طب نبویﷺ: میتھی کے غذائی و طبی فوائد

طب نبویﷺ: میتھی کے غذائی و طبی فوائد

طب نبویﷺ: میتھی کے غذائی و طبی فوائد
طب نبویﷺ: میتھی کے غذائی و طبی فوائد

43 حلبہ۔میٹھی دانہ
نبویﷺ: میتھی کے غذائی و طبی فوائد

اثر خامہ:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

 

۔قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَعْلَمُ أُمَّتِي مَا لَهَا فِي الْحَلَبَةَ لَاشْتَرَوْهَا وَلَوْ بِوَزْنِهَا ذَهَبًا »مسند الشاميين للطبراني (1/ 232)الآثار المروية في الأطعمة السرية لابن بشكوال (ص: 282) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “تداووا بالحلبة

“.
میتھی کا ساگ۔

«الجامع الكامل في الحديث الصحيح الشامل المرتب على أبواب الفقه» (7/ 47):
«باب ما جاء في أكل ورق الحُبْلة
• عن سعد قال: رأيتني سابعَ سبعة مع النَّبِيّ صلى الله عليه وسلم ما لنا طعام إِلَّا ورق الحُبْلة أو الحبلة – حتَّى يضع أحدنا ما تضعُ الشاة، ثمّ أصبحت بنو أسد تعزِّرُني على الإسلام، خسرتُ إذا وضلّ سعيي.
متفق عليه: رواه البخاريّ في الأطعمة (5412)، ومسلم في الزهد والرقائق (2966: 12) كلاهما من طريق إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس (هو ابن أبي حازم)، عن سعد (هو ابن أبي وقَّاص) قال .. فذكره. واللّفظ للبخاريّ.
قوله: “ورق الحُبْلة” قيل المراد به ثمر العضاه وثمر السمر، وهو يشبه اللوبيا كذا في الفتح. وفي المعجم الوسيط

»
مختلف احادیث میں بھی میتھی کی افادیت کا تذکرہ ملتاہے۔حضرت قاسم بن عبدالرحمٰنؓ سے روایت ہے کہ حضرت محمّد ﷺ نے ارشاد فرمایا، ’’میتھی سے شفا حاصل کرو۔‘‘
ایک اور حدیث کے مطابق حضرت محمّد ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے،’’اگرمیری اُمّت میتھی کے فوائد سمجھ لے، تو وہ اسے سونے کے ہم پلہ خریدنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔‘‘ علاوہ ازیں،مکہ معظمہ کی فتح کے بعد آپﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓکی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، توان کی حالت کے پیشِ نظر کسی ماہر طبیب کو بلوانے کا فرمایا۔ چناں چہ فوری طور پر حارث بن کلدہؓ کو بلوایاگیا ۔انھوں نےایک نسخہ تیار کرنے کی ہدایت کی،جس کے مطابق کھجور، جَو کا دلیا اور میتھی پانی میں اُبال کر مریض کو نہار مُنہ شہد ملاکر گرم گرم پلائی جاتی ۔ آپﷺ نے مذکورہ نسخہ پسند فرمایا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓنے جب اس کا استعمال کیا، توشفا یاب ہوئے۔ محّدثین نے لکھا ہے کہ کھجور کی جگہ انجیر بھی شامل کی جاسکتی ہے، مگر دونوں کی شمولیت اس لیے ممکن نہیں کہ سرکارِ دو عالمﷺنے کھجور اور انجیرایک ہی نسخے میں جمع کردینے کی ممانعت فرمائی ہے۔تاہم، ایک اور روایت کے مطابق اس نسخے میں مُلہٹھی/ مُلیٹھی بھی شامل کی گئی تھی۔
قاسم بن عبدالرحمنؒ سے مروی ہے کہ حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میتھی سے شفا حاصل کرو۔جب کہ امام ذہبیؒ سے منقول ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت اگر میتھی کے فوائد کو سمجھ لے تو وہ اِسے سونے کے ہم وزن خریدنے سے بھی دریغ نہ کرے۔ (الطب النبوی،ابوعبداللہ محمد بن احمدالذہبی)

میتھی۔حلبہ۔شملیت۔ملخوزے۔غدی عضلاتی ہے FENLLGREEK۔مشہور ساگ ہے۔محلل اورا م ہاضم۔مقوی جگر و معدہ ہے۔دافع عظم طحال۔نفخ ہے۔ اس کی پلٹس سرد گر قسم کے پھوڑوں پر باندھتے ہیں جس سے درد و اکڑاؤ فوراََ ختم ہوجاتے ہیں۔چوٹ کی سوجن بھی ختم ہوجاتی ہے۔جنہیں بدہضمی و قے آتی ہو اسے پیٹ بھر کر کھانے سے فوری درست ہوجاتا ہے۔بلغی کھانسی دمہ کے لئے بہترین غذائے دوا ہے۔

۔۔۔میتھی کا تعارف

میتھی / حلبہ / (Fenugreek) :-
دیگر نام :-لاطینی میں ۔Trigonella Foenum Graecum.Linn
عربی میں حلبہ فارسی میں شملیب پشتو میں ملخوزے اور انگریزی میں یں فینوگریک کہتے ہیں ۔
ماہیت:-میتھی کا پودا ایک فٹ سے لے کر دو فٹ تک بلند ہوتاہے۔اسکی دو اقسام ہیں ۔
1۔ایک کے پتے نازک اور چھوٹے ہوتے ہیں ۔ان کو اوپر سے کاٹ کر ساگ بنایاجاتاہے۔یا گوشت اور سبزی وغیرہ میں ملاکر پکاتے ہیں ۔
2۔دوسرا قسم کاپتہ موٹا ہوتاہے۔اور درمیان کا تنا بھی موٹا ہوتاہے۔پتے کچھ دندانے اور کچھ بغیر لکیر کے ہوتے ہیں ۔اس کے پھول بھی زرد ہوتے ہیں اس کے ساتھ تین چار انچ لمبی قدرے چپٹی پھلی لگتی ہے۔جس کے اندر زرد رنگ کے دانے یا تخم ہوتے ہیں جن کو تخم میتھی کہاجاتاہے۔عموماًاس کے پتوں کا ساگ بنا کر کھایاجاتاہے۔اس کا مزہ قدرے تلخ ہوتاہے اس کو عام طورپر میتھرے یا میتھے کہتے ہیں ۔
مقام پیدائش:-پاکستان میں سندھ پنجاب کشمیر جبکہ انڈیا میں یوپی ،بمبئی مدراس اور پنجاب میں بکثر ت ہوتی ہے۔پاکستان میں ضلع قصور کی میتھی مشہور ہے۔
مزاج:-گرم خشک۔۔درجہ دوم۔
افعال:-جالی محلل ،منضج اورام ،مقوی اعصاب ،مقوی بدن ،مقوی باہ ،مخرج و منفث بلغم وریہ مقوی معدہ وآمعاء کاسرریاح مدرحیض و محرک رحم مسکن درد۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میتھی ۔۔کے۔۔ ناقابلِ یقین فوائد

میتھی، جسے عربی میں حلبہ کہا جاتا ہے، ایک مشہور ترکاری ہے۔اس میں معدنی نمکیات، فولاد،کیلشیم اور فاسفورس وغیرہ خاصی مقدار میںپائے جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو اس کی صحیح افادیت کا اندازہ ہوجائے تو یہ سب سے زیادہ مہنگا فروخت ہو! میتھی میں وٹامن اے، بی، سی، فولاد، فاسفورس اور کیلشیم پایا جاتا ہے۔

امراض حلق و سینہ
عموماًمیتھی کے سبز پتّوں کو پالک اور ساگ کے ساتھ ملا کرپکایا جاتا ہے۔ اگرچہ تازہ میتھی کی خوشبو اس قدر تیزنہیں ہوتی، لیکن جب پھول آنے پر اس کے پتّوں کو دھوپ میں سُکھا کر خشک کرلیا جائے، توخوشبو میں خاصااضافہ ہوجاتا ہے۔ میتھی کا جوشاندہ حلق کی سوزش، وَرم، دُکھن، سانس کی گھٹن کے لیے اکسیر ہے۔
نیز، کھانسی کی شدّت بھی کم کرتا ہے، جب کہ معدے میں اگر جلن ہو، تو فوری راحت پہنچاتا ہے۔ میتھی کا یہ اثر بڑی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ کھانسی کے علاج میں استعمال ہونے والی تمام ادویہ معدے میں خیزش پیدا کرتی ہیںاور پُرانی کھانسی کےتقریباً تمام مریضوں کو معدے میں جلن اور بدہضمی کی شکایت رہتی ہے۔ کھانسی بلغمی، نزلہ زکام اور میعادی بخار حتیٰ کہ ٹائیفائڈ کیلیے میتھی دانہ نہایت مفید ہے.
بچوں اور بڑوں میں ٹھنڈ لگنے میں میتھی دانہ کا قہوہ پینےسے ٹھنڈ دور ہوجاتی ہے یہاں تک کہ سینہ میں بلغم کاجماؤ بھی درست ہوجاتاہے.
۔ علاوہ ازیں، میتھی بواسیر، پھیپھڑوں کی سوزش، ہڈیوں کی کم زوری، خون کی کمی، جوڑوں کے درد، ذیاببطس اور اعصابی تھکاوٹ دُور کرنے کے لیے بھی مؤثر ہے۔ متھی پیس کر موم کے ساتھ ملا کر اس کا لیپ کیا جائے، تو سینے کا درد رفع ہوجاتا ہے

میتھی اور شوگر۔
طبِ نبویﷺمیں میتھی اور سفرجل(Quinceسیب کی شکل کا پھل)ایسی منفرد ادویہ ہیں، جو کھانسی ٹھیک کرنے کے ساتھ معدےکے افعال بھی درست رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں، میتھی بواسیر، پھیپھڑوں کی سوزش، ہڈیوں کی کم زوری، خون کی کمی، جوڑوں کے درد، ذیابیطس اور اعصابی تھکاوٹ دُور کرنے کے لیے بھی مؤثر ہے۔متھی پیس کر موم کے ساتھ ملاکر اس کا لیپ کیا جائے، تو سینے کا درد رفع ہوجاتا ہے۔۔
شوگر کیلیے جسمیں پیشاب کی بھی کثرت ہو میتھی دانہ، کلونجی، زنجبیل، دارچینی اور مصطگی رومی تمام اشیاء پیس کر کھانےسے پیشاب کی کثرت اور شوگر کنٹرول ہوجاتی ہیں. میتھی دانے کا استعمال شوگر میں مفید ہے یہ انسولین پیدا کرتا ہے۔
امراض ہضم۔
میتھی کا ساگ، پانی اور بیج کئی موذی امراض کا شافع علاج ہیں۔وہ افراد ،جنھیں کمر درد کی شکایت رہتی ہے، انھیں میتھی کا ساگ ضرور استعمال کرنا چاہیے،جب کہ گٹھیا، رعشے، لقوہ اور فالج جیسے امراض میں میتھی کے ساگ کا استعمال خاصامؤثرہے۔میتھی کے بیجوں کا سفوف، ہاضمے کے جملہ امراض ختم کرنے میں بےحد مفید ثابت ہوتا ہے۔ اگر اس کے بیجوں کو چائے کی طرح پانی میں جوش دے کر پیا جائے، تو دست رُک جاتے ہیں۔ یہ نظامِ انہضام کی بہتری اور فاضل مادے کا اخراج کرتا ہے، کھٹی ڈکاریں اور بد ہضمی کو کنٹرول کرتا ہے۔
اسی طرح بخار میں پیاس کی شدّت ختم کرنے کے لیے میتھی کے بیج پانی میں بھگو کر پینا فائدہ مندثابت ہوتاہے،جب کہ امراضِ شکم اور زچگی کی کم زوری دور کرنے کے لیے بھی میتھی کے بیجوں کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے۔ پیٹ میں گیس کی شکایت ہو، تو چُٹکی بَھر میتھی کے بیج لے کر پانی سے پھانک لیں، فوری افاقہ ہوگا۔علاوہ ازیں،میتھی کا استعمال دودھ پلانے والی مائوں کے لیے بھی بےحد فائدہ مند ہے۔
بالوں کے مسائل۔
میتھی کا استعمال چہرے اور بالوں کے لیے بھی فائدہ مندہے ۔مثلاً اگرمیتھی کےجوشاندےسےبال دھوئے جائیں، تو خشکی میں کمی آتی ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق میتھی کے ساتھ حب الرشاد (Garden cress)کو شامل کیا گیا، تو نہ صرف سِکری کے مریض کو فائدہ ہوا، بلکہ بال گرنے بھی کم ہوگئے۔
– خواتین میں چہرے کےفالتو بالوں کےخاتمے کیلیے میتھی دانہ،خالص ہلدی اور پودینہ خشک استعمال کرنےسے سو فیصد بہتری آتی ہے.
اس کے بیجوں کو رگڑ کر اگر ہفتے میں دو تین بارسَر دھویا جائے ،تو بال لمبے ہوجاتے ہیں۔ کیل مہاسوں کے علاج کے لیےمیتھی کے بیج پیس کر
لمبے گھنے اور مضبوط بالوں کے لئے میتھی دانے کا استعمال یا اس کا تیل آپ کے بالوں میں فائدہ مند ثابت ہوگا۔
چہرے کی رنگت
گلیسرین میں ملا کر شیشی میں محفوظ کرلیں اور رات سوتے ہوئےچہرے پر لگائیں، تو چند ہی روز میںان سے نجات مل جائے گی۔چہرے کی رنگت نکھارنے کے لیے میتھی کا عرق اور بیج پیس کر پیسٹ بنالیں اور چہرے پر لیپ کرکے چند منٹ بعد سادہ پانی سے دھولیں۔اسی طرح گرتے بالوں کو روکنے، چمک دار اور گھنیرا کرنے کے لیے بھی مختلف نسخے مستند ہیں۔
مثلاًمیتھی کے بیج، سیکا کائی اور ماش کی دال ہم وزن لے کر پیس لیں اور رات بھر پانی میں بھگو کر رکھیں۔ اگلے روز شیمپو کی طرح اس محلول سے سَر دھوئیں۔ کچھ عرصہ استعمال سے بال گرنا بند ہوجائیں گے۔ایک اور نسخے کے مطابق میتھی کے بیج دو بڑے چمچے، ثابت ماش ایک کپ، آملہ آدھا کپ، سیکا کائی آدھا کپ اور لیموں کے سوکھے چھلکے چار عدد لے کر پیس کے، یہ سفوف کسی جار میں محفوظ کرلیں، جب سَر دھونا ہو، تو دو گھنٹے قبل سفوف کے دو بڑے چمچ تیز گرم پانی میں بھگودیں،بعد ازاں یہ محلول سَر پر خُوب اچھی طرح مل کرپانچ منٹ بعد سادہ پانی سے بال دھولیں۔ اس طرح بال گرنا ہی بند نہیں ہوں گے، لمبے، چمک دار اور گھنیرے بھی ہوجائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭ اس سے آنکھوں کی پیلاہٹ بھی دور ہوتی ہے۔
٭ موٹاپے کی شکایت دور کرتا ہے اور جسم کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کو کنٹرول کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
٭ یہ سستی اور کاہلی کو کنٹرول کرتا ہے اور جسم میں تیز روی پیدا کرتا ہے۔
٭ بند شریانوں کو کھولنے اور دل کی صحت مند طبیعت کے لئے بھی میتھی دانہ مفید ہے۔
بیرونی استعمال:-
میتھی کے پتوں کی پلٹس ظاہری و باطنی ورموں کو تحلیل کرتی ہے۔پتوں کو پانی میں پیس کر پستان پر لیپ لگانا دودھ کی پیدائش کو بالکل منقطع کر دیتاہے۔میتھی کے لعا ب دار بیج پیس کر بطریق پلٹس اورام پر باندھتے ہیں اورداغ دھبوں کو مٹانے کیلئے چہرہ طلاء کرتے ہیں ۔ان کو پانی میں پیس کر ہفتہ میں دو بار سردھونے سے سر کے بال لمبے ہونے کے ساتھ بال گرنابند ہوجاتے ہیں ۔
اس کا لعاب نکال کر امراض چشم خاص طور پر دمعہ طرفہ اور آشوب چشم میں قطور کرتے ہیں ۔ادرار حیض کیلئے اسکے جوشاندے میں ابزن کراتے ہیں ۔
اندورنی استعمال:-
مدرحیض ہونے کی وجہ سے ادرار حیض کے نسخوں میں یا تنہا بھی استعمال کرتے ہیں ۔منفث بلغم ہونے کی وجہ سے کھانسی دمہ میں اس کا جوشاندہ تیار کرکے پلاتے ہیں ۔تقویت باہ اور مقوی بدن ہونے کی وجہ سے اس کو تقویت باہ مرکبات میں استعمال کرتے ہیں ۔اس کے بیجوں کو سفوف کاسرریاح ہے۔سرد بلغمی امراض مثلاًوجع المفاصل درد کمر ،ضعف اعصاب میں بھی اس کے بیجوں کا سفوف مفیدہے۔یہ سفوف عظم طحال نفع پیچش اسہال وغیرہ میں استعمال کرنے سے فائدہ ہوتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیگرفوائد
1— سنامکی کےپتے اور میتھی دانہ کا سفوف ہموزن بناکر کھانے سے دائمی قبض کا حاتمہ ہوتاہے.
2–مویشیوں اور گھوڑوں کے مسالوں میں تخم میتھی ایک طاقتور جز کے طور پر ملائی جاتی ہے۔
3—- آنتوں کی سوزش اور معدہ کی جلن، تیزابیت کیلیے میتھی دانہ ،ملٹھی، سوںف، زیرہ سفید اور تخم کاسنی برابر وزن سفوف بناکر کھائیں.
4— میتھی فائبر اور اینٹی آوکسیڈنٹ سے بھرپورہے جو جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں بھی مددگار ہوتا ہے
5— میتھی کولیسٹرول کو کنٹرول کرنےمیں مددگارہےاس میں موجود فائبر اور اینٹی آوکسیڈنٹ جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مددکرتے ہیں۔
6— ماہرین کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کےمطابق میتھی دانہ اور اس کے پتے جسم میں موجود کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں بہت مفید ہیں میتھی کولیسٹرول اور ٹریگسیسرائڈز کو بھی کنٹرول کرتا ہے، ٹریگسیسرائڈزخون میں پایا جانیوالا ایسا فیٹ (چربی) ہے جس کی مقدار بڑھ جانا دل کی بیماریوں کا باعث بن جاتا ہے۔
7— میتھی کے فوائد یہیں ختم نہیں ہوئے ہیں ہرجگہ باآسانی دستیاب میتھی دانہ انسداد سوزش مرکبات پر مشتمل ہے جوجلد کی مختلف بیماریوں جیسے داد ،جلنے کے نشانات، کیل مہاسے اور جھریا کو ختم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
عرب اطباء و ماہرین کی رائے
میتھی کے پودے کے فوائد اور نقصانات
میتھی کا پودا ایک سالانہ جڑی بوٹیوں والا پودا ہے جس کے بہت سے فوائد اور استعمال ہیں۔میتھی کو سبز اور کھیتی باڑی کے طور پر کھایا جاتا ہے اور میتھی کے بیجوں کو چائے کے طور پر پیا جاتا ہے۔میتھی کا اصل گھر شمالی افریقہ اور مشرقی بحیرہ روم سے متصل ممالک ہیں، اور یہ فی الحال دنیا کے بیشتر خطوں کے ساتھ ساتھ نیواڈا کے صحرا میں بھی اگایا جاتا ہے۔
میتھی کے صحت کے فوائد میں خون کی کمی، ذائقہ کی کمی، بخار، خشکی، معدے کی خرابی، تیزابیت، سانس کے امراض، منہ کے چھالے، گلے کی سوزش، ذیابیطس، انفیکشن، زخموں اور بے خوابی کا علاج شامل ہے۔ میتھی دودھ پلانے میں بھی مفید ہے اور ہاضمے کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، اور بالوں کی دیکھ بھال میں استعمال ہوتی ہے۔
میتھی کے فوائد اور استعمال:-
یہ ہضم کے مسائل جیسے کہ بھوک میں کمی، پیٹ کی خرابی، قبض، اور گیسٹرائٹس (معدہ کی سوزش) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
میتھی کو ایسے حالات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جو دل کی صحت کو متاثر کرتی ہیں جیسے کہ ‘شریانوں کا سخت ہونا’ (ایتھروسکلروسیس) اور خون میں بعض چکنائیوں کی اعلی سطح بشمول کولیسٹرول اور ٹرائگلیسرائیڈز۔
میتھی کا استعمال گردوں کی بیماری، وٹامن کی کمی سے ہونے والی بیماری، بیریبیری، منہ کے السر، پھوڑے، برونکائٹس، جلد کی سطح کے نیچے ٹشوز کی سوزش (سیلولائٹس)، تپ دق، دائمی کھانسی، پھٹے ہونٹ، گنجا پن اور کینسر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
کچھ مرد ہرنیا، عضو تناسل (ED) اور دیگر مردانہ مسائل کے لیے میتھی کا استعمال کرتے ہیں۔ خواتین بعض اوقات میتھی کا استعمال چھاتی کے دودھ کے بہاؤ کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی کرتی ہیں۔
میتھی کی ٹکور
میتھی کو بعض اوقات کمپریس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کپڑے سے گھیر لیا جاتا ہے اور مقامی درد اور سوجن (سوزش)، پٹھوں میں درد، درد اور لمف نوڈس (لمف نوڈس) کی سوجن، انگلیوں میں درد (گاؤٹ)، زخموں، ٹانگوں کے علاج کے لیے اسے براہ راست جلد پر لگایا جاتا ہے۔ السر اور ایکزیما.
میتھی کا ذائقہ اور بو میپل کے شربت سے ملتی جلتی ہے اور اسے ادویات کے ذائقے کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
کھانے کی اشیاء میں، میتھی کو مصالحے کے مرکب میں ایک جزو کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ یہ میپل کے شربت اور مشابہت، کھانے پینے کی اشیاء اور مشروبات اور تمباکو میں ذائقہ دار ایجنٹ کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔
مینوفیکچرنگ میں، میتھی کے عرق صابن اور کاسمیٹکس میں استعمال ہوتے ہیں۔
میتھی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔اس بات کے سائنسی شواہد موجود ہیں کہ میتھی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ کچھ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ میتھی کھانے اور کھانے کے دوران اسے کھانے کے ساتھ ملا کر کھانے سے ٹائپ 1 یا ٹائپ 2 ذیابیطس کے لیے کھانے کے بعد خون میں شوگر کی سطح کم ہوتی ہے۔ اس کا ایک اثر ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کا کم ہونا ہے۔
میتھی کے استعمال
ورزش کرتے وقت۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 500 ملی گرام میتھی کا عرق 8 ہفتوں تک لینے سے جسم کی چربی کم ہوتی ہے اور ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بڑھ جاتی ہے، لیکن نوجوانوں میں پٹھوں کی طاقت یا برداشت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
جلن ۔وزن کی کمی کے لیے؛
تحقیق بتاتی ہے کہ دن کے دو بڑے کھانوں سے پہلے میتھی کھانے سے تیزابیت اور سینے کی جلن کی علامات کم ہو سکتی ہیں۔
وزن میں کمی کے لیے. تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ میتھی کے بیجوں کا عرق زیادہ وزن والے مردوں میں روزانہ چربی کی مقدار کو کم کر سکتا ہے۔
میتھی کا نقصان
میتھی کو بطور تیاری اور خوراک میں نہ رکھنے کی صورت میں نقصانات ہو سکتے ہیں، ضمنی اثرات میں اسہال، پیٹ کی خرابی، اپھارہ، گیس اور پیشاب اور پسینے میں بدبو شامل ہیں۔
میتھی ناک بند ہونے، کھانسی، گھرگھراہٹ، چہرے کی سوجن اور کچھ لوگوں میں شدید الرجک ردعمل کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ بلڈ شوگر کو بھی کم کرتا ہے۔
حمل اور دودھ پلانے کی صورت میں میتھی کا استعمال:
حمل کے دوران میتھی ممکنہ طور پر غیر محفوظ ہے جب کھانے میں پائی جانے والی مقدار سے زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے۔ یہ قبل از وقت لیبر کے سنکچن کا سبب بن سکتا ہے۔ پیدائش سے پہلے میتھی کھانے سے نوزائیدہ بچوں کے جسم میں غیر معمولی بدبو آسکتی ہے، جو میپل یوریا کے ساتھ الجھ سکتی ہے لیکن طویل مدتی اثرات ظاہر نہیں کرتی۔
بچے: میتھی بچوں کے لیے غیر محفوظ ہو سکتی ہے۔ کچھ رپورٹس میں میتھی کی چائے کو کچھ بچوں میں شعور کی کمی سے جوڑا گیا ہے۔ جب بچے میتھی کی چائے پیتے ہیں تو میتھی جسم میں میپل کے شربت جیسی بدبو پیدا کر سکتی ہے۔
میتھی کو ایسی دوائیوں کے ساتھ نہیں لینا چاہیے جو بلڈ شوگر کو کم کرتی ہیں کیونکہ اس سے شوگر کم کرنے کی شرح بڑھ جاتی ہے، اور اسے ایسی دوائیوں کے ساتھ نہیں لینا چاہیے جو خون کو پتلا کرتی ہیں (جیسے اسپرین)۔
گھر میں میتھی کیسے اگائیں۔
میتھی کو دھو کر، چھان کر ایک دن کے لیے پانی میں بھگو دیا جاتا ہے۔اسے فلٹر کیا جاتا ہے اور دوبارہ دھویا جاتا ہے جب تک کہ انکرن شروع نہ ہوجائے، اضافی پانی نکالنے کے لیے ایک پیالے کے اوپر چھاننے والے کپڑے کے ایک ٹکڑے پر رکھیں
میتھی کو دن میں دو بار گیلا کیا جائے یا جب بھی کپڑے کا پانی دو سے تین دن تک خشک ہو جائے
اس کے بعد اسے کھایا جا سکتا ہے یا پانی سے نکالنے کے بعد اسے ایک ہفتے تک فریج میں رکھا جا سکتا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.