خواہ وہ مفرد کی شکل میں ہویا مرکبات کی شکل میں(جیساکہ ظاہری دوائیں ہوتی ہیں)اور دوسری قسم روحانی ولسانی ہے،جو قران کریم اور اس کے حکم میں دوسری چیزوں کی صورت میں ہے۔نبیﷺ نے اپنی امت کے لوگوں کے علاج و اصلاح کے لئے ظاہری و طبعی دواوں کو بھی اختیار فرمایا باطنی و روحانی معالجہ کو بھی (،لسان العرب لابن المنظو،رتاج العروس553/1مشکوٰۃ شریف جلچ چہارم طب کا بیان۔ترجمہ اردو مظاہر حق مولفہ حضرت علامہ نواب قطب ادین دہلویؒ)
اطباء ئے کرام طب کے تعریف میں کئی تعریفات کرتے ہیں تین اقوال زیادہ مشہور ہیں (1)یہ وہ علم ہے جس میں طب کی حد بیان کی جاتی ہیں بدن انسانی کے بارہ میں اور انسانی جسم کو صحت و بیماری کے حوالہ سے پرکھا جاتا ہے(2)یہ وہ علم ہے جس میں ان احوان سے بحث کی جاتی ہے جو صحت کے حوالے سے ہوں اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے اسے دور کیا جائے (3)یہ وہ علم ہے جس میں جسم انسانی کے حوالہ سے بحث کی جائے صحت کے حوالہ سے اور اس چیز سے کہ صحت کو کس طرح محفوط بنایا جاسکتا ہے۔باقی معاملات سے کیونکر بچا جاسکتا ہے۔(احکام الجراحۃ الطبیۃ ولآثار المرتبۃ علیہا صفحہ33)یہ تینوں تعریفیں الفاظ کا ہیر پھیر ہیں بات ایک ہی ہے کہ جسم انسانی کو صحت کی حالت میں کس طرح برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
طب نبوی سیکھنے کی غرض و غائت۔
قران کریم کے بعد اہل اسلام کے نزدیک امام بخاری ؒ کی کتاب الصحیح ہے جس کی پہلی حدیث ہے نیت کا دارومدار نیتوں پرموقوف ہوتا ہے۔یعنی جو کام جس نیت سے کیا جائے گا اس کا عوض اس کی نیت کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ طب نبوی کو اس لئے بھی سیکھنا چاہئے کہ یہ دین کا بہت بڑا حصہ طب سے وابسطہ ہے اوران احادیث پر عمل ہوگا اور احیائے سنت ہوگی کہ اس میدان کو کم لوگوں نے آباد کیا ہے ہم اس شعبہ کو عملاََ زندہ کرتے ہیں یقینا یہ ایک بہت بڑی دینی خدمت ہوگی۔
دوسری نیت یہ ہونی چاہئے کہ دینی خدمت کے جن وسائل کی ضرورت ہے طب کے میدان میں اترنے سے وہ وسائل احسن و باوقار انداز میں مہیا ہوسکیں گے اور جو قیمتی وقت وسائل کی فراہمی میں خرچ ہوگا وہی وقت میں دینی خدمات اور ادارہ کی ترقی میں صرف کرونگا یقینا یہ ایک انقلابی عمل ہوگا اس کا ثواب ضرور ملے گا۔۔
طب کی پہچان اور صناعت طب کے بارہ میں
طب کی تعلیم کے بارہ میں۔۔۔اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا ہے علم الانسان مالم یعلم۔ہم نے انسان کو وہ سکھا یا جو اسے معلوم نہ تھا۔ عطاء بن سائب کہتے ہیں میں ابی عبد الرحمن السلمی کے ہاں پہنچا دیکھا کہ ان کا غلام دوا دینے کی کوشش کررہا ہے وہ اسے منع کررہے ہیں۔میں نے کہا چھوڑ و میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے سنا ہے وہ رسول اللہ کی حدیث بیان کررہے تھے ۔اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا نہ بھیجی ہو ہوسکتا ہے سفیان نے کہا ہے ہو کہ اس میں دوا کے بجائے شفا ہے کا لفظ ہے ،اب جس نے جانا وہ سمجھ گای جو بے خبر رہا یہ اس کی کم علمی ہے(ترمذی فی الطب۔ابن ماجہ فی الطب)عطاء ابی عبد الرحمن سے روایت کرتے ہیں غلام (علاج کے لئے)داغ دینے لگا میں نے کہا کیا تم داغنے لگے ہو۔میں نے کہا کیوں نہیں کیونکہ اہل عرب اس طریقہ سے علاج کرتے تھے میں ابن مسعود ہوں اس کے بعد حدیث بالا ذکر فرمائی(ابن سنی الطب النبوی۔مسند احمد۔مجمع الزوائد5/99)اسی طرح ابن مسعود ہی سے مروی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا:اللہ نے زمین پر کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو جو جانتا ہے جان لے جو نہیں جانتا وہ بے خبر ہے (بخاری فی الطب)
حضرت ابی ہریرہ سے مروی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا اے لوگو! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں بنائی جس کی دوا نہ اتاری ہو۔اسی طرح حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ نے فرمایا اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں بنائی جس کی شفاء بخش دوا نہ اتاری ہو۔جو معلو م کرلے جانے گا جو بے خبر رہا محروم رہے گا البتہ سام کا علاج نہیں ہے پوچھا گیا سام کیا ہے؟فرمایا موت ()
ایک جگہ ہے تم گائے کا بول استعمال کرو کیونکہ درختوں کو کھاتی ہے۔۔اسامہ بن شریک کہتے ہیں حجۃ الوداع کے موقع پر۔ رسول اللہ کی خدمت میں کچھ دیہاتی لوگوں نے آکر دوا کے بارہ میںسوال کیا۔رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا دوا کیا کرو کیونکہ کوئی بیماری ایسی نہیں جس کی دوا نہ بنائی ہو ۔۔۔حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیماری بھلی ہے اگر اس کے ساتھ علاج بھی ہو اللہ نہ معلوم کس وقت اور کس چیز سے شفایاب کردے()حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا ہر مرض کی دوا ہے جب دوا ٹھیک تجویز کی جائے تو اللہ کے حکم سے شفا ملتی ہے ۔(مسلم ،السلام،نسائی فی الکبری) کسی شاعر نے کہا۔وقال الشاعر:
لا يدفع المقدور نفث الراقي
ولا الطبيبان ولا الترياق
قد خط ما كل ملاق لاق
وقال ابن الأحمر:
وفي كل يوم يدعوان أطبة … إليَّ وما يجدون إلا الهواهيا
الهواهي: الأباطيل واحدها: هوهاءة.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

GIPHY App Key not set. Please check settings

    کھڑے ہوکر کھانا پینا۔اور اس کے نقصانات طب نبو ی ﷺکی روشنی میں

    کھڑے ہوکر کھانا پینا۔اور اس کے نقصانات طب نبو ی ﷺکی روشنی میں

    مونگ پھلیPeanutsالفول السودانی

    مونگ پھلیPeanutsالفول السودانی